Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

اسلامی ادب اور اسلامو فوبیا – ڈاکٹر عزیز احمد خان

by adbimiras نومبر 26, 2020
by adbimiras نومبر 26, 2020 0 comment

حصول آزادی کے ساتھ ساتھ بر صغیر کے باشندوں کو تقسیم جیسے سانحہ سے بھی گزر نا پڑا اور 14؍اگست 1947میں پاکستان کے نام سے ایک نئی اسلامی مملکت معرض وجود میں آگئی۔ اس نومولود مملکت کے پاس جغرافیہ تو تھا لیکن اس کی اپنی کوئی تاریخ نہ تھی۔ غیر منقسم ہندوستان کی تاریخ کو بھی اپنی جغرافیائی اور سیاسی مجبوریوں کی بنا پر قبول کرنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ اسی طرح ادب اور ثقافت کے مسائل بھی کم دشوار نہ تھے۔ ریڈیو پاکستان بننے کے بعد جب وہاں سے پہلے پہل موسیقی کے پروگرام شروع ہوئے اور ایک معروف استاد گایک نے ’’کلاسیکی راگ میں ایک گیت ’بانہہ نہ پکڑو کرشن مراری‘‘ گانا شروع کیا توسارے ملک میں کہرام مچ گیا، لوگوں نے اسلامی ملک میں غیر اسلامی نام گیت میں بھی سننا پسند نہیں کیا تب اس کا  یہ حل تجویز کیا گیا کہ کرشن مراری کے بجائے اس کا ہم وزن اسم’ عبدالباری‘ لگادیا جائے۔ اس سے گیت کا مکھڑا بے حد مضحکہ خیز ہوگیا۔ ’بانہہ نہ پکڑو عبدالباری‘ ، اس عجیب وغریب صورت حال کا ذکر منیر احمد شیخ نے اپنے ایک مضمون بعنوان’ پاکستانی موسیقی ‘ میں اس طرح کیا ہے:

’’پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد شروع شروع میں ایک آدھ بزرگ کے سر میں سودا سمایا تھا کہ لگے ہاتھوں موسیقی کو بھی مسلمان کرلیا جائے ۔ اس کوشش میں انہو ں نے راگوں کے ہندی بول بدل کر انہیں اردو فارسی کا جامہ پنہایا تھا مگر اس سے خاصی مضحکہ خیز صورت پیدا ہوگئی اور یہ بندشیں خیال کے مزاج کے لیے اتنی بوجھل ہوگئیں کہ بات آگے نہ چل سکی او ریوں راگ راگنیاں ذبح ہونے سے بچ گئیں۔‘‘ بحوالہ پاکستانی ادب،چوتھی جلد(فنون لطیفہ)صفحہ90-91

اب اسلاموفوبیا پر بات کرتے ہیں۔ اسلاموفوبیا، لفظ ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے۔ اس سے غیر مسلم ’اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’ نسلیت مسلم گروہ سے ڈرنا ‘ مطلب لیتے ہیں۔ لیکن اسلامو فوبیا کا اصل مطلب اسلام سے دشمنی ہے۔اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔ (انسداد عصمت دری کی اسلامی تدابیر – حفظ الرحمن قاسمی)

جس کی انگریزی (Islamophobia) ہے یا اسلام کا خوف۔ یہ نسبتاً ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس کا مفہوم بے جا طرفداری، نسلی امتیاز اور لڑائی کی آگ بھڑکانا طے کیا گیا ہے۔ بہت سارے لوگوں نے اس کی شناخت یہ بھی کرائی ہے کہ یہ لفظ مسلمان یا پھر ان کی شدت پسندی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے آغاز ہوا لیکن بیسویں صدی کی اسی اور نوے کے ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا۔ 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔

1997 ء میں اس اصطلاح کی تعریف کرنے کی کوشش کی گئی جب برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ نے

’’Islamofobia: A Challenge for Us All‘‘کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں اس لفظ کی تعریف بیان کی کہ اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے بے پناہ خوف اور نتیجتا ایک ایسا ڈر جو لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کو جنم دیتا ہے اور فرانسیسی مصنفین کے نزدیک اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایمیلی نے ’’ثقافت اور وحشیت‘‘ کے عنوان پر مقالہ میں کیا جس کو 1994 ء میں فرانس کے ایک اخبار لیمنڈا نے شائع کیا۔ جس میں اس نے اسلامو فوبیا کی صنف رواں کے تعلق سے بیان کیا۔ عالمی پیمانہ پر اس لفظ کا استعمال خوب ہوا خصوصاً 11 ستمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر اس لفظ کو خوب فروغ دیا گیا۔

اب اسلامی ادب پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔1953میں ’’نقوش‘‘ لاہور میں ’اسلامی ادب‘ سے متعلق بہت زور دار بحث چلی تھی۔ اردو کے معتبر اور مشہور ادیب محمد حسن عسکری اس میں پیش پیش تھے۔ انہو ںنے نقوش میں لکھا تھا کہ مملکت پاکستان کی بنیاد چونکہ اسلامی بنیاد پررکھی گئی ہے اور اس اسلامی مملکت کی قومی زبان اردو ہے لہذا اس زبان میں تیار ہونے والے ادب کو بھی اسلامی نظریات کا حامل ہونا چاہیے۔ فراق نے اس نظریہ کی زور دار مخالفت کی انہوں نے ’’اسلامی ادب‘‘ کے عنوان  سے ایک بھر پور اور جامع مضمون لکھا ہے جو ’نقوش‘ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اس کے رد عمل میں بھی بہت سارے مضامین لکھے گئے ۔ فراق گورکھپوری اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

’’پہلی غلطی تو ہم یہ کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کی کچھ خصوصیتیں جو جغرافیائی اسباب سے پیدا ہوگئی ہیں انہیں ہم ہندو یا مسلم سمجھنے لگے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر بالغرض انگلستان کے باشندوں کا مذہب ہندو یا مسلم ہوتا تو بھی انگلستان کی تہذیب وہی ہوتی جو آج ہے۔دوسری غلطی ہم یہ کرتے ہیں کہ ایجابی امور کو اثباتی امور مان لیتے ہیں مثلاً اگر ہم ریل ایجا دنہیں کرسکے اور اونٹ یا بیل کی سواری کرنے پر مجبور ہوئے تو اونٹ اور بیل کی سواریوں کو ہندو یا مسلم تہذیب کہنے لگتے ہیں۔‘‘                               فراق گورکھپوری،من آنم ۔ صفحہ137-138

فراق گورکھپوری اپنے مضمون  میں براہ راست پروفیسر محمد حسن عسکری سے سوال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’لگے ہاتھوں یہ بھی بے پوچھے نہیں رہا جاتا کہ پروفیسر عسکری صاحب کیا اپنے افسانوں اور دیگر تحریروں کو اسلامی یا پاکستانی ادب سمجھتے ہیں؟ کیا ماضی و حال کے کسی دسرے ادب کی تحریروں کو عسکری صاحب اپنی تحریروں کے مقابلہ میں زیادہ پاکستانی یا اسلامی سمجھتے ہیں؟

پھر یہ کیا قصہ کھڑا کررکھا ہے اسلامی پاکستانی یاغیر اسلامی و غیرپاکستانی ادب کا؟‘‘ احمد ریاض ایک پاکستانی شاعر کی ایک نظم ’الحاق‘ کے بارے میں عسکری صاحب کیا کہتے ہیں۔ نظم یوں شروع ہوتی ہے۔

دوستو ہاتھ بڑھائو کہ ہیں ہم آج بھی ایک

کون کرسکتا ہے تقسیم ادب کی جاگیر‘‘

فراق گورکھپوری،من آنم ۔ صفحہ141

فراق نے اسلامی ادب سے متعلق بہت سے سوال قائم کئے ہیں۔ انہو ں نے مزید لکھا ہے:

’’کیا منٹو کے افسانے اسلامی ہیں او رکرشن چندر کے افسانے کا فروں کا ادب ہے ۔ کیا اقبال کا ادب ان معنوں میں ادب ہے کہ اس کے بنیادی تصورات یا مرکزی محرکات یا اس کی داخلی رگیں کسی غیر مسلم شاعر کے یہاں مل ہی نہیں سکتی ؟ کیا شرؔر کے ناول اسلامی ادب ہیں؟ سنسکرت زبان میں نل دمن کا قصہ ہندو ادب ہے اور فیضیؔ کی مثنوی نل دمن اسلامی ادب ہے۔‘‘

فراق گورکھپوری،من آنم ۔  صفحہ 139-140

انگریزی ادب نے زبان کے اختلاف کے باوجود بہت سے اصناف ِ ادب یونانی اور لاطینی زبانوں سے حاصل کیے ہیں۔ یورپ میںآج تک کی تاریخ ادب میں کوئی ایسی تحریک نہیں اٹھی کی ہمارا ادب عیسائی ادب ہو یا انگلستانی ادب ہو یا ہسپانوی ادب ہو۔ اس کے باوجود ہر ملک کامقامی رنگ اور مقامی مزاج اور قومی بیداری یورپ کی مختلف زبانوں کے ادب  میں ضرور ملتے ہیں۔ اسی طرح یورپ اور ایشیاء کے ادب میں بھی اختلاف  کے باوجود بہت کچھ یکسانیت رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یورپ کے شاعر سنسکرت یا فارسی کے شعرا کاقصیدہ نہ پڑھتے اور ایشیاء کے شعراء شیکسپیئر وغیرہ کوخراج تحسین پیش نہیں کرتے ۔ فراق نے پاکستانی یا اسلامی ادب کا خواب دیکھنے والوں کے سامنے کچھ سوالات قائم کرتے ہوئے انہیں مختلف مسائل سے دو چار ہونے کے لیے بھی خبر دار کیا ہے کہ زندگی کے بنیادی مسائل مثلاً زراعت کی ترقی ، صنعت وحرفت کی ترقی، علوم و تعلیم کی ترقی کے متعلق وہ کون سا نظریہ ہوسکتا ہے جو خالص اسلامی نظریہ ہوگا اورغیر مسلم ملکوں کے لوگ اس سے مستفید نہ ہوسکیں گے ۔ اس کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دنیا کے کسی ملک کی ترقی یا اصلاح  ہندو ادب ، عیسائی ادب یہودی ادب ، بودھ ادب یا اسلامی ادب کی مدد سے نہ کہیں ہورہی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ چنانچہ پاکستان کا صحت مند و صحت بخش ادب کسی لحاظ سے اسلامی ادب نہیں ہوسکتا۔ اسلامی نعروں کا یا کسی مذہب کے نعروں کا ان تعمیری کاموں سے کوئی تعلق نہیں جن کے ذریعہ سے کروڑوں پاکستانیوں کی مالی، ذہنی اور اخلاقی ترقی میں مدد مل سکے۔‘‘              فراق گورکھپوری،من آنم۔  صفحہ143

فراق نے اسلامی ادب کے علمبردار محمد حسن عسکری سے ان کی تحریروں کے متعلق سوال قائم کیا ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ جن تحریروں میں قرآن پاک، احادیث، اسلامی تاریخ، مسلمان مفکروں کی تحریروں یا خیالات کے حوالے نہیں ملتے بلکہ سب کے سب حوالے اور ماخذ ان فرانسیسی یا مغربی مصنفوں سے لیے گئے ہیں جنہیں اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، کیا وہ نوے فیصدی تحریریں اسلامی ادب ہیں؟

من آنم میں شامل فراق کے آخری خط میں بھی اسلامی ادب پر بحث کی گئی ہے۔ اس خط میں آفتاب احمد کے مضمون کاجواب دیا گیا ہے جو انہوں نے فراق کے ’اسلامی ادب‘ مضمون کے جواب  میں لکھا تھا۔ اس خط میں بھی اسلامی ادب کی پرزور مخالفت کی گئی ہے۔ فراق نے شیکسپیئر، ڈکنس، شیلی کار لائل ، سکن برنارڈ شا، ایچ جی، ویلس، ٹالسٹائی، ٹیگور، روماں رولاں وغیرہ کے کارنامے کو محض وجدان اور جمالیاتی تخلیق قرار نہ دیتے ہوئے ان کے ادب کو مقصدی ادب قرار دیا ہے اور اس مقصد کو کسی مزاج یا کسی روح مذہب کی تشفی سے انکار کیا ہے۔ اس ضمن میں فراق لکھتے ہیں:

’’بہر حال ادبیاتِ عالیہ محض جمالیاتی یا وجدانی چیز نہیں ہوتے بلکہ مقصدی چیز ہوتے ہیں اور زندہ مقاصد ہندویا مسلم نہیں ہوا کرتے۔ ادبیات عالیہ میں صفات یا عناصر کا تعلق عمل سے ہے انہیں اسلام یا کسی اور مذہب سے متعلق کرنا غلطی ہے ۔ ان صفات و عناصر کاتعلق عالم تہذیب انسانی کے مختلف ادوار سے ہے ۔‘‘           فراق گورکھپوری، من آنم، صفحہ 161

اس بات میں کوئی  شبہہ  نہیں کہ صرف پانچ صفحات پر مشتمل فراق کے اس مضمون کی اشاعت نے ’’اسلامی ادب‘‘ کے حامیوں کی بنیادیں ہلادیں کیوں کہ اس مضمون کی اشاعت اور محمد طفیل کے نام لکھے مکتوب کے بعد اس ادب پر کچھ بولنے یا لکھنے والوں کو فراق کے ذریعہ قائم کردہ سوالوں سے نبرد آزماہونا پڑتا تھا جو کہ ظاہر ہے آسان کام نہ تھا۔

موجودہ دور میں ہمارے ملک میں بدقسمتی سے یا یہاں کے عوام کی ناعاقبت اندیشی سے ایک ایسی جماعت کے ہاتھ میں اقتدار ہے جو ملک کی فلاح وبہبود کے منصوبے بنانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے بجائے صرف اور صرف اکثریت کو دھرم کا نشہ پلا کر ہمیشہ مدہوش رکھنا چاہتی ہے۔ اقتصادی طور پر ملک کی جو صورتِ حال ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اسی لیے کسی تعلیمی ادارے سے اگرحکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو اسے( دیش دروہیوں )غدّاروں کا اڈہ کے نام سے منسوب کردیا جاتا ہے۔ اگر دانشور حکومت کی تنقید کرتے ہیں تو انھیں اربن نکسل(شہری نکسلی) کہہ دیا جاتا ہے۔

حکومت کے ذریعہ لائے گئے سی۔اے۔اے، این ۔سی۔ آر اور این، پی، آر جیسے متنازع اور کالے قانون کے خلاف احتجاج میں فیض کی ایک نظم کو پڑھنے کے بعد حکمراں جماعت سہم گئی اور عجب ہے کہ ہندتوا کی ’’عظمت‘‘ ترقی پسند اور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی صرف ایک نظم کے دو مصرعوںکی وجہ سے خطرے میں ہے۔ یہی نہیں بلکہ مودی سرکار کے ’’اہم‘‘ فیصلے بھی علامہ اقبال، جالب اور فیض کے انقلاب آفریں کلام اور مزاحمتی ترانوں کی صورت سخت مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔

مودی سرکار کی طرف سے ہندوستان کی امن پسند عوام، طلباء خصوصاً مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن بدترین جبر اور ڈرانے دھمکانے کے باوجود عوام شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کررہے ہیں جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی آتی جارہی ہے۔ ان حالات میںآئی آئی ٹی، کانپور کے عہدیدار ترقی پسند اور انسان دوست نظریات کے لیے دنیا بھر میں مشہور شاعر فیض احمد فیض کی نظم کی وجہ سے خوف زدہ نظر آرہے ہیں۔

اقبال بانو کی آواز میں یہ نظم کسے یاد نہیں۔ ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے! دہائیوں پہلے اس کلام نے سننے والوں کو اپنے سحر میں گرفتار کیا تھا، اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی تھی اور آج پھر ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف اسی کلام کے ذریعے ظالم کو للکارا گیا تو اسے ہندو مخالف قرار دے کر تحقیق شروع کر دی گئی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ایک مظاہرے کے دوران آئی آئی ٹی، کانپور میں طلبا نے یہ نظم پڑھی جس پر ایک فیکلٹی ممبر نے کہا ہے کہ فیض کا یہ کلام ہندو مذہب کی مخالفت کرتا ہے۔ اس شکایت کا نوٹس لے کر آئی آئی ٹی، کانپور نے ایک پینل تشکیل دے دیا جو اس بات کا تعین کرے گا کہ واقعی نظم سے ہندو مذہب کو کوئی خطرہ ہے یا نہیں۔ فیض کی نظم کے یہ دو مصرعے بعض طلبا اور یونیورسٹی کے اراکین کے لیے تکلیف اور تشویش کا باعث ہیں۔ وہ مصرعے یہ ہیں۔

سب بت اٹھوائے جائیں گے ، بس نام رہے گا اللہ کا

یہ نظم آپ بھی پڑھیے۔

ہم دیکھیں گے!

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوحِ ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

روئی کی طرح اْڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑ دھڑ، دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ، کڑکے گی

جب ارضِ خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلق خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ہم بی جے پی کے نیتائوں اور آ ایس ایس کے کارکنوں کو اس شعر کی مخالفت کرتے ہوئے سنتے ہیں:

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

لیکن ان کی جو بوکھلاہٹ ہے اس کی اصل وجہ یہ مصرعے ہیں:

جب ارضِ خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

یعنی موجودہ دور کے اناپرست حکمراں جو اپنی اکثریت کی بنا پر بت بن کر یعنی گونگے بہرے ہوکر صرف فرمان جاری کررہے ہیں اور عوام کی تکلیفوں و پریشانیوں کو نہ صرف نظرانداز کررہے ہیں بلکہ سماج کی مظلوم، دبی کچلی عوام کا مذاق بھی اڑارہے ہیں۔

بی جے پی کے ترجمان اکثر ٹی وی چینلوں اور عوامی جلسوں میں اس بات کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’بس نام رہے گا اللہ کا‘ کی جگہ پر رام، کرشن یا دیگر ہندو دیوی دیوتاؤں کا نام کیوں نہیں۔جب ’اسلامی ادب‘ کی بات چلی تھی تو اس مباحثہ میں دونوں طرف پڑھے لکھے اور دانشور تھے اس لیے اس کا ایک مثبت نتیجہ نکلا۔ لیکن موجودہ دور میں ایک طرف دانشور، عالم اور وطن پرست ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو نت نئے ایسی بے سروپا کی باتیں کرتے ہیں جس سے سماج میں نفرت پیدا ہو اور مذہب کے نام پر لوگوں کو بانٹا جاسکے۔ اس لیے کہ اگر یہ لوگ اس نشے سے ’مکت‘ ہوجائیں گے تو وہ بے روزگاری، تعلیم،ملک کی اقتصادی صورت حال پر سوال کریں گے۔ اس لیے انھیں مذہب کی افیم دیتے رہیں اور ملک کی اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کو دہشت میں رکھیں۔

ہندوستان کی تقریباًپچاسی فیصد اہل صفا اور مردود حرم سے انھیں خطرہ ہے کہ اب وہ جاگ رہے ہیں۔ ہمارے تاج اچھالے جائیں گے اور اس مسند پر خود عوام کی پسند سے عوام کے نمائندے بٹھائے جائیں گے۔ اس لیے یہ حکومت مسلسل ہندوستانی بھائیوں کو آپس میں کبھی مذہب کے نام پر، کبھی علاقے کے نام پر، کبھی گائے کے نام پر اور کبھی مسجد اور مندر کے نام پر لڑاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب ادب کے نام پر بھی لوگوں کے ذہن میں زہر گھول رہی ہے۔ ایسے نازک دور میں ایک بارپھر ادیبوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو ان کے غلط منصوبوں سے روشناس کرایا جائے اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو بچایاجائے۔

موجودہ دور میں بے روز گاری، رشوت، زندگی کے ہر شعبہ میں بد نظمی، بھوک سے تڑپتے لوگ، سامراجی قوتوں کی سازشیں اور تخریبی کوششیں نہ صرف ہندوپاک بلکہ اکثر ممالک کو اپنے شکنجے میں دبوچے ہوئے ہے ۔ ایسے موقع پر تمام ادیبوں کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے کہ تمام دنیا میں عوامی تحریکوں کی اہمیت کا شعور پیدا کریں اور ایسی تحریکوں کی بھر پور حمایت بھی کریں ۔

 

 

Dr. Aziz Ahmad Khan

C/o Er. Abdullah 151, First Floor,

Sarai Julena, New Delhi- 110025

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

islamophobiaاسلامی ادب اور اسلامو فوبیا
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
ٹیپو سلطان کا معاشی نظام – ڈاکٹر راحت افزا

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں