ایک بچہ جو اپنے گاؤں سے نکل کر مڈل کا امتحان دینے قریبی قصبہ کے اسکول میں آیا تو دھوتی باندھے، پاؤں سے ننگا، سہما ہوا، جھجھکتا اور کانپتا ہوا تھا۔ لیکن جب اس نے لندن کے ایک ہسپتال میں تقریباً اکاون(۵۱) سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کیں ،تو وہ اس کرۂ ارض کے تقریباً سبھی قابل دید ممالک گھوم چکا تھا۔ یہی بچہ میرؔ اور نظیرؔ کی روایت کا امین بنا۔ اس نے اردو میں شگفتہ نگاری کے ایک لازوال اسلوب کی بنیاد ڈالی، جو اسی سے خاص ہے۔ جو اپنے تراجم، سیاحت ناموں ،طنز و مزاح کے مجموعوں اور فکاہیہ کالموں کی وجہ سے اردو ادب کا ایک معتبر نام قرار پایا۔ کس کو معلوم ہے کہ اس نے ابتدا میں کیسی کیسی مصیبتیں جھیلیں ؟ وہ مطالعہ کے شوق کو کس طرح پورا کرتا تھا؟ بقول حمید اختر:
’’اس کو کتابیں پڑھنے کا بہت چسکا تھا۔ وہ ہمیں بھی تھا۔ چنانچہ ہم دونوں شام کو لدھیانہ میونسپل لائبریری جاتے ۔ منشی پریم چند کے تمام ناول وہیں ختم کیے۔ اس کے بعد ہم نے ایک پیسہ روز والی کرائے کی کتابیں پڑھنی شروع کردیں۔ تیرتھ رام فیروز پوری کے سارے ناول ہم نے ایک دھیلہ فی کس کے حساب سے ختم کیے۔ کیوں کہ چوبیس گھنٹے کے لیے کرائے پر لائی جانے والی کتاب ہم دونوں علاحدہ علاحدہ ختم کرکے دوسرے روز نئی کتاب لے آتے۔
یہی وہ بچہ ہے جس نے مملکت پاکستان میں کتابوں کی ترقی اور فروغ کے لیے نہایت گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کتابوں کی دنیا کے مسائل معلوم کرکے ان کے حل کے لیے موثر اقدامات تجویز کیے اور کئی منصوبوں اور ترقیاتی اسکیموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔جو متعدد کتاب میلوں ،کتابی نمائشوں اور تعارفی تقریبات کا روح رواں تھا۔ جو بیرون ملک میں پاکستانی مطبوعات کا نہایت کامیاب نمائندہ اور یونیسکو کے مطالعاتی پروگراموں کا سرگرم رکن تھا۔ ملک تقریباً سبھی قابل ذکر روزناموں ،ہفت روزوں اور ماہناموں کے ذریعے اپنی تمام مصروفیات سے قارئین کو اپنے خاص طنزیہ ومزاحیہ اندازمیں مطلع رکھتا تھا جس نے خوب لکھا اور بہت خوب لکھا۔ ساتھ ہی ساتھ لکھنے والوں سے اپنا لوہا منوانا۔
چند عرصہ قبل میری نظر ایک نظم پر پڑی ۔
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کروں تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں
اس کے بعد ان کی شاعری کا مطالعہ کیا۔ کافی ایسے اشعار ملے جو بہت مشہور ہیں ۔مثلاً:
کل چودہویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے ،ہم سے بھی سب پوچھاکیے
ہم ہنس دیے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردا تیرا
ابن انشا کی شاعری پر بات کرنے سے پہلے میں چاہتی ہوں کہ ان کی اکاون سالہ زندگی پر ایک نظر ڈال لیں کیوں کہ کسی بھی ادیب کی شخصیت یااس کے فن کو سمجھنے میں اس کی سوانح کااہم رول ہوتا ہے۔ ابن انشا کااصل نام ’’شیر محمد خاں‘‘ تھا۔ ۱۵؍ جون ۱۹۲۷ کو ضلع جالندھری کی تحصیل کے چھوٹے سے گاؤں ’’تھلہ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری اسکول میں ہوئی۔ کافی ذہین تھے اور اسی وجہ سے ہمیشہ درجہ میں اول آتے۔ ان کے والد نے بچے کی ذہانت کو دیکھ کر گائوں سے ڈھائی میل دور قصبہ ’’اپرہ‘‘ کے مڈل اسکول میں داخل کروادیا۔ مڈل امتحان میں بھی اول درجہ سے کامیابی ہوئے۔ اس کے بعد لدھیانہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ ان دونوں پرائمری اسکولوں میں فارسی، اردو، گورمکھی اور ہندی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ مطالعے کے شوق نے ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے شاعری کا شوق پیدا کردیا۔ دیکھتے ہیں:
’’سب سے پہلا تخلص اصغرؔ تھا۔ پھر مایوس عدم آبادی پسند آیا۔ مولوی برکت علی لائق نے، جو ہائی اسکول میں فارسی پڑھاتے تھے ،فرمایا کہ مایوس مت ہو۔ پس قیصر کا دم چھلا لگایا۔ قیصر صحرائی بھی رہے۔ لیکن چمکے تو ابن انشا کے نام سے ۔یہ نام اسکول ہی کے زمانے میں عمر کے پندرہویں ،سولہویں سال اختیار کرلیا تھا۔ اسکول میں مضامین اسی نام سے چھپے ۔ اگرچہ شاعری قصیرؔ تخلص کے ساتھ کی۔ اسکول ہی میں شیر محمد خاں بطور شاعر شیر محمد قیصر ؔکے نام سے مشہور ہوگئے۔ ( یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ بحیثیت نظم نگار – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم)
ان کے دوست حمید اخترکی ہی زبانی ان کے زیادہ تر احوال ہیں۔ اپنی دوستی کا ذکر بھی انھوں نے بہت دلچسپ انداز میں کیا ہے:
’’ مولوی عبدالرحمن سال میں ایک دفعہ کسی لڑکے کی پٹائی کرتے تھے اور سال بھر کی خاموشی کا کسر نکال دیتے تھے۔ اس بار جو لڑکا ان کی زد میں آیا ،وہ متفقہ طور پر اسکول کا سب سے ہوشیار اور شریف لڑکا تھا۔ ہم اس وقت نویں جماعت میں تھے۔ جب یہ خبر اسکول میں پھیلی تو ہم اسے دیکھنے گئے۔ وہ بورڈنگ ہاؤس کے سامنے بیٹھا اپنی پیٹھ سہلا رہا تھا۔ نام اس کا شیر محمد اور تخلص مایوس صحرائیؔ ۔ اس وقت وہ واقعی مایوس بلکہ حسرت و یاس کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مولوی صاحب پر کوئی فقرہ چست کیا تھا۔ جس میں ذم کا پہلو نکلتا تھا۔ حرام خور اور حلال خور میں زبان اور محاورے کا جو نازک سا فرق تھا۔ شیر محمد مایوس صحرائیؔ نے غالباً فقرے کی آمد کے زور میں اس کا خیال نہ رکھا۔ اور مولوی صاحب کو اس سال کا شکار ہاتھ آگیا۔ اس دن سے ہماری شناسائی دوستی میں بدل گئی اور پھر اس کے بندھن مضبوط سے مضبوط ہوتے چلے گئے۔ ( یہ بھی پڑھیں دلی کے بزرگ دوست:سلیم شیرازی- ڈاکٹر عمیر منظر)
اس کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حمید صاحب نے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے جس میں سے ایک :
’’شکل و صورت کے لحاظ سے ابن انشا میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ عینک اس وقت بھی لگی ہوئی تھی۔ فقرے بازی بلا کی کرتا تھا۔ لیکن یہ فقرے بازی ایک مخصوص حلقے تک محدود تھی۔ بڑی محفلوں میں اس زمانے میں وہ بہت کم بولتا تھا۔ ہم پر اس کے علم و فضل اور شاعری کا بہت رعب تھا۔ایک بار ایک ہندو ماسٹر نے امیر البحر کو امیر الجبر پڑھایا تو اس نے ٹوک دیا۔ ماسٹر صاحب نے ایک تھپڑ رسید کیا اور کہا کہ مجھ سے زیادہ جانتے ہو؟ دوسری دفعہ ایک محاورے پر تکرار ہوئی، ماسٹر صاحب نے سند مانگی، قیصر صاحب نے سند اس طرح پیش کی کہ فوراً ایک شعر موزوں کرکے سنا دیا اور اور کسی استاد کا نام لے دیا۔ ماسٹر صاحب کو تسلیم کرتے ہی بنی۔ ( یہ بھی پڑھیں نسائی احساسات کی ایک معتبر شاعرہ -ڈاکٹر مینا نقوی – ضیاؔ فاروقی)
اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو ان کی حاضر جوابی اور ذہانت کا ثبوت ہیں۔ انھوں نے ۱۹۴۲ء میں لدھیانہ سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ اسکول کے جلسے میں تقسیم اسناد کی صدارت وزیر تعلیم صوبۂ پنجاب عبدالحئی صاحب نے کی اور نوائے وقت کے مدیرحمید نظامی معزز مہمانوں میں شامل تھے۔ جیسا کہ اس قسم کی محفلوں میں ہوتا ہے ان کی خوب تعریف کی گئی۔انھیں مسلم نوجوانوں کے لیے درخشندہ مثال قرار دیا گیا۔ ان کے لیے وظیفہ مقرر ہوا۔ لیکن یہ مزید تعلیم کے لیے کافی نہ تھا جس کی وجہ سے وہ آگے داخلہ نہ لے سکے۔
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ایک ایک شے پہ مگر
جیب خالی تھی مگر مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
حصول تعلیم کے لیے انھوں نے آخری کوشش کے طور پر نوائے وقت کے مدیر مجید نظامی کے نام خط لکھا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ میں وہی ہوں جس نے آپ کی موجودگی میں گورنمنٹ ہائی اسکول لدھیانہ کے جلسۂ تقسیمِ انعامات میں پہلا انعام حاصل کیا تھا۔ اور جس کے شاندار مستقبل کے لیے آپ نے پیشین گوئی کی تھی لیکن اب اس کا کوئی پرسان حال نہیں ۔اگر ممکن ہو تو کوئی راہ بتائیں۔ ان کی طرف سے انھیں جو جواب موصول ہوا ،اس میں اسلامیہ کالج لاہور میں داخلے کا بندوبست کرنے کی خوش خبری تھی۔ لیکن یہ سارا طلسم جلد ہی ٹوٹ گیا۔ اسلامیہ کالج میں داخلہ تو مل گیا لیکن اخراجات کہاں سے آتے؟ انھوں نے نوائے وقت میں ہی ملازمت شروع کردی۔ یہاں انھیں ٹکٹ چسپاں کرنا، چائے پہنچانا جیسی چھوٹی موٹی خدمات انجام دینا پڑیں۔ چونکہ وہ خوددار تھے اور راجپوت بھی۔ اس کے علاوہ میٹرک بلکہ ایک کالج کے طالب علم بھی تھے۔ اس سے ان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی۔ نوائے وقت کا رفتہ رفتہ کام بڑھتا گیا۔ ہوٹلوں میں کھانا کھانے سے صحت خراب ہوتی گئی۔ انھوں نے آخر کار چار مہینے میں ہی واپسی کاارادہ کرلیا:
پھر وہی دشت ،وہی دشت کی تنہائی ہے
وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا لوگو!
جی کی جی ہی میں رہیں حسرتیں طوفانوں کی
یہ سفینہ تو کنارے پہ ہی ڈوبا لوگو!
۱۹۴۱ء میں جب ابن انشا نویں جماعت کا امتحان دے کر چھٹی گذارنے گھر گئے تو ان کی شادی کر دی گئی۔ اس دن کا حال یوں تھا ۔بقول ممتاز مفتی:
’’ اتنا چھوٹا تھا کہ جب اسے سہرے لگاکر بمبوکاٹ پر بٹھایا گیا تو ضد کرنے لگا کہ میں سیٹ پر نہیں بلکہ اسی بانس پر بیٹھوں گا جس کے ساتھ گھوڑا جُتا ہوا ہے۔‘‘
اس شادی میں سب سے زیادہ انشا جی کی والدہ کی خواہش کو دخل تھا۔ اور آگے چل کر انھیں کی وجہ سے علیحدگی عمل میں آئی۔ ابن انشا لاہور سے واپسی کے بعد انبالہ میںجونیئر کلرک کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔ وہاں ان کی دوستی لوک پال سیٹھی سے ہوئی۔ انبالہ قیام کے زمانے کی تفصیلات انھیں کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابن انشا کو اس کام سے کوئی لگاؤ نہیں تھا بلکہ اکثروہ مالیاتی باریکیوں میں جانے سے اپنی نفرت کا اظہار بھی کرتا۔ دفتر میں کام ختم کرکے وہ شہر کے میونسپل لائبریریوں کا رُخ کرتا اور اس کے بند ہونے تک وہیں ہوتا۔ لائبریری کے لوگوں سے اس کے اچھے تعلقات تھے۔ وہ اس کو عمومی قوانین و ضوابط سے ہٹ کر بھی رسائل و کتب مہیا کردیتے ۔ان دنوں کلیات میرؔ اکثر اس کے پاس ہوتا۔ وہ دفتر کے فارغ اوقات میں بھی اسے نکال کر پڑھتا۔
ان کی تعلیم کا مروجہ تسلسل تو زمانے کی بے مہریوں کی وجہ سے منقطع ہوگیا تھا۔ اس زمانے کے تعلیمی اصول کے مطابق وہ ایف۔ اے انگریزی کے مرحلے سے گذرنے کے لیے پرائیویٹ طور پر منشی فاضل کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔ اپریل ۱۹۴۴ء میں شریک ہوئے۔ اتنی مصروفیت کے باوجود اس میں بھی اول درجہ میں کامیابی حاصل کی۔ اب انھیں صرف ایف۔ اے انگریزی کا پرچہ دے کر بی۔ اے کے امتحان میں شرکت کی اجازت مل سکتی تھی۔ اور یہی ان کا منصوبہ تھا۔
۱۹۴۵ء میں انھوں نے روسی مصنف یوجین چیر خوف کے مشہور ناول کا اردو ترجمہ کیا۔ کہا جاتا ہے یہ ناول ان کی زندگی سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ یہ ناول کیا ہے۔ ایک بیقرار روح کی داستاں ہے جو اندھے پیار، اندھے اخلاق اور اندھے قانون کی زنجیروں میں جکڑی تڑپ رہی ہے۔ قدامت پرستی شباب کے تیز و تند دھارے کے سامنے نت نئے بند باندھتی ہے۔ اور آخر یہ دھارا ان کی سنگین پشتوں سے گذر کی راہ نہ پاکر بھنور بن جاتا ہے یعنی بے قرار روح چکرا کر ایک روز یکا یک خلائے بسیط میں گم ہوجاتی ہے۔‘‘
انھوں نے ناول کے تعارف کا اختتام بھی میرؔ کے شعر سے کیا:
یوجین چیرخوف کے متعلق میں کچھ زیادہ نہیں جانتا لیکن وہ پائے اور اعتبار کا مصنف مانا جاتا ہے۔ ہمیں فی الحال اس ناول سے غرض ہے جو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا جانیں دل کو کھینچیں ہیں کیوں شعر میرؔ کے
کچھ طرز ایسی بھی نہیں، ایہام بھی نہیں!
اپریل ۱۹۴۱ء میں وہ پنجاب یونیورسٹی کے بی۔ اے کے امتحانات میں بطور پرائیویٹ امیدوار شریک ہوئے۔ سردار محمود کا کہنا ہے کہ وہ اس میں بھی درجہ اول میں پاس ہوئے لیکن ان کی ڈگری میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ گریجویٹ ہونے کے بعد وہ کسی بہتر ملازمت کی تلاش میں کوشاں ہوگئے۔ اسی سلسلے میں دہلی آئے اور ایک ملازمت بھی مل گئی ۔اس کاذکر ان کی خودنوشت میں یوں ہے:
’’ بی ۔اے کرکے دل میں ’’آمپریل کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ میں نوکری کی (جنوری یا فروری ۱۹۴۷ء سے جولائی ۱۹۴۷ء تک) اِ س کے پرچے ’انڈین فارمنگ‘ کااردو ایڈیشن نکلتا تھا۔ بہت سا مواد تیار کر لیا تھا لیکن تقسیم ملک کی وجہ سے یہ پرچہ کبھی نہ نکلا۔ یہاں میں سب ایڈیٹر تھا اوراس کے ایڈیٹر مشہور ادیب دیوندر ستیارتھی تھے۔‘‘
دہلی میں آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ ہوئے لیکن بس جوائن کرنے کی نوبت ہی آئی کام کرنے کا موقع نہ ملا کیوں کہ اگست ۱۹۴۷ء کی بات ہے ۔۱۰؍ اگست کو جب حمیداختر ان سے ملنے دہلی گئے تو سرائے چھوڑ کر انبالہ جا چکے تھے یہاں ان کی نظم ’’یہ سرائے ہے‘‘ کے شعر دیکھیں:
یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانہ ڈھونڈو
یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں!
ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرہ مہرہ
یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی
سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا !
کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی
لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہ
ہم نے ایسی بھی کوئی بات نہ اس میں دیکھی
ایک دن صبح جو دیکھا تو سرائے میں نہ تھا۔
جانے کس دیس گیا ہے وہ دوانہ ڈھونڈو!
ہم سے پوچھو تو نہ آئے گا وہ جانے والا!
یاں تو آیا جو مسافر یونہی شب بھر ٹھہرا
یہ سرائے ہے۔۔۔یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو
تقسیم کے بعد ان کا نیا وطن پاکستان تھا۔ اور اس نئی مملکت کا شہر ’’لاہور‘‘ ان کی نئی منزل ، جہاں سے تقریباً ساڑھے چار سال پہلے وہ عجب کس مپرسی کے عالم میں لدھیانہ سدھارے تھے بقول ذوق:
آدم دوبارہ سوئے بہشت بریں گیا
دیکھو جہاںخراب ہوا پھر وہیں گیا
حمید اختر نے ان کے گھر کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
’’ اگست ۱۹۴۷ء کے بعد ہم اوائل نومبر ۱۹۴۷ء میں لاہور میں ملے۔ نکودر کے کیمپ سے جب لاہور پہنچا تو میرا اڈہ انشا جی کا گھر ہی تھا۔ یہ گھرایبٹ روڈ پر اب بھی قائم ہے۔ مگر اس وقت کے مکینوں میں سے بہت سے اب وہاں نہیں ہوتے۔ انشا کے والد اور اہل خانہ سے میری ملاقات یہیں ہوئی۔ پگوڑا نما مکان کے اِس برآمدے میں انشا لیٹا رہتا تھا۔ بہن بھائیوں کی تعلیم کی ذمہ داری اس پر تھی۔ بے سروسامانی کا عالم تھا۔ گھر میں جگہ کی قلت تھی مگر دلوں میں جگہ تھی۔ میں وہاں پہنچا تو سارا خاندان دال روٹی لے کر حاض ہوجاتا۔ پھر ہم ماضی کی داستانیں دہراتے ۔ اس کے والد اپنا گھر، اپناگاؤں اور اپنی زمین یاد کرتے۔ دن میں دھوپ ہوتی تو مرحوم منشی خاں ایک بڑی سی چارپائی باہر نکال کر بیٹھ جاتے ۔ ہم دونوں باری باری حقے کی کش لیتے اور دنیا بھر کی باتیں کرتے ۔‘‘
ابن انشا اور ان کے رفقا دونوں بڑے ہی خوش قسمت تھے کہ ابن انشا کو فکر تونسوی ،ساحر لدھیانوی ، احمدراہی، حمید اختر، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، احمد ندیم قاسمی ،اے حمید، قدرت اللہ شہاب، فیض احمد فیض، شفیع عقیل، جوش ملیح آبادی، ابراہیم جلیس، قرۃ العین حیدر، ہاجرہ مسرور، ضمیر جعفری، شوکت تھانوی، کرنل محمد خاں وغیرہ جیسے دوست ملے تھے اور ان لوگوں کو ابن انشا جیسا شوخ طبع شخص کا ساتھ ملا تھا۔ ساحر لدھیانوی ، فکرتونسوی ،ظہیر کاشمیری تو ہندوستا ن آگئے۔ ابن انشا لاہور چھوڑ کر کراچی چلے گئے ، جہاں انھوں نے پاکستان رسالے و پاک سرزمین میں ایڈیٹر کی ملازت مل گئی۔ جس کے چیف ایڈیٹر ابوالاثر حفیظ جالندھری تھے۔
ریڈیو پاکستان میں بھی کام کیا۔ پھر دستور ساز اسمبلی میں مترجم بن گئے۔ اسی زمانے میں پہلی بیوی سے علیحدگی ہوگئی۔بقول اشفاق احمد ’ان کے درمیان کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا۔ علیحدگی کا سبب ان کی ماں کی خوشی تھی۔‘
تو کہے جائے گا کب تک ہوا کچھ بھی نہیں!
اے دل!اس درد کی دوا کچھ بھی نہیں
کس لیے چین سے محروم ہیں اپنے شب و روز
کچھ سمجھ میں نہیں آتا بخدا کچھ بھی نہیں!
۱۹۵۳ء میں انھوں نے ایم۔ اے میں کراچی یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دوبار پی ۔ ایچ۔ ڈی میں داخلہ کی کوشش کی۔ داخلہ مل بھی گیا لیکن مکمل نہ ہوسکا۔ بقول خلیل الرحمن :
’’پی۔ ایچ ۔ڈی میں داخلہ لینے کے بعد ابن انشا ؔ اس سے دستبردار ہوگیا کہ محقق اور اسکالر وغیرہ بننا اس کے مزاج کے منافی تھا۔ اس نے ایک خط میں مجھے لکھا تھا کہ میں برناڈشا کا مرید ہوں۔ جس نے لکھا تھا کہ میری ساری ’انسائیکلو پیڈیا برٹینکا‘لکھنے کی نسبت ’ایلس ان ونڈرلینڈ‘ کا مصنف ہونا زیادہ پسند کروں گا۔ ‘‘
اسی پی۔ ایچ ۔ڈی کے بہانے ان کی ملاقات مولوی عبدالحق سے ہوگئی اور یہ ملاقات دوستانہ قربت میں بدل گئی۔ انھیں مولوی صاحب کے تعلق سے مضمون لکھا، جو عجیب مسخرہ پن لیے ہوئے تھا۔ مولوی صاحب کو وہ پسند آیا۔ ابن انشا نے اس کے متعلق لکھاہے:
’’مولوی صاحب سے میرا تعلق ۱۹۵۳ء سے ہے۔ اس سال میں نے اردو کالج سے ایم۔ اے پاس کیا۔ امتحانوں سے فارغ ہو کر میں نے ایک سلسلۂ مضامین ’’ڈان‘‘ میں لکھا: Writers of urduliving۔ یہ سلسہ بہت دنوں تک جاری رہا۔ پہلا مضمون قدرکا مولوی صاحب پر لکھا ۔یہ مضمون رسمی نہیں تھا۔ عجیب سا مسخرہ پن لیے ہوئے تھا۔ بہر حال مولوی صاحب کو پسند آیا۔ اور انھوں نے مجھے ایک خط لکھا۔ میری زبان و بیان کی تعریف کی اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں بدقسمت ان کے پیار سے محروم تھا۔ بہرحال گیا اور انھوں نے حد سے زیادہ توجہ اور عنایت سے نوازا اور برابر آنے کہا۔ میری پوزیشن یونیورسٹی میں پہلی تھی ۔ڈاکٹریٹ میں داخلہ لیا تو مولوی صاحب میرے ڈائریکٹر ہوئے۔ اتوار اتوار ان سے گپ ہونے لگی۔ باہر آنے جانے میں بھی مجھے ساتھ لیتے۔ ہم سنیما بھی ساتھ دیکھتے اور وقت شباب کی باتیں بھی کرتے۔ ان سے اس قسم کی دوستی کا سلسلہ اب تک ہے۔
یہ مضمون بابائے اردو مولوی صاحب کی نظروں سے بھی گذرا جس پر انھوں نے ابن انشا کے نام ایک خط (محررہ ۲۹؍ جون ۱۹۵۳ء) میں اس طرح ذکر کیا :
’’ میں نے تمہارا وہ مضمون پڑھا ہے جو تم اس آوارہ کوئے نا اہلاں کی نسبت ’ڈان‘ میں لکھا ہے۔ تمہاری زبان اور حسن بیان کی کیا تعریف کروں۔ پڑھ کر مجھے رشک آتا ہے مگر تم نے بہت جلدی کی۔ کچھ دن ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا ۔پھر آزادی سے جو چاہتے لکھتے ۔ شاید تمھیں زیادہ انتظار اور کرنا پڑتا۔ اب اس کے بعد خدا کے لیے کچھ نہ لکھنا۔ میں اپنے دوستوں اور عزیزوں کو ہمیشہ ایسی تحریروں سے منع کرتا ہوں۔ اس سے لوگوں کو حسد ہوتا ہے اور میرے کام میں خلل پڑتا۔ تعریف اور برائی دونوں سے کام میں خلل ہوتی ہے۔ قدرت نے تمھیں انشا پردازی کی ایسی اچھی صلاحیت عطا کی ہے جو کم لوگوں کو نصیب ہوتی ۔اس سے کبھی کوئی ایسا کام نہ لیناجو خوداری اور غیرت کے خلاف ۔‘‘
۱۹۵۵ء میں حکومت پاکستان کے نیشنل بک سنٹر میں ذمہ دار عہدے پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد سنٹر کے سربراہ بنائے گئے۔ جہاں انھوں نے پورے خلوص اور محنت کے ساتھ خدمات انجام دیں ، جس کی وجہ سے یونیسکو میں پاکستان کے مطالعاتی علمی و ثقافتی نمائندے بن گئے۔ بقول ممتاز مفتی ’ نیشنل بک سنٹر کے قیام کے بعد انشا کو ملک ملک گھومنا پڑا، کتابوں کے متعلق عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرنی پڑی تھی۔ یونیسکویہ دیکھ کر انھیں ایسی آسامی آفر کردی جس کی تنخواہ اس ملازمت سے بیس گنا زیادہ تھی، لیکن انھوں نے انکار کردیا۔‘ اس واقعہ کا ذکر کشور ناہید نے کیا ہے:
’’ ۱۹۷۴ میں ابن انشا کو یونیسکو والوں نے بہت بڑے مشاہرے پر ڈائریکٹر کے عہدے کی پیش کش کی تھی مگر انھوں نے اس بڑے عہدے اور بھاری مشاہرے کے مقابلے میں وطن کی خدمت کو ترجیح دی اور یہ پیش کش ٹھکرا دی۔ حکومت پاکستان نے انشا جی کے اس جذبے کو سراہا۔
۱۹۶۹ء میں ایک کشمیری خاندان کی خاتون شکیلہ بیگم سے دوسری شادی کی۔ ان کے گلے میں تکلیف شروع سے ہی تھی۔ چھوٹے موٹے علاج کرائے۔ ۱۹۷۶ء آتے آتے گلے میں گلٹیاں نکل آئی۔ ملک اور بیرون ملک کے ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔ کینسر کی تشخیص ہوئی۔ علاج لندن میں ہوتا تھا۔ اس لیے قدرت اللہ شہاب اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ کے مشورے سے یہ سبیل نکلی کہ ابن انشا کو سفارت خانے کا افسر مقرر کرکے لندن بھیج دیا گیا۔ علاج چلتا گیا مگر بیماری بھی بڑھتی گئی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کے لیے یکم اپریل ۱۹۷۷ء کی تاریخ مقرر کردی لیکن آپریشن کو کسی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ ابن انشا ایسے نازک موقع پر بھی مزاح کا پہلو تلاش کرلیتے۔ بیگم سربراز اقبال کے نام ایک خط میں رقم طراز ہیں:
’’یکم اپریل کو تو ہم نے آپریشن نہیں کرایا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ بے وقوف ہے، اپریل فول ہے۔ اب ۱۹؍اپریل کو وہی آپریشن ہوگا۔‘‘
آپریشن کا حال بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے:
’’کھانا پینا رات ہی سے بند کر دیا گیا تھا۔ صبح دم، غسل کے بعد خاص آپریشن کالباس پہنا دیا گیا۔ پھر اسٹریچر آگیا اور ایک انجکشن ہمیں وہیں دیا گیا۔ اب آپریشن تھئیٹر کی طرف پابجولاں چلے دست افشاں چلے۔ آگے آپریشن تھیئٹر کے دروازے پر پھر ایک ڈاکٹر نے ہمیں ایک انجکشن دیا اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ بیہوش ہونے سے پہلے ہم نے اِن ڈاکٹر کی صورت کو مانوس پاکر پوچھا: ’’آپ کہاں کے ہیں؟ بولے بنگلہ دیش کا ہوں۔‘‘ نام؟ ’’ڈاکٹر احمد‘‘ ہم نے کہا: ’الحمد للہ۔اگر یہ آخری نظر ہے تو اپنے ایک بھائی پر ہی پڑی ہے۔‘‘
۱۹؍ اپریل کو ان کا آپریشن ہوگیا۔ البتہ علاج جاری تھا۔ ان کی زندگی معمول پر آگئی لیکن انھیں اسی بیچ ذہنی شاک لگا کہ انھیں ہندوستان لابی کا مصنف قرار دے کر ان سے تحریری صفائی مانگی گئی ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے لکھنے پڑھنے کا کام کیوں کرتے ہیں ۔اس سرکاری خط نے ابن انشا کو اندر سے توڑ دیا۔
وہ ان تمام چھوٹے چھوٹے صدمات کو برداشت کرتے رہے۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان میں شدید ہنگامہ آرائی اورسیاسی بحران کے بعد مارشل لاء کا نفاذ عمل میں آیا۔ حکومت نے ان کی پوسٹ کو ختم کرکے انھیں وطن واپس آنے کا حکم دیا۔ ایک طرف ابن انشا مہلک بیماری میں مبتلا تھے، دوسری طرف یہ خبران پر بجلی بن کر گری۔ مکان خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ جب تک علاج کی مدت ہے اس وقت تک ان کی ملازمت میں توسیع کر دی جائے۔ یہ دن ابن انشا نے نہایت پریشانی کی حالت میں گذارے۔ آخری لمحوں کا ذکر نذیر احمد نے کیا ہے:
’’ ۱۸؍ دسمبر کو وہ میرے کمرے میں آئے تو کوٹ اتار پھینکا، پانی دوگلاس پیے۔ میں نے کہا: انشاجی آپ کو صرف قمیص میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس پرانھوں نے آستین بھی چڑھالیں ۔میں پریشان ہوگیا۔ میں نے کہا: بولیے تو سہی، کہا زبان سوج گئی ہے۔ بات بڑی مشکل سے ہوتی ہے لگتا ہے اندر دشمنوں کا قبضہ ہوگیا ہے اور محافظ سوگئے ہیں۔
اس کے بعد ان کی یہ حالت ہوگئی کہ انھیں رائل مارسڈن اسپتال میں ایڈمٹ کرا دیا گیا۔ حالت بدستور بگڑتی جاتی تھی لہٰذا دوسرے اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اسی دوران مزید چار مہینے پوسٹ برقرار رہنے کی خبر تو مل گئی لیکن وہ اس صدمے کا تدارک نہ کر سکے، جو پہلے انھیں پہنچ چکا تھا۔ ممتاز مفتی لکھتے ہیں:
’’اگرچہ شہاب نے مل ملا کر اسے علاج مکمل کرلینے مہلت دے دی لیکن اس کی صحت بحال نہ ہوسکی۔ ذہن پر اس قدر چوٹ لگی کہ مفلوج ہوگیا تو روز اسپتال میں گہری بیہوشی میں پڑے دسویں روز انتقال کرگیا۔
گیارہ جنوری ۱۹۷۸ء بدھ کے دن لندن کے وقت کے مطابق چھ بج کر دس منٹ پر پر تقریباً اکاون(۵۱) برس کی عمر میں ابن انشا اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔
اب ہم کو اجازت کہ ہوا وقت ہمارا
محفل سے کریں اہل محبت کنارا
روزنامہ جنگ کراچی کے ایک رپورٹر کے مطابق:
’’ممتاز ادیب اور شاعر ابن انشا مرحوم کی میت لندن سے کراچی لانے والے پی۔ آئی۔ اے کے طیارے کے مسافروں نے بتایا کہ دوران سفر طیارے کے پبلک ایڈریس سسٹم پر مرحوم کی مشہور غزل ’’انشا جی اٹھو کوچ کرو اس شہر میں جی لگانا کیا ‘‘ کئی بار سنوائی گئی، جو نہایت اثر انگیز انداز سے استاد امانت علی خاںمرحوم نے ریکارڈ کرائی تھی۔ غزل سن کر اکثر مسافروں پر رقت طاری ہوگئی۔ بعض مسافروں کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔‘‘
نماز جنازہ میں ایک بڑی تعداد ادیبوں کی تھی۔ نماز جنازہ کے بعد میت پاپوش نگر قبرستان لے جائی گئی جہاں انھیں ان کی والدہ کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔
ان کی وفات کے بعد ان کے سوگ میں تعزیتی جلسوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے غم میں جتنے تعزیتی اجلاس منعقد ہوئے، اس سے قبل کسی بھی ادیب کی رحلت پر نہیں ہوئے تھے۔ علمی، ادبی اور صحافتی دنیا میں ان کی وفات کا رنج اتنے وسیع پیمانے پر محسوس کیا گیا کہ صرف ان کے مداحوں کے دلی تاثرات کو سمیٹنے کے لیے بھی کئی صفحات کی ضرورت ہوگی۔ یہاں اختصار کے ساتھ ایک دو کا ذکر کرتی ہوں:
ضمیر جعفری لکھتے ہیں:
’’ ابن انشا چل بسے۔ چاند نگر کی روشنی دوستوں سے روٹھ گئی۔ اردو نظم کا عظیم بنجارہ اپنی عمر کی پونجی لٹاکر کوچ کر گیا، اردو نثر میں شگفتگی کا سدا بہار آبشار تھم گیا، وہ جس کی باتوں میں گلوں کی خوشبو تھی، وہ جس کے لفظوں میں موتیئے کی کلیاں کھل اٹھتی تھیں، افق کی دھند میں کھو گیا۔ وہ سورج جو صرف اس کے قلم سے طلوع ہوتا تھا، ایوانِ اردو میں پھر کب چمکے گا۔ اردو مزاح نگاری کے قبیلے کا سردار رخصت ہوگیا۔ کل جب وہ ہم میں موجود تھا، ہم کتنے تونگر تھے۔ آج جب وہ ہم میں موجود نہیں، ہم کتنے نادار ہوگئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابن انشا ایک بے بہا متاع تھے۔ ‘‘
انتظار حسین کے تاثرات:
’’ اچھی شاعری کے قارئین کا حلقہ تو محدود ہی ہوا کرتا ہے مگر ابن انشا نے نثر بھی وہ باغ وبہار لکھی اور کالموں میں وہ شگوفے چھوڑے کہ ایک خلقت اس کی رسیا ہوگیا۔ پرسوں سے پوری خلقت سوگوار ہے۔ اصل میں ابن انشا کے جانے کے ساتھ ہمارے پاس سے بہت کچھ چلا گیا ہے۔ نثر کا ایک اسلوب رخصت ہوگیا ۔اب ایسی نثر جس کے فقرے بیک وقت گل پھول بھی ہوتے تھے اور تیر و نشتر بھی کون لکھے گے۔
اٹھ گیا ناوگ فگن مارے گا دل پر تیر کون!‘‘
ابن انشا کی موت پر تحریر اپنے مضمون ’ پینڈو‘ کا اختتام حمید اختر نے اِن الفاظ میں کیا ہے :
’’ ہنستا ،گنگناتا، خاموش طبع سادھو اور ساری دنیا گھومنے والا’پینڈو‘ جو اندر ہی اندر سلگتا رہا تھا، ہمیں چھوڑ کر چاند نگر پہنچ گیا، کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔ اس کی پہلی برسی کے دن میں بمبئی سے امرتسر آتے ہوئے لدھیانہ اور پھلور کے اسٹیشنوں سے گذرا تو انشا بہت یاد آیا۔ لدھیانہ میں عجائب چترکار اسے بہت یاد کر رہا تھا۔ دہلی میں نو تیج سنگھ، پریت لڑی، کے ’ابن انشانمبر‘ کے لیے مضمون مانگ رہا تھا، بمبئی میں ساحر لدھیانوی اس کی باتیں کر رہا تھا۔ اب ہمارے پاس اس کی باتوں اور یادوں کے سوا رہا بھی کیا ہے۔‘‘
’’ شاعروں نے مختلف انداز سے ابن انشا کی یاد کی شمعیں روشن کیں۔ چند مثالیں دیکھیں۔
شمیم صبائی نے ابن انشا کے ایک مصرعے سے ہجری تاریخ نکالی ؎
انشا جی ہمیں جاتے جاتے یہ بات بتاتے جائو ذرا
جاتے ہو جلدی جنت میں حوروں سے کروگے بہانہ کیا
یوں سالِ مرگ شمیم ان کا ہاتف نے ادب کے ساتھ کہا
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس جگ میں جی کو لگانا کیا
۷+۱۳۱۹= ۱۳۹۸ھ
کئی لکھنے والوں نے ابن انشا کی ہی کہی ہوئی مترنم غزلوں کی بحروں اور انہی کے اردو میں ہندی کے کومل امتزاج سے معمور انداز میں انھیں یاد کیا بالخصوص ایسے شعرا جن کے ہاں صوت و نغمگی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مثلاًقتیل شفائی اور مظفر وارثی کے مرثیوں میں سے چند شعر ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
قتیل شفائی :
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے،اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا ان سے بھی مُنہ پھیروگے ؟یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی،یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنساتے آئے ہو، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی
مظفر وارثی :
انشا جی تم کوچ کر گئے بن گئی غزل بہانہ کیا
ہوش کی باتیں جو کرتا ہو، ایسا بھی دیوانہ کیا
اتنا پیارا شخص مظفر ،چھین کے لے گئی موت ستمگر
جیتی جاگتی ایک حقیقت ،ہوگئی آج فسانہ کیا
اس طرح یہ مسافر اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ جس کے جانے سے اردو نظم و غزل کا ایک منفرد و توانا اسلوب اور شگفتہ نثر کا ایک روشن باب تاریک ہوگیا۔
اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافرتو گیا
یہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو!
ماخذ
۱۔ ابن انشا :احوال و آثار :ڈاکٹر ریاض احمد۔انجمن ترقی اردو پاکستان
۲۔ ابن انشا :یادیں، باتیں۔ اے حمید۔ شیخ غلام علی لاہور
۳۔انشا جی میرے دوست ،بھائی اور باپ۔کشور ناہید ۔ماہنامہ کتاب ،لاہور۔ شمارہ فروری ۱۹۷۸
۴۔اب کوئی آئے تو کہنا مسافر تو گیا۔ نذیر احمد روزنامہ جنگ ،لندن ۔ اشاعت ۷؍ فروری ۱۹۷۸
۵۔جلتا بجھتا دیا۔ ممتاز مفتی ،جملہ نقوش لاہور ۔جنوری ۱۹۷۹ء
۶۔ چاند نگر۔ ابن انشا ۔نیا ادب پبلشر ،کراچی۔ ۱۹۵۵ء
اخبار و رسائل
۱۔ روزمانہ جنگ ،لندن ۔۷؍ فروری ۱۹۷۸ء
۲۔ روزنامہ امروز ،لاہور ۔ ۱۴؍ فروری ۱۹۷۸ء
۳۔ مجلہ نقوش ،لاہور۔جنوری ۱۹۷۹۔
۴۔ ماہنامہ ادب لطیف ،لاہور ۔اپریل ۱۹۸۱ء
۵۔ ماہنامہ کتاب ،لاہور ۔جلد ۱۲۔ شمارہ ۵۔ فروری ۱۹۷۸ء
دوماہی الفاظ ،علی گڑھ۔ مئی ،جون ۱۹۷۸ء
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

