بچوں کو قوم کا مستقبل اور ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا جاتا ہے، جہاں تک تعبیر کی بات ہے تو یہ صدیوں کے تجربے، مشاہدے اور حقائق کی بنیاد پر معرض وجود میں آتی ہے-اس تعبیر کی ایک بڑی سچائی یہ ہے کہ بچے ہی مستقبل کے معمار ہوتے ہیں-آنے والے زمانے کی زمام کار انہی سے وابستہ ہوتی ہے-بچے ہی کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی کا راز ہوتے ہیں-اس لیے ان کی تربیت اور ان کےبہتر نظام تعلیم کا انتظام ہماری ترجیح ہونی چاہیے-ہر قوم، ہر سماج اور ہر ملک میں ایسے کچھ لوگ ضرور ہوتے ہیں جو بچوں کو پیش نظر رکھ کر ادب تخلیق کرتے ہیں-اردو زبان وادب میں بھی کچھ ایسے باخبر،درد مند اور مخلص ادبا اور شعرا ہوئے ہیں جنھوں نے پوری عمر نونہالوں کے لیے ہی لکھا اور پڑھا ہے-
ان میں اسماعیل میرٹھی اور شفیع الدین نیر کے نام قابل ذکر ہیں-
دراصل بچوں کی تربیت کی غرض سے جو ادب لکھا جاتا ہے اسے بچوں کا ادب کہا جاتا ہے-چوں کہ نسل نو کو سامنے رکھ کر ان کی ذہنی مناسبت سے ادب تخلیق کیا جاتاہے،جو کہ مشکل اور دشوارگزارکام ہے- ( یہ بھی پڑھیں ریوتی سرن شرما کی ڈراما نگاری – قرۃ العین )
باوجود اس کے کہ ملت کے ایک طبقہ کو چاہیے تھا کہ اپنے نونہالوں کی فیوچر پلاننگ کرتے اور منظم لائحہ عمل تیار کرتے مگر افسوس تو اس بات پر ہے کہ آزادی کے ستر سال گزر جانے کے بعد بھی ابتک بچے اوربچیوں کی تعلیم کا معقول انتظام نہیں ہوسکا- یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس نہ ہی کوئی بہتر نصاب تعلیم ہے اور نہ ہی وافر لٹریچر- جس کی وجہ سے مسلم معاشرہ نسلاً بعد نسلٍ ناخواندگی کی راہ پر گامزن ہے-اس بات پر بھی افسوس ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بڑوں کا ادب لکھنا نہ صرف پسند کرتاہے بلکہ اسے اس پر فخر بھی مگر بچوں کا ادب لکھنا،ان کے لیے تربیتی قصے،کہانیاں لکھنا اور مثبت فکر کی شاعری کرنے کا رواج عام نہیں ہے-
معدود چند ایسے تخلیق کار ہیں جنھوں نےاس جانب توجہ دی ہے ان میں ایک اہم نام سید محمد ذکی احمد کا ہے-ان کا امتیاز ہے کہ انھوں نے خالص بچوں کےلیےادب لکھنے کو ترجیح دی۔
میں یہ پورے اعتماد اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ بہت کم ایسے ادیب وشاعر ہیں جنھوں نے بڑوں کا ادب تخلیق کرتے ہوئے بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا ہے-ذکی احمد کا یہی اختصاص ہے کہ انھوں نے بڑوں کا ادب تخلیق کرتے ہوئے بچوں کےلیے ادب تخلیق کرنے کو ترجیح دیا ہے-آپ کا شمار بچوں کے ان جینون تخلیق کاروں میں ہوتاہے جنھوں نے خالص بچوں کےلیے ادب لکھنا ہی اپنا مطمح نظر ٹھہرایا جو کہ بڑی بات ہے-ان کا کمال یہ ہے کہ نظم لکھتے وقت بچوں کی ذہنیت اور ان کی ذہنی سطح کا خاص خیال رکھتے ہیں-وہ بچوں کی زبان میں بچوں کی ذہنی سطح پر اتر کر ادب تخلیق کرتے ہیں جو کہ بےحد دشوار اور مشکل کام ہے-مگر اس کے باوجود انھوں نے فنی جوہر کا خوبصورت کمال دکھایاہے-
مثال کے طور پر چند نظموں کے بند ملاحظہ کریں :
میٹھی بولی بولنے والا
پنچھی کرتا ہے متوالا
کڑی بولی بولنے والے
تن کے اجلے من کے کالے
(نظم:میٹھی بولی)
……………………………..
میری بات مانومرے دل کے پیارو
کبھی بھول کرتتلیوں کو نہ مارو
حسیں تتلیوں کا ہے رسیا زمانہ
پکڑنا انھیں کام ہے وحشیانہ
بناؤ نہ ان کو ستم کا نشانہ
ذکی کی نصیحت ہے یہ دوستانہ
کہ اےاپنی ماؤں کی آنکھوں کے
تارے
کبھی بھول کر تتلیوں کو نہ مارو
(نظم: تتلیوں کو نہ مارو)
……………………………
ذکی احمد نے دیگر نظم نگاروں کے برعکس اپنی نظموں کے موضوعات منفرد رکھے ہیں-انھوں نے موضوعات کے ساتھ اسلوب بیان بھی منفرد رکھاہے-دیکھاجاے تو یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ وہ موضوعات کے انتخاب میں محتاط نظر آتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ ان کی نظم کےموضوعات کو پڑھ کر دفعتاً ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاعر نے اس میں کیا کہنے کی کوشش کی ہے-ان کی نظموں کا موضوع تعمیری،تہذیبی وثقافتی اور اخلاقی پہلوؤں کا اعلانیہ ہوتاہے- ان کی نظمیں تعمیری،
مذہبی،اخلاقی اور تہذیبی پیغام سے مملو ہوتی ہیں-ان کی نطموں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں عادات واطوار، آداب اور اخلاقیات کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظم کیاگیا ہے تاکہ ہمارے بچے ان اقدار سے آشنا ہوسکیں-خاص بات یہ ہے کہ ان باتوں کو شاعر نے بڑے ہی دل پذیر پیرایہ بیان میں پیش کیا ہے-
نظم کو پڑھ کر کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ شاعر ناصح یا مصلح کا فرض ادا کر رہا ہےاور نہ ہی انداز خطیبانہ ہے جو کہ خوبی کی بات ہے-ہر جگہ یہ احساس ہوتا ہے کہ شاعر ایک مربی اور معلم کا رول ادا کر رہاہے-اور اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک مقصد کے تحت برتا گیاہے-اور ان باتوں کو بالقصد شعری اظہار کا وسیلہ بنایا گیا ہے- جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر خود بھی تعمیری فکر وخیال کا علم بردار ہے-وہ چاہتا ہے کہ نسل نو بھی اپنی زندگی کو اخلاقیات اور اسلامی اصول سے آراستہ کرے اور اسلامی نظریات کو بروئے کار لاکر صالح زندگی بسر کرے تاکہ ایک بہتر سماج کی تشکیل ہوسکے-ذکی احمد کی ایک نظم ہے”میٹھی بولی” اگر ہم اس نظم کا محاکمہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ شاعر نے اس نظم کو براے نظم نہیں کہا ہے بلکہ اس کے ذریعہ قوم کے نونہالوں کو پیغام دیاہے کہ ہمیں تمیز وتہذیب کواختیار کرنے کے ساتھ باکردار بننا چاہیے، جس کے لیے شاعر نے پرندے کو ایک کردار کی شکل میں پیش کیا ہے، کہ دیکھو بچو ایک پرندہ جو بول نہیں سکتا، جو انسانی اعمال وافعال کو بھی برت نہیں سکتا، مگر وہ صرف اپنی میٹھی بولی بول کر لوگوں کومدحوش کردیتاہے-اور لوگ اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں-
لہذا ہمیں بھی بحیثیت انسان ایسا ہی بننا چاہیے،ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا وطیرہ بدلیں، اپنے اخلاق کو بہتر کریں اور اپنے رویے میں کشش پیدا کریں-
شاعر اس نظم کے دوسرے بند میں کہتا ہے کہ اس کے برعکس ان لوگوں کو دیکھو جن کا لہجہ سخت اور کرخت ہے دراصل وہ لوگ جسم وجان کے اجلے تو ضرور ہیں مگر سچائی یہ ہے کہ ان کا دل صاف نہیں ہے- اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بحیثیت اشرف المخلوقات اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں اور یہ طے کریں کہ ہمیں کیسا بننا ہے-
اسی طرح ان کی ایک نظم "تتلیوں کو نہ مارو” کے موضوع سے ہے-اس نظم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مقامی بول چال کا رنگ نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے-بے تکلفی کی لفظیات کا برمحل استعمال کرکے شاعر نے اس نظم میں ایک عجیب وغریب سی کیفیت پیداکردی ہے-
اس نظم میں غیر اظہاری کیفیت دل کو گدازگی بخشنے کے لیے کافی ہے، ایسی کیفیت کااظہاربچوں کے لیے کہی گئی نظم میں خال خال ہی کسی کے یہاں ہواہے- یہ فطری امر ہے کہ بچے خوش نما چیزوں کی جانب بے ساختہ مائل ہوتے ہیں،اور کھیت کھلیان میں رنگ برنگی تتلیوں کو دیکھ کر غیر ارادی طور پر ان کی جان کے دشمن ہوجاتے ہیں- شاعر نے بچوں کی اسی باطنی کیفیت اور نفسیات کو خوبصورتی اور ہنرمندی سے کامیاب طریقے سے برتاہے-
اس نظم کے ذریعہ بھی شاعر نے بچوں کو پیغام دیاہے،شاعر نے یہ بتانے کی کوشش کی یے کہ بچو کسی کی جان لینا گناہ، اللہ تعالی اس فعل سے ناراض ہوتے ہیں- دوسری بات یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالی نے تتلیوں کو بے سبب اور یونہی بے کار میں پیدا نہیں کیاہے بلکہ ان کو پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ دنیا کی خوش منظری میں ان کی وجہ سے اضافہ ہو اور فضائی آلودگی کے ازالے کا سبب بھی بنیں، لہذا ان کی جان لینا ایک وحشیانہ عمل ہے اور غیرانسانی رویہ بھی-اس طور پر اس نظم میں بچوں کو اخلاقیات کا پابند بنایاگیا ہے-
ذکی احمد نے نسل نو کو مستقبل کے تعلق سے بھی بیدار کرنے اور مستقبل کو کامیاب بنانے کا خفتہ راز بھی بتایا ہے کہ تمہارا آنے والا کل کیسا ہو؟ اس کل کو بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ اپنے مستقبل کو روشن اور آرزوؤں کو پرامید کیسے کیا جاسکتاہے؟انھوں نے مثالوں کے ذریعہ سے بتایا ہے کہ تم اگر اپنے مستقبل کو تابناک بنانا چاہتے ہوتو سنو! :
مانادوری پر ہے انجم
ان سے آگے بڑھ جاؤ تم
ہندوستان کے راج دلارے
تم بھی چمکو جیسے تارے
(نظم:چاند ستارے)
…………………………….
سمے کی پابندی ہی آگے جیون کی تیاری ہے
جانچ پرکھ لو سوچ سمجھ لوسچی بات ہماری ہے
آخر کارذکی پچھتایا جوبھی رہا آرام کا سایہ
دنیا میں دکھ سہنے والا ہی کا پلہ بھاری ہے
(نظم:محنت)
……………………………..
نظم چاند ستارے کے اس بند میں شاعر نے بچوں کی نفسیات، ذہنی کیفیات اور فطری احساس کو اپنے حیطہ احساس میں جذب کرنے کے بعد بچوں کی امنگوں اور ان کے جذبات کو جلابخشنے کے ساتھ حوصلہ بھی بخشا ہے،اور اس بات کی ترغیب بھی دی ہے کہ دیکھو چاند اور تارے زمین سے کوسوں دور ضرور ہیں مگر تم اپنے حوصلوں کے سہارے ان سے بھی آگے جاسکتے ہواگر تم سچی محنت، لگن اور جنونی کیفیت کے ساتھ اپنے مستقبل کی کامیابی میں لگے رہو،پڑھ لکھ کر اپنا نام روشن کرو تو کوئی بعید نہیں کہ تم ان تاروں اور مہتاب کی طرح زمین پر چمکنے لگوگے-
یہ نظم کیا ہے؟ بس یوں سمجھیے کہ بچوں کی نفسیات کا خوبصورت مطالعہ ہے-اس طرح شاعر نےنظم محنت میں مقامی لہجہ،ہندی اور اردو لفظیات کے سہارے ہندوستانی رنگ و آہنگ کو ہم آمیز کرنے کی خوبصورت کوشش کی ہے-اس نظم میں ہندی اور اردو کے لفظوں کے مشرن سے ایک حسین امتزاج پیدا ہوگیا ہے-شاعر نے آسان اور عام فہم زبان میں بچوں کو اس جانب راغب کرنا چاہا ہے کہ وقت کی قدرکرکے اور زندگی میں نظم ضبط سے ہی انسان کامیابی حاصل کرتاہے اور یہی کامیابی کا اصل راز بھی ہے-
یہ دنیا ہرجائی ہے، یہاں جو شخص دکھ تکلیف اور کلفت وپریشانی کو برداشت کرے گا وہی کامیاب ہوگا، اور جو آرام، عیش وتنعم کو ترجیح دے گا وہ ناکام ونامراد ہوگا-اس طور پر شاعر نے بچوں کو یہ بتانے کی سعی کی ہے کہ ہم وقت کی قدر کریں اور زندگی میں آنے والی پریشانیوں کو وقتی سمجھتے ہوے آگے بڑھیں-ہمیشہ مثبت اپروچ کے ساتھ زندگی کے شب وروز کو بسر کرنا چاہیے-اسی میں زندگی کی کامیابی کا اصل راز پوشیدہ ہے-
ذکی احمد کی ایک خوبصورت نظم”پیڑ لگاؤ” کے عنوان سے ہے-جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہریالی زندگی کی خوشحالی اور ترقی کی علامت ہے،اور خدا کی بہت بڑی نعمت بھی ہے-
اگر سائنس کی رو سے دیکھیں تو درخت انسان کو زندگی بخشتے ہیں،سائنس کہتی ہے کہ درخت انسان کو زندگی بخش ہوا فراہم کرتے ہیں-اور فضائی آلودگی کو صاف کرنے میں بھی پیڑ اہم رول ادا کرتے پیں-
اسی سائنسی تعلیم کے پیش نظر شاعر نے بچوں کے اندر سماجی بیداری پیدا کرناچاہاہے،اور سوشل اویر نس کے ذریعہ بچوں کو فلسفہ حیات بتانے کے ساتھ یہ بات بھی بتانے کی سعی کی ہے کہ درختوں کا ہماری زندگی میں کتنا دخل ہے-اس طور پر پیڑ انسانی زندگی کے لیے کس قدر اہم ہیں- نظم کے بند سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے-بند ملاحظہ کریں :
پودے ہیں اللہ کی نعمت
ان سے ظاہر اس کی قدرت
جہاں رہے پیڑوں کی کثرت
دنیا میں سمجھو ہے جنت
گھر کے سارے بچو! آؤ
میرے شامل پیڑ لگاؤ
(نظم:پیڑلگاؤ)
ذکی احمد کی چند نظمیں ایسی ہیں جن میں بچوں کو پیار، محبت،میل جول اور الفت سے رہنے کا درس دیاگیا ہے-ساتھ ہی وطن سے محبت اور وطن پرستی کا درس بالکل انوکھے اور جذباتی انداز میں دیاگیا ہے جو قابل رشک ہے-
نظم کے بند ملاحظہ کریں:
رنگ برنگے پھول چمن میں کیسے مل کر رہتے ہیں
میل محبت سے وہ ہر دکھ سردی گرمی سہتے ہیں
دور دور خوشبو پھیلاتی کلی کوئی جب کھلتی ہے
اوروں کوبھی خوشیاں بانٹیں، سیکھ ہمیں یہ ملتی ہے
بھید بھاؤ نے ہم کومارا، دشمن نے جب جب للکارا
سدا رہا سنکٹ کی گھڑی میں راشٹر ایکتا اپنا نعرہ
(نظم:رنگ برنگ پھول)
………………………………..
فاقہ کشی ہے،بے چارگی ہے
دنیا دکھی ہے، نفرت بھری ہے
بن جائیں سب کے زخموں کے مرہم
الفت کا پرچم لے کر بڑھیں ہم
آپس میں مل کر گائیں یہ ہردم
اولاد آدم بھائی ہیں باہم
(نظم:اولاد آدم)
………………………………..
مندرجہ بالا اشعار کا اگر ہم بالاستعاب مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ شاعر نے ان اشعار کے ذریعہ بچوں کو اخلاقی درس دینے کی سعی کی ہے-جب کہ میل جول اور الفت و محبت کے عنوان کو اردو کے تقریبا شعرا نے اپنے اپنے طور پر برتاہے مگر ذکی احمد نے منفرد انداز اور متنوع مفہوم میں برت کر جو کیفیت پیدا کی ہے وہ کیفیت کسی اور کے کلام میں پیدا نہیں ہوسکا ہے-مثال کے طور پر نظم رنگ برنگے پھول کو لیجے جس میں شاعر نے پھول جوکہ غیرجان دارچیز ہے اور خوشبو جو کہ غیر مرئی شے ہے اس کو علامت بناکر کس ہنر مندی کے ساتھ پیغام دیاگیا ہے-
اسی طرح نظم اولادِ آدم کو لیجے جو کہ معرکۃ الآراء نظم ہے-اس میں شاعر نے تمام چیزوں کی نفی کرتے ہوے انسانوں کو انسانیت کے ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کردیا ہے،اور یہ درس دیا کہ ہم سب ایک آدم کی اولاد ہیں- اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم ذات، دھرم اور برادری کی دیوار کو منہدم کرکے انسانی رشتے میں بندھ جائیں-
اور بلاتفریق ایک دوسرے کے ہمدرد اور بہی خواہ بن کر رہیں-
بہر کیف کتاب "رنگ برنگے پھول”جو بچوں کے لیے نظموں کی خالص کتاب ہے پڑھ کرخوشی ہوئی کہ ذکی احمد نے متنوع موضوعات پر بچوں کے لیے نظموں کا ایک خوبصورت گلدستہ تیار کیاہے جس میں اسالیب کی رنگارنگی بھی ہے اور اخلاقیات کادرس بھی-اس کتاب میں نسل نو کی تربیت کا وافر مواد موجود ہے-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

