Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تعلیم

مسلمانان ہندکا تعلیمی مسٔلہ ماضی حال مستقبل – مولانا محفوظ الرحمن نامیؔ

by adbimiras دسمبر 19, 2020
by adbimiras دسمبر 19, 2020 0 comment

مسلمانوں کا تعلیمی مسئلہ جتنا پیچیدہ ہے اتنا کسی اور قوم کا نہیں ، اوروں کے پیشِ نظر محض مافی ترقیاں اور دنیاوی عیش و عشرت کی بہاریں ہیں ، لہٰذا ان کے لیے ایک ایسا نظام تعلیم بآسانی تیار کیا جا سکتا ہے ، جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹی جائے ، خوش حالی حاصل کی جائے ، سامان عیش و تفریح فراہم کیا جائے اور دنیاوی عزت و اقتدار کے بلند مقام پر پہنچا جائے۔ مگر مسلمان اپنے اسلامی نصب العین اور اپنے ملی منصب کی بنا پر دنیا کمانے کی حد تک اپنی نگاہ محدود نہیں کر سکتا ، اس کو دنیا کی چند روزہ بہار سے بھی لطف اٹھانا ہے ، اور ساتھ آخرت کی حیات پر بہار کو بہار بنانا ہے ، دنیا میں رہ کر ایک طرف اپنے اور اپنے خاندان کے معاش کا سامان بھی کرنا ہے ، تو دوسری طرف نیکیاں پھیلا کر اور برائیوں کو مٹا کر پورے عالمِ انسانیت کی خدمت کا کرنا ہے۔

انھیں خصوصیات اور گوناگوں ذمہ داریوں کی بنا پر مسلمانوں کا تعلیمی مسئلہ بہت پیچیدہ اور اس کا حل بہت دقت طلب ہے، کیوں کہ تعلیم ہء کے ذریعہ ایک سچی ایمانی زندگی اور اعلی اسلامی سیرت پیدا ہوتی ہے. تو دوسری طرف اسی سے معاشی مسائل بھی حل ہوتے ہیں ، مزید یہ کہ ہمیں تعلیم ہی انسانوں کی بے لوث خدمت کا جذبہ ابھار کر عالم انسانیت کی خدمت کرنا ہے ضرورت اس کی تھی کہ اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی جاتی اور اس کے ہر پہلو پو پوری روشنی ڈالی جاتی اور اس کے ہر پہلو پر پوری روشنی ڈالی جاتی مگر نہ اس کے لیے وقت ہے اور نہ یہ مختصر مضمون تفصیل کے لیے کافی ہے ، اس لیے اس سلسلے میں چند سرسری اشارے کیے جاتے ہیں ، جن سے اجمالی طور پر یہ معلوم ہو جائے گا کہ ماضی میں مسلمانوں کا تعلیمی مسئلہ کیسے حل کیا گیا ، اب صورت حال کیا ہے  ؟  اور آئندہ کیا کرنا ہے ؟

ماضی

یہاں مجھے ہندوستان کی ہزارسالہ تاریخ کے صفحات نہیں الٹنے ہیں ، بلکہ مسلمانوں کی حکومت کے بعد انگریزی حکومت کے دور میں مسلمانوں کی تعلیم کا کیا نظام تھا ؟ اسی کا اجمالی خاکہ پیش کرنا ہے ،  ۱۸۵۷ءکےبعدجبانگریزی حکومت کے قدم ہندوستان میں پوری طرح جم گئے اور مسلمانوں کی حاکمانہ حیثیت بالکل ختم ہو گئی ، تو مسلمانوں کو نئی زندگی کا داعیہ پیدا ہوا اس سلسلے میں قومی مصلحوں اور ملی معماروں کے تین گروہ اٹھ کھڑے ہوئے ، اور اپنی اپنی صوابدید کے مطابق انھوں نے جدوجہد کا آغاز کر دیا۔

تین تعلیمی گروہ

پہلا گروہ :پہلا گروہ جو علماء ربانیین کا تھا ، جنہوں نے علم دین کی نشو و نما ، بقا اور اشاعت کے لیے عربی مدارس اور اسلامی مکاتب کا سلسلہ شروع کیا ، اس مرحلہ میں سب سے زیادہ نمایاں خدمت حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ و دیگر اکابر دیوبند نے انجام دی کہ انھوں نے دیوبند ، سہارنپور ، دہلی ، مرادآباد وغیرہ میں عربی مدارس کی بنیاد رکھی ، اور ان کے لیے ایسی جدوجہد کی کہ صرف۱۵-۲۰سالکےعرصےمیں دُرّہ خیبر سے برماتک اور نیپال کی ترائی سے ساحل مالا بار تک  ہر طرف علم دین کے چشمے جاری ہو گئے اور ہندوستان کا گوشہ گوشہ قال اللہ  و قال الرسول کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

دوسرا گروہ :دوسرا گروہ قومی رہبروں اور مصلحوں کا تھا ، جنہوں نے انگریزی زبان اور علوم جدیدہ کی ضرورت کا شدید احساس کرکے اسلامیہ اسکول اور اسلامیہ کالجوں کے قیام کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا ، اس گروہ کی کامیاب رہنمائی جناب سرسید احمد خان مرحوم نے کی ، ان کی محنت اور قربانیوں کا یہ ثمرہ ہے تھا کہ سارے ملک میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا جال پھیل گیا اور آج جو ہندوستان میں لاکھوں گریجویٹ ، وکلاء ، بیرسٹران ، انجینیر ، ڈاکٹر اور اعلی حکام دکھائی دے رہے ہیں وہ اسی تحریک کا فیض ہے ، جس کے رہنما سرسید احمد خاں مرحوم اور ان کے رفقاء تھے۔

تیسرا گروہ : تیسرا گروہ دینی مبلغوں اور معاشرتی اور اخلاقی مصلحوں کا تھا ، جنھوں نے جا بجا اپنے اپنے ذوق کے مطابق تبلیغی انجمنیں اور خانقاہیں قائم کیں ، تبلیغی انجمنوں نے لٹریچر اور مجالس ، پند و موعظت کے ذریعے اپنے دائرے میں معاشرتی اصلاح بھی کی اور علوم کی اشاعت بھی کی ، عام مسلمانوں کو مجالس و موعظت کے ذریعے قرآنی احکام و فرائض ، احادیث نبوی ، اور دینی مسائل معلوم ہوئے ، اور انجمنوں ہی کی توجہ سے ہزاروں مکتب اور  اسکول قائم ہوئے جن میں لاکھوں مسلمانوں کی روحانی تربیت اور اخلاقی اصلاح ہوئی اور ان میں ہزاروں ایسے نکلے جنہوں نے اپنی اپنی توجہ سے دینی تعلیم کے زبردست مراکز قائم کئے۔

سرکاری مدارس : بڑی ناسپاسی ہوگی اگر ماضی کے تذکرے میں انگریزی حکومت کی ان مساعی کو نظر انداز کر دیا جائے جو اس نے مسلمانوں کی تعلیم کے سلسلہ میں کیں ، مسلمانوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے اس وقت کی گورنمنٹ نے اسلامیہ اسکولوں اور اسلامیہ مکاتب کا جال پورے ملک میں پھیلا دیا ، ان کے لیے کافی رقمیں بجٹ میں رکھی جاتی تھیں ، ان کے دیکھ بھال کے لیے ہر ضلع میں اسلامیہ مکتب کمیٹی قائم تھی ، محمڈن اسکول کے معائنہ کے لیے کافی افسران مقرر کیے جاتے تھے ، ان اسکولوں میں زبانِ تعلیم اردو تھی اور مکاتب میں مذہبی تعلیم کو کافی اہمیت دی جاتی تھی ، عام. مسلمانوں نے زیادہ تر انھیں اسلامیہ مکاتب سے فائدہ اٹھایا ہے اور بلاشبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ۸۰فیصدمسلمانوں میں نوشت و خواند کا ذوق اور مذہبی باتوں کا علم ان ہی مکاتب و مدارس کے ذریعے ہوا۔

الغرض ماضی کے اس دور میں جسے ہم دورِ غلامی سے یاد کرتے ہیں ، ربانیین اور ملت کے بالغ نظر رہنماؤں کی مخلصانہ جدوجہد سے تعلیمی میدان میں ہندوستان کے تمام ممالک اسلامیہ کے مسلمانوں پر سبقت لے گئے ، دارالعلوم دیوبند ، یونیورسٹی علی گڑھ ، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، جامعہ ملیہ دہلی ، دارالمصنفین اعظم گڑھ اسی دور ماضی کی یادگار ہیں ، جو اپنی گوناگوں خصوصیات کی بنا پر علمی دنیا میں آج بھی بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں۔

حال

جب ملک کی تقسیم کی وجہ سے مسلمانوں کے ہر شعبہ زندگی پر نہایت برے اور حد درجہ ناگوار اثرات پڑے تو ان کے ہر قسم کے تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں کی حیثیت اور حالت پہلے جیسی نہ رہی ، اور اب تو مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر اسلامی اور مسلم اداروں کی حالت اتنی ابتر ہوتی جا رہی ہے کہ مستقبل نہایت تاریک نظر آ رہا ہے ، اگر سرسری طور پر اپنے ہر شعبہ تعلیم کا جائزہ لیتے چلیں تو بہتر ہے۔

عربی مدرسے :جن عربی مدارس کا قیام ابھی جلد ہی ہوا ہے اور مخیّر مسلمانوں نے تازہ ولولے کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغاز کیا ہے ان کا حال کچھ بہتر ہو تو ہو ، ورنہ ہمارے پرانے مدرسے عموماً بڑی تیزی سے رو بہ زوال ہیں ، اور کتنے تو ختم ہو چکے ہیں ، زوال کے وجوہ و اسباب بالکل عیاں ہیں ، بڑی وجہ ان کی مالی کمزوری ہے ، مسلمان خود سخت معاشی مشکلات سے دو چار ہیں ، تو وہ خیرات و زکوٰۃ کہاں سے دیں ، زمینداری ختم ہونے سے اور تجارت پیشہ کاروبار کی ابتری کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ پہلے کی طرح اعانت کر سکے ، علاوہ بریں عربی مدارس کے طلبہ کی تعداد روز بروز گھٹتی جا رہی ہے ، تقسیم سے پہلے ہمارے مدارس میں بیرونی ممالک اور دوسرے صوبوں کے طلبہ کی کثرت رہتی تھی ، لیکن تقسیم ہوتے ہی بخارا ، چین ، ترکستان  ، افغانستان  ، سندھ ، سرحد ، پنجاب  کے طلبہ کا اا بند ہو گیا ، پرمٹ سسٹم جاری ہونے کے بعد مشرقی پاکستان کے طلبہ کی تعداد میں روز بروز نمایاں کمی ہوتی گئی  ، ان دونوں وجہوں کے علاوہ زوال کی ایک بہت بڑی وجہ معیار تعلیم کی پستی اور طلبہ کی بے التفاتی ہے ، آپ عربی مدارس سے کا کچھ بھی تجربہ رکھتے ہیں ، تع اس کے تسلیم کرلینے میں ذرا تامل نہ ہوگا کہ اب عربی مدارس سے ایسے فارغ التحصیل ہو کر نکل رہے ہیں جو عربی کتابوں کی صحیح عبارت بہ مشکل پڑھ سکتے ہیں ، پھر یہی حضرات ہیں کہ فارغ ہوتے ہی مسند درس پہ متمکن ہو جاتے ہیں ، ایسے اساتذہ کے جتنے قابل ہوں گے ان کا اندازہ مشکل نہیں ہے۔ (یہ بھی پڑھیں محسوسات کا شاعر: زبیر الحسن غافل – خان محمد رضوان)

اسلامیہ اسکول و کالجزس :اسلامیہ اسکول اور کالجوں کی ابتری کا حال ان اداروں کے منتظمین یا اساتذہ سے پوچھیے جنھیں کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملتی اور انھیں قرض لے کر اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے ، یہاں بھی ابتری کے وجوہ میں سب سے بڑی وجہ مالی کمزوری ہے ، چونکہ یہ ادارے گورنمنٹ کی گرانٹ کے علاوہ طلبہ کی فیس اور قوم کے مخیر امراء کے چندے سے چلا کرتے تھے ، اب گورنمنٹ کی گرانٹ ملے یا نہ ملے ، لیکن جہاں تک فیس کی آمدنی اور چندوں کا سوال ہے ، ان میں اتنی کمی آ گئی ہے کہ ان اداروں کی ترقی تو درکنار بقا بھی دشوار ہے ، ان اداروں کی ابتری اور زوال کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اپنی افادیت کھو چکے ہیں ، ان اداروں میں۹۰فیصدی طلبہ ملازمت کے لیے تعلیم پاتے تھے ، اب چونکہ ان پر اعلی اور ادنی ملازمتوں کے دروازے قریب قریب بند ہیں ، تو ان اسکولوں میں تعلیم کیوں حاصل کی جائے ؟  یہ سوال رہ رہ کر پیدا ہوتا ہے ، دو تین سال تک تو یہ یہ سلسلہ رہا کہ طالب علم تعلیمی ڈگری کرتے ہی پاکستان کا رخ کرتا تھا ، وہاں اسے ملازمت ملے نہ ملے ، مگر اسے یہاں ہر طرف ایسی مایوسی دکھائی دیتی ہے کہ مجبوراً ہجرت کر جاتا ہے  ، اب یہ سلسلہ بھی قریب قریب بند ہو چکا ہے ، کیوں کہ وہاں نوواردوں کے لیے’’نو ویکنسی‘‘کا بورڈ ہر جگہ آویزاں دکھائی دے رہا ہے ، اور یہاں تو کثیر مصارف اور شب و روز کی مشقت کا نتیجہ بے کاری اور پریشانی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ہے ، ان حالات میں تعلیم کے نام پر کچھ ہی دنوں یہ مشغلہ بے کاری رہ سکتا ہے ، آگے ہر قسم کے تجربوں کے بعد اس کے بقاء کی کوئی صورت سمجھ نہیں آتی۔

پرائمری اسلامیہ مدارس  و مکاتب :لوکل بورڈ کے ماتحت یا نجی مکاتب جن کے ذریعہ نوشت و خواند کے علاوہ ابتدائی دینی تعلیم ہو جاتی تھی وہ بڑی تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں ، کیوں کہ ان مکاتب میں جو حفاظ یا میاں جی صاحبان معمولی تنخواہوں پر کام کرتے تھے ، اب اپنی گزران کی صورت نہ دیکھ کر اس مشغلہ کو چھوڑتے چلے جا رہے ہیں ، اس کے علاوہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جبری تعلیم کی اسکیموں کی وجہ سے بیسک اسکولز کا جال پھیلتا جا رہا ہے ، جبری تعلیم کے حلقوں میں۶برسسے۱۱برس تک کے بچوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے، لہذا اس اسکیم کی وجہ سے رفتہ رفتہ تمام مکاتب کا ختم ہو جانا یقینی ہء ، عام۔ مسلمانوں کے بچوں کے لیے مذہبی تعلیم کا سلسلہ کیسے جاری رہے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالٰی ہی کو ہے۔

مستقبل

پس چہ باید کرد: روشن ماضی کے بعد حال کی تاریکی کا منظر میں نے اس لیے نہیں پیش کیا کہ رنج و تاسف بڑھے اور مایوسی کچھ زیادہ ہو جائے ، بلکہ اس لیے کہ صحیح صورت حال سامنے آ جانے کے بعد مستقبل کے لیے صحیح پروگرام بنانا آسان ہو ، اس مسئلہ میں کچھ مزید کہنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آج مسلمانوں کے تعلیمی مسائل اتنے سہل نہیں کہ محض اخباری بیانات ، چند کانفرنسوں یا کسی نصاب کے تیار کردینے سے حاصل ہو جائیں ، بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ ملک کے روشن خیال حضرات دنیا و دین کے علوم سے دلچسپی رکھنے والے کچھ لوگ تمام مشاغل سے الگ ہو کر اسی ایک عظیم مقصد کے لیے اپنے آپ کو مٹا دیں  اور جس طرح ہمارے اکابر نے تن من دھن کی بازی لگا کر ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی مہم کو عملاً کامیاب کیا ، اسی طرح کام کرنے والے یہ نعرہ لگا کر کام شروع کردیں کہ

’’ یا تن رسد بجاناں یا جان زتن بر آید ‘‘

سر دست تو یہ بہت ہی مشکل ہے کہ ہم کوئی ایسی جامع تعلیمی تحریک شروع کریں جو ملت کے مجموعی مفادات پر مشتمل ہو، یا کوئی ایسا جامع ادارہ قائم کریں جو ایک طرف عالم اسلام کو عالمگیر کرنے میں غزالی اور رازی کی نیابت کر سکے رو دوسری طرف مادی ترقیوں میں صحیح رہنمائی کر سکے ، قدرتی خزانوں اور سائنسی ایجادات کو انسانیت کی راحت و تعمیر میں لگا  سکے، اس لیے میں چند ایسے مشوروں کے پیش کردینے پر قناعت کروں گا کہ اگر ان پر عمل کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ ہمارا صد سالہ تعلیمی نظام محفوظ رہ جائے گا بلکہ خدائی رحمت سے امید ہے کہ اس کی افادیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

عربی مدارس : عربی مدارس کی بقاء اور ترقی کے لیے پانچ امور کی طرف توجہ بے حد ضروری ہے۔

اول: پچھلے دور کی طرح بیرونی طلباء پر عربی درجات کو موقوف نہ رکھا جائے بلکہ پوری کوشش کہ جائے کہ عربی درجات میں مقامی طلبہ زیادہ سے زیادہ داخل ہوں، اب تک عموما یہ طریقہ رہا ہے کہ عربی کے ابتدائی درجات یعنی ناظرہ ، اردو، فارسی میں تو آپ کو مقامی طلبہ ضرور نظر آئیں گے ، مگر عربی کے درجات بیرونی طلبہ سے بھرے دکھائی دیں گے  جن کے طعام و قیام کا انتظام بھی مدرسوں کو کرنا پڑتا ہے یا وہ مسجدوں میں امامت اور مؤذنی کرکرے زندگی گزارتے ہیں ، طلبہ چند روز کے مہمان ہوتے ہیں یہ تو فارغ ہو کر چلے گئے اور ساتھ ہی مدرسہ کے فیوض بھی اپنے ساتھ ہی لیتے گئے ، شہر اور مدرسہ کے لوگوں نے حسبۃ للہ مدرسہ اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی، کچھ مالی مدد بھی کردی، مگر خود ان کے بچے عربی علوم کے فیوض سے یکسر محروم رہے ، اسی لیے ان میں مدرسہ کی حفاظت اور علوم عربیہ کی ترقی کی فکر بھی نہیں پیدا ہوتی ہے اور عربی زبان اور عربی مدارس کی عظمت و ضرورت کا احساس نہیں ہوتا ہے ، اور جب یہ احساس ہی نہیں تو وہ ان مدرسوں کی مالی امداد کیوں حصہ لیں ؟ اور اپنے بچوں کو عربی تعلیم کے لیے کیوں بھیجیں ؟ انھیں وجوہ سے عموما ہمارے مدارس عربیہ کا حال یہ رہا ہے کہ مدرسہ تو ہے نیپال کی ترائی کے کسی گاؤں’’گلہریا‘‘ یا ’’کھرگوپور‘‘  میں اور اس کے آباد کار ہیں بنگال ، بہار یا دوسرے صوبوں کے چند طلبہ، اور اس کے مصارف کے لیے بمبئ ، کلکتہ اور رنگون جیسے شہروں میں چندہ مانگا جا رہا ہے ، اب یہ صورت حال باقی نہیں رہ سکتی اگر عربی مدارس کو اپنا وجود باقی رکھنا ہے تو سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مقامی طور پر علم دین کا شوق اور عربی زبان کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مقامی طلبہ پڑھیں اس سے شہر میں ایسی فضا ہیدا ہوگی کہ لوگ مدرسہ کے اعانت میں بھی دلچسپی لیں گے۔

اس کا عملی طریقہ جو تجربہ میں کامیاب ثابت ہو چکا ہے یہ ہے کہ ابتدائی درجات میچ ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم اس نصاب کے ذریعہ دی جائے کہ بچے ناطرہ پڑھتے پڑھتے عربی زبان ، قرآن پاک کا ترجمہ اور عربی قواعد سے بہت کچھ مانوس ہو جائیں جو بچے اس طرح قرآن ناظرہ پڑھ لیتے ہیں کی الحمد للہ سے و الناس تک ایک ایک آیت کا ترجمہ بھی کر لیتے ہیں ان میں کم از کم ۲۵ فیصدی کی عربی زبان پوری طرح سیکھنے اور عربی علوم کی تکمیل کا شوق پیدا ہوجاتا ہے، پرائمری اسکولوں میں چل کر یہی طلبہ عربی درجات میں داخل ہوں گے،اس طرح عربی داں طلبہ کی تعداد زیادہ ہو گیا ورno عموما مقامی ہوں گے لہذامحض بیرونی طلبہ عربی تعلیم کا دار و مدار نہ رہے گا ، بلکہ علوم عربیہ سے مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فیض پہنچے گا اور ان کو مدرسہ سے دلچسپی بھی ہوگی اور پھر مالیات کے لیے زیادہ پریشانی نہ اٹھانی پڑے گی۔

دوم :عربی پڑھانے کے لیے طلبہ کی اچھی طرح جانچ کی جائے اور صرف ذہین ، شوقین ، محنتی اور صالح طلبہ کو عربی پڑھائی جائے ، آج عربی درجات قائم رکھنے کے لیے یا اپنے ہاں طلبہ کی تعداد زیادہ دکھانے کے لیے عموما دینی مدرسے ہر اس لڑکے کو داخل کر لیتے ہیں جو عربی کا طالب علم بن کر آئے خواہ اس میں ایک مضمون پڑھنے کے بھی استعداد نہ ہو لیکن نصاب کے موافق صرف،  نحو، ادب، منطق ، فلسفہ کئی کئی مضامین کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے ، اپنی بے استعدادی کی وجہ سے وہ غریب عرق گردانی تو ضرور کر لیتا ہے لیکن اسے آ تا جاتا خاک نہیں اس لیے بیت زیادہ توجہ اس طرف کرنی چاہئے کہ ذی استعداد طلبہ داخل کیے جائیں، کسی مدرسے میں دس اچھے طلبہ ہوں یہ اس سے بہتر ہے کہ سینکڑوں کی بھیڑ جمع کو جائے اور ان میں کام کا ایک بھی نہ ہو۔

سوم :ہر عربی مدرسہ کو اپنے حساب سے معیار تعلیم معین کر لینا چاہیے ، تمام مدارس میں پورے درس نظامیہ یا درجہ تکمیل تک تعلیم نہیں دی جا سکتی، لیکن عموما ہر مدرسے کی کوشش یہی ہے کہ وہ چار طلبہ دورہ حدیث کے جمع کرکے اپنے دارالعلوم یا جامعہ یا یونیورسٹی ہونے کا اعلان کرے، اس قسم کی ذہنیت اور سعی سے تمام عربی مدارس اور علوم عربیہ کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے اس لیے گورنمنٹ کے نصاب تعلیم کی طرح عربی مدرسوں کو تین گروپ میں تقسیم کر دینا چاہیے۔

اول: وہ عربی مدرسے جن میں ابتدائی جماعت سے لے کر درجات فارسی ، درجات ترجمہ قرآن اور درجہ شرح واقعہ تک کی تعلیم دی جائے۔

دوم: وہ عربی مدرسے جن میں ہدایہ اور مشکوۃ شریف اور شرائط دوری تک تعلیم دی جائے۔

سوم: وہ عربی مدارس یا دارالعلوم جن میں ابتدا سے اعلی علوم اور دورہ حدیث و درجات تکمیل تک تعلیم دی جائے۔

چہارم ؛- قدیم نصاب کے تمام ضروری مضامین بقدر ضرورت باقی رکھ کر ایسے کا اضافہ ضروری کرنا جن کی وجہ سے ہمارے علماء موجودہ دنیا اور اس کے رجحانات کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور اسلام کے پیغام کو حکمت کے ساتھ دنیا میں عام کر سکیں۔

پنجم : سخت ضرورت ہے کہ عربی معلمین اور مدارس عربیہ کے اساتذہ کرام کو طریقہ تعلیم سکھانے کے لیے کوئی مرکز قائم کیا جائے تاکہ عربی مدرسوں کے لیے ایک قابل اور تعلیم کے ماہر مدرسین دستیاب ہو سکیں ، آج حالت یہ ہے کہ ایک طرف فارغ التحصیل علماء کی کثرت ہے تو دوسری طرف معقول مدرسین عنقا ہو رہے ہیں ، نئے نئے فارغ التحصیل علماء جو تدریس کے کام پر لگائے جاتے ہیں ان سے عربی علوم کی اشاعت و ترقی کے بجائے نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ عموما استعداد ناقص پھر طریقہ تعلیم سے ناواقفیت مزید برآں ان بدذوق طلبہ کو تعلیم دینا نتیجہ یہ ہے کہ بڑی تیزی علم ختم ہو رہا ہے ، اگر یہی لیل و نہار ہی قتل اس ملک میں عربی علوم کا خدا حافظ۔

مجھے ۳-۴سال سے اس ضرورت کاسخت احساس ہے، مگر کام اپنے بس کا نہیں ہاں اگر دارالعلوم دیوبند سے ہمارے مخدوم مولانا محمد طیب صاحب ، ندوہ سے مولانا ابوالحسن علی صاحب ، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حبیب الرحمن صاحب  ( پرنسپل ٹریننگ کالج) اور جامعہ ملیہ سے سعید انصاری صاحب  ( پرنسپل ٹریننگ کالج) اس ناچیز کی مدد فرمائیں تو ’’مدرسۃ المعلمین‘‘کے بارے میں ضرور کوشش کرے گا۔

اسلامیہ اسکول اور کالجز :اسلامیہ اسکول اور کالجوں میں چونکہ گورنمنٹ کا منظورشدہ نصاب پڑھایا جاتا ہے ، اور ایجوکیشن  بورڈ کے مطابق ان کا نظام عمل ہوتا ہے ، لہذا ان کے نظام میں ہم کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتے ، لیکن دو باتیں ایسی ہیں کہ اگر ان کی طرف پوری توجہ کرکے کامیاب بنایا جائے تو ہمارے یہ ادارے ملت کے لیے بہت سود مند ہو سکتے ہیں ، یہ دونوں کام ہمارے سطحی ذوق کو دیکھتے ہوئے مشکل ہیں ، مگر ہمت والے ہر مشکل کا آسان کر لیتے ہیں ، ملک کا ہر طبقہ گورنمنٹ کے اداروں کی موجودگی میں اگر گورنمنٹ کے قواعد کے مطابق کچھ اپنے ادارے قائم کرتا ہے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ خود اس طبقہ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو ، اسی لیے گورنمنٹ کے اداروں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف فرقوں اور ذاتوں کے الگ الگ اپنے ایسے ادارے بھی ہیں ، مسلمانوں نے بھی اپنے مفاد کے پیش نظر اپنے ادارے قائم کر لیے غرض یہ تھی کہ ان اداروں کے ذریعہ ہم اپنی مذہبی و ملی خصوصیات کو باقی رکھتے ہوئے ترقی کے میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہیں ، تاکہ ہمارے بچے ایک طرف اسلام. کے مخصوص شعائر و فرائض سے آگاہ رہیں ، دوسری طرف ترقی کے میدان میں فارغ البالی اور عزت کے ساتھ گذران کر سکیں ، اس غرض کو بروئے کار لانے کے لیے سو باتیں عرض کرنی ہیں۔

(۱)تعلیمی پروگرام ایسا بنایاجائے کہ اس میں ایک پیریڈ تعلیم قرآن کے لیے مقرر کیا جائے اور یہ تعلیم قرآن اس طریقہ پر دی جائے کہ مسلمان بچوں کی تین ضرورتیں سے پوری ہو سکیں۔

الف : قرآن پاک کے ذریعہ دین کی تمام بنیادی باتوں کا علم ہو جائے، اور اصل دین طلبہ کے دل و دماغ میں اتر جائے۔

ب :عربی زبان سے مع قواعد کے اچھی مناسبت ہو جائے۔

ج : اردو میں اتنی قابلیت پیدا ہو جائے کہ اردو کی اعلی سے اعلی کتاب بلا تکلف پڑھ سکے۔

(۲)جو طلبہ اعلی درجہ کے ذہین اور ہر لحاظ سے بہت باصلاحیت ہوں انھیں کو یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے منتخب کیا جائے، تاکہ مقابلہ کےامتحانات اوراعلی ملازمتوں میں اپنی قابلیت کی وجہ سے کامیاب ہوسکیں، اس کے علاوہ جتنے طلبہ ہیں ان میں تجارتی و زراعتی کاموں کا پورا ذوق پیدا کیا جائے ، تاکہ وہ سکنڈری اسکول سے سرٹیفکیٹ لے کر ملازمت کی تلاش میں سرگرداں نہ ہوں ، بلکہ اسکول سے ماہر کاریگر، کامیاب تاجر، اچھے کاشتکار بننے کا عزم لے کر نکلیں ، ہمارے طلبہ میں اگر یہ ذہنیت پیدا ہو گئی تو انشاء اللہ یہ برے دن پھر جائیں گے ، ملازمت کے دروازے طلبہ پر بند ہو سکتے ہیں ، مگر کاریگروں ، تاجروں اور کاشتکاروں پر رزق کے دروازے نہیں بند سکتے ، کاش کہ ہمارے اسلامی اداروں کے منتظمین ان دونوں مشوروں کو قبول کرکے ان پر عمل شروع کر دیں تو ہمارے نونہالوں کی زندگی کامیاب ہو جائے ، ایک طرف قرآنی تعلیمات ان کے اخلاق و کردار کو اتنا بلند کر دے گی کہ دنیا ان کی عزت و عظمت کرنے پر مجبور ہو جائے گی، دوسری طرف طاری وسائل رزق کو ہاتھ میں لے کر اتنی خوش حال ہو جائیں گے کہ غریب اور دکھیاری دنیا کو خوش حال بنانے میں اہم حصہ لے سکیں گے۔

ابتدائی مدارس و مکاتب : جبری تعلیم کے زمانہ میں بنیادی مذہبی تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ سرکاری تعلیم کی طرح اگر ہمارے بچوں میں مذہبی تعلیم عام نہ ہوگی تو کچھ دنوں میں وہ برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ، ورنہ عقیدہ و فکر، اخلاق واردات کے لحاظ سے انھیں اسلام سے دور کا لگاؤ بھی نہ ہوگا ، اس لیے یہ مسئلہ ہمارے غور و توجہ کا زیادہ مستحق ہے ، اس سلسلہ میں چار امور بہت زیادہ محتاج توجہ ہیں۔

(۱)ایسے دینی میں سرکاری بنیادی تعلیم کا نصاب منظور کرکے محکمہ تعلیم سے مکتب کو تسلیم کرا لیا جائے، تاکہ وہ اں کے جبری تعلیم سے مستثنٰی قرار دیے جاسکیں اور آپ ان کو مکتب کے اچھے ماحول میں رکھ کر بنیادی تعلیم بھی سے سکیں، ساتھ ہی ان کو بقدر ضرورت ان کی دینی تعلیم اور اسلامی تربیت کا انتظام بھی کر سکیں۔

(۲)اگر مسلمان اپنے مستقل مکتب نہ کھول سکیں تو صبح و شام کو تعلیمی حلقوں کا انتظام کریں، ان میں ہر جماعت کو کم از کم ایک گھنٹہ تعلیم دی جائے، آدھ گھنٹہ قرآن پاک کی تعلیم اور آدھ گھنٹہ میں اردو میں دینیات پڑھائی جائے ، قرآن کی تعلیم اس طریقے سے دی جائے کہ بچے کو عربی زبان اور قرآنی مضامین سے مناسبت ہو جائے اور دینیات کی تعلیم کے لیے ایسی کتابیں منتخب کی جائیں کہ جو مختصر اور سہل ہونے کے ساتھ پر از معلومات ہوں۔

اس سلسلہ میں جمعیت علماء ہند نے جو کورس تیار کیا ہے وہ بہت مفید ہے۔

(۳)اگرمکاتب یا حلقےقائم  نہ ہوسکیں تو جو بچے قرآن شریف پڑھ رہے ہیں ان کے ورثاء ومعلمین کوتوجہ دلائی جائےکہ صرف الفاظ پڑھانے پر قناعت نہ کریں، بلکہ اس نصاب کے مطابق قرآن پڑھائیں کہ قرآن ہی سے دین کی باتوں کا علم کو جائے ، کم از کم ایمانیات ، اوامر و نواہی ، نماز میں پڑھی جانے والی سورتیں اور دعائیں مع ترجمہ ان کے علم میں آجائیں۔

(۴) اس سلسلہ میں اگرہمارےاکابرسعی فرمائیں تو امید ہے کہ اس سے بہت نفع ہو ، ابتدائی تعلیم کے لیے گورنمنٹ کی جو اسکیمیں ہیں جن کی بنا پر مکاتب ٹوٹتے چلے جاتے ہیں ، ان میں تھوڑی سی ترمیم کرا لی جائے اور یہ کہ جہاں بھی مسلمانوں کے اپنے مکاتب ہیں گورنمنٹ ان کو توڑنے کے بجائے ان کی اصلاح کرنے کی طرف متوجہ ہو ، ان کی امداد میں کچھ اضافہ کرکے بنیادی تعلیم کا پورا کورس اس میں داخل کر دے، ان میں مدرسین ٹرینڈ مقرر کیے جائیں تاکہ بنیادی تعلیم اچھی طرح دی جا سکے اور ساتھ ہی بقدر ضرورت اس میں مذہبی تعلیم بھی ہوتی رہے ، اس طرح گورنمنٹ کی اسکیم بھی کامیاب ہوگی اور مذہبی تعلیم کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی ، گو اس طریقہ پر ابھی بہت سے مکاتب میں کام ہو رہا ہے مگر یہ اب پرانے ایجوکیشن کے مطابق مکاتب اسلامیہ کے اسکیم کے سلسلہ میں ہے، بنیادی جبری تعلیم کی اسکیم تو ابھی چند سالوں سے جاری ہوئ ہے، ضرورت ہے کہ اس تعلیم کے ساتھ مکاتب کو ہم آہنگ کیا جائے اس ترمیم کو منظور کرنے میں گورنمنٹ کا بھی نفع ہے، کیونکہ مکاتب کے پورے خرچ کی وہ ذمہ دار ہوگی بلکہ اس سے کچھ مدد ملے گی، بقیہ اخراجات منتظمین مکاتب خود برداشت کریں گے، اس طرح گورنمنٹ پر مصارف کا بوجھ کم پڑے گا اور اس کی تعلیمی اسکیم بھی کامیاب ہوتی جائے گی۔

مسلمانوں کی تعلیم کے سلسلہ میں ایک اور آخری بات ، ضروری مشورے پیش کر چکا ، لیکن ان مشوروں پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کے لیے فنڈ کی ضرورت ہے ، پرجوش اور حوصلہ مند حضرات اپنی اپنی جگہ ان مشوروں کے مطابق کام کرنے لگیں ، مفر عام حالات ایسے نہیں کہ پوری قوم میں ان کو عملی جامہ پہنایا جا سکے ، جب تک مالیات کا مسئلہ حل نہ ہو ، اس کے حل کے لیے ضرورت ہے کہ ہندوستان بھر کے اوقاف کو متولیوں کے دست و برد سے بچا کر ان کی آمدنی حسب منشا واقف قوم کے تعمیری کاموں اور مذہبی تعلیم میں لگائی جائے ، اوقاف کی اصلاح کے بعد مالیات کا مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا۔

 

بانی جامعہ مسعودیہ نور العلوم  بہرائچ و سابق پارلیمنٹری سیکر ٹری  حکومت یوپی و کورٹ ممبر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی

 

نوٹ: مجاہد آزادی حضرت مولانا محفوظ الرحمن نامیؔ  رحمہ اللہ  کی ولادت ۳ ؍جون ۱۹۱۱ء مطابق ۴؍ جمادالثانی ۱۳۲۹ھ کو بلیا کے قصبہ رسڑا میں ہوئی تھی۔آپ کے والد حضرت مولانا  شاہ نور محمد نقشبندی مجددی ؒ حضرت شیخ الدّلائل علامہ محمد عبد الحق مہاجر مکیؒ کےخلیفہ مجاز تھے ۔حضرت نامیؒ  بانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ اور آزاد انٹر کالج بہرائچ، یو۔پی گورنمنٹ کی وزارت تعلیم میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔آزادی سے پہلے بہرائچ کے ممبر اسمبلی بھی رہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کورٹ کے ممبر رہے۔’’معلمالقرآن‘‘اور’’ مفتاح القرآن‘‘ کے مصنف۔آپ  حضرت مولانا شاہ فضلرحمن ؒصاحب گنج مرادآبادی کے خلیفہ ومجاز حضرت حاجی عبد الرحیم ؒصاحب سے بعیت اور خلافت حاصل۔آپ کی وفات ۱۷؍شعبان ۱۳۸۰ھ مطابق ۴؍فروری۱۹۶۱ءکو شہر بہرائچ میں ہوئی اور تدفین  احاطہ حضرت مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ (خلیفہ مجاز حضرت مرزا مظہر جان جانان شہیدؒ) میں ہوئی ۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مانجھی-نئی دیومالا گڑھنے کی کوشش – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
جامعہ ملیہ اسلامیہ،رِیل اورپرانے کیمرے کی کہانی – محمد علم اللہ

یہ بھی پڑھیں

بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ...

جون 1, 2025

مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –...

جون 1, 2025

ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –...

جولائی 30, 2024

کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی...

اپریل 25, 2024

قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور ابتدائی بچپن کی...

فروری 20, 2024

ڈیجیٹل تعلیم کا تعارف اور طلباء کے لیے...

جون 6, 2023

چیٹ جی پی ٹی (Chat GPT) اور تعلیم...

اپریل 5, 2023

قومی یوم تعلیم اورمولانا ابوالکلام آزاد (جدید تعلیم...

نومبر 11, 2022

فن لینڈ کا تعلیمی نظام (تعلیمی لحاظ سے...

اگست 29, 2022

تغیر پذیر ہندوستانی سماج اور مسلمانوں کے تعلیمی...

اگست 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں