Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

ضیا فتح آبادی کی شخصیت اورشعری و فنی کائنات کا مطالعہ – ڈاکٹر صالحہ صدیقی

by adbimiras فروری 9, 2021
by adbimiras فروری 9, 2021 0 comment

ساہوکاری اور کپڑوں کا پیشہ اختیار کرنے والے ”فتح آباد“ کے ”سونی“ خاندان کے لئے ۹ فروری (1913)ایک ایسا سنہرا اور تاریخی دن ثابت ہوا کہ جس کے سبب اس خاندان کا نام ہمیشہ ہمیش کے لئے اردو ادب کی عظیم الشان دنیا میں نہ صرف درج ہوا بلکہ اس کی ضیا شعری و نثری پیرائے میں سدا کے لیے محفوظ ہوگئی۔ ضیأ فتح آبادی کا اصل نام”مہر لال سونی“ تھا۔سات بھائی بہنوں میں سات بھائی بہنوں کے درمیان تین بہنوں سے چھوٹے اور تین بھائیوں سے بڑے مہر لال نے فورمن کرسچن کالج لاہور سے 1933 میں بی اے (فارسی آنرز) اور 1935 میں ایم اے (انگریزی ادبیات) سے ڈگری حاصل کی۔1936 میں ملازمت کی ابتدأ Reserve Bank کے معمولی کلرک سے کیں۔آگے چل کر مختلف عہدوں پر فائز رہے اور بالآخر 1971 میں ڈپٹی چیف افسر کی حیثیت سے ریٹا ئر ہوئے۔

ضیأ فتح آبادی کی جب ہم زندگی کا مطالعہ کرتے ہے یا ان کی سوانح عمری پڑھتے ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سونی خاندان میں کوئی بھی شاعر و ادیب نہ تھا۔ضیأ صاحب کو شعر و شاعری کا ہنر فطرت نے عطا کیا تھا۔اور وہ ایک ممتاز شاعر و ادیب ہوئے اپنی شعر گوئی کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں کہ۔

”شعر گوئی کا مرض خاندان میں دور تک نہ دیکھا،نہ سُنا،اس لیے جراثیم ساتھ لے کر پیدا ہوا۔“

ان کا یہ قول ان پر صادق بھی آتا ہے۔ان کو یہ ہدیہ خداداد ہی ملی تھی،تبھی تو بینک میں نوکری کرنے والا ایک نوجوان اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود بھی شعر و شاعری اور نثر نگاری سے خود کو روک نہیں پاتا۔بقول جوش ملیح آبادی:۔

”یہ بڑی بد بختی ہے کہ ضیأ صاحب بینک کے دامن خشک سے وابستہ ہے،جہاں روپئے، آنے،پائی کے حسابات سے دماغ کو فرصت نہیں ملتی اور میرا خیال ہیں کہ اگر قدرت ان کو اس قدر مضبوط دل و دماغ عطا نہ فرماتا تو وہ ناموزوں ہو کر رہ جاتے۔یہ دراصلایک معجزہ ہے،کہ وہ اس جھُلسا دینے والے ماحول میں رہ کر نسیم و شمیم سے کھیلتے رہتے ہیں۔“(بحوالہ: شاعر انقلاب)

ضیأ صاحب کی شعر گوئی میں دلچسپی یا رحجان کے وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی شامل ہے کہ ضیأ فتح آبادی کے والد لالہ منشی رام فن موسیقی کے بڑے مداّح تھے۔وہ اکثر گھر پر راگ راگنیوں کی محفل کا انعقاد کرتے اور بعض اوقات اس میں خود بھی حصہ لیتے۔اس کے علاوہ تھیریٹیکل کمپنیوں کے ذریعے ہونے والے ڈراموں میں بھی بڑے ذوق و شوق سے شرکت کرتے تھے۔والد کے ساتھ مختلف ڈراموں اور ادبی محفلوں میں شرکت کرنے کے باعث ضیأ فتح آبادی کی توجہ کہہ سکتے ہے کہ بچپن سے ہی شعر و سخن کی جانب مبذول ہو گئی۔جو وقت کے ساتھ پروان چڑھتی گئی۔شعر و ادب کی دنیا میں انھوں نے اپنا پہلا استاد مولوی اصغر علی کو چُنا۔جن کا تقرر انھیں کے گھر اردو کی تعلیم و تدریس کے لئے ہوا تھا۔لیکن اصغر علی درس و تدریس کے ساتھ ان کے موزوں اشعار پر اصلاح کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کے ذوق میں بھی اضافہ کرتے رہے۔انھیں کے مشورے پر پہلا تخلص ”عطا“ اختیار کیا۔اور اسی تخلص سے لمبے وقت تک شاعری بھی کرتے رہے۔کالج کے زمانے میں انھوں نے غلام قادر فرخ سے اصلاح لینا شروع کردیا۔جنھوں نے ”عطا“ کو ”ضیا“ تخلص سے نوازا،اور اسی تخلص سے وہ تا عمر شاعری کرتے رہے۔اور یہی تخلص آج بھی اردو دنیا میں ان کی پہچان بنائے ہوئے ہے۔آج یہ عالم ہے کہ بہت کم لوگ ہی ایسے ہونگے جو ضیأ فتح آبادی کو ان کے اصل نام سے جانتے ہوں گے۔

ضیأ فتح آبادی کی شاگردی کا سلسلہ یہی ختم نہیں ہوا،ان کی تلاش اس زمانے کے ایسے استاد پر ختم ہوئی جن کے شاگرد نہ صرف ہندوستان کے کونے کونے میں بلکہ بیرون ملک میں بھی بلا تفریق ِ مذہب و ملت بکثرت موجود تھے۔وہ ممتاز استاد سیماب اکبر آبادی تھے۔جنھوں نے خود فصیح الملک داغ ؔ دہلوی سے اصلاح لی اور حلقۂ داغ کے ایک اہم رکن اور اپنے دور کے زبردست مصلح شاعر بھی تھے۔ضیأ صاحب نے تقریبا 1930 سے سیماب اکبر آبادی سے اصلاح لینی شروع کی جو کچھ وقفے کے ساتھ ان کی وفات (1951) تک جاری رہا۔حالانکہ ضیا صاحب جب تلامذۂ سیماب میں داخل ہوئے تب تک ان کی بہت سی نظمیں اور غزلیں منظر عام پر آچکی تھی۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ”طلوع“ 1921 میں منصۂ شہود  پر آچکا تھا۔جس کا تعرف اس وقت کے قد آور شاعر ساغر نظامیؔ نے اس انداز سے کرایا:۔

”آئیے آپ کو عصر موجود کے محشر علم و عمل میں ایک اس شخص سے ملائیں جو آج سے پہلے کبھی میدان میں نظر آنے کی طرح نظر نہیں آیا۔بیٹھیے آپ کو گلزار ِ ادبیات کے اس عندلیب خوش نوا  کے گیت سناؤں،جس کا دل اچھوتے نغموں کی ایک لازوال دنیا ہے اور جس کی خاموشی ایک عظیم گویائی کا مقدمہ معلوم ہوتی ہے۔“

ضیأ فتح آبادی کو دبستان ِ سیمابی سے جو کچھ کیمیائی کا ہنر سیکھ کر فیض حاصل ہوا۔اس نے انھیں نہ صرف شعر و ادب کی نزاکتوں پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی بلکہ انھیں مبتدی شاعروں کی اصلاح و رہنمائی کا  وہ سلسلہ عطا کیا جو داغ دہلوی سے شروع ہوکر ان تک پہنچا تھا۔ان کے کُل دس شعری مجموعے میں (1) طلوع (2)طلوع مشرق (3)ضیا کے 100 شعر(4)نئی صبح (5)گردِ راہ (6)حسن خیال (7)دھوپ اور چاندنی (8)رنگ و نور (9)سوچ کا سفر(10)اور نرم گرم ہوائیں شامل ہیں۔”نرم گرم ہوائیں“ ضیأ فتح آبادی کی وفات (1986) کے بعد (1987) میں اردو اکادمی کے مالی تعاون سے شائع ہوئی،جو کہ 87 غزلوں،دو آزاد غزل،اور 14 متفرق اشعار پر مشتمل ہیں۔ضیأ فتح آبادی اپنے ہم عصر شعراؤں میں منفرد مقام رکھتے تھے،ان کی شاعر ی میں ہر رنگ موجود ہے،ان کی عظمت کا اعتراف ان کے ہم عصر شعراؤں نے بھی کیا بقول منصور احمد:۔”ضیأ ایک حقیقی شاعر ہیں،اور جو کچھ انھوں نے لکھا ہے اسے محسوس بھی کیا اور سوچا بھی،اس لئے ان کے کلام میں سنجیدگی اور اثر کی فراوانی ہے،ان کا ذوق بلند ہے اور زبان نہایت پاکیزہ اور صحیح ہے۔۔۔۔ضیأکی شاعری ایسی ہے کہ اس میں اجتمائیت کے بجائے انفرادیت زیادہ ہے۔“

بقول شاہد احمد دہلوی:۔   ”بحیثیت مجموعی ضیأ کی شاعری داد طلب ہے اور خود شاعر حوصلہ افزائی کا مستحق۔“

یہی نہیں ضیافتح آبادی کی شعری ا ادبی خدمات کی اہمیت و ا فادیت کا اندازہ اردو ادب کے ماہر قلم کو بھی تھا۔حتیٰ کہ ضیا فتح آبادی کی شاعرانہ اوصاف کا اندازہ خود ان کے استادِ محترم کو بھی تھا۔فرماتے ہیں،بقول سیماب اکبر آبادی:۔”مجھے اعتراف ہے کہ وہ اپنے بعض برادرانِ پیشن اور بعض خواجہ تاشانِ آخرین سے ذیادہ علم دوست،مستعد فاکر،اور صاحب ذوق ہیں۔ان میں تلاش و تفحص کا مادّہ بہت ذیادہ ہے۔

ضیا فتح آبادی کی نظموں کا جب ہم مطالعہ کرتے ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے یہاں موضوعات کی بہت وسعت ہے انھوں نے یوتو بے شمار موضوعت پر نظمیں کہی،لیکن برسات ان کا پسندیدہ موضوع رہا ہے مثلا ابر بہار،گھٹائیں،بسنت کا ترانہ، بوندوں کا ساز،مطربہ سے،وغیرہ۔ان کے مجموعۂ کلام ”طلوع“ میں برسات کا نقشہ رباعی کی صورت میں کچھ اس طرح کھینچا ہیں:۔

ابر  چھایا   ہے ،آسماں  پر  ضیأؔ

اور کیف  آفریں  ہے  بادِ   صبا

آرزوئیں  ہیں   اضطراب  انگیا ں

کیا   بتاؤں کہ   چاہتا کیا  ہوں

اسی طرح زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ایک منظر اپنی رُباعی میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:۔

کہیں  ماتم  ہے،  کہیں  شادی

کوئی   نالاں،  کوئی فریادی ہے

اب  حقیقت  یہ کھلی  مجھ  پہ  ضیاؔ!

نام  ویرانے   کا   آبادی   ہے

اس کے علاوہ انھوں نے شاعر سجدے میں،انقلاب بہار،دعوت سیر،نیا سال،آجاؤ، کس طرح قرار ہو،آمد حسن،تصویر،آئینے کے سامنے،حسنِ گمراہ،سال کی آخری رات،دعوت نظر،نہ جاؤ ابھی،محویتِ محبت،کرن، خوبصورت ارادے،روح کا پیمانہ وغیرہ انگنت موضوعات پر مبنی نظمیں کہیں،جو آج بھی اُن کے مجموعۂ کلام کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے گیت بھی لکھے مثلاََ آس،کسِ اور؟، من کی بھول،برہن کا گیت،من کا گیت،نہ روک،پی بِن،وغیرہ کے عنوان سے ان کے مجموعے میں شامل ہیں۔اس سے ضیا ؔفتح آبادی کی وسعتِ شعری کا اندازہ ہوتا ہے،ان گیتوں کے مطالعہ سے ملک کی مٹی کی بھینی خوشبو بھی آتی ہے،جوپڑھنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے مثلاََ ان کا گیت ”پی بِن“ جو کہ دہلی میں 1937  کی یادگار ہے۔سچی محبت اور ہمارے تہذیب و معاشرے کی نمائندگی کرتا ہو ا ایک خوبصورت گیت ہے جس میں اپنے عاشق کے یا محبوب کے انتظار میں ساون کے خوبصورت موسم میں اپنے دل کا احوال بیان کرتی ہوئی ایک کمسن،ملا حظہ ہو:۔

پیا   بِن  سونا  کل  سنسار

کس  کے  نینوں  میں  چھپ   جاؤں

کس  کو  پریم  کے  گیت   سناؤں

سوُنا  کل  سنسار

سُوکھا     بیتا     سارا       ساون

کیونکر    قابو  میں   آئے    من

پیا   بسیں  اُس پار

ڈگمگ   ڈولے  من  کی    نیاّ

پریم   بنا   ہو   کون   کھویاّ ؟

پریم   ہی  ہے  پتوار

ضیأ فتح آبادی کے شعری گلدستے میں ”سانیٹ“ کا بھی اہم رول رہا ہے انھوں نے مختلف موضوعات مثلا  جوانی، محبت، دل، اپنی میرا سے،یاد، دھوکا،اضطراب،جُدائی،دیوی،وغیرہ۔ان کے ”سانیٹ“ کے اشعار بھی بہت خوبصورت اور عمدہ مثالوں کی نمائندہ ہیں جن سے قطع نظر یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔مثلاََ ان کے ”سانیٹ“ بہ عنوان ”محبت“کی ایک مثال ملاحظہ ہو:۔

محبت  لفظ  تو  سادہ  ہے ،  لیکن  ضیا ئ   اس میں

سمٹ  آئی  ہے   سب  رنگینیاں   گلزار ہستی کی

کرے تفسیر  اس  کی  کوئی،  اتنی  تاب  ہے کس میں

کہ یہ  تو   آخری  منزل   ہے ،  راہِ کیف  و مستی کی

ضیا فتح آبادی کی نظموں میں حُسن بیان،ندرت خیال،وضع اسلوب،خوبی ادا،اور تشبیہات و استعارات کی بہترین مثالیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔سنجیدہ موضوعات میں بھی دلکشی و رعنائی کہیں پر پھیکی یا ماند ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی بلکہ دلکشی و رعنائی بر قرار رہتی ہیں۔اسی طرح کی مثالیں ان کی غزلوں میں بھی جا بجا بکھری ہوئی ہیں۔ضیأفتح آبادی بھی صنف غزل کی اہمیت و افادیت اور اس کی جادوگری،اور اس کے رموز و نکات،ادب میں غزل کے مقام اور عوام میں ہر دل عزیزی کا ان کو نہ صرف بخوبی اندازہ تھا بلکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ غزل کہنا،یا غزل لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں یہ ایک خداداد صلاحیت ہے جسے شاعر اپنے خون ِ جگر سے سینچتا ہے،جس کا اظہار انھوں نے خود اس انداز سے کیا ہے کہ اشعار ملاحظہ ہو:۔

کرتی   ہے   اشاروں    میں     باتیں

کہتے  ہیں   ضیا ؔ   ہم   جس  کو  غزل

دل  میں جلوؤں کا اُترنا  ہے  نزولِ اشعار

آنکھ سے اُٹھتے ہیں پردے تو غزل ہوتی ہے

بر صغیر کے ممتاز افسانہ نگار ”منشی پریم چند“ نے افسانہ ننگاری کی جو روایت قائم کی تھی ضیافتح آبادی نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا،ایک سچا فنکار اپنی قلم سے وہی لکھتا ہے جو وہ اپنے عہد و ماحول میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔معاشرے کے تمام پہلوؤں کو خصوصا اس عہد کی برائیوں کو اُجاگر کرنا یا اس کے خلاف لکھنا اس عہد کے تناظر میں بہت ہمت کی بات ہے۔اور یہ حوصلہ ضیا فتح آبادی نے اپنے افسانوں میں کر دکھایا ہے۔وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں پر پردہ پوشی نہیں کرتے بلکہ انھیں عریاں کر منظر عام پر لاتے ہیں۔حالانکہ ان کا خاص میدان شاعری ہی رہا ہے، لیکن انھوں نے جو نثر لکھی اس سے قطع نظریا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ انھوں نے زندگی کا مشاہدہ بہت قریب سے کیا جس کی جھلک ان کے افسانوی مجموعے ”سورج ڈوب گیا“ میں پڑھ کر محسوس ہوتا ہو۔انھوں نے زندگی کی تصویر اس طرح کھینچی ہیں کہ ہر کردار ہمیں چلتا پھرتا،باتیں کرتا اور دل کے قریب محسوس ہوتا ہے۔انھوں نے متوسط گھرانے اور نچلے طبقے کو موضوع سخن بنایا ہے جس کے پاس سادگی، محبت،انسیت،جزبات و احساسات کے ساتھ نفرت،دشمنی،دوستی جیسے پہلو بھی بامِ عروج پر ملتے ہیں۔اس کے علاوہ ضیا فتح آبادی نے اپنے افسانے میں ”عورت“ جیسے حساس پہلو ں کو بھی جگہ دی ہے۔ان کے یہاں عورت کا تصور پوری شان و شوکت سے موجود ہے۔انھوں نے عورت کی نفسیات کے کئی پہلوؤں کو اُجاگر کیے ہیں۔عورت ان کے یہاں ”ماں“ جیسی عظیم ہستی کی صورت میں بھی موجود ہے،دوسری طرف مکر و فریب کا جال بھی،محبوبہ بھی ہے اور بے بسی و لاچاری کا شکار بھی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضیأ فتح آبادی عورتوں کی نفسیات سے کس قدر آشنا تھے۔

بہر حال اگر ہم دیکھے تو پاتے ہیں کہ یوں تو بحیثیت نثر نگار ضیا فتح آبادی کے نثری کارناموں میں تذکرہ نویسی پر دو کتابیں ”شعر اور ادب“ اور ”ذکر سیماب“  ہیں۔ایک افسانوی مجموعہ ”سورج ڈوب گیا“ ہے۔لیکن تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان کے اور بھی افسانے ہے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آپائے ہے۔افسانوں کے ساتھ بہت سے ایسے خطوط بھی موجود ہیں جس سے موجودہ عہد کے مقق کو اس زمانے کے مذاقِ شعری کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہیں۔ضیافتح آبادی کے خواہ نثری کارنامے ہو یا شعری ان کے دل میں اپنی قوم و ملت کے لیے بے پناہ محبت تھی،اور ان کے لیے انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں تھا۔خود ان کے لفظوں میں کہ:۔

کافر   بنا   دیا   کہ   مسلماں   بنا   دیا

فطرت  کا  شُکر کر، تجھے  انساں  بنا   دیا

ضیاء فتح آبادی کی ادبی خدمات کے طویل عرصے کو چند صفحات میں سمیٹ دینا ممکن نہیں۔یہ ہمارے ادب کا بڑاالمیہ ہے کہ اس نے ایک ممتاز شاعر و ادیب کو نظر انداز کر دیا اور اس کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ایک عرصہ تک  ان کی خدمات کو گمراہی و اندھیرے کی غار میں بھٹکنا پڑا،لیکن ساتھ یہ خوش آئند بات بھی ہے کہ اب ان پر وسیع پیمانے پر کام ہو رہا ہے دنیائے ادب سے روشناس کرایا جا رہا ہے،امید ہے آنے والے وقت میں ان کو وہی مقام ملے گا جن کے یہ مستحق تھے۔میں اپنی باتوں کا اختتام ان کے اس شعر سے کرنا چاہتی ہوں کہ:۔

بڑھ  کر مہ و انجم   سے ضیائے اردو

رنگینی    و   دلکشی     برائے   اردو

اپنی جسے کہہ سکتے ہو ں سب مل جل کر

ہے  کوئی  ذباں اور  سوائے  اردو؟؟

 

ڈاکٹر صالحہ صدیقی(الٰہ آباد)

پتہ

 Email-  salehasiddiquin@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasصالحہ صدیقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
لایعنی ہیں مرگ و زیست : ’زوال کی حد‘:شہریار – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
  شہناز رحمن کا ’’نیرنگ جنوں‘‘ – پروفیسرقدوس جاوید

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں