شاید یہ بات آسان ہو کہ شہریار کی نظم ’زوال کی حد‘ کو فیشن پرست جدیدیت کا سکّۂ رائج الوقت تصوّر کرلیا جائے اور پھر لایعنیت، بے سمتی، لامرکزیت اور عدم اطمینان جیسے الفاظ و اصطلاحات کو محور تسلیم کرتے ہوئے نظم کی تعبیر و تشریح کے فرائض مکمل کرلیے جائیں لیکن جیسے ہی اس بات کا خیال آتا ہے کہ ’ساتواں در‘ مجموعے کی اس نظم کو ہم ایک طویل وقفے کے بعد نئے ادبی اور عصری ماحول میں پھر سے غور و فکر کے لیے منتخب کررہے ہیں، تب ہمارا نقطۂ نظر بدل جاتا ہے۔ نظم کی قرأتِ اوّل اور موجودہ قرات کے مفاہیم میں واضح طور پر فرق ہونا ہی چاہیے۔
شہریار چار دہائیوں سے زیادہ عرصے میں اپنی غزلوں اور بالعموم مختصر نظموں کی وجہ سے اردو کے اہم شاعروں میں امتیازی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے پڑھنے والوں کا ایک حلقہ بھی قائم ہوا اور ان کی تخلیقات نے مخصوص معنوی کائنات بھی خلق کی ہے جس کے حوالے سے ان کی ہر نئی اور پُرانی تخلیق کی تعبیر ممکن ہوئی ہے۔ خاص طور سے ایک حزنیہ آہنگ ان کی شاعرانہ شخصیت کی شناخت بن کر سامنے آیا ہے۔ شاید یہی وہ گہرا رنگ ہے جس کے بغیر کوئی تخلیق عظمت نہیں حاصل کرپاتی۔ اردو ہی نہیں، دنیا کی بڑی شاعری اسی سوز اور حزن کے طفیل اپنا دائمی اثر قائم کرتی ہے۔
شہریار کی اس نظم کو اگر ان کی شاعری کی عمومی فضا اور حزنیہ رنگ و آہنگ کے پس منظر میں نہ دیکھا جائے تو اس کے درست مفاہیم تک پہنچنے میں ہمیں دشواری ہوگی۔ آخر شاعر نے اس نظم کا عنوان ’زوال کی حد‘ یوں ہی نہیں رکھا۔ اگر اُسے لایعنیت اور بے سمتی کو اوّل و آخر مرکزِ نگاہ میںرکھنا ہوتا تو اس کا عنوان کچھ دوسرا ہوتا اور یہ بھی کہ اس نظم کے آخری آٹھ مصرعے بھی کچھ دوسرے ہوتے۔ اسی لیے فیشن زدہ جدیدیت کے عہد اور اس کے سارے اوزاروں کے استعمال کے باوجود یہ نظم تفہیم کی کچھ اور وسعت کی تمنّا کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے۔ اسی لیے اس کے تجزیے کے دوران جدیدیت کے اصطلاحی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ دوسرے شاعرانہ طلسمات سے بھی صرفِ نظر نہیںکرنا چاہیے۔
نظم تخریب، انتشار اور بے اطمینانی سے پروان چڑھتی ہے۔ اکثر مناظر ایک دوسرے سے غیر متعلّق اور بے جوڑ ہیں۔ بیان کی سطح ظاہری ہے۔ اختتامی حصّہ لکھنے سے پہلے شاعر داخل کی طرف بڑھنے سے پورے طور پر گریز کرتا ہے۔ شراب نوشی سے نظم شروع ہوتی ہے لیکن جینے کا ڈھنگ کون سا ہو، شراب کی بوتل سے نکلنے والے جِن سے دریافت کرنے کا قصد کیا گیا ہے۔ پھر سگریٹ، سیخ کباب، پارک کی لڑکی، فیض کی نظم، اندراجی کے بھاشن، ویسٹ انڈیز کی جیت اور اس انداز کے نہ جانے کتنے احوال اس نظم میں فلم کی طرح گزرتے جاتے ہیں۔ ہر جگہ ظاہری زندگی کو دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فیض، بیدی، اندراگاندھی، جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری، جن سنگھ، سارتر کی بیوی جیسے معاملات میں بھی گفتگو کسی داخلی سطح تک نہیں پہنچتی۔ نظم کہنے اور سنانے کی صورت میں بھی سنجیدگی کو زائل کرنے کے لیے ترنّم کی شرط لگا دی جاتی ہے جس سے ایک پُرمزاح اور طنز آمیز صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بہار میں اردو افسانہ – ڈاکٹر احمد صغیر )
انتشارکے مناظر میں شاعر کی دل برداشتگی اُبھر کر سامنے آتی ہے۔ یہاںبہت حد تک شاعر خود بھی سنجیدہ ہونے اور مسئلے کی طرف دانش ورانہ لپک دکھانے سے گریز کرتا ہے۔ سرسری طور پر پڑھیں تو محسوس ہوگا کہ شاعر اس طوفانِ غیرسنجیدگی کا لازمی حصّہ بنا ہوا اِترائے چلتا ہے۔ وہ خود اس انتشار کا نہ صرف یہ کہ حصّہ ہے بلکہ اس سطحیت میں وہ بہر طور شامل ہے اور تخریب وانتشار کے کھیل تماشے میں پورے طور پر مگن بھی ہے۔ غیر متعلّق اور سرسری بیان دینے میں شاعر کو ایک لطفِ خاص میسّر ہے۔ایسی تفصیلات جس قدر بھی ہوں لیکن یہ نظم کا اصل سچ نہیں ہے۔
زندگی کی بے سمتی کو شہریار نے پہلی بار شاعری کا موضوع نہیں بنایا۔ دنیا کی بہترین شاعری زندگی کے مشکل سوالوں سے نبرد آزما رہی ہے۔ شیکسپیر نے آخر تکلیف کے انتہائی عالم میں ہی کہا تھا کہ Life is a tale told by an idiot ۔ ورڈزورتھ نے جب کہا A slumber did my spirit seal تو یہ بھی کوئی عام صورتِ حال کی ترجمانی نہیں تھی۔ ایسے حالات میں اظہارکی لَے کی غلط آہنگی مظلوم کی دعا کی طرح بابِ قبولیت کی کنجی لے کر سامنے آتی ہے۔ اسی لیے غیر متعلّق اور بے ترتیب مشاہدات کے باوجود شہریار کی نظم اپنی لایعنی گفتگو میں ہمیں دور نہیں لے جاتی بلکہ کسی متوقّع موضوعاتی مرکزیت کے لیے اشتیاق پیدا کردیتی ہے۔
زندگی کی بے سمتی اور انسان کی لاچاری کو ٹی۔ایس۔ الیٹ نے اپنی مشہور نظم "Wasteland” میں نہایت کامیابی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مجاز کی نظم ’آوارہ‘ میں بھی اسی لایعنیت اور بھٹکاو کے مناظر اُبھرتے ہیں۔ فراق کی نظم ’آدھی رات‘ میں بھی غیر متعلّق افعال موجود ہیں۔ہری ونش رائے بچّن کی ’مدھوشالا‘ میں بھی ایسے ہی بکھراو کو علاحدہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ہندی شاعر اگیے سانپ اور کتّے کے حوالے سے عصرِ حاضرکی کم ظرفی اور لایعنیت کو پیش کرچکے تھے۔ ایسے میں ان نئے پہلوئوں کی تلاش دل چسپ ہوگی جن کی بدولت شہریار نے پھر سے یہ موضوع منتخب کیا اور ’زوال کی حد‘ جیسی نظم کی تخلیق عمل میں آئی۔
جدیدیت کے عہد میں لاسمتیت کو زندگی کی قدرکے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ ایسی درجنوں نظمیں ہماری نوکِ زبان پر ہیں جن میں زندگی کی بے سمتی اور انتشار کو زندگی کا اثبات تصوّر کیا جارہاہے۔ اس نظم کے ۴۵ میں سے ۳۷ مصرعے اسی فلسفے کے تابع معلوم ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی اس نظم کے آخری آٹھ مصرعے ہمارے سامنے آتے ہیں:
لایعنی ہیں مرگ و زیست
بے معنیٰ ہیں سب الفاظ
بے حس ہے مخلوقِ خدا
ہر انساں اک سایہ ہے
شادی غم اک دھوکا ہے
دل، آنکھیں، لب، ہاتھ، دماغ
ایک وبا کی زد میں ہیں
اپنے زوال کی حد میں ہیں
ان مصرعوں کے مطالعے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہریار کسی آسمانی صحیفے کی گردان کررہے ہیں۔ یہ بند پیغمبرانہ شان لیے ہوئے ہے اور کہنا پڑتا ہے : شاعری جزویست از پیغمبری۔ اَسّی فیصد مصرعوں میں شاعر جس سطحی انداز میں بار بار نہایت غیر سنجیدگی سے جو گفتگو کر رہا ہے، اسے اچانک زندگی کے آفاقی اور حتمی اسرار حاصل ہوجاتے ہیں۔ یہ بات شاید پُر مذاق تسلیم کی جائے لیکن لگتا ہے کہ یہاں ایک صوفیانہ لَے اُبھر آئی ہے اور حیات و موت کا وہ فلسفہ پیش کیا جا رہا ہے جسے ہمارے صوفی شاعروں اور بھکت کو یوں نے باربار سنایا ہے۔ شہریار بھی انھیں یاد کرتے ہیں اور حیاتِ انسانی کو ایک چھلاوا سمجھتے ہیں۔ قرآنی احکام ہے۔ ’انّ الانسان لفی خسر‘ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ شہریار نے بھی دنیا جہان کی اُڑاتے ہوئے آخرکارانسان کو زوال کی حد میں ہی دیکھا۔
شہریار کی عام نظموں کے مقابلے میں یہ طویل نظم ہے۔ شہریار زندگی کی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں کو ذرا تیکھے انداز میں پیش کرنے کے عادی ہیں۔ یہ نظم اس اعتبار سے مختلف ہے اور شہریار کی مختصر نظموں سے علاحدہ تصوّرات کی حامل بھی ہے۔ سلسلے وار خیالات پیش کرنے کے بجاے مجذوب کی بَڑ کی طرح یا فیشن پرست جدیدیت کے انداز میں واقعات و اشارات ابھرتے ہیں۔ اچھّے خاصے سیاسی اور انقلابی اشارے موجود ہیں لیکن شہریار نے اسے ترقی پسندانہ اعلان نامہ نہیں بنایا کیوںکہ انھیں نظم کو Eternity کی طرف بڑھانا تھا اور انھیں لایعنیت اور بے سمتیت کو پار کرتے ہوئے زندگی کی اصل حقیقت تک پہنچنا تھا۔ نظم انجام تک پہنچتے پہنچتے ہمیں واقعتا اس مقام تک لے آتی ہے۔ جہاں شاعر مفکّر، راہ بَر، دانش ور، صوفی اور پیغمبر سب کے رول میں نظر آتا ہے۔ زندگی کے اس مقام تک ہرشاعر پہنچنا چاہتا ہے۔
DR. SAFDAR IMAM QUADRI
Head, Deptt. of Urdu, College of Commerce,
Arts & Science, Patna-800020
202, Abu Plaza, Ashok Rajpath, NIT More, Patna- 800006
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob. No. : 9430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

