Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

دارالعلوم دیوبند اور اردو زبان – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

by adbimiras فروری 27, 2021
by adbimiras فروری 27, 2021 0 comment

1857 کی ہزیمت کے بعددارالعلوم دیوبند اسلامیانِ ہند کے لیے نشأۃ ثانیہ ثابت ہوااور اس عرصے میں اس نے اپنی دینی، علمی، قومی اور ملی خد مات کی بنا پر دنیا بھر میں شہرت و مقبولیت حاصل کی۔بلا شبہ قیام دارالعلوم دیوبند کا مقصد مسلمانوں کے بکھرے ہوئے شیرازے کو یکجا کرنا اور اسلامی تشخص کے ساتھ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا تھا جس میں اسے کامیابی ملی لیکن اسی کے متوازی دارالعلوم نے بہت سے ایسے کارنامے بھی انجام دیے جس کے لیے وہ معروف نہیں ہے۔ یہ امر مبنی بر حقیقت ہے کہ اس عظیم ادارے نے زبان و ادب کے میدان میں بھی غیر معمولی کردار ادا کیا ہے بطور خاص اردو زبان کی توسیع و ترویج اور تحفظ و بقا کی خاطر اس کی شعوری کوششوں سے اردو زبان کا کوئی بھی انصاف پسند مورخ انکار نہیں کر سکتا، لیکن افسوس ہنوز ایسے مورخ کا انتظار باقی ہے۔

اہلِ نظر اس نقطے سے بخوبی واقف ہیں کہ کوئی بھی زبان ایک د ن میں زبان نہیں بن جاتی۔ اس کے پیچھے صدیوں کا وقتدرکار اور کروڑوں انسانی اذہان کی مشترکہ جد و جہد کار فرما ہوتی ہے۔انسانی ضروریات کے پیشِ نظر اشارات کا صوتیات میں اور صوتیات کا لفظیات کے روپ میں ڈھل کر مسندِ قرطاس پر براجمان ہونے کا نام زبان ہے۔ زبان کی حیثیت درخت کے تنے کی سی ہے اور ادب اس کی شاخیں، پتے اور پھول و پھل ہے۔ جب تک کسی زبان کی بنیاد مضبوط نہیں ہو جاتی اس وقت تک ادب کا تصور محال ہے، اس لیے زبان کا درجہ ادب سے مقدم ہے۔

دلی کالج کے دو فاضل اور مولانا مملوک علی نانوتوی ؒکے شاگرد سر سید احمد مرحوم اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دو الگ الگ ادارے قائم کیے۔ بظاہر دونوں اداروں کی نوعیت تعلیمی تھی اور دونوں کے بنیادی مقاصد بھی تقریباً ایک تھے یعنی مسلمانوں کو ہر طرح کی پسماندگی سے باہر نکالنا، خواہ دینی، تعلیمی پسماندگی ہو یا معاشی یا پھر کسی حد تک سیاسی بھی۔ البتہ منزل تک پہنچنے کے راستے دونوں کے الگ الگ تھے۔ دونوں کے طریقہائے کار اور ترجیحات میں فرق تھا۔جس طرح علی گڑھ کی اسلامی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اسی طرح دیوبند کے لسانی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

دیوبند کا دائرہ ئ کار بہت وسیع ہے۔ دین و مذہب اور اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ سماج و سیاست کے باب میں بھی اس ادارے کی نمایاں کارکردگی رہی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ،مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حسین احمد مدنی ؒ،محدثِ عصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ،مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ، مفتی کفایت اللہ ؒ،علامہ سید مناظر احسن گیلانی،مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی ؒ، مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ، مولانا منت اللہ رحمانیؒ، قاری محمد طیب قاسمیؒ اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ وغیرہ کے نام انتہائی روشن اور قابلِ ذکر ہیں۔

اردو ذریعہئ تعلیم:

دیوبند اور اس سے ملحق مدارس جن کی تعداداس وقت تین ہزار ہے۔ اول روز سے ان تمام مدارس کا ذریعہئ تعلیم اور دفتری زبان اردو ہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی جملہ تحریری کاروائی آغاز سے آج تک اردو ہی میں ہوتی ہے۔کتب خانہ، محاسبی، دفترِ تعلیمات اور دیگر دفاتر کے سرکلر، تمام اعلانات اور الف سے یا تک تمام کاغذی کاروائی اردو زبان ہی میں ہوتی ہے۔ اسی طرح سہ ماہی، ششماہی،سالانہ اور داخلے کے امتحانات پھر ان کے تمام سوالات کے پرچے اردو زبان ہی میں ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ دارالعلوم کی سینکڑوں صوبائی و ضلعی انجمنوں کی پنچانوے فی صد سرگرمیاں اردو ہی میں انجام دی جاتی ہیں۔ ان انجمنوں کی سرگرمیوں کی تین بنیادی شاخیں ہوتی ہیں: ہفتہ وار تقریری پروگرام، مطالعہ (لائبریری) اور دیواری پرچے۔

اردو زبان کی قرأت کے حوالے سے بات کی جائے تو یونیورسٹیوں کے مقابلے میں بہت حوصلہ افزا ہے۔ دارالعلوم میں اردو زبان کا استعمال اس طرح ہوتا ہے کہ یہاں نوے فی صد سے زائد اخبارات و رسائل اردو زبان ہی کے پڑھے جاتے ہیں۔ ممکن ہے دہلی سے شائع ہونے والے بعض اردو اخبارات آپ کو دہلی میں نہ ملیں یا تاخیر سے ملیں لیکن دیوبند، بطورِ خاص دارالعلوم کے ارد گرد دکانوں پربعد فجر علی الصباح اردو کے تمام معروف اخبارات آپ کو دستیاب ہوں گے۔ لطف کی بات یہ بھی ہے کہ بیشتر اساتذہ اور طلبہ اخبار خرید کر پڑھتے ہیں۔

اردو کا عام استعمال:

کسی بھی زبان سے محبت اور اسے ترویج دینے کا اندازہ اس زبان میں تعلیم و تعلم کے ساتھ عوامی مقامات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے۔ چناں چہ دیوبند کے سائن بورڈ کی زبان، مختلف پروگراموں کے بینرز کی زبان، اساتذہ کے ناموں کی تختیوں (نیم پلیٹس) کی زبان، سڑکوں کے ناموں کی زبان اور مزاروں کے کتبوں کی زبان اردو ہی ہے۔اسی کے ساتھ یہاں کے کلینڈر، مُہر، شادی اور دیگر تقریبات کے دعوت نامے بھی اردو زبان میں ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی دیوبند کے بہت سے فضلاموجود ہیں۔ نیوز پورٹل، بلاگ، ٹیوٹر، فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر بڑی خوش اسلوبی سے اردو کا استعمال ہو رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ حضرات بغیر کسی حجاب اور جھجھک کے اردو کی اس خدمت میں مصروف و منہمک ہیں۔ اردو زبان سے دیوبند کے لگاؤ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ دیوبند نے اردو کی جو خدمت کی یا کررہا ہے اس کی بنیاد صلہ ئ و ستائش کے بجائے خلوص پر ہے۔ اردو سے دیوبند کایہ تعلق کسی مجبوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اختیاری اور شعوری ہے۔ یہاں کے فضلا اردو شان سے بولتے ہیں نہ کہ لاجے شرمے۔یہاں اردو دانوں کے بیچ اردو پروگراموں میں اردو موضوع پر اگر گفتگو کا موقع ہوتا ہے تو اردو زبان ہی میں گفتگو کی جاتی ہے نہ کہ انگلش یا کسی اور زبان میں۔ مولانا عبدالحمید نعمانی نے بڑی اچھی اور سچی بات کہی ہے: ”مدارس میں کم از کم یہ تضاد دیکھنے میں نہیں آتا ہے کہ اردو والے کے سامنے کسی اور زبان میں اظہارِخیال کیا جائے۔ خالص اردو کے فروغ کے لیے قائم اداروں کے پروگراموں میں انگریزی و دیگر زبانوں میں تقریر یا مقالے کی خواندگی پوری سعادت مندی سے کی جا رہی ہے۔“ (ماہنامہ’اردو دنیا‘ نئی دہلی، مئی 2013ء، ج: 15، ش: ۵)

اردو زبان کو ذریعہ ئ تعلیم بنانے ہی کا صدقہ ہے کہ دیوبند نے جہاں اردو کو ہر لمحے اپنے ساتھ رکھا اسی طرح ملکی و عالمی سطح پر بھی اس زبان کی آبیاری کی۔ملک کے طول و عرض اور ایسے خطے سے آنے والے طلبہ جن کی مادری زبان اردو نہیں ہوتی تھی انھیں بھی دیوبند نے اردو زبان کا عمدہ تحفہ عطا کیا۔ تعلیم کا میڈیم جو زبان ہوتی ہے اس کی ترقی کی رفتار یا اس کی ترویج و اشاعت کے امکانات کس قدر روشن ہوتے ہیں، اس نکتے کو سمجھنا موجودہ عہد میں زیادہ مشکل نہیں۔

اردو کی قومی حیثیت:

دارالعلوم کی شہرت و مقبولیت کے پیشِ نظر ملک کے گوشے گوشے سے تشنگانِ علم و معرفت جوق در جوق یہاں آنے لگے۔ یہ طلبہ اپنی مادری زبان: بنگلہ، تمل، ملیالم، کنڑ، تلگو، کشمیری، اڑیا، گجراتی، آسامی، اور مراٹھی وغیرہ بولنے کے با وجود دیوبند سے اچھی خاصی اردو سیکھ کر جاتے بلکہ اس میں مہارت پیدا کر کے اپنے وطن لوٹتے پھر اردو کی روشنی ان علاقوں میں پھیلے بغیر نہ رہتی۔آج اگر ان علاقوں میں اردو بولنے یا سمجھنے والے ہیں تو اس میں ایک بڑا حصہ دیوبند کا بھی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی ’بہشتی زیور‘ کا ذکر کیے بغیر بھی بات نہیں بنتی۔ حضرت تھانوی کی یا ان کی نگرانی میں تیار کردہ، مسلم خواتین کا یہ ایک معروف و مقبول انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ملکی سطح پر ہی سہی اردو زبان کی توسیع و ترقی میں اس کتاب کا بھی بڑا اہم رول رہا ہے۔ اسے بیٹیوں کو جہیز میں دینے کو عقید ت مندی کا نام تو دیا جا سکتا ہے لیکن اپنے مشمولات کے پیشِ نظر اردو زبان میں مسلم عورتوں کی روز مرہ کی ضروریات کے بطور بلا شبہ یہ ایک انمول تحفہ ہے اور گزشتہ ایک سوبیس بائیس برسوں سے اس خدمت پر بلا کسی وقفے کے مامور ہے۔ اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ا س کا آغاز اردو کے حروف تہجی سے ہوتا ہے تا کہ جو اردو سے نا واقف بھی ہو تو اردو سیکھ کر اس کتاب سے فائدہ اٹھا سکے۔ بہشتی زیور کے بارے میں عارف اقبال لکھتے ہیں: ”بہشتی زیور (1320ھ) نسائی ادب میں بلا شبہ اپنے وقت کی اہم کتاب ہے جو تقریباً 116  برس قبل شائع ہوئی تھی جس کی اشاعت تسلسل کے ساتھ آج تک ہو رہی ہے۔ اس کتاب کو اپنے عہد کی خواتین کا انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے۔“ (سہ ماہی ’اردو بک ریویو‘ دہلی، اپریل تا ستمبر 2013ء، مشترک شمارہ) ( یہ بھی پڑھیں خوابوں کے چاک پیرہن کی شاعرہ :پروین شاکر – حقانی القاسمی )

حضرت تھانوی ؒ کے علاوہ شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ، کا ترجمہ ئ قرآن (مدینہ پریس بجنور، 1923) مفتی شفیع عثمانی ؒ کی تفسیر ’معارف القرآن‘ (1972 کراچی) مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ کی ’تفسیرثنائی(1895)، مولانا منظور نعمانی ؒکی ’اسلام کیا ہے؟ (1952) مفتی کفایت اللہ ؒ کی تعلیم الاسلام اور مولانا محمد میاں دیوبندی ؒ کی ’دینی تعلیم کا رسالہ‘ وغیرہ انتہائی مقبولِ عام و خاص ہیں۔ ان سب کی زبان اردو ہی ہے اور گزشتہ نصف یا نصف صدی سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہی ہیں اور تا حال جاری و ساری ہیں۔

اسی طرح دیوبند کی تاسیس کے چند سال بعد ہی یہاں بیرون ِ ممالک سے بھی طلبہ کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ دارالعلوم میں قیام کے دوران نہ صرف یہ کہ وہ طلبہ اردو بولنا سیکھ جاتے بلکہ اس زبان کے عمدہ خطیب، بہترین قلمکار اور غیر اردوداں بستیوں میں اس زبان کی تبلیغ کا شاندار کارنامہ بھی انجام دیتے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

دارالعلوم میں اردو کے ذریعۂ تعلیم ہونے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا بقولِ حقانی القاسمی: ”دیگر لسانی معاشروں سے تعلق رکھنے والے بھی اردو زبان میں ہی تعلیم پاتے، چاہے ان کا تعلق برمی، بنگلہ، کنڑ، تمل، تلگو، گجراتی، مراٹھی زبان سے ہو مگر مدارس کے طلبہ اردو زبان کے ذریعے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔“ (ماہنامہ’اردو دنیا‘ نئی دہلی، مئی 2013ء، ج: 15، ش: 5)

دارالعلوم دیوبند نے اپنے قیام کے چند برسوں بعد ہی مرکزیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی اور ملک و بیرون ملک کے تشنگانِ علم و معرفت بڑی تیزی سے دیوبند آنے لگے تو ابتدا میں کتابوں کی ضرورت کی تکمیل دہلی اور لکھنئو سے ہوتی رہی لیکن طلبہ کی روز افزوں بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر درسی و غیر درسی کتابوں کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جانے لگی۔

اردو کے اشاعتی ادارے:

اسی احساسِ ضرورت کی تکمیل کی غرض سے ابتدا میں مفتی شفیع عثمانی ؒ نے’دارالاشاعت‘ اور حضرت نانوتوی کے پوتے مولانا محمد طاہر قاسمی نے ’مطبع قاسمی‘کی بنیاد ڈال کر اشاعتی حوالے سے اردو کی ترویج و توسیع کا غیر معمولی کارنامہ انجام دیا۔پھر یکے بعد دیگرے کئی اشاعتی ادارے فضلائے دیوبند کے ہاتھوں قائم ہوئے اور اس سلسلے میں حیرت انگیز ترقی ہوئی۔ اسی کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ آزادیٔ ہند کے بعد دیوبند کے اشاعتی کتب خانوں کے ساتھ ان کے مالکان نے اپنے اپنے چھاپے خانے اور پریس بھی قائم کیے۔ مولانا شوکت خان کا ’نیشنل پریس‘،مولانا شوکت دیوبندی کا ’آزاد پریس‘ اور قاضی انوار کا ’محبوب پریس‘ انتہائی قابلِ ذکر ہیں۔ ایسے ہی مولانا راشد عثمانی کا ’راشد اینڈ کمپنی‘، مولانا محمد سالم قاسمی کا ’ادارہئ دینیات‘،مولانا اسحاق دیوبندی کا ’کتب خانہ رحیمیہ‘،مولانا نعیم دیوبندی کا قائم کردہ ’کتب خانہ نعیمیہ‘، مولانا سید احمد کا ’کتب خانہ اعزازیہ‘ اور مولانا عامر عثمانی کا ’مکتبہ تجلی‘وغیرہ کا شماردیوبند کے اولین اشاعتی اداروں میں ہوتا ہے، نہ صرف یہ کہ ان اداروں کو تقدم حاصل ہے بلکہ اپنی کثرتِ اشاعت اور طویل مدتی خدمات کے لیے بھی معروف ہیں۔موجودہ عہد میں مولانا ندیم الواجدی کا یاسر ندیم پریس اورفیصل مہدی صاحب کا یونین پریس بھی اہمیت کا حامل ہیں۔ اس وقت خاص طور پرمولانا ندیم الواجدی کا ’دارالکتاب‘، مولانا صدرالزماں قاسمی کا ’کتب خانہ حسینیہ‘ اور مولانا سید شاداب حسین قاسمی کا ’اتحاد بک ڈپو‘ اپنی منصوبند ی کے ساتھ کتابوں کے معیار اور کثرتِ اشاعت کے لیے مدارس کے حلقوں میں خاصامشہور ہیں۔

کچھ فضلا ایسے بھی ہیں جنھوں نے محض اپنی کتابوں کی اشاعت کے لیے کتب خانے قائم کیے۔ ایسے اداروں میں مولانا قاری رفعت قاسمی کا ’مکتبہ رضی‘، ’مولانا نور عالم خلیل امینی کا ’ادارہ ئ علم و ادب‘،مولانا عبداللہ جاوید کا ’ادارہئ اسلامیات‘، مولانا انظر شاہ کشمیری ؒ کا ’بیت الحکمت‘ مولانا جمال کا ’مکتبہ جمال‘، مولانا حسین احمد ہردواری کا ’مکتبہ الاطہر‘  اور مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کا ’مکتبہ البلاغ‘ وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جہاں سے مالکانِ ادارہ کی کتابوں کے ساتھ دیگر کتابیں بھی شائع ہوتی ہیں۔ ایسے اشاعتی کتب خانوں میں مفتی سعید احمد پالن پوری کا ’مکتبہ ئ حجاز‘، مفتی امین پالن پوری کا ’کتابستان‘، قاری ابولحسن اعظمی کا ’مکتبہ صوت القرآن‘، مولانا جمیل احمد سکروڈوی کا ’مکتبہ البلاغ‘ مولانا ساجدقاسمی کا دالمنار، مولانا عبدالقدوس قاسمی کا ’دارالمعارف‘ اور مفتی محمد یوسف تاؤلوی کا ’مکتبہ محمود‘ قابلِ ذکر ہیں۔

ان کے علاوہ مکتبہ ملت، زمزم بک ڈپو، مکتبہ مدنیہ، دارالاشاعت، سنابل کتاب گھروغیرہ کے مالکان بھی دیوبند ہی کے فضلاہیں۔ ان اداروں کے علاوہ اور بھی کئی کتب خانے بہت اہم ہیں ان میں، زکریا بک ڈپو، مکتبہ تھانوی اور فیصل پبلی کیشنز بڑی شہرت رکھتے ہیں ان کا بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ رشتہ دارالعلوم سے ضرور ملتا ہے۔ (مولانا ندیم الواجدی، مولانا نسیم اخترشاہ قیصر اور جناب محمد انس صاحبان کی گفتگو سے ماخوذ)

دارالعلوم کے بھی اپنے دو اشاعتی ادارے ہیں ایک ’مکتبہ دارالعلوم‘، دوسر ا’شیخ الہند اکیڈمی‘ (یہ در اصل دارالعلوم کا ایک تحقیقی اور تربیتی شعبہ ہے) ہے۔ ان تمام اشاعتی اداروں سے شائع ہونے والی کتابوں کا اسی فی صد یا اس سے بھی زائد حصہ اردو زبان میں ہوتا ہے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ تقریباً ستر فی صد کتابوں کا تعلق درسیات (مدارس)سے ہوتا ہے اور تیس فی صد میں علمی، تاریخی، سوانحی، اصلاحی اور ادبی موضوعات سے متعلق کتابیں ہوتی ہیں۔ ادبی کتابوں میں سب سے زیادہ غیر افسانوی نثری کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ مثلاً: سوانح و سیرت، سفرنامے، خاکے اور مکتوبات۔ اس کے بعد شعری مجموعوں کا نمبر آتا ہے اور افسانہ، ناول اور ڈرامے سے متعلق کتابوں کی اشاعت ایک آدھ فی صد ہی ہوپا تی ہے۔ ان مطابع اور پریسوں اور اشاعتی اداروں نے اردو کتابیں چھاپ کر ملک و بیرونِ ملک کے چپے چپے تک پہنچانے کا جو عظیم کام انجام دیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اردو اورخوش نویسی:

اسی طرح خطاطی کے ذریعے بھی دیوبند نے اردو زبان سے لوگوں کو قریب کیا ہے۔ ویسے تو براہِ راست زبان و ادب سے اس فن کا تعلق نہیں،یہ فنونِ لطیفہ کی ایک شاخ ہے تاہم اس کا سرا زبان و ادب سے بھی ضرور ملتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند میں طلبہ کے اندر خوش نویسی کی قوت پیدا کرنے کی غرض سے 1947 میں ’شعبہئ خوشخطی‘ کا قیام عمل میں آیا۔ (تاریخِ دارالعلوم دیوبند ج: ۱،ص: ۲۳۱)اس شعبے نے طلبہ کے اندر خوش نویسی کا شوق پیدا کرنے کے علاوہ بطورِ فن کے بھی اس سلسلے کو آگے بڑھا یا۔ مولانا یوسف عظیم آبادی، مولانا اسلام قاسمی، مولانا ساجد الاعظمی، انیس صدیقی، سابق صدرِ شعبہ مولانا کاتب نیاز الدین اصلاحی، مولانا کفیل الرحمٰن اورشعبہ ئ مذکور کے موجود صدر مولانا عبد الجبار وغیرہ ایسے بے شمار فضلا نے خطاطی(Callygraphy)کا فن سیکھ کر دنیا بھر میں اپنے نام کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کے نام کوبھی روشن کیااور ساتھ ہی اردو زبان  کے حسن کو بھی دو بالا کیا۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے فن کا شاہکار پیش کر کے اردو رسمِ خط کے حسن میں زبر دست اضافہ کیا اور اس کی روشنی و خوشبو پوری دنیا میں پھیلائی۔ ملک و بیرون ممالک کی بے شمار مساجد کی پیشانیوں پر ان کی خطاطی کے اعلیٰ نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم نام طارق ابنِ ثاقب کا ہے۔ کولکاتا، گجرات اور پونے وغیرہ کی درجنوں مساجد کے علاوہ امریکہ، افریقہ اور کناڈا تک میں ان کے فن کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اس فن کے ذریعے بھی اردو نے دور دراز کا سفر طے کیا، اجنبیوں کو خود سے قریب کیا اور قلب و نظر کی تسکین کا سامان بھی بہم پہنچایا۔(معروف خطاط و شاعر مولانا طارق ابن ثاقب (ارریا) سے ہوئی گفتگو سے ماخوذ)

اردو اورطب ِ یونانی:

طبِ یونانی کا عربی و فارسی زبان کے ساتھ ساتھ اردو سے بھی بڑا گہرا رشتہ رہا اور ہے۔ اس فن کی بہت سی کتابیں اسی زبان میں لکھی گئیں اور اس کا ذریعہئ تعلیم بھی اردو کو بنایا گیا۔ایسے ہی ہندوستان کے بہت سے اطبا نے اپنے دیگر طبی امور بھی اسی زبان میں انجام دیے بلکہ ان کے تجویزی نسخے کل بھی اردو میں ہوتے تھے اور آج بھی نسخے کی زبان اردو ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ طبِ یونانی کی تما م دواؤ ں کے نام فارسی یا عربی نما اردو میں ہوتے ہیں اور اس کی تیار کردہ دواؤں اور دیگر ٹانکوں پر جلی حرفوں میں متعلقہ دواؤں کے نام اردو زبان میں بھی درج ہوتے ہیں۔ ہمدرد اور ریکس (دوا کمپنی) وغیرہ کی مصنوعات سے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وضاحت سے طبِ یونانی کا اردو زبان سے تعلق کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔

دیوبند نے اپنے قیام کے صرف 13 سال بعد1879 ء میں طب کی تعلیم کا آغاز کر دیا تھااور ۴۸۸۱ء میں طب کا با ضابطہ شعبہ قائم ہوا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نہ ہمدرد دوا خانہ(1906) قائم ہوا تھا اور نہ ہی جامعہ ہمدرد (1989)۔1955 ء میں دارالشفا کی علیٰحدہ عمارت تعمیر ہوئی اور 1963ء میں دارالعلوم دیوبند میں مستقل جامعہ طبیہ کا قیام عمل میں آیا۔اس جامعہ کا ذریعۂ تعلیم اردو زبان تھا اور نظری و عملی ساری کاروائی بھی اسی زبان میں ہوتی تھی۔مختلف شعبہائے جات کے لحاظ سے دیوبند کی صد سالہ خدمات کے ضمن میں سید محبوب رضوی مرحوم نے جامعہ طبیہ کے فضلا کی تعداد 288 درج کی ہے۔ (تاریخِ دارالعلوم دیوبند ج: ۱، ص: 445)دارالعلوم کے ایک ابتدائی دور (1300ھ)کے نابینا فاضل حکیم عبدالوہاب جو حکیم نا بینا سے معروف تھے، مجاہد آزادی ڈاکٹر مختار انصاری مرحوم کے بڑے بھائی تھے، دہلی سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی، بڑے ماہر نباض تھے، علم النبض پر ”اسرارِ شریانیہ“ نامی ایک معرکہ آرا کتاب تحریر کی۔ (تاریخِ دارالعلوم دیوبند ج: ۲، ص: 61)اسی طرح ایک اور فاضلِ دیوبند،مولانا سعید الرحمن اعظمی کے بڑے بھائی حکیم عزیز الرحمن نے بھی 23 سال دارالعلوم دیوبند میں طب کا درس دیا اور ’امراضِ صدر‘،’کتاب الرحمت‘اور بارہ سو صفحات پر مشتمل دو ضخیم جلدوں میں اردو انگلش طبی لغت جیسی قیمتی تصانیف کے ذریعے طبِ یونانی اور اردو کو ہم رشتہ کیا۔(پسِ مرگ زندہ، نور عالم خلیل امینی، ادارہ ئ علم و ادب دیوبند،(2010 دوسرا اڈیشن) ص: 911) ان فضلا نے جہاں ایک طرف ملک بھر میں عوامی خدمات انجام دیں وہیں بالواسطہ یا بلا واسطہ اردو زبان کے فروغ میں بھی ان کا اہم حصہ رہا۔

اردوکی عالمی حیثیت:

دیوبند نے نہ صرف یہ کہ ملک کے غیر اردو معاشرے تک اردو کی روشنی پھیلائی بلکہ عالمی سطح پر بھی دیوبند نے اپنے فضلا کے ذریعے اردو کی خوشبو کو دنیا بھر میں بکھیرنے کا روشن کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں اس کے کئی محرکات ہیں۔ سب سے پہلے تو دیوبند کا ذریعہ ئ تعلیم اردو ہے جس کے نتیجے میں بلا کسی امتیاز کے یہاں کا ہر فاضل خواہ ہندوستانی ہو غیر ہندوستانی اردو بولنے، پڑھنے، سمجھنے اور لکھنے پر قادر ہوتا ہے یا کم از کم بولتا اور سمجھتا تو ضرور ہے۔ دوسری بنیادی وجہ دیوبند کے ذریعے عالمی تبلیغی تحریک کابرپا ہونا ہے۔ اس عالمی تحریک نے عملی طور پر اردو زبان کو جو عالمگیریت عطا کی ہے اس سے شاید دیگر تحریکاتِ اردو بھی محروم ہیں۔گزشتہ پچانوے سالوں سے اس تحریک نے دنیا بھر کے محلے محلے اور گلی گلی میں تبلیغ ِ اسلام کا ایک انقلابی کارنامہ انجام دیا ہے اور ساتھ ہی اردو کو ایک عمومیت بھی عطا کی۔ ”جنوبی افریقہ میں اردو“ کے تحت پروفیسر حبیب الحق کے حوالے سے حقانی القاسمی نے لکھا ہے: ”ڈربن میں پانچ عظیم مراکز ہیں جہاں اردو زبان ذریعہ ئ تعلیم ہے۔درجنوں مدارس ہیں جن کے اساتذہ زیادہ تر ہندوستانی مدارس، مثلاً دیوبند، راندھیر، ڈابھیل کے فارغین ہیں۔“(دارالعلوم دیوبند: ادبی شناخت نامہ، حقانی القاسمی، آل انڈیا تنظیم علمائے حق،نئی دہلی، 2006ء،ص: 48)

اس سلسلے میں پروفیسر سعود عالم قاسمی نے بھی اپنے مشاہدے کا ذکر کیا ہے۔ ہندوستانی مدارس کے فضلا کی دینی، تعلیمی،ثقافتی، معاشی، سیاسی اور لسانی سرگرمیوں کو بیان کرتے ہوئے وہاں کے چار معروف مدارس: ’دارالعلوم زکریا‘ جو ہانس برگ، ’جامعہ اسلامیہ‘ آزاد ول جوہانس برگ، ’دارالعلوم مسیح الامت‘ روشنی جوہانس برگ اور ’دارالعلوم‘ نیو کاسل کا بطورِ خاص تذکرہ کیا ہے۔ اسی ضمن میں وہ لکھتے ہیں: ”ان مدارس میں ابتدائی تعلیم سے لے کر دورہ ئ حدیث، افتا اور تخصص فی الحدیث کی تعلیم ہوتی ہے، یہاں کے مقامی طلبہ کی مادری زبان اردو نہیں ہے مگر حدیث پڑھنے والے تمام طلبہ کو پہلے اردو زبان سیکھنی ہوتی ہے۔ان مدارس کے بیشتر اساتذہ دارالعلوم دیوبند یا دارالعلوم کراچی کے فضلا ہیں اور یہ عربی کے ساتھ اردو میں تعلیم دیتے ہیں۔“ (اردو کے فرغ میں مدارس کا کردار، مرتب: عبد المعید قاسمی،فلاح المسلمین الٰہ داد پور سمیتی،فتح پور، 2013ء، ص: 40-41) اسی طرح اردو کے حوالے سے دیوبند کا فیض یوروپی ممالک، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی پہنچا اور آج بھی دیوبند کے فضلا اردو کی روشنی دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں۔

دیوبند کے خوشہ چیں مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒجو جماعت ِ تبلیغ کے بانی ہیں۔ ان کی اس تحریک نے بھی اردو زبان کو دنیا بھر میں رابطے کی زبان بنانے کا نا قابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت فضلائے دیوبند کے ہاتھوں قائم ہونے والی کسی بھی تحریک میں سب سے فعال اور اردو زبان کو استعمال کرنے والی بین الاقوامی جماعت یہی ہے۔ جو 1927ء سے باضابطہ مصروفِ کار ہے۔ حقانی القاسمی رقم طراز ہیں: ”اس ضمن میں محمد الیاس کاندھلوی ؒ کی عالمی تبلیغی تحریک کا ذکر بھی ضروری ہے جس نے زبان کی حد تک اردو کے فروغ میں اردو کی باضابطہ تنظیموں، اداروں سے زیادہ فعال اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ صرف ایشیا، افریقہ نہیں بلکہ یوروپی ممالک میں بھی اردو کے تہذیبی لسانی چراغ کو روشن رکھا ہے۔ پروفیسر حبیب الحق ندوی کے بقول: ”1964ء میں جنوبی افریقہ میں تبلیغی جماعت کی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا پہلا اجتماع 1964ء میں شہر ڈربن میں منعقد ہوا۔1972ء تک لاکھوں کے مجمعے میں تمام تقاریر اردو زبان میں ہوتی رہیں“۔ (دارالعلوم دیوبند: ادبی شناخت نامہ، ص:48)

اسی طرح اس جماعت کاایک عوامی نصاب تیار کرنے کے لیے مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒ نے اپنے لائق و فائق برادر زادہ شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کو حکم فرمایا، جس کی تعمیل میں ”فضائلِ اعمال“ وجود میں آئی، جو اردو زبان میں ہے اور اسلوب و انداز کے لحاظ سے انتہائی آسان بھی۔اس کتاب میں عوام کو برے اعمال سے نفرت اور اچھے اعمال کی رغبت دلائی گئی ہے۔ گرچہ دنیا کی اہم زبانوں میں اس کے ترجمے ہو چکے ہیں تاہم اس کے اردو وَرژن (نسخہ) کی نہ تو اہمیت میں کوئی فرق پڑا   اور نہ ہی اس کی تعدادِ اشاعت میں کسی قسم کی کوئی کمی آئی۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسے کوئی بھی اشاعتی ادارہ چھاپ سکتا ہے۔

”دورِ حاضر میں اردو زبان کی کثیر الاشاعت تصانیف“ کے زیرِ عنوان عارف اقبال صاحب نے لکھا ہے: ”اس (فضائلِ اعمال) کا عالمی شہرہ ہے، اس کا ترجمہ متعدد بین الاقوامی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ دورِ حاضر میں قرآن مجید کی اشاعت کے بعد غالباً یہ دوسری کثیر الاشاعت کتاب ہے“۔ (سہ ماہی ’اردو بک ریویو‘ دہلی، اپریل تا ستمبر 2013ء، مشترک شمارہ)

اردو کا تحفظ و بقا:

جس طرح دیوبند نے علمی، تعلیمی، تبلیغی، ملی اور سیاسی تحریک میں اردو زبان کو ترجیح دی اور نظری و عملی ہر دو حوالے سے اردو کو دیگر زبانوں پر مقدم رکھا اور اس کے تحفظ و بقا کے لیے تعمیری اور مثبت کوششیں کیں اسی طرح ہندوستان کی آزادی کے بعد جب فرقہ پرست ذہنیت کی طرف سے اردو کے لیے ملک کی زمین تنگ کی جانے لگی تو ایسے برے وقت میں بھی دیوبند اور اس کے خوشہ چینوں نے نہ صرف یہ کہ اردو زبان کو اپنے گلے کا ہار بنائے رکھا اور اس کی صحت پہ کوئی خراش آنے نہیں دیا بلکہ تحریکی طور پر بھی اس کے حقوق کی بازیابی کے لیے علمِ جہاد بلند کیا۔ دیوبند کے فاضل، ممتاز عالمِ دین اور معروف مصنف و سیاست داں مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ نے پارلیامنٹ کے اندر بھی اور اس سے باہر بھی اردو زبان کو انصاف دلانے کے لیے پوری قوت سے آواز اٹھائی اور آخری دم تک اس کے لیے لڑتے رہے۔1951ء میں انجمن ترقی اردو کے تحت یوپی کے گورنر سے اردو کے حقوق کے مطالبے کا موقع ہو یا 1954ء میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی دستخطی مہم ہو یا پھر ڈاکٹر تارا چند کی زیرِ صدارت 1958ء کی اردو کانفرنس ہو،پوری چاق چوبندی کے ساتھ مولانا سیوہاروی ہر جگہ کھڑے رہتے اور ہر حال میں حاضر رہتے۔ بقول ابرار احمد اجراوی کہ 1950ء سے 1961 تک انجمن ترقی اردو کی دہلی شاخ کے ممبر رہے اور کسی میٹنگ سے کبھی غیر حاضرنہ رہے یہاں تک کہ اس کی آخری میٹنگ (25 نومبر 1961ء) میں شدید بخار و کھانسی کے با وجود کمبل اوڑ ھ کر حاضر ہوئے۔ (ادب امکان، ابرار احمد اجراوی، مہتاب پبلی کیشنز، نئی دہلی، 2014ء،ص: 197)

ابراراجراوی نے معروف ناقد اور انجمن ترقی اردو ہند کے اس وقت کے جنرل سیکریٹری آل احمد سرور کے حوالے سے لکھا ہے: ”اردو تحریک میں مولانا لیڈر کی حیثیت سے نہیں، سپاہی کی حیثیت سے انجمن کا کام کرتے تھے، جہاں مولانا کی ضرورت محسوس ہوئی بھیج دیا، جہاں دقت ہوئی مولانا نے سلجھا دی، جہاں اختلاف ہوا مولانا کی وجہ سے دور ہو گیا۔“ (روزنامہ ”الجمعیۃ“ مجاہد نمبر (1963ء) ص: 132، بحوالہ ادب امکان، ص: 199) اردو کے تحفظ و بقا اور ترویج و اشاعت کے لیے مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی کے جذبہئ خلوص اور غیر معمولی جد و جہد کو نظر کرنا خلافِ انصاف ہے۔

تصنیف و تالیف:

اسی کے ساتھ فضلائے دیوبند نے اپنی گراں قدر تصنیفات سے بھی اردو زبان کے ذخیرے کو مالا مال کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ دیوبند کی تصنیفات کا بیشتر حصہ مذہبیات اور اسلامی علوم سے متعلق ہیں تاہم تصانیف کا تیس فی صد حصہ ایسا بھی ہے کہ جو عوام سے ہم رشتہ ہے۔ پھر اس طرح کی کتابوں کا پنچانوے فی صدحصہ بھی اردو زبان ہی میں ہے۔

دارالعلوم کی صد سالہ کارکردگی کے ضمن میں سید محبوب رضوی نے فضلائے دیوبند میں مصنفین کی مجموعی تعداد (1124) بتائی ہے جب کہ اعلیٰ پایے کے مصنفین کی تعداد (276) درج کی ہے۔(تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج: ۱، ص:445-446

قرآنیات، حدیث، فقہ، فلسفہ ئ وتصوف، تاریخ و سیرت اور ادب و لغت کے موضوع پر ایک سے بڑھ کر ایک کتابیں لکھی گئیں لیکن گزشتہ پچاس برسوں میں بھی دیوبند کے فضلا نے سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں تحریر کیں۔ ان میں بعض کتابیں اپنے موضوع کے اعتبار سے متنوع اور منفرد بھی ہیں اور بعضوں کو تو عالمی شہرت بھی حاصل ہوئی۔ مولانا صادق علی بستوی کی غیر منقوط منظوم سیرت ”داعی ئ اسلام“، مولانا یاسر ندیم کی ”اسلام اور گلو بلائزیشن“اورڈاکٹر رشید احمد جالندھری کی ”برطانوی ہند میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم اور دارالعلوم دیوبند“ وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔

صحافت:

ہفت روزہ ’الہلال‘ (1912)، ہفت روزہ ’البلاغ‘ (1915) اور ہفتہ وار ’ہمدرد‘ (1913) وغیرہ ابھی پردہئ عدم میں ہی تھے کہ حضرت شیخ الہند نے اپنے دو شاگردوں: مولانا مقبول الرحمٰن سرحدی اور مولانا شوکت علی بنگالی کو آزادی ئ ہند کی غرض سے چین کے محاذ پر روانہ کیا۔ ان دونوں حضرات نے شنگھائی کی سیرت کمیٹی کے تحت اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اوریہیں سے1905ء میں چینی اور اردو زبان کا ایک مشترک ماہنامہ ”السین“ جاری کیا جو 1909ء تک جاری رہا۔(صحافت پابندِ سلاسل، ضمیر نیازی، اردو ترجمہ: اجمل کمال، ایجوکیشنل پریس، کراچی،1994ء، ص: 338) چین میں اسے اردو زبان کی پہلی اذان کہا جا سکتا ہے۔

دارالعلوم کی عمر جب اڑتالیس ہو گئی اور اس نے 1914ء میں اپنے آرگن ماہنامہ ”القاسم“ اور 1915 میں ماہنامہ ”الرشید“ نکالنے کا فیصلہ کیا تو ا ن ماہناموں کو فارسی یا عربی زبان میں نہیں نکالا؛بلکہ ان کی زبان شعوری طور پر اردو ہی متعین کی گئی۔ جب کہ اس وقت دارالعلوم میں چوٹی کے عربی و فارسی کے اسکالر موجود تھے۔

دیوبند نے دیگر موضوعات کے ساتھ صحافت کو بھی اپنی دلچسپی کا موضوع بنایا ہے اور اس راہ سے بھی اردو زبان کی زبر دست خدمات انجام دی ہیں۔ یہاں کے فضلا نے نہ صرف یہ کہ عملی طور پر اردو صحافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ انھوں نے اردو صحافت کو ایک نیا رنگ و آہنگ بھی عطا کیا۔ اس کے ذریعے یہاں کے فضلا نے ملک کی آ زادی میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور ساتھ ہی ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی دیوبند کے ان صحافیوں کا غیر معمولی حصہ رہا ہے۔مولوی سید ممتاز علی (م: 1936ء) مولانا مظہر الدین شیر کوٹی (م:1938ء)شائق احمد عثمانی (م:1978) مولانا حامد الانصاری غازی(1992) علامہ تاجور نجیب آبادی (م: 1951ء) مولانا سعید احمد اکبر آبادی (م: 1985ء) مولانا عبدا لوحید صدیقی (1981ء) مولانا عامر عثمانی (م: 1975ء) اور مولانا محمد منظور نعمانی(م: 1997ء) وغیرہ کو بالترتیب ’تہذیب ِ نسواں‘، لاہور، سہ روزہ ’الامان‘ دہلی، روزنامہ ’عصرِ جدید‘ کلکتہ، سہ روزہ ’مدینہ‘ بجنور، ماہنامہ’مخزن‘ و’ادبی دنیا‘ لاہور، ماہنامہ ’برہان‘ دہلی، ہفت روزہ ’نئی دنیا‘ دہلی، ماہنامہ ’تجلی‘ دیوبنداور ماہنامہ ’الفرقان‘ بریلی و لکھنئو وغیرہ کے ذریعے کو ن نہیں جانتا۔ ان صحافیوں نے اپنے اپنے اخبارات و رسائل کے ذریعے اردو صحافت کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ ہند و پاک اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دیوبند کے فضلا کی ادارت میں نکلنے والے اخبارات و رسائل کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے جو ایک مستقل موضوع کا متقاضی ہے اوراس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے؛بلکہ اب تو گزشتہ چند سالوں سے فضلائے دیوبند نے عملی صحافت کے ساتھ ساتھ نظری صحافت میں بھی اپنی دلچسپی کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔دیوبند کے فضلا میں اس وقت اردو صحافت کے معاصر منظر نامے پر مولانا اسرار الحق قاسمی، مولانا عبد الحمید نعمانی، مولانا ندیم الواجدی، حقانی القاسمی، یوسف رام پوری، عبد القادر شمس، عابد انور، وارث مظہری اور شہاب الدین ثاقب وغیرہ کے نام انتہائی نمایاں ہیں۔ اسی طرح سے گزشتہ تین چار برسوں میں نئے فضلا کا رجحان اردو صحافت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا ہے۔ محمد نجیب قاسمی، غفران ساجد قاسمی، نایاب حسن قاسمی، جسیم الدین قاسمی،شاہنواز بدر قاسمی، شمس تبریز قاسمی، نازش ہما قاسمی اور راحت علی صدیقی وغیرہ نوجوان نسل کی عمدہ مثال ہیں۔

اردو اور تحریکِ آزادیئ ملک:

دیوبند نے درس و تدریس اور تصنیف و تبلیغ کے ساتھ تحریک ِ آزادی اور میدان ِ کارزار میں بھی اردو کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ چناں چہ جب شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ نے اپنے جانباز شاگردوں اور ہم نواؤں کے ذریعے تحریک ِ آزادی ئ ہند کی پہلی اور آخری عالمی تحریک ”ریشمی رومال“ کا آغاز کیا تو اس کا سارا خاکہ اردو زبان ہی میں تیار کیا گیا تھا۔اس تحریک کے زیرِ اثر  چین میں ماہنامہ ”السین“ جس کا ذکر پہلے گزر چکا،کے علاوہ ٹوکیو جاپان سے مولانا برکت اللہ بھوپالی نے The Islamic Fraternity

(1910_1912) اور ان ہی کے ذریعے امریکہ سے ”غدر“ اورفرانس سے چودھری رحمت علی پنجابی نے ”الانقلاب“جاری کیا جو متعلقہ خطے کی علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو زبان کے مشترک اخبار و رسائل تھے۔گر چہ ان اخبارات کی روشنی زیادہ دیر پا ثابت نہیں ہو پائی اس کے با وجود یہ اخبار صحرا میں اذان دینے اور اندھیرے میں چراغ جلانے میں ضرور کامیاب رہے۔ اس سلسلے میں مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم نے ریشمی کپڑے پر جو تین خطوط تحریر فرمائے تھے ارد و زبان ہی میں تھے۔ان کے خطوط کا اصل مقصدمکہ میں قیام پذیر حضرت شیخ الہند کو خطہئ افغانستان کی سیاسی صورتِ حال سے آگاہ کرنا تھا۔ مولانا عبید اللہ سندھی کی مادری زبان سندھی تھی، وہ فارسی کے علاوہ عربی زبان سے پوری طرح واقف تھے، ان زبانوں میں بھی وہ خط لکھ سکتے تھے اور شیخ الہند اسے سمجھ بھی سکتے تھے، اس کے باوجود مولانا سندھی نے عربی فارسی کی بجائے اردو ہی کو ترجیح دی۔ اس عمل کو غیر شعوری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ عین شعوری اور منصوبہ بندی کے ساتھ اختیار کیاگیا ایک اہم قدم تھا۔

لغت نویسی:

لغت نویسی میں بھی دیوبند کا بڑا اہم حصہ ہے۔ لغت سازی کے لیے کس قدر صلاحیت اور علمی لیاقت درکار ہوتی ہے اس سے اہلِ نظر اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہاں کی بیشتر لغات ذو لسانی یا سہ لسانی ہیں، کم ہی خالص اردو میں ہیں؛تاہم لطف کی بات یہ ہے کہ فضلائے دیوبند کی تصنیف کردہ ہر لغت کا تعلق اردو زبان سے ضرور ہے اور وہ لغات اردو دانوں ہی کے لیے لکھی بھی گئی ہے۔خواہ وہ لغت قرآنی ہو یا حدیثی، فقہی ہو یا ادبی یا پھر طبی لغت۔اس سلسلے میں مولانا ابو الفضل عبد الحفیظ بلیاوی (م: ۱۷۹۱ء) کی ’مصباح اللغات‘،قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی کی ’قاموس القرآ ن‘ و ’بیان اللسان‘ حکیم عزیر الرحمٰن کی ارد و۔انگلش ’میڈیکل ڈکشنری‘ (دو جلدیں)اور سہ لسانی ’انگریزی۔عربی۔اردو ڈکشنری‘، مولانا وحید الزماں کیرانوی کی ’القاموس الوحید‘ (دو جلدیں)، ’القاموس الجدید‘ اور ’القاموس الاصطلاحی‘ ایسے ہی معاصر لغات میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی ’القاموس الفقہی‘ (پانچ جلدیں) اور مولانا ندیم الواجدی کی ’القاموس الموضوعی‘ وغیرہ بہت مقبول و معروف ہیں۔ غیر اردو دانوں کو اردو سے قریب لانے میں ان لغات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔

تراجم:

دیوبند نے تراجم کے باب میں بھی وسعت بھر حصہ لیا ہے لیکن اس کا بیشتر حصہ عربی و فارسی کے ان ترجموں پر مشتمل ہے جو محض درسی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ہاں کچھ ترجمے کو عمومیت ضرور حاصل ہے جن کا سرا عام اردو داں طبقے سے جا ملتا ہے۔ جیسے قاضی سجاد حسین کا ’مثنوی مولانا روم اور ’دیوانِ حافظ‘ کا ترجمہ، مولانا محمد اسلم قاسمی کا چھ ضخیم جلدوں میں ’سیرتِ حلبیہ‘ کا اردو ترجمہ اورمولانا ندیم الواجدی کا ’احیاء العلوم‘ کا طویل اردو ترجمہ اپنی نوعیت کا بے مثال کارنامہ ہے۔ علاوہ ازیں قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی، مولانا انظر شاہ کشمیری،حکیم عزیزالرحمٰن، مولانا عباس قاسمی فتح پوری،مولانا عبد الاول قاسمی، مفتی کفیل الرحمٰن عثمانی،حقانی القاسمی اور مولانا نور عالم خلیل امینی وغیرہ کے نام اس باب میں انتہائی نمایاں ہیں۔ معاصر مترجمین میں ڈاکٹروارث مظہری، ڈاکٹر قمر الدین قاسمی، ڈاکٹر عبد الملک قاسمی، مولانا حفظ الرحمن قاسمی اور نایاب حسن قاسمی وغیرہ کے نام بھی فراموش نہیں کیے جاسکتے۔

اردو یونیورسٹی:

دارالعلوم دیوبند اردو زبان کو عالمی حیثیت عطا کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہا۔ اس کی شاندار مثال مولانا عبید اللہ سندھی کے ہاتھوں قائم کردہ کابل میں اردو کی پہلی یونیورسٹی ہے، وہاں کا ذریعہ ئ تعلیم بھی اردو تھا۔ افغانستان کے معروف محقق و دانشور اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے پروفیسر عبد الخالق رشید نے ’افغانستان میں اردو کی پہلی یونیورسٹی‘ کے زیرِ عنوان اپنے ایک مضمون میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ (دارالعلوم دیوبند: ادبی شناخت نامہ، ص: 49)

ایسے ہی دیوبند ہی کے ایک فاضل مولانا اطہر بنگالی ہیں جو آج سے ایک سو سال (1338ھ)قبل یہاں سے فارغ ہوئے تھے۔ وہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے معروف عالم ِ دین اور مشہور ملی و سیاسی شخصیات میں تھے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے کشور گنج کے علاقے میں دارالعلوم کے طرز پر ایک عظیم مدرسہ قائم کیا تو اس میں بھی ذریعہ ئ تعلیم اردو زبان ہی کو قرار دیا۔(تاریخِ دارالعلوم دیوبند ج: ۲، ص:140)جب کہ اہلِ نظر اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ بنگلہ دیش بننے کے پس پردہ دیگر اسباب و عوامل میں سے ایک اردو بنگلہ کا تنازع بھی تھا۔ اس وقت بھی ڈھاکہ یونیور سٹی بنگلہ دیش میں شعبۂ اردوکے ایک پروفیسر رشید احمد فاضل ِ دیوبند ہیں اور ہندوستان کے اردو کے اہم پروگراموں میں ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے۔

اسی طرح فضلائے دیوبند کے ذریعے ایران میں بھی اردو کا چراغ روشن ہے۔وہاں کے بہت سے علما اردو سے اچھی طرح واقف ہیں۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی اپنے ایک مضمون ’مدارس اور بیرونی ملکوں میں اردو زبان کی اشاعت‘میں لکھتے ہیں: ”راقم نے 2011ء میں مشہد اور تہران کی زیارت کی، وہاں متعدد ایسے علما سے ملاقات ہوئی جو اردو زبان سے واقف تھے۔ ان میں سے بعض ایسے تھے جنھوں نے اردو سے فارسی زبان میں متعدد علمی کتابوں کے ترجمے کیے تھے۔ مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ حضرات دارالعلوم زاہدان کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اس مدرسے کو دارالعلوم دیوبند کے ایک قدیم فاضل مولانا عبدالعزیز قاسمی نے قائم کیا تھا۔ یہاں فارسی کے علاوہ اردو زبان پڑھائی جاتی ہے۔“(اردو کے فرغ میں مدارس کا کردار، ص: 39۔38)

دیوبند نے اردو زبان کو عالمی زبان بنانے میں جو لا زوال کردار ادا کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 1964ء میں ثقافت و سائنسی تحقیقات کے مرکزی وزیر پروفیسر ہمایوں کبیر جب دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے تو انھوں نے اپنی گفتگو میں دیوبند کی دیگر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی اردو خدمات کو بھی سراہا اور پوری قوت سے اپنے اس خیال کا برملا اظہار کیا: ”مجھے یہ معلوم ہو کر خوشی ہوئی کہ آپ کے یہاں ذریعہ ئ تعلیم اردو زبان ہے۔آپ کے یہاں جو طالبِ علم آتے ہیں ان کی زبان برمی ہو یا بنگالی، وہ فارسی بولتے ہوں یا انڈونیشی، انگریزی بولنے والے ہوں یا اور کوئی ان کی مادری زبان ہو، آپ انھیں اردو میں تعلیم دیتے ہیں، اس طرح پر آپ نے اردو کو بین الاقوامی زبان بنا دیا ہے۔“ (تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج: ۱، ص: 364

تاریخ دارالعلوم کے مصنف سید محبوب رضوی مرحوم نے مذکورہ حقائق کی توضیح کرتے ہوئے فضلائے دیوبند کے دور رس اثرات کاذکر کیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے جنوبی اور مشرقی افریقہ میں مقیم فضلائے دیوبند کے زیر ِ اثر وہاں کے اردو ماحول، اردو مراسلت اور اردو اخبارات کے حوالے دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس طرح دارالعلوم دیوبند نے اردو کے دائرے کو اپنے فضلا کے ذریعے سے دنیا کے تقریبا ً تمام ایشیائی و افریقی ممالک تک وسیع کر کے ہندوستان کی اس زبان کو بین الاقوامی زبان بنانے کا ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔“  (تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج: ۱، ص: 366)

آج بھی دیوبند کے سینکڑوں فضلا ہندوستان کے مختلف اسکول و کالج اور یونیورسٹیوں میں بحیثیت استاذ اردو زبان کی خدمت کر رہے ہیں اور بے شمار نئے فضلا اردو شعبے میں تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں۔ ان مختصر سطور سے بخوبی یہ علم ہوجاتا ہے کہ اردو کی توسیع و ترویج میں دارالعلوم دیوبند کا بھی اہم حصہ ہے اور بغیر کسی وقفے کے یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اردو کی اس روشن خدمات سے انکارکوئی بھی منصف مزاج مور خ نہیں کر سکتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی حق ہے کہ آج تک اردو زبان کے ایسے مورخ کا زمانہ منتظر ہے۔

٭٭٭

 

مراجع:

۱-ادب امکان، ابرار احمد اجراوی، مہتاب پبلی کیشنز، نئی دہلی(2014ء)

۲-اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار، مرتب: عبد المعید قاسمی،فلاح المسلمین الٰہ داد پور سمیتی،فتح پور (2013ء)

۳-پسِ مرگ زندہ، نور عالم خلیل امینی، ادارہ ئ علم و ادب دیوبند،(2010 دوسرا اڈیشن)

۴-تاریخِ دارالعلوم دیوبند جلد اول، سید محبوب رضوی، ادارہ ئ اہتمام دارالعلوم دیوبند (1992ء)

۵- تاریخِ دارالعلوم دیوبند، جلد دوم، سید محبوب رضوی، ادارہ ئ اہتمام دارالعلوم دیوبند 1993)

۶- دارالعلوم دیوبند: ادبی شناخت نامہ، حقانی القاسمی، آل انڈیا تنظیم علمائے حق،نئی دہلی(2006ء)

۷-صحافت پابندِ سلاسل، ضمیر نیازی، اردو ترجمہ: اجمل کمال، ایجوکیشنل پریس، کراچی (1994ء)

۸-سہ ماہی ’اردو بک ریویو‘ دہلی، اپریل تا ستمبر 2013ء، مشترک شمارہ

۹-ماہنامہ’اردو دنیا‘ نئی دہلی، مئی 2013ء، ج: 15، ش:5

۰۱-مولانا ندیم الواجدی، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر اور جناب محمد انس صاحبان کی گفتگو سے ماخوذ

۱۱- معروف خطاط مولانا طارق ابن ثاقب صاحب کی گفتگو سے ماخوذ

 

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

RLSY College Bettiah W.Champaran(BRABU)

faqasmijnu@gmail.com/9718921072

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

دار العلومدیوبندفاروق اعظم
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
والدین کے حقوق اولاد کے فرائض – حنا خان
اگلی پوسٹ
لکیریں – ڈاکٹر قمر جہاں

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں