حامد حسن قادری (۱۸۸۷-۱۹۶۴)کا شمار بیسویں صدی کی ممتاز علمی و ادبی شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے اپنے علمی تبحر سے نہ صرف شعبۂ ادب کے تقریباً تمام اصناف کو متاثر کیا ،بلکہ اس صدی میں تاریخ، فلسفہ اور تاریخ گوئی کی داستان بھی ان کے ذکر کے بغیرنامکمل رہے گی۔ ان کی شخصیت کو پروان چڑھانے میں رامپور اور مراد آباد کی علمی، ادبی اور تہذیبی فضا کا بڑا دخل رہا ہے۔
مولانا حامد حسن قادری ضلع مرادآباد کے چھوٹے مگر پررونق قصبہ بچھراؤں کے ایک معزز علمی گھرانے میں ۱۰ مارچ ۱۸۸۷ کو پیدا ہوئے۔ بچھراؤں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، لیکن یہاں جید علماء و فضلا اور دیندار بزرگ پیداہوئے؛ جنہوں نے اپنی کوشش و کاوش سے علم و ادب کے میدان اور شعرو سخن میں نئی راہیں استوار کیں۔ بچھراؤں میں مولانا کا گھرانا ممتاز حیثیت کا حامل تھا۔ مولانا کے گھر میں علم و ادب اور تعلیم و تعلم کا ہی چرچا رہتا۔ اس علمی فضا میں شاعری اور انشاپردازی کی طرف راغب ہونا فطری امر تھا۔
مولانا حامد حسن قادری کے ذہنی اور ادبی ارتقاء میں رام پور کی تہذیبی فضا نے اہم رول ادا کیا، چونکہ مولانا کے والد رام پور میں وکیل تھے، اس لیے آپ کی ابتدائی نشو و نما یہیں ہوئی۔ ۱۸۵۷ کے خونیں اور ناکام انقلاب کے بعد جہاں ایک طرف دہلی اور لکھنؤ کی ادبی محفلیں اجڑ گئیں، وہیںملک کے بعض دوسرے حصوں میں علم و ادب کے نئے چراغ روشن ہوئے۔ دہلی اورلکھنؤ سے اکثر ادباو شعرا اور باکمال اہل علم رام پور آگئے اور یہی مدتوں علم و ادب کا مرکز بھی بنا رہا۔ شعروشاعری کی محفلیں ایک بار پھر آراستہ ہوئیں اور اس وقت کے خاص سماجی اور سیاسی حالات کے تحت اردو ادب میں چند نئے موضوعات اور مخصوص انداز کا اضافہ ہوا۔ ایسے ہی ماحول میں حامد حسن قادری نے ہوش کی آنکھیں کھولیں۔ ابتدائی تعلیم ’’مدرسہ عالیہ‘‘ رام پور میں حاصل کی اور اسی دوران اپنے والد صاحب سے قرآن مجید ، احادیث کی بعض کتابیں اور عربی و فارسی کے قواعد سیکھے۔
دبستان لکھنؤ کے ممتاز نمائندہ شاعر امیر مینائی ان دنوں رام پور میں عدالت دیوان کے جج تھے۔ رام پور کی ادبی محفلوں میں آپ کی قادری الکلامی اور شعر گوئی کو بلند مقام حاصل تھا۔
مولانا اوائل عمری سے ہی امیرؔ و داغؔ کے اشعار گنگناتے اور خوب مزے بھی لیتے تھے۔ انہوں نے منشی امتیاز احمد خاں رازؔ جوکہ امیر مینائی کے شاگرد تھے ان سے اصلاح لی تھی۔ ان کے والد مولوی احمد حسن اور چچا پروفیسر محمد محسن فاروقی استاد عربی اسلامیہ کالج، پشاور دونوں ’’بزم احباب‘‘ رام پور کے سرگرم ممبر تھے، جہاں شعر و شاعری اور اخبار و رسائل کا ہی ذکر رہتا تھا۔حامد حسن قادری کو شعر و شاعری اور مضامین لکھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا ،جیسا کہ خود اپنے ایک مضمون ’’میرا کارنامۂ غزل‘‘ میں لکھتے ہیں۔
’’مجھے شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا اور اس زمانے میں شاعری کے معنی غزل گوئی کے تھے۔ بارہ تیرہ برس کی عمر میں رام پور آیا ۱۹۰۰یا ۱۹۰۱ میں خیال آیا کہ اپنا دیوان تصنیف کرنا چاہیے۔ چنانچہ ایک کاپی بناکر الف کی ردیف سے غزل کہنی شروع کردیں…… اس میں غالباً الف، ب،پ، ت تک کی غزلیں ہیں‘‘۔(۱)
حامد حسن قادری نے ۱۹۰۹ میں رام پور سے میٹریکولیشن کا امتحان پاس کیا۔ چونکہ یہ امتحان مولانا نے سخت علالت کے بعد پاس کیا تھا۔ معدہ ، جگر، دل اور دماغ سب ماؤف ہوگئے تھے۔ ایسے میں امتحان کی کامیابی یقینا بڑی نعمت تھی۔ اس کے بعد ۱۹۱۰ میں پنجاب یونیورسٹی سے منشی کا امتحان دیا اور یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن سے پاس ہوئے۔ اس کے کچھ مہینے بعد وہ اپنے چھوٹے چچا کے پا س اندور چلے گئے جو مشن کالج میں فارسی کے پروفیسر تھے اور یہیں سے مولانا قادری کا معلمی (استادی) کا دور شروع ہوتا ہے۔ ان کے چچا نے اندور کیمپ کے ایک نیم سرکاری (ریزیڈنسی) ہائی اسکول میں نوکری دلائی اور حامد حسن قادری یہاں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ یہاں مولانا بحیثیت اردو استاد پانچ مہینے رہے۔ لیکن مزید تعلیم کے شوق نے اس نوکری سے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔
حامد حسن قادری ۱۹۱۱ کے اوائل ہی میں رام پور آگئے اور کچھ مہینے بعد لاہور جاکر منشی، فاضل اور ہائی پروفیشینسی اِن اردو کے امتحانات دیے۔ ابھی نتیجہ بھی نہیں آیاتھا کہ ۱۹۱۱ ہی میں خان بہادر عادل جی پسٹن زردشتی (پارسی) ہائی اسکول مہو چھائونی میں بحیثیت ہیڈمولوی تقرر ہوگیا۔ اسی دوران دونوں امتحانات کے نتیجے آگئے، اور مولانا کامیاب بھی ہوگئے۔ مہو چھائونی میں ایک سال سے زیادہ مقیم رہے۔ پھر نومبر ۱۹۱۲ میں مولانا کا اسلامیہ ہائی اسکول اٹاوہ میں بحیثیت اردو وفارسی مدرس تقرر ہوا ۔ ۱۹۱۳ کے اواخر تک اٹاوہ ہی میں رہے۔ جنوری ۱۹۱۴ میں حامد حسن قادری کا تقرر فارسی لیکچرار کی حیثیت سے بڑودہ کالج میں ہوگیا۔ لیکن یہاں کی آب و ہوا آپ کی صحت کوراس نہیں آئی۔ لہذا جنوری ۱۹۱۷ میں ملازمت ترک کردی،اور چند مہینے بعد وہ ہیڈمولوی کی حیثیت سے حلیم مسلم ہائی اسکول کانپور چلے گئے ،جہا ں مولانا قادری ۱۹۲۷ئتک رہے۔
مولانا حامد حسن قادری جولائی ۱۹۲۷ سے ۱۹۴۵ تک سینٹ جانس کالج آگرہ میں بحیثیت اردو وفارسی لیکچرار اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور چھوٹے بھائی پروفیسر عابد حسن فریدی کے انتقال کے بعد صدر شعبہ ہوگئے، اسی حیثیت سے ۱۹۵۳میں مولانا قادری اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہوئے۔
مولانا قادری نے کئی اہم علمی و ادبی کتابیں لکھیں۔ ان کی تصنیفات کا دائرہ تاریخ، تنقید، تذکرے، سوانح حیات، تبصرے، انتخاب، شاعری ، تاریخ گوئی، تاریخ نویسی ، افسانہ ، ڈرامہ، ترجمہ، صحافت، بچوں کا ادب، خطوط نگاری اور لسانیات وغیرہ تمام شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ہر میدان میں ان کی تصنیفات کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے قابل قدر ہیں۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے اپنے مضمون ‘‘ مولانا حامد حسن قادری‘‘ میں لکھا ہے :
’’مولانا حامد حسن قادری معلم و ادیب تھے محقق و نقاد تھے، مورخ و تاریخ گو تھے اور علم عروض و بدیع کے ماہر تھے۔ عربی، فارسی، انگریزی، ہندی اور اردو ادب سب پر یکساں دسترس رکھتے تھے۔ مجھے پرچہ کا نام یاد نہیں آرہا، لیکن مولانا خود کہا کرتے تھے میری اولین تحریر ۱۹۰۳ یا ۱۹۰۴ میں پنجاب کے کسی پرچے میں شائع ہوئی تھی۔ اسی طرح کم و بیش ۶۰سال انہوں نے اردو کی خدمت میں صرف کیا۔‘‘(۲)
نومبر ۱۹۱۲ میں مولانا جب اٹاوہ میں بحیثیت استاد مقیم تھے تو اسی دوران انہوں نے تحقیقی اور تنقیدی مضامین و کتب کا مطالعہ شروع کردیاتھا۔ اٹاوہ کے ماحول نے ان میں جو تنقیدی اور تحقیقی مزاج پیدا کیاتھا وہ موقع پاکر ابھرا۔ یہی ماحول کئی اہم تحقیقی اور تنقیدی کتاب کی وجۂ تصنیف بھی بنا۔جس کی بنا پر مولانا قادری ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔
مولانا حامد حسن قادری کو جس کارنامے پر شہرت دوام حاصل ہے وہ ’داستان تاریخ اردو‘ (۱۹۴۱) ہے۔ لیکن مولانا کو جس کام میں کمال حاصل تھا، وہ تاریخ گوئی ہے۔ مولانا چلتے پھرتے تاریخ کہتے۔ خوشی، غم ، کسی دلچسپ واقعہ یا حادثہ کو نظم کردیتے۔ نظموں اور قطعات کی تعداد ہزاروں سے بھی زیادہ ہے۔ مولانا نے قرآن مجید کی آیت کریمہ سے جتنے تاریخی مادے نکالے ہیں، شاید ہی اتنی بڑی تعداد میں کسی دوسرے تاریخ گونے قرآن مجید کی آیت کریمہ سے تاریخی مادے نکالے ہوں۔ اس کے متعلق مولانا خود لکھتے ہیں:
’’میں نے قرآن مجید کی آیت کریمہ سے اتنی تاریخیں نکالی ہیں کہ میرے علم میں کسی دوسرے تاریخ گو سے اس قدر تعداد منقول نہیں ہے۔‘‘(۳)
حامد حسن قادری بلا کے تاریخ گو تھے۔ بلاشبہ ہزاروں کی تعداد میں انہوں نے تاریخیں کہی ہیں۔ اس رعایت سے ہزاروں شعر بھی موزوں ہوگئے۔ مولانا قادری کی اکثر تاریخیں ایسی ہیں جن سے اول پورا مصرع تاریخ ذہن میں آجاتاہے، یہ سعادت معمولی نہیں۔پھر کوئی تاریخ ایسی نہیں جس میں کوئی لطیفہ ، چٹکلہ یا عجوبہ نہ ہو۔ شگفتگی اور برجستگی بلااستثناء ہر تاریخ میں ملے گی۔ اندر سے چائے لارہے ہیں، ریل میں سوار ہورہے ہیں، وضو کر ہے ہیں، غسل خانے میں ہیں، مضمون لکھ رہے ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ تاریخ بھی کہہ رہے ہیں ۔مولانا کی کچھ تاریخیں مثال کے طور پر درج ذیل ہیں:
خواجہ حسن نظامی جو حامد حسن قادری کے احباب میں سے تھے ،ان کا انتقال ۱۹۲۸میں ہوا تو ان کی تاریخ وفات مولانا قادری نے قرآن مجید کی آیت کریمہ سے نکالی۔
کل نفس ذائقۃ الموت(۴) : ۱۹۲۸
اسی طرح سے جب امیر مینائی کا انتقال ۱۹۰۰ میں ہوا تو مولانا نے قرآن کریم کی سورہ و الضحی سے تاریخ وفات کہی۔
و للآخرۃ خیر لک من الاولی(۵) : ۱۹۰۰
اسی طرح کے بے شمار ایسے واقعے ہیں جن کی تاریخ حامد حسن قادری نے کہی اور اس واقعے یا حادثے کو اپنی تاریخ گوئی کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا ہے۔
مولانا قادری علم عروض و بدیع کے بھی ماہر تھے اور اس موضوع پر انگریزی زبان میں ایک کتاب (The Oriental Rhetoric) لکھی، جس میں اردو، فارسی اور عربی اشعار کے ذریعے اصول و قواعد کو واضح کیا گیا ہے۔ جیسے انہوں نے صنائع لفظی کی قسم تجنیس کے بارے میں لکھا ہے:
Tajnees (called homonym in English) is formed when two or more words are used which resemble each other in spelling but differ in meaning, It is divided into the following kinds:
تجنیس تام (Tajnees-e-Tam) in English called perfect homonyme, is formed when two words are used which resemble each other in spelling and vowel marks but vary in signification, and both of which are either noun or verb.(۶)
بیسویں صدی کے ربع اول تک اردو میں بچوں کے لیے کچھ خاص نہیں کیاگیاتھا۔ مولوی اسماعیل میرٹھی نے ضرور توجہ کی تھی، لیکن وہ ضرورت کے لحاظ سے ناکافی تھی۔ اس روایت کو مولانا حامد حسن قادری نے آگے بڑھایا۔ مولانا قادری بچوں کی نفسیات کے بڑے ماہر تھے۔ استاد ہونے کی وجہ سے انہیں بچوں کی درسی، امدادی اور غیر درسی ضروریات کا بخوبی اندازہ تھا۔ نفسیات سے خاص شغف رکھنے کی بنا پر انہوں نے ایک کتاب کا انگریزی سے اردو میں ’’فطرت اطفال‘‘کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا۔ بچوں کا اخبار ’سعید‘‘ کانپور سے نکالا۔ مولانا کا قیام کانپور میں مسلسل دس برس کے آس پاس رہا۔ انہوں نے ۱۹۱۸ سے یہ اخبار جاری کیا۔ اس دوران کئی اور کتابیں تصنیف کیں جو درج ذیل ہیں:
۱- گم شدہ طالب علم
۲- گوہر اردو: اردو کی پرائمری ریڈر
۳- ستارۂ ہند
۴- اختر اردو: یہ کتاب مولوی اسماعیل میرٹھی کی’’سواد اردو‘‘ کے بعد (نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق) مدتوں نصاب میں شامل رہی۔
اسی طرح مولانا نے بچوں کے ادب پر بے شمار کتابیں لکھیں ،کچھ ان کی تصنیف ہیں اور کچھ کا مولانا نے دوسری زبان سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔
مولانا کو تاریخ گوئی میں جو کمال حاصل تھا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اسی طرح سے مولانا کو رباعی میں بھی بڑا کمال حاصل تھا اور حد یہ تھی کہ مولانا نے شیخ سعدی کے مشہور نعتیہ قطعہ ’’بلغ العلا بکمالہ‘‘ پر مصرع لگایا اور یہ التزام کیا ہے کہ اردو کے قافیے، عربی قافیوں کے بالکل مشابہ اور ہم آواز ہیں، غور کیجیے کہ جمالہ اور کمالہ کے طرز پر اردو کے قافیے لانا آسان نہیں۔ لیکن مولانا اس منزل سے بڑی آسانی سے گزر گئے ۔جیسے ؎
انہیں دل جو کردیں حوالے ہی
تو کرم پھر ان کا سنبھالے ہی
انہیں جانیں جاننے والی ہی
کہ ہیں وصف ان کے نرالے ہی
بلغ العلٰی بکمالہ
کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلوا علیہ و آلہ(۷)
اسی طرح مولانا قادری تضمین نگاری کے محبوب مشغلے میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ اس سلسلے میں مولانا کی زیادہ توجہ غالب کی طرف ہی ہے۔ مولانا نے غالب کی بعض پوری پوری غزلوں کی تضمین کی ہے، ایک مصرع نہیں بلکہ تین تین مصرع لگائے ہیں اور خمسہ کہا ہے۔ صرف ایک غزل کے چند اشعار کی تضمین ملاحظہ ہو۔
غالب کا شعر:
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
مولانا کی تضمین:
نام بدنام، عشق کا نہ ہوا
میں بھی شرمندۂ وفا نہ ہوا
یہ برا کیوں ہوا بھلا نہ ہوا
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا (۸)
کلام غالب کے سلسلے میں تضمین کا یہ شوق مولانا کو شروع ہی سے تھا۔ کلام غالب پر مولانا کی یہ تضمین آج کچھ زیادہ اہم نہ سمجھی جائے، لیکن اب سے پچاس ساٹھ سال پہلے بہت مقبول و پسندیدہ تھیں۔ کیونکہ کہ غالب کے کسی شعر پر مسلسل غزل کے طور پر متعدد مصرعے یا اشعار لگاتے تھے ۔اور یہ اشعار غالب کے زیرتضمین شعر کی مکمل تشریح و تفصیل بن جاتے تھے۔
مولانا حامد حسن قادری کو علمی اور لسانی مباحث سے بھی دلچسی تھی۔ عربی و فارسی کے جید عالم تھے اور جس زمانے میں ابھی مشہور بھی نہیں ہوئے تھے اور حلیم مسلم ہائی اسکول کانپور میں ہیڈ مولوی تھے، ندوۃ العلماء کے ایک جلسے میں جو ۱۹۲۶ میں منعقد ہوا تھا ’’عربی مبین‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا تھا۔ اس مضمون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ لسانی دقائق پر مولانا کی کتنی گہری نظر تھی۔ بعد میں آپ کی دلچسپی تاریخ ادب، شعر و شاعری اور ادبی مباحث و تحقیق میںزیادہ بڑھ گئی۔ مولانا کی ’’داستان تاریخ اردو‘‘، ’’تاریخ و تنقید‘‘ اور ’’نقد و نظر‘‘ عہد ساز تخلیقات ہیں۔ لیکن تصانیف میں اور دوسرے مضامین بھی لسانی نکتے، اصلاح زبان اور تفحص الفاظ کے مسائل اور ان پر آپ کی تشریح ، توضیح اور دقیقہ رسی کے ساتھ موتیوں کی طرح جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔
حامد حسن قادری کی سب سے اہم کتاب ’’داستان تاریخ اردو‘‘ ہے۔ اس کتاب کے نام میں بھی تاریخ گوئی کا بڑا عمل دخل رہا۔ کچھ لوگوں نے لفظ ’داستان‘ پر اعتراض بھی کیا، لیکن مولانا قادری نے اس تعلق سے لکھا ہے:
’’کتاب کا نام……’’داستان تاریخ اردو‘‘ (=۱۹۳۸)میں نے تاریخ گوئی کے شوق میں رکھ دیا تھا۔ بعضوں نے اس پر اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ یہ ’’داستان‘‘ زیادہ ہے یا ’’تاریخ‘‘ زیادہ۔ لیکن اب اشاعت ثانی میں نام بدل دیا جائے تو کتاب پہچانی نہ جائے گی۔ ‘‘(۹)
داستان تاریخ اردو پہلی بار ۱۹۴۱ میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کے تعلق سے کئی اہم لوگوں مثبت رائے کا اظہار کیا۔ نیاز فتحپوری نے اسے’اردو کی اچھی خاصی انسائیکلو پیڈیا‘ سے تعبیر کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ سب نے مثبت رائے کا اظہار کیا۔ اقبال سہیل اور گیان چند جین نے اس کتاب کی بعض خامیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حامد حسن قادری اس کتاب پر از سر نو غور کرنا چاہ رہے تھے، لیکن لوگوں نے جس طرح کی دلچسپی کا اظہار کیا، اس کی وجہ سے اشاعت ثانی کی نوبت جلد آ گئی اور مولانا قادری کا جو ارادہ تھا، وہ عملی شکل نہیں اختیار کر سکا۔
دوستان تاریخ اردو میں حامد حسن قادری نے نثر کے تعلق سے گفتگو کی ہے۔ ابتدا میں اردو کے آغاز کے تعلق سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا بھی نظریہ پنجاب میں ہی اردو والا نظریہ ہے۔ تقریبا نو سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب تاریخ ادب اردو میں اس لیے اہمیت کی حامل ہے کہ اردو زبان و ادب میں اس سے پہلے جو چند ترایخ زبان اردو لکھی گئی تھی، وہ اتنی بھر پور نہیں تھی، جتنی کہ داستان تاریخ اردو ہے۔ ابتدائی کام ہونے کی وجہ سے یقینا اس کتاب میں بہت سی کمیاں ہیں، اس کے باوجود اس کی اہمیت سے کسے انکار ہے۔
کتاب کے مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کی تالیف میں حامد حسن نے بے پناہ محنت کی ہو گی۔ جس زمانے میں یہ کتاب لکھی گئی ہے، اس وقت اتنی سہولیات دستیاب نہیں تھیں، جتنی کی اب ہے۔ یورپین مصنفین اردو کے تعلق سے بھی گفتگو کی گئی ہے اور یہ بھی بتایاگیا ہے کہ جان جوشوا کٹیلر(ڈچ)اردو کا پہلا یورپین مصنف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کی تالیف میں حامد حسن قادری نے کس طرح کی مشکلات کا سامنا کیا ہوگا۔ اس کتاب کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مصنفین کی کتابوں کے تعلق سے گفتگو کی ہے اور تحریر کو نمونہ کے طور پر پیش بھی کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حامد حسن قادری نے اصل ماخذ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔اس کتاب میں ابتدا سے سید ناصر نذیر فراق دہلوی تک کے مصنفین کا احاطہ کیا گیا ہے۔ قارئین کی آسانی کے لیے چھ دور میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ آخری دور غدر کے بعد کا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کتاب کی تالیف سے پہلے موااد اکٹھا کیا تھا، اس کے بعد لکھنا شروع کیا۔ حامد حسن قادری کی سب سے اہم کتاب داستان تاریخ اردو ہی ہے۔ جب بھی تاریخ ادب اردو کا ذکر ہوگا، حامد حسن قادری کی اس کتاب سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا قادری ۱۹۵۳ کو سینٹ جانس کالج، آگرہ سے ریٹائر ہوئے اور ۱۹۵۴میں کراچی (پاکستان) چلے گئے ۔ زندگی کے آخری وقت تک مولانا کا قیام وہیں رہا۔ بچوں کی محبت اور ان کے اصرار پر مولانا قادری ہندوستان سے پاکستان گئے۔ لیکن مولانا کی یہ حسرت مکمل طور پر پوری نہ ہوسکی کہ وہ اپنے سارے بچوں کے ساتھ زندگی کے باقی دن گزار سکیں۔ کیونکہ کہ تلاش معاش کے سلسلے میں بچوں کو دوسرے ملکوں کی طرف کوچ کرنا پڑا۔ ۶؍جون ۱۹۶۴ء کو مولانا قادری اس دنیائے فانی سے ہمیشہ کے لیے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مولانا قادری کے یہ کارنامے اردو زبان وادب میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔حامد حسن قادری کی بہت ساری کتابیں،خاص طور سے ادبِ اطفال کے حوالے جو معروف ہیں،وہ اب نایاب ہیں۔اس کے لیے جناب افضال الرحمن صاحب قابلِ مبارکباد ہیں،کہ انہوں نے مولانا قادری کی بہت ساری کتابوں کی از سر نو اشاعت کی ہے۔ کچھ اشاعت کے مرحلے میں ہے ،جو یقیناً ایک بڑا کام ہے۔کسی نے کہاتھا،جو قادری صاحب کی صحیح ترجمانی کرتا ہے :
اسی کو ناقدری عالم کا صلہ کہتے ہیں
مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
حواشی
۱- قومی زبان کراچی، جنوری ۱۹۶۶ء: ص ۴۰
۲- خطوط قادری، حامد حسن قادری، فرید آرٹ پریس، ۱۹۹۹ء : ص ۳۳۸،۳۳۹
۳- جامع التواریخ ۔ حامد حسن قادری۔ لبرٹی آرٹ پریس، ۲۰۰۲ء :ص ۲
- The Oriental Rhetoric, Hamid Hasan Qadri, Bharat Offset Press, Delhi, 2003, p.no. 257
۵- دفتر تواریخ، حامد حسن قادری، لبرٹی آرٹ پریس، ۲۰۰۲: ص ۶۹
- The Oriental Rhetoric, Hamid Hasan Qadri, Maktaba Jamia Ltd, 2003. p.no 37
۷- بیاض نعتیہ، حامد حسن قادری، الناصر پرنٹرز، کراچی: ص ۸
۸- خطوط قادری، حامد حسن قادری، فرید، آرٹ پریس، ۱۹۹۹ء: ص ۳۳۶
۹-داستان تاریخ اردو۔ حامد حسن قادری۔اشاعت سوم۲۰۰۷۔افضال الرحمن۲۷۲جامعہ نگر ٹیچر ٹریننگ کالج روڈ، نئی دہلی ۔ص،۵۔۶
Dr.Shahnewaz Faiyaz
H.No.1262 Zubaida Building
Near Aoliya Masjid Ghaibi Nagar
Bhiwandi Thane M.H 421302
Mob.No.+91-9891438766
sanjujmi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

