Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

شعر سودا کی داخلیت : ایک سوال – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras مارچ 18, 2021
by adbimiras مارچ 18, 2021 0 comment

ہمارے شعر و ادب کی دنیا میں یہ سہل پسندی عام ہے کہ کسی کا کوئی جملہ یا فقرہ اگر چل نکلا تو بس بعد کی نسلیں بھی اُسی کو ڈھوتی پھرتی ہیں۔ یہ زحمت نہیں کرتی کہ ذرا خود بھی متن میں جھانک لیا جائے۔ سودا کے حوالے سے بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ان کی غزلوں کو یہ کہہ کر تقریباً ایک طرف کردیا گیا کہ ان میں داخلی کیفیات کے بجائے خارجی عناصر حاوی ہیں۔ انھیں قصیدے میں عظمت کی سند عطا کردی گئی۔ حالاں کہ اگر ایک لمحے کو توقف کرلیں تو یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ قصیدہ نگاری کی صنف ہی خارجی عناصر اور قصد اور تصنع سے تشکیل پاتی ہے۔ سوال قائم ہوسکتا ہے کہ پھر یہ صنف کسی شاعر کے لیے باعث عظمت کس طور ہوسکتی ہے؟ میں اس کا تجزیہ کرکے بلاوجہ اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔

یہاں یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ یہ داخلی کیف و رنگ سودا کی غزلوں میں ہے یا نہیں۔ آئیے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

موتی تو صدف میں سے نکلے ہیں سمندر کے

بحرین سے عاشق کے مرجان نکلتے ہیں

دیکھیں تو کس کے چشم سے گرتے ہیں لختِ دل

تو اس طرح سے رو سکے اے ابر تر کہ ہم

زخم کا دل کے تر و تازہ ہے انگور سدا

جاری رہتا ہے مری چشم کا ناسور سدا

شکوہ تُو کیوں کرے ہے مرے اشکِ سرخ کا

تیری کب آستیں مرے لوہو سے بھرگئی

پہلے شعر میں عاشق کی آنکھوں کو بحرین کہا ہے اور اس سے نکلنے والے آنسو کے قطرے کو مرجان سے تشبیہ دی ہے جو موتی پر سبقت رکھتا ہے۔ پھر یہ کہ وہاں ایک سمندر ہے جب کہ عاشق کے پاس بحرین یعنی دو سمندر ہیں۔ اس خارجی بیان میں جو داخلی سوز اور کیفیت ہے وہ محسوس کرنے کی چیز ہے۔ دوسرے شعر میں اسی طرح ابر تر اور اپنی آنکھوں کا مسابقہ پیش کیا ہے اور ایک طرح کا چیلنج ہے کہ اے بادل تو بھی رو اور میں بھی روتا ہوں، دیکھیں تو سہی کہ کس کی آنکھ سے دل کے ٹکڑے نکلتے ہیں۔ یہ خالصتاً داخلی دنیا کے کرب کا اظہار ہے۔ اسی طرح تیسرے شعر میں میرے دل کا زخم نہیں کہا بلکہ زخم کا انگور کہا یعنی دل میں جو پھپھولے ہیں وہ انگور کے مشابہ ہیں اور ان کی تر و تازگی کے لیے اشک رواں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چشم کا ناسور اسی مناسبت سے کہا گیا کیوں کہ ناسور ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ چوتھے شعر میں محبوب پر طنز ہے کہ تو میرے خون آلود آنسوؤں پر شکوہ سنج کیوں ہے، بھلا اس سے تیری آستین کب بھیگی ہے؟ یہ آرزو بھی اس میں پوشیدہ ہے کہ کاش محبوب اس کی آہ و فغاں کا مداوا کرتا یا کم ازکم آنسو ہی پونچھتا۔ اس طرزِ اظہار میں حسن تعلیل بھی ہے۔ شکایت کے اس لہجے میں کہیں سے بھی خارجیت نہیں بلکہ داخلیت کے عناصر ہیں۔ اس نوع کے اشعار صرف میر ہی کے یہاں نہیں بلکہ سوداؔ کے یہاں بھی حزنیہ اور اشکیہ اشعار ملتے ہیں:

لخت جگر آنکھوں سے ہر آن نکلتے ہیں

یہ دل سے محبت کے ارمان نکلتے ہیں

تھیں مری آنکھیں الٰہی یا کہ طوفانِ تنور

ساتھ اپنے یہ جو ایک عالم کو لے کر ڈوبیاں

دانۂ اشک سوا کچھ نہیں اس سے حاصل

عشق کا کھیت بہت ہم نے بووا جوتا ہے

کام ہے چشم کا نظارہ، نہ بہنا شب و روز

آنکھ خالق نے رقیبوں کو دی، ناسور ہمیں

لخت دل کس دن نہیں گرتے مرے دامن کے بیچ

تر نہیں ہوتی لہو میں کون سی شب آستیں

ان اشعار کی توضیح و تشریح کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے یہ اشعار اچھے لگتے ہیں اور ان میں یاس اور حرماں نصیبی کا بیان ہے لیکن عاشق کے کردار میں ایک طرح کی شان بے نیازی بھی نظر آتی ہے۔ اضمحلال کے عالم میں اس طرزِاظہار کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ سودا کو اس طرزِ اظہار پر قدرت حاصل ہے۔ اُن کے اس طرز اظہار اور قدرت کلام کی تعریف امداد امام اثر نے بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’سبحان اللہ کیا حسن کلام ہے۔ سوز و گداز، خستگی، درد، شوخی، نازک خیالی، بلند پروازی اور رنگینی کے ساتھ زور طبیعت کا ایسا خوبصورت اظہار ہے کہ فی الواقع سودا کی غزل سرائی کی تعریف کما حقہٗ نہیں کی جاسکتی….. اگر تھوڑی خستگی اور بھی سودا کے کلام میں ہوتی تو ان کا کلام میر اور درد کے برابر ہوجاتا…..‘‘                                                                        (کاشف الحقائق،1982، ص: 413)

’’خارجی پہلو کو تو مرزا صاحب ایسا برتتے ہیں کہ زبان اردو میں سوا میر انیس کے کوئی ان کا جواب نہیں۔ مگر داخلی پہلو پر ان کو ویسی قدرت حاصل نہ تھی جس کے سبب وہ میرتقی صاحب میر سے   غزل سرائی میں پیچھے نظر آتے ہیں۔‘‘

(کاشف الحقائق،1982، ص: 410)

امداد امام اثرؔ نے جن اوصاف یعنی سوز و گداز، خستگی، درد، شوخی، نازک خیالی، بلند پروازی اور زور طبیعت کا ذکر کیا ہے، کیا یہ سب داخلیت کے ذیل میں نہیں آتے؟ میری ناقص رائے میں یہی سوز و گداز، خستگی، درد، نازک خیالی وغیرہ وہ شعری و فنی صفات ہیں جو میر کو میر بناتی ہیں۔ یہ صفات داخلیت کے ذیل میں آتی ہیں۔ اثر نے یہ جو لکھا ہے کہ اگر تھوڑی خستگی اور بھی سودا کے کلا م میں ہوتی تو ان کا کلام میر اور درد کے برابر ہوجاتا، ایک بے جا مطالبہ ہے۔ بھئی جتنی خستگی سودا کے پاس تھی وہ شعروں میں آگئی، مزید خستگی اگر کسی کو چاہیے تو میرؔ سے مستعار لے کر کام چلا لے سودا کے پاس تو سرِ دست یہی متاع خستگی ہے۔

اثرؔ یا کوئی اور اگر سودا کی غزلوں میں خستگی کے فقدان کا ذکر کرتا ہے تو میں اُس کے سامنے چند شعر اور پیش کرنا چاہتا ہوں جو سودا کی خستگی کے ساتھ ساتھ خستہ حالی اور بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں:

نَے بلبل چمن نہ گلِ نودمیدہ ہوں

میں موسم بہار میں شاخ بریدہ ہوں

خرمنِ برق زدہ کا ہوں وہ دانہ کہ مجھے

نہ کوئی مرغ چکھے، نَے کوئی بووے مجھ کو

کیا گلہ صیاد سے ہم کو یونہی گذری ہے عمر

اب اسیر دام ہیں تب تھے گرفتار چمن

ہوتی نہیں ہے صبح نہ آتی ہے مجھ کو نیند

جس کو پکارتا ہوں سو کہتا ہے مر کہیں

خاموش اپنے کُلبۂ اَحزاں میں روز و شب

تنہا پڑے ہوئے در و دیوار دیکھنا

بیٹھا نہ کوئی چھانوں نہ پایا کسی نے پھل

بے برگ و بر نہیں کوئی ایسا شجر کہ ہم

میں نہیں سمجھتا کہ ان شعروں میں کسی بھی صاحب ذوق قاری یا سامع کو خستگی یا سوز و گداز کی کمی کا احساس ہوگا۔ دراصل یہ جو اوصاف گنوائے جاتے ہیں، وہ کوئی ٹھوس نہیں ہوتے اور یہ سب ایک دوسرے سے کہیں نہ کہیں منسلک ہوتے ہیں۔ خستگی کے ڈانڈے بھی بے بسی، مایوسی، یاس اور ناامیدی وغیرہ سے ملتے ہیں اور اس نوع کے اشعار سودا کی غزلوں میں بھرے پڑے ہیں۔ اچھا، پھر یہ کہ شعر جو خستگی سے بھی خالی ہو یعنی یہ کہ داخلیت کے عنصر سے معرا ہو، وہ بھی ہمیں اپنی طرف پوری آب و تاب سے متوجہ کرسکتا ہے جیسے کہ یہ شعر:

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

کیا یہ شعر اپنی تمام تر خارجیت زدگی کے باوجود ہمیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرلیتا؟ یا پھر یہ شعر:

ٹک جا کے اپنی ابرو و مژگاں دکھا اُسے

مسجد میں اپنی صف میں کرے ہے امام ناز

یہاں تو خارجی عوامل میں مناسبتوں اور تشبیہات کی مدد سے سودا نے سحرطرازی کی ہے۔ ابرو گویا محرابِ مسجد ہے اور مژگاں مترادف ہیں مسجد کی صفوں کے۔ دونوں میں جو مماثلتیں ہیں، وہ خوب ہیں۔ لیکن اس میں داخلیت کدھر ہے؟ البتہ اس کے باوجود شعر پُراثر اور طنز آمیز ہے۔

یہ جو داخلیت اور خارجیت کی بحث ہے، اس میں خلط مبحث بھی ہے۔ امداد امام نے امور ذہنیہ اور امور قلبیہ دونوں کو داخلیت کے زمرے میں رکھا ہے۔ جبکہ عالم فی الخارج کے معاملات خارجیت کے ذیل میں آتے ہیں۔ داخلی امور میں جذبات یعنی غم و غصہ، رنج و ملال، رشک و رقابت، محبت، بغض و عداوت وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح خارجی عوامل میں بزم اور بزم آرائی، تزک و احتشام، باغ اور چمن، لالہ زار، کوہ و صحرا، دشت و بیابان، جنگل، ہوا، شفق، بارش، ابر، بجلی گویا وہ تمام اشیاء کائنات جنھیں ہم دیکھ سکتے ہیں۔

ان سب مباحث کے بعد سوال یہ ہے کہ اچھی شاعری کیسے وجود میں آتی ہے؟ دراصل کوئی بھی اچھا فنکار بہ یک وقت خارجی اور داخلی امور سے خود کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ خارج کی دنیا کا ادراک ضروری ہے البتہ محض ادراک کافی نہیں کیوں کہ تخلیقی ہنرمندی کے بغیر اشیا کا ادراک کسی پُراثر فن پارے کی تخلیق کا باعث نہیں ہوسکتا۔ یہاں یہ اقتباس دیکھیے:

"In fact, any writer of any merit is simultaneously subjective and objective.

(A Dictionary of literary terms: J.A. Cuddon)

جناب امداد امام اثر نے بھی کہیں کہیں Confusion پیدا کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جس کو راقم داخلی موسوم کرتا ہے تمام تر ایسے مضامین سے متعلق ہوتی ہے جس کو سراسر امور ذہنیہ سے سروکار رہتا ہے۔ یہ شاعری انسان کے قوائع داخلیہ اور وارادت قلبیہ کی مصوری ہے۔‘‘                         (کاشف الحقائق: جلد اوّل، ص73)

داخلی شاعری اگر امور ذہنیہ سے سروکار رکھتی ہے تو پھر امور قلبیہ سے سروکار رکھنے والی شاعری کیا ہوگی؟ آگے چل کر پھر قلبیہ کا ذکر کیا ہے۔ لیکن یہاں داخلی نوع کی شاعری میں امور ذہنیہ اور قلبیہ دونوں کا اندراج ہوگیا ہے جو کہ میرے نزدیک بہرحال غلط ہے۔ یوں بھی ہم کسی شعر کو پڑھ کر یا سن کر اس کی اثرانگیزی کی داد دیتے ہیں تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دل کی شاعری ہے اور اگر اثرانگیزی کا فقدان ہے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دماغ کی یعنی یہ کہ ذہن کی شاعری ہے۔

سودا کی شاعری میں اگر داخلیت کے عناصر کی تلاش کریں تو اس نوع کے اشعار کی کمی نہیں۔ البتہ تھوڑی دیر کے لیے ہمیں میر اور درد کے سحر سے خود کو آزاد کرنا پڑے گا۔ اردو ادب کو بت سازی کے عمل سے ہمیشہ نقصان پہنچا ہے۔ میں یہاں سودا کے صرف دو شعر پیش کرتا ہوں اور آپ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ ان میں داخلیت کے عناصر ہیں کہ نہیں؟

ظالم کر اب انصاف کہ سینے میں کہاں سے

ہر دم کے لہو پینے کو تازہ جگر آوے

لخت جگر آنکھوں سے ہر آن نکلتے ہیں

یہ دل سے محبت کے ارمان نکلتے ہیں

کیا ان اشعار میں سوز و گداز، خستگی اور غم و یاس کا تخلیقی طرز اظہار نہیں ہے؟ ضرورت تجزیے کی ہے، ضرورت منصفی کی ہے۔

سودا نے جو رواں اسلوب اور عام فہم انداز تکلم اختیار کیا ہے وہ ان کی قادرالکلامی اور ان کے داخلی کرب اور یاس اور محبوب کے جبر کو پوری تخلیقیت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ یہ بات بھی بار بار دہرائی جاتی رہی ہے کہ میر کے یہاں یاس اور حرماں نصیبی کے عناصر ہیں تو سودا کے یہاں نشاطیہ رنگ غالب ہے۔ اس میں کچھ تو سچائی ہے لیکن اب بھی سخت محاسبے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بالا اشعار میں غم و یاس کا جو وفور ہے وہ کسی طرح بھی میر سے کم نہیں۔ شاید میر کو یاسیت کا امام کہہ کر داخلی کیفیات کا بڑا شاعر تسلیم کرنا اور کرانا مقصود تھا۔ یعنی یہ کہ ایسے میں نشاطیہ رنگ کی شاعری بڑی شاعری کے زمرے سے خارج ہوجاتی ہے۔ اوپر بہت سے اشعار پیش کیے جاچکے ہیں، چند اشعار اور دیکھیے جن میں غم و الم اور یاس و ناامیدی میں ایک عاشق یا ایک انسان کے اپنے تنفس کو جاری رکھنے کا عمل نظر آتا ہے:

منہ لگاوے کون مجھ کو گرنہ پوچھے تو مجھے

عکس بھی دیتا نہیں اب آئینہ بھی رو مجھے

آہ و زاری سے مری شب نہیں سوتا کوئی

تجھ سے نالاں ہوں میں اک خلق ہے نالاں مجھ سے

اندوہ و درد و غم نے کیا قصد جب ادھر

ہم کو عدم سے قافلہ سالار کرچلے

ہر سَحر خونِ جگر کا غنچہ و گل کی طرح

آنکھ ادھر کھولی کہ اک پیالہ اُدھر تیار ہے

بھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھی

کہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو

عشق یا پیغمبری وقت اس کو یارو کیا کہوں

دل تو ایوبی ہوا، آنکھیں ہوئیں یعقوبیاں

اب ذرا میر کے یہ اشعار دیکھیے جن میں میرے خیال سے خارجیت کے عناصر حاوی طور پر دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن ان کی کشش اور اثرانگیزی کسی طور بھی کم نہیں:

نازکی ان کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے

اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا

ان شعروںمیں تو خارجیت ہی ہے لیکن یہ اشعار ہمارے ذہنوں کو چھوتے ہیں بلکہ یہ اشعار تو اردو شاعری میں ضرب الامثال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ سوال یہ قائم کیا جاسکتا ہے کہ سوز و گداز، خستگی، یا سیت اور دوسرے داخلی عناصر کے فقدان کے باوجود یہ اشعار ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ کیوں بن چکے ہیں؟ دوسری طرف بے چارے سودا کے ایسے اشعار جن میں زندگی کے کئی اہم زاویے اور نشاطیہ رنگ کے علاوہ دوسرے حیات افروز نشانات بھی ہیں، وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہیں یا ہماری توجہ کے محتاج ہیں، ایسا کیوں؟ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

جن نے نہ دیکھی ہو شفقِ صبح کی بہار

آکر ترے شہید کو دیکھے کفن کے بیچ

کیا جانیے یہ کس گل و بلبل کا راز ہے

غنچے کی رک رہی ہے دہن پر جو آئی بات

عارضِ گل پر نہیں شبنم، عرق ہے شرم کا

دیکھ کر میرا جنوں یارو لجاتی ہے بہار

مذکور ترا شب جو کسی بات پہ نکلا

کیا تنگ ہوا عرصۂ آرام جہاں پر

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا

ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں

یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ سچ مچ کرو انصاف

جھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا تو رہوں میں

پیغامبر نے دیر لگائی تو ہے ولے

دھڑکے ہے دل کہ یہ نہ کہے رات ہوگئی

بوئے گل باد صبا کوچے کو کس کے یارب

دوڑے ہیں دونوں بہم باندھ کے دامن دامن

ان اشعار میں ڈکشن کے لحاظ سے سادگی اور طرزِاظہار کے لحاظ سے رواں اسلوب ہے۔ دراصل میر کی غزلیں ہمارے نصاب کا حصہ بنتی رہی ہیں، اس لیے ان کے بھاری بھرکم اشعار یا پھر غالب کے بھی بہت سے اشعار ہمارے حافظے میں اس لیے محفوظ ہیں کہ ہم انھیں بار بار پڑھتے رہے ہیں۔ اگر سودا کی غزلیں بھی ہمارے نصاب کا حصہ اُسی طرح بنی ہوتیں تو بلاشبہ، ہم اُن کے کلام میں سوز و گداز یا خستگی کے فقدان کا ذکر نہ کرتے یا یوں کہہ لیں کہ ان کا کلام خود ہی ہمارے حافظے کاحصہ بن جاتا۔ میر اور غالب کے یہ اشعار سنیے اور سوچئے کہ کیا ان میں سادگی ہے، رواں اسلوب ہے، سوز و گداز ہے؟ آخر کیا ہے کہ یہ ہمارے ذہنوں میں رچ بس گئے ہیں؟:

کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی

شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا

کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

ہوں گرمیٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج

میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں

کیا میر اور غالب کے مذکورہ بالا اشعار قرأت کے متواتر عمل کے بغیر اس قدر مشہور ہوگئے ہیں؟ کیا ان میں سادگی بیان یا فطری روانی یا پھر حددرجہ سوز و گداز ہے کہ ایک ہی قرأت میں ہمارے ذہن کے پردوں سے چپک کر رہ گئے ہیں؟ معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ میں نے میر یا غالب کے وہ پیچیدہ اور واقعی مغلق اشعار یہاں پیش نہیں کیے جو ہمارے حافظے سے دور ہیں یا ہمارے نصاب کا حصہ نہیں بن سکے ہیں۔ جہاں ایک طرف سودا کے قصائد اور ہجویات نے اُن کی غزلوں کو متاثر کیا جس کے سبب غزل کا رنگ کچھ تصنع کی زد میں آیا تو دوسری طرف انھیں قصیدے اور ہجویات کا بادشاہ قرار دیا گیا۔ حالاں کہ قدرے توقف سے دیکھا جائے تو ان کی غزلوں میں فنی پختگی اور داخلی آہنگ کی کمی بھی نہیں۔ جس سوز و گداز،   سادگیٔ بیان یا خستگی اور یاسیت کا ذکر میر کے حوالے سے اکثر کیا جاتا ہے، اس کی کرنیں سودا کی غزلوں میں بھی نظر آتی ہیں۔

داخلیت میں جب ہم جذبات اور باطنی کیفیات کے عناصر کا ذکر کرتے ہیں تو سودا یکسر حاشیے پر نہیں چلے جاتے، بلکہ ہم نے پہلے ہی سے اپنی ذہنی ساخت اور اپنے تنقیدی فریم ورک میں ایسے نکات وضع کرلیے ہیں۔ شعری آہنگ کے لیے زبان اور جذبے کا متوازن اور متناسب رنگ میں ہم آمیز ہونا ضروری ہے۔ اصل داخلیت میں صرف انفراد کا بیان نہیں ہوتا بلکہ اس میں آہنگ کی ہم آمیزی بھی لازمی ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز لکھتے ہیں:

’’میر زبان کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالتے ہیں اور سودا زبان کی ضرورتوں کے مطابق اس کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔‘‘  (مضمون ماخوذ از مرزا محمد رفیع سودا، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی، 2001ء، ص: 153)

مفہوم یہ ہوا کہ میرزبان کے استعمال میں اجتہاد کی قوت رکھتے ہیں جب کہ سودا زبان کے سانچے میں خود ہی ڈھل جاتے ہیں۔

ہم یہ مطلب بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ میر زبان کے سابقہ اسٹرکچر کو منہدم کرنے پر قادر ہیں جب کہ سودا یہ کام نہیں کرتے۔ پھر تو یہ ہوسکتا ہے کہ خود سودا اپنے جذبات یا افکار کی توڑپھوڑ کرتے ہوں تاکہ زبان کے موجود اسٹرکٹچر میں وہ فٹ ہوسکیں۔ دونوں کام تقریباً مشکل ہے اور اس عمل میں آہنگ قائم رکھنا اور بھی مشکل کام ہے۔ لیکن دونوں شاعروں نے داخلی آہنگ کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ میر کے اس آہنگ کی داد تو ملی لیکن سودا غزل کے حوالے سے حاشیے پر ڈال دیے گئے۔ فطری آہنگ فطری الفاظ کے فطری در و بست کے سبب پیدا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھیں تو سودا کی غزلوں میں فطری آہنگ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ کومبز نے لکھا ہے:

"Good rhythem, which means really the most effectual movement, comes from an interplay of the real and meaningful emphasis given by emotion and thought with the rate of movement, the tempo, of the word-sequence.”        (Literature & Criticism : H. Coombes)

(بحوالہ: جدید اصول تنقید: پروفیسر ارشاد علی خاں،2001، کتابی دنیا، دہلی، ص: 111)

شاعری میں سب سے اہم یہی لفظوں کا در و بست یعنی Word-Sequence ہے۔ سودا کو نظر میں رکھیں اور یہ دیکھیں کہ انھوں نے اپنی شاعری میں لفظوں کے برتنے پر کس درجہ قدرت دکھائی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے شعر شور انگیز میں میر کی عظمت ثابت کرنے کے لیے میر کی زبان، روزمرہ، استعارہ اور پھر جلد سوم میں کلاسیکی غزل کی شعریات کے حوالے سے تین ابواب کا سہارا  لیا ہے۔ اگر ہم ان شعری رسومیات یعنی Poetic conventions کو سامنے رکھ کر سودا کی غزلوں کو پرکھیں تو ہمیں یک گونہ طمانیت ہوگی۔ اس لیے کہ سودا کی قدرت کلام کی داد تو سب نے دی ہے۔

یہیں پر یہ سوال قائم کیا جاسکتا ہے کہ میر کی عظمت کا دار و مدار اگر اُن کی شاعری میں موجود حزن و ملال، سوز و گداز یا پھر غم و یاس یا خستگی پر ہے جو کہ داخلیت کے عناصر ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بے شک ہیں، تو پھر بطور مقدمہ کے شعریات کے ذیل میں لفظوں کے در و بست اور تشبیہ و استعارے پر ابواب اور صفحات مختص کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ میر نے روزمرہ کی زبان کو شاعری کی زبان بنا دیا۔

(شعر شور انگیز، جلد:1، ص: 35)

میں سمجھتا ہوں کہ ایسی مثالیں سودا کے یہاں بھی مل جائیں گی۔ یہ تو اس پر منحصر کرتا ہے کہ ہم کس زاویۂ نظر سے کام لیتے ہیں۔ معنی آفرینی، خیال بندی، مضمون آفرینی وغیرہ اگر ہماری کلاسکی شعریات کے لیے اجزاء لاینفک کا درجہ رکھتے ہیں تو اس ضمن میں سودا کے کچھ اشعار سنیے اور ان میں مذکورہ بالا اوصاف کی تلاش کیجیے:

مصرعِ آہ مرا سن کے کہا

کتنا بے معنی و ناموزوں ہے

انکھیوں کے گرد میرے مژگاں کی ہے یہ صورت

جیسے کنارِ دریا خس بہہ کے آرہا ہے

تری گلی سے گزرتا ہوں اس طرح ظالم

کہ جیسے ریت سے پانی کی دھار گزرے ہے

خالِ زیر زلف پر جی مت جلا اے مرغِ دل

مان میرا بھی کہا یہ دام بے دانہ نہیں

ان شعروں میں سودا نے کیا داخلی کیفیات کی ترجمانی نہیں کی ہے؟ یا پھر یہ کہ کیا ان میں کلاسکی شعریات کے مجوزہ شعری لوازات نہیں ملتے؟ کیا ان میں سودا کا محض نشاطیہ رنگ اور کھلنڈرا پن ہے؟ کیا ان میں صرف اکہرے اسلوب کا رنگ ہے۔ فاروقی صاحب نے سودا کے اسلوب کو اکہرے اسلوب سے موسوم کیا ہے، جو کہ درست نہیں۔ یہ محض ایک نجی مفروضہ ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر شمیم حنفی کی رائے بہت ہی مناسب معلوم ہوتی ہے، لکھتے ہیں:

’’اُن کے یہاں میر کے جتنا تنوع نہ سہی، پھر بھی وہ بیان کی یک رنگی کے شاعر نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ میر ہی کی طرح، سودا کے آہنگ اور اُسلوب کے بارے میں کوئی مجموعی نتیجہ برآمد کرنے سے پہلے، ان کے کلیات اور زبان و بیان کی تمام جہات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ کوئی بھی بڑا شاعر (اور سودا بیشک ایک بڑے شاعر تھے) اپنے حصے بخرے کیے جانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔‘‘

(ماخوذ: مرزا محمد رفیع سودا، غالب انسٹی ٹیوٹ، 2001، ص: 137)

دراصل سوداؔ کو خود اُن کے قصائد نے نقصان پہنچایا اور چوں کہ اسی عہد میں میر اور درد کی غزلیں سنی اور پڑھی جارہی تھیں، لہٰذا سودا کی غزلیں متاثر ہوگئیں اور اسی عہد میں ان کے مزاج کے کھلنڈرے پن اور زندگی کے کیف و نشاط کو دیکھتے ہوئے اور پھر بعد میں بھی لوگوں نے یہ سمجھ لیا یا تصور کرلیا کہ ان کے یہاں سنجیدگی اور زندگی کا کوئی گہرا شعور نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف میر کی سنجیدگی اور درد کے تصوف نے ان کی شاعری کو لوگوں کے نزدیک لائق توجہ بنا دیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ میرا ایک ذاتی اور نفسیاتی تجزیہ ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شاعری میں میر کی شاعری پر حزنیہ رنگ غالب ہے، جو زندگی کا محض ایک رنگ ہے جبکہ سودا کے یہاں زندگی کے کئی رنگ ملتے ہیں۔ یعنی جذبات کی مختلف جہتوں کو انھوں نے مختلف پیرائے میں پیش کیا ہے۔ کیف و نشاط کے ساتھ ساتھ حزن و ملال کا رنگ بھی ہے اور حسن و عشق اور واردات قلبی کا بیان بھی۔

اور جہاں تک زور بیان اور قدرت کلام کا سوال ہے تو اس میں کوئی شبہ ہے ہی نہیں کہ سودا قدرت کلام میں اپنے ہم عصروں میں سب سے آگے تھے۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے لکھا ہے:

’’سودا کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت زور بیان ہے اور یہی خصوصیت انھیں اپنے ہم عصروں سے الگ کرتی ہے۔‘‘

محمد حسین آزاد نے بھی لکھا ہے:

’’اول یہ کہ زبان پر حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں۔ کلام کا زور مضمون کی نزاکت سے ایسا دست و گریبان ہے جیسے آگ کے شعلے میں گرمی اور روشنی۔‘‘

(آبِ حیات: ص 157)

زبان پر اسی حاکمانہ قدرت کا نتیجہ ہے کہ سودا اپنے خیالات کی پیش کش میں کہیں عجز کا شکار نظر نہیں آتے۔  محمد حسن کے بقول:

’’سوداکا تخیل بے پایاں اور اس کے مشاہدے اور تجربے کی دنیا وسیع ہے۔ وہ اپنے تخیل کی بے پناہ تابناکی اور الفاظ پر قدرت کی بنا پر ایک شہنشاہ کی طرح سربلند اور کامراں گزرتا ہے۔‘‘ (مطالعہ سودا، ص: 55)

الغرض، سودا کی غزلوں کی جو مختلف جہات ہیںاور ان میں جو بوقلمونیٔ حیات اور داخلی و خارجی عوامل کی کارفرمائی ہے، وہ ہمیں یہ باور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ سودا صرف ہجویات اور قصائد ہی کے بڑے شاعر نہیں بلکہ انھوں نے غزل کو بھی اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں جہاں بینی اور انسانی شعور کی عظمت کا جو ثبوت پیش کیا ہے، یا یہ کہ انھوں نے جس طرح اپنے معاشرے اور تہذیبی و تمدنی تنزل اور انتشار کو نشان زد کیا ہے، وہ میر کی داخلیت سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ اگر قصائد اور ہجویات کے حوالے سے بات کی جائے تو تہذیبی و تمدنی انتشار و ابتذال کا مرقع جس طرح سودا نے پیش کیا ہے، میر وہاں تک کسی طرح بھی نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن چوں کہ بات غزل کے حوالے سے ہورہی ہے اس لیے، آئیے کچھ ایسے اشعار بھی دیکھتے ہیں جن سے میری بات کی تصدیق ہوتی ہے:

آتے نہیں نظر میں کسو کی جو ہم، تو کیا

عالم تو سب طرح کا ہماری نظر میں ہے

کہوں کیا انقلاب اس وقت میں یارو، زمانے کا

جسے سب عیب سمجھے تھے وہ نظروں میں ہنر ٹھہرا

طلب نہ چرخ سے کر نانِ راحت اے سودا

پھرے ہے آپ وہ کاسہ لیے گدائی کا

زمانے کو بھلا سودا کوئی کس طرح پہچانے

کہ اس ظالم کی کچھ سے کچھ ہے ہر یک آن میں صورت

اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹ

معدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست

اڑتا پھرے ہے نامہ گلی میں کسی طرف

دھڑ سے جدا پڑا ہے سرِنامہ برکہیں

دامان شفق آج خون آلود میں دیکھا

چلتی ہے ترے عہد میں شمشیر ہوا پر

وہ قدم جن کو رگِ گل سے بھی ہوتی تھی خلش

سجدہ گاہِ سنگ ہے یا بوسہ گاہِ خار ہے

کیا سودا اپنے زمانے کی اتھل پتھل یا معاشرے کی صورتِ حال سے بے بہرہ تھے؟ کیا انھوں نے خارجی دنیا کو اپنی داخلی اور باطنی کائنات سے ہم آمیز نہیں کرلیا تھا؟ وہ محض نشاطیہ رنگ میں ڈوبے ہوئے کھلنڈرے نہیں تھے کہ دنیا ومافیہا سے خود کو یکسر الگ کرلیتے۔ انھوں نے دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کے حقائق کو بھی پیش کیا ہے۔ اپنے عہد کی زبوں حالی اور زوال کو انھوں نے پوری طرح دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ اس صورتِ حال میں زندگی کی کڑوی سچائیاں چمکنے لگتی ہیں۔ اس عالم میں بے ثباتی اور ناپائیداری کا نقشہ سودا یوں پیش کرتے ہیں:

بھلا گل تُو تو ہنستا ہے ہماری بے ثباتی پر

بتا روتی ہے کس کی ہستیٔ موہوم پر شبنم

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن

جب چشم کھُلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

کر خانۂ گردوں پہ نظر چشمِ فنا سے

ہے شکلِ حباب اس کی بھی تعمیر ہوا پر

اس نوع کے اشعار میں داخلیت کے عناصر کا فقدان نہیں۔ گرچہ یہ قنوطی اور حزنیہ لہجہ سودا کی شناخت نہیں بناتا لیکن خواہ وہ عشق میں آہ و فغاں کا مقام ہو یا پھر دنیا کی بے ثباتی کا، سودا کا دل بے حد حسّاس نظر آتا ہے اور وہ نشاطیہ رنگ کے حصار سے نکل کر زندگی کی سچائیوں اور انسانی قدروں کی یافت میں لگ جاتے ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جو سودا کی غزلوں میں معاصر حسیت کو مستحکم کرتے ہیں اور یہی حسیت انھیں داخلیت کے زمرے میں لے آتی ہے۔ خارجی عوامل سے یا پھر اس کے حاوی رنگ یعنی نشاطیہ رنگ سے الگ تصوف کے رنگ کو دیکھا جاسکتا ہے، جو گرچہ خالص دہلوی شعرا کا غالب رجحان رہا ہے، لیکن چوں کہ سودا کی ذہنی ساخت اور تخلیقی پرداخت میں بھی دبستان دہلی کے عناصر کا اہم رول رہا ہے، اس لیے، اس تصوف نے بھی ان کی غزلوں میں سحر طرازی کی ہے جس کے سبب ان کی غزلوں پر بھی داخلی کیفیات اور دینی جمالیات کا پر تو نظر آتا ہے۔ اس نوع کے چند اشعار:

اس قدر سادہ و پُرکار کہیں دیکھا ہے

بے نمود اتنا نمودار کہیں دیکھا ہے

چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گر

آئینہ دارِ دل کو رکھ اپنے صفا پرست

عجز و غرور دونوں اپنی ہی ذات میں ہے

ہم عبد سے جدا کب معبود جانتے ہیں

پروانۂ تجلیٔ وحدت ہو اور دیکھ

نورِ چراغِ دیر ہے شمعِ حرم کے ساتھ

کفر کی میری تجلی ہے نظیر شمعِ طور

پوجوں ہوں جس بت کو میں اک نور ہے اللہ کا

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

موسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا

مفلسوں کو نہیں دنیا میں کسی کا خطرہ

خوف ہے ان کو کہ جو دام و درم رکھتے ہیں

دہر بانٹے تھا متاعِ دوجہاں اے سودا

بے نوائی نے مری اُس کو اشارہ نہ کیا

تصوف کے جو مضامین اور جو اس کی جہات ہوسکتی ہیں، سودا نے اپنی غزلوں میں جا بہ جا پیش کی ہیں۔ حسن و عشق کے مضامین، محبوب کی بے اعتنائی کا ذکر اپنے جنون اور دیوانگی کا فسانہ، زلف و لب و رخسار کا پیکر، محبوب کے پیرہن اور جسم کی نزاکت، زاہد و امام پر طنز، شدت گریہ اور آہ و فغاں کا بیان، محبوب کی غفلت شعاری اور جبر اور اسی طرح کوچۂ محبوب کا نقشہ، سودا نے اپنے خاص فنی انداز میں بڑی لطافتوں سے پیش کیا ہے۔ اسی طرح رندی و سرمستی، شوخی و ظرافت اور طنز و تشنیع کے مضامین بھی سودا نے بڑی صفائی سے پیش کیے ہیں۔ انسانی ہمدردی اور انسانی محرومی دونوں طرح کے مضامین سودا کی غزلوں میں ملتے ہیں۔ اسی طرح اگر صرف گُل و گلشن یا اس کے تلازمات کی بات کی جائے تو سودا کی غزلوں میں اس کے بے شمار نمونے ملتے ہیں۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے ’’سودا: گل و گلشن کا شاعر‘‘ کے عنوان سے ایک دل چسپ مضمون (مشمولہ: مرزا محمد رفیع سودا، شائع کردہ غالب انسٹی ٹیوٹ، 2001) تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے سودا کو اسی زاویے سے خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

اب میں سودا کے عشقیہ مضامین کے حوالے سے چند اشعار پیش کرکے اس مضمون کی جہتوں کو سامنے لانا چاہتا ہوں۔ عشق اور دیوانگی کے مضمون کو اردو شاعری اور بالخصوص غزل کا غالب اور راجح مضمون تصور کیا جاتا ہے۔ سودا نے اپنے وجود اور عشق کے مابین ایک طرح کا ربط اور پھر اپنی داخلی اور باطنی دنیا پر اس کے اثرات کا ذکر کس کس طرح سے کیا ہے ملاحظہ کیجیے:

کمال بندگیٔ عشق ہے خداوندی

کہ ایک زن نے مہ مصر سا غلام لیا

موتی تو صدف میں سے نکلے ہیں سمندر کے

بحرین سے عاشق کے مرجان نکلتے ہیں

دانۂ اشک سوا کچھ نہیں اس سے حاصل

عشق کا کھیت بہت ہم نے بووا جوتا ہے

آتش عشق جو ذرہ ہو کسی دل میں تو پھر

کرتی ہے جنبشِ مژگاں تری کارِ دامن

عشق یا پیغمبری وقت یارو اس کو کیا کہوں

دل تو ایوبی ہوا آنکھیں ہوئیں یعقوبیاں

اب خدا حافظ ہے سودا کا مجھے آتا ہے رحم

ایک تو تھا ہی دوانہ تِس پہ آتی ہے بہار

ناصحا اُس عشق سے ہوتا ہے لذت یاب دل

جس میں حرمت کم ہو رسوائی و خواری بیشتر

عشق سے تو نہیں ہوں میں واقف

دل کو شعلہ سا کچھ لپٹتا ہے

نہیں معلوم کیا اس سینے میں جوں شمع جلتا ہے

دھواں نوک زباں سے بات کرنے میں نکلتا ہے

ان اشعار میں عشق کے رموز اور اس کے مختلف امور اور تلازمات یا پھر اس کے اثرات خواہ دل عاشق پر جو بھی مرتب ہوتے ہوں، ان کا اظہار سودا نے بڑی خوبصورتی اور تخلیقی ہنرمندی سے کیا ہے۔ ان میں محض خارجی طرز اظہار نہیں بلکہ دل کے اندرون میں برپا ہونے والے ہیجان اور عاشق کے وجود کو متزلزل کرنے والے طوفان کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ میں سودا کی غزلوں کی داخلی دنیا یا فکری رمز و کنایہ کا مزید ذکر کرنا نہیں چاہتا۔ بس اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سودا کا کمال یہ ہے کہ اُن کی زنبیل شعر میں پست اشعار کی تعداد اپنے زمانے کے سب سے باکمال شاعر میرتقی میر سے کم ہے۔ اگر سودا کے شعروں کی تشریح و تعبیر بھی Thesis بناکر کی جائے تو وہ صرف قصیدے کے ہی نہیں بلکہ غزل کے بھی ایک عظیم شاعر ثابت ہوں گے۔ لیکن جس طرح بیشتر نقادوں نے انھیں دوسرے درجے کے غزل گو کے طور پر پیش کیا ہے، وہ ایک افسوس ناک پہلو ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی نے شاید ٹھیک ہی لکھا ہے:

’’مشکل یہ ہے کہ اٹھارویں صدی کے شعری منظرنامے میں سودا کی حیثیت میر صاحب کے ایک غریب رشتے دار (Poor Relative) کی ہوکر رہ گئی ہے۔‘‘

(مرزا محمد رفیع سودا، غالب انسٹی ٹیوٹ، 2001، ص: 134)

اگر سوداؔ کو تھوڑی دیر کے لیے میر کے حصار سے نکال کر کھُلی فضا میں سانس لینے کے لیے چھوڑ دیا جائے اور صرف سودا ہی کی غزل کو مطالعے کا حصہ بنایا جائے تو شاید انھیں بھی زمینِ غزل سے ان کا اپنا حصہ مل جائے۔ یوں بھی سودا عذابِ داخلیت کے باہر کے شاعر ہیں، انھیں محبوس و محدود کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم نے اس داخلیت کو اندر سے نکال کر اوپر سے اپنے جسم پر اوڑھ لیا ہے، یعنی اندر کی گرمی باہر سے اوڑھی ہوئی ہے، لہٰذا سودا کی شاعری میں داخلیت کے فقدان کا نعرہ لگاتے پھرتے ہیں۔ محمد حسین آزاد اور امداد امام اثر سے لے کر شیخ چاند اورخلیق انجم تک نے یہی راگ الاپا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس داخلیت کو تنقید کا غالب رجحان تصور نہ کیا جائے ورنہ کتنے ہی سودائے غزل کا قتل ہوتا رہے گا۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
سوداکوثر مظہری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ذکی احمد کے رنگ برنگے پھول – ڈاکٹرعادل حیات
اگلی پوسٹ
ہند اسلامی تہذیب و ثقافت اور فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ – نورین علی حق

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں