ایک اچھے اور متمدن سماج کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی پرورش و پرداخت، ان کی تعلیم و تربیت بہتر طور پر کی جائے۔ اس ضمن میں گھر کا ماحول، آس پڑوس، دوست احباب، نصابِ تعلیم اور تعلیمی درسگاہیں معاون ہوسکتی ہیں، لیکن بچوں کی دلچسپی، جبلی ضروریات نفسیاتی تقاضوں اور ان کی عمر کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا ادب زیادہ بامعنٰی ہوتا ہے کہ اس کو بچے اپنے شوق کے مطابق پڑھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ انسانی فعل (action) اس کی انفرادی دلچسپی کا حصہ بن جاتا ہے تو اس کا اثر اسی لحاظ سے ذہن و دماغ پر بھی ہوتا ہے۔اس روشنی میں ادبِ اطفال معنویت کی انتہا کو پہنچتا ہے کہ نصابی کتب کے برعکس وہ بچوں کی انفرادی دلچسپی اور اس کے پسند و ناپسند کو ذہن میں رکھ کر خلق کیا جاتا ہے۔ اس مفروضے کے تحت اکابرینِ شعروادب نے ادبِ اطفال سے رغبت دکھائی اور اپنی بساط بھر معیاری ادب پیش کرنے کی کوشش کی۔ اردو ادب کی ابتدا سے اب تک متعدد چہروں نے اپنے قلم سے ادبِ اطفال کی آبیاری کی ہے، چنانچہ ان کی نگارشات اپنی معنویت کے جوہر جس تب و تاب کے ساتھ ماضی میں بکھیر تی تھیں، کم و بیش اسی طرح ادبِ اطفال کے عصری بساط پر بھی نظر آتی ہیں، جن کے استفادے سے بچوں کا ذہن یقینا کشادہ ہوا اور وہ ایک اچھے سماج کی تعمیر و تشکیل اور اس کی بقا کے لئے پوری طرح ممدو معاون ہوئے۔ادبِ اطفال کے عصری منطرنامے پر کئی شعرا بچوں کا ادب تخلیق کر رہے ہیں، ان میں ایک معتبر نام ذکی احمد کا بھی ہے۔
ذکی احمد نے اپنی شاعری کا آغاز غزل گوئی سے کیا اور اسی شوق و شغف کے ساتھ نظمیں بھی کہتے رہے۔ ان کی متعدد کتابیں عصری منظر نامے پر دیکھی جاچکی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک مدرس ہیں، چنانچہ بچوں کی نفسیات اور اس کی پسند و ناپسند سے بخوبی واقف بھی ہیں۔ ان کی بے چین طبیعت غزل گوئی اور نظم نگاری سے تسکین نہ پاسکی تو انہوں نے ادبِ اطفال کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ "رنگ برنگے پھول” سے پہلے بھی بچوں کے ادب پر مشتمل ان کی کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان میں نرسری رائمس اور بچوں کے لئے لکھی گئیں ایسی نظمیں شامل ہیں، جو ہر عمر کے بچوں کو یکساں طور پر پسند آئیں گی۔ "رنگ برنگے پھول” میں بچوں کی دلچسپی اور ان کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہوئے کم و بیش پچاس نظموں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان نظموں کے مطالعے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ذکی صاحب بچوں کے نبض شناس ہیں۔ وہ ان کی نفسیات، جبلی تقاضوں اور پسند و ناپسند سے بخوبی واقف ہیں اور نظم کہتے ہوئے بچوں کی عمر کے مدارج کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ انہیں زبان و بیان پر خاص دسترس ہے اور وہ لفظوں کے برتنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔ چنانچہ ان کی نظمیں نغمگی اور اثرنگیزی سے بھرپور ہوتی ہیں، جو بچوں کو نہ صرف پسند آتی ہیں بلکہ ان کے ادراک کا حصہ بھی بن جاتی ہیں۔ ان کی ایک خوبصورت نظم "مچھلی رانی” سے آپ بھی لطف آٹھائیں:
مچھلی رانی، مچھلی رانی
باہر نکلو، چھوڑو پانی
ساتھ چلو میرے گھر آؤ
ڈر ہے مجھ کو ڈوب نہ جاؤ
جاڑے میں دن رات نہانا
سردی ہو تو مت پچھتانا
مجھ سے بالکل مت گھبراؤ
میرے تھیلے میں آجاؤ
دیکھ کے صورت اور صفائی
ممی دیں گی دودھ ملائی
ساتھ چلو، چھوڑو منمانی
مچھلی رانی، مچھلی رانی
چھ مصرعوں کی اس نظم میں شاعر نے بچوں کے جذبات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ مچھلی کو پانی میں دیکھ کر بچوں کے دل میں بھی وہی وسوسے پیدا ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر شاعر نے نظم تیار کی ہے۔ اس میں الفاظ موتی کی طرح جڑے ہوئے ہیں، جس سے سلاست و روانی کے ساتھ نغمگی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اس نظم کی قرأت کے دوران بچے اٹکتے نہیں بلکہ سیلِ رواں کی مانند اختتام کو پہنچتے ہیں، جس سے نظم کی معنویت اور اس کی اثر انگیزی دوبالا ہوجاتی ہے۔ "رنگ برنگے پھول” میں ایسی متعدد نظمیں بکھری ہوئی ہیں جو بچوں کے معیار کے عین مطابق ہیں اور ان کی تربیت و تہذیب میں ہر لحاظ سے ممدو معاون بھی۔ ان کی ایک نظم "چاند ستارے” کا مطالعہ کیجئے کہ یہ نظم بھی فنی پختگی کو ظاہر کرتی ہے:
نیل گگن میں چاند ستارے
لگتے ہیں ہم سب کو پیارے
کرتا ہے موسم یہ اشارے
چلو چلیں ساگر کے کنارے
پانی میں بھی چاند ستارے
اتر گئے بادل کے سہارے
ڈوب نہ جائیں یہ بیچارے
کانپ رہے ہیں ڈر کے مارے
چندا، تارے اور سمندر
کتنا دلکش ہے یہ منظر
مانا دوری پر ہے انجم
ان سے آگے بڑھ جاؤ تم
ہندوستان کے راج دلارے
تم بھی چمکو جیسے تارے
میرے خیال میں بچوں کی زبان سے کہلوائی گئی نظمیں زیادہ پراثر اور بامعنٰی ہوتی ہیں۔ ذکی احمد صاحب نے بیشتر نظموں میں اس چیز کا خیال رکھا ہے، لیکن بعض نظموں میں یہ کردار بڑے ادا کرتے دکھائی ہیں۔ اس میں کوئی عیب بھی نہیں کہ بچوں کی لوریاں، پالنے کے گیت اور ہنڈولے وغیرہ بڑوں کی زبان سے ہی ادا کرائے جاتے ہیں، لیکن میرا موقت یہ ہے کہ جب بچے بڑے ہوجائیں یعنی وہ اپنی زبان میں لفظوں کو ادا کرنے لگیں تو نظمیں ان کی زبان میں ہی کہنی چاہئیے۔ مثال کے طور پر ان کی ایک نظم "ماگھ” کو لیجئے۔ اس نظم کا پہلا شعر ہے:
اے بچو! ہوشیار کہ پھر ماگھ آگیا
کمزوروں کے ہڑپنے کو پھر باگھ آگیا
اس شعر کے پہلے مصرعے سے "اے بچو” کو نکال دیا جائے تو پوری نظم بچوں کی زبان میں ادا ہوتی ہوئی سنائی دے گی۔ اسی طرح طویل نظمیں بھی طبعِ نازک پر گراں بار ہوتی ہیں اور اپنی طوالت کی وجہ سے بچوں کے ذہن پر اثر انداز نہیں ہوپاتیں۔ ذکی احمد صاحب نے کچھ طویل نظمیں بھی کہی ہیں، جو کہ رواں دواں ہونے کے باوجود اثر انگیزی کی کیفیت سے معدوم ہیں۔ بچوں کے لئے لکھی گئی نظمیں چھوٹی بحر میں اچھی، بامعنٰی اور مترنم ہوتی ہیں۔ ان کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس کے برعکس طویل اور لمبی زمینوں میں کہی گئی نظمیں اپنا اثر کھودیتی ہیں، لیکن ذکی صاصب نے طویل زمینوں میں بھی کامیاب نظمیں کہی ہیں۔ ان کی ایک نظم "اگرپڑھتے” سے چار مصرعے دیکھئے:
فضا اسکول کی رشکِ جناں معلوم ہوتی ہیں
مسرت چار جانب حکمراں معلوم ہوتی ہیں
بڑی ہی کھلبلی مچتی ہے ہر درجہ بچوں میں
نتیجہ کی خبر اس کو جہاں معلوم ہوتی ہے
"رنگ برنگے پھول” کی نظموں کو پڑھ کر بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ ذکی احمد بچوں کے اہم اور پختہ شاعر ہیں۔ وہ چھوٹی عمر کے بچوں کے لئے نظمیں لکھتے ہیں، لیکن ان کی نظمیں بڑوں لئے بھی اتنی ہی بامعنٰی ہیں۔ ان نظموں کی زبان اور فطری بہاؤ بچوں کو اپنی جانب ملتفت کرتی ہیں اور ان کے مطالعے سے بچوں کا ذہن نہ صرف کشادہ ہوتا ہے، بلکہ ان کی ترتیب و تہذیب میں بھی معاون ہوتی ہیں۔ یہ عمل یقینا قابلِ تحسین ہے کہ ایک مہذب سماج کی تشکیل کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ نہیں ہوسکتا۔
جاوید حسن شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہیں۔ وہ ذہین اور فعال شخص ہونے کے ساتھ ساتھ کئی کتابوں کے خالق بھی ہیں۔ انہوں نے ذکی احمد کی نظموں کو کتابی صورت دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ادبِ اطفال کو بچکانہ ادب سمجھ کر طنز کے نشتر چلائے جاتے ہیں، انہوں نے بچوں کی نظموں کو ترتیب دے کر کتابی صورت میں لانے کا فریضۃ نبھایا ہے۔ مجھے امید ہے کہ "رنگ برنگے پھول”بچوں کے درمیان پورے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھی جائے گی۔
٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

