Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدشاعری کے مختلف رنگ

اقبال اورماڈرنزم کی بحث – پروفیسر ناصر عباس نیر

by adbimiras اپریل 10, 2021
by adbimiras اپریل 10, 2021 2 comments

ماڈرن ازم اقبال کی معاصریوروپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ ۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۰ء قرار دیا جاتا ہے۔معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے بہ راہِ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ نہیں تھے اور اگر آگاہ تھے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی انتخابی نظر اس تحریک کو اپنے شعری مقاصد سے ہم آہنگ محسوس نہیں کرتی تھی؟

اقبال مغربی ادبیات سے پورے طورپر آگاہ تھے۔ انھوں نے ’’بانگِ درا‘‘ میں درجن بھر امریکی اور برطانوی شعرا:جیسے لانگ فیلو، ایمرسن، ولیم کوپر، ٹینی سن، براؤننگ، سیموئیل راجرز اور دوسروں کی نظموں سے اخذ و ترجمہ کیا ہے۔ ورڈز ورتھ کا انھوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا اور ۱۹۱۰ء میں اپنی انگریزی بیاض میں لکھا تھا کہ ورڈز ورتھ نے انھیں الحاد سے بچایا۔ اسی طرح ملٹن کا بھی ذوق و شوق سے مطالعہ کیا۔ اپنے ایک مکتوب محررہ مارچ ۱۹۱۱ء میں یہ بات درج کی کہ ’’ملٹن کی تقلید میں کچھ لکھنے کا ارادہ مدت سے ہے اور اب وہ وقت قریب معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ان دنوں وقت کا کوئی لحظہ خالی نہیں جاتا جس میں اس کی فکر نہ ہو۔‘‘ شیکسپیئر کو انھوں نے منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ گوئٹے سے بھی اقبال کا گہرا تعلق ہے۔ کیا مغربی ادبیات کے اس حصے سے آگاہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اقبال پر مغربی جدیدیت کے اثرات تھے؟ جواب نفی میں ہوگا۔ اس لئے کہ ان تمام شعرا کو ماڈرن کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا تعلق (زیادہ کا تعلق انیسویں صدی سے ہے) ماڈرینٹی (ہمہ گیر جدیدیت) کے عہد سے ہے۔۔۔ مگر ماڈرنسٹ نہیں کہہ سکتے۔ ماڈرن اور ماڈرنسٹ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ٹینی سن اور ایلیٹ میںیا تھیکرے اور جیمز جوائس میں ہے۔ دراصل اقبال نے مغربی ادبیات سے اخذ و استفادے کا عمل اپنے ابتدائی دور میں شروع کیا اور ۱۹۱۰ء تک ان کا شعری مائنڈ سیٹ متشکل ہو چکا تھا۔ اپنے ابتدائی دور میں اقبال کا مغربی ادبیات سے تعلق تقلیدی ہے، انھوں نے کئی مغربی نظموں کو پورے کا پورا اور کہیں مغربی نظموں کے کچھ مصرعوں کو ترجمہ کیا ہے۔ جیسے’’کوپر‘‘ کے اس مصرعے:

And, while the wing soffancy still are free

کو نظم ’’مرزا غالب‘‘ کا یہ مصرع بنا دیا ہے :

ہے پرِ مرغِ تخیّل کی رسائی تا کجا

مگر ۱۹۱۰ء کے بعد ان کی نظر انتخابی ہو جا تی ہے اور وہ اپنے شعری مائنڈ سیٹ کی راہ نمائی میں معاصر مغربی ادبیات اور تحریکوں سے ربط ضبط قائم کرتے ہیں۔ جو ادبی تحریکیں اور رجحانات انھیں اپنے مائنڈ سیٹ سے متصادم یا مختلف محسوس ہوتی ہیں انھیں وہ خاطر میں نہیں لاتے۔ یوں بھی جن دنوں ماڈرن ازم کی تحریک زور شور سے جاری تھی، اقبال مغربی تہذیب پر تنقید کا آغاز کر چکے تھے۔ اور ماڈرن ازم مغربی تہذیب ہی کا جمالیاتی مظہر ہے۔ چناںچہ جن دنوں مغرب میں’’ویسٹ لینڈ‘‘ اور ’’یولی سس‘‘ چھپتے ہیں،انھی دنوں اقبال اُردو میں نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ (۱۹۲۲ء) اورفارسی میں ’’پیامِ مشرق‘‘ (۱۹۲۳ء) منظر عام پر لاتے ہیں۔ ان کا فرق ظاہر ہے۔ اقبال، ایلیٹ اور جوائس کے نا صرف موضوعات، ہیئتیں اور اسالیب مختلف تھے بلکہ جمالیاتی مقاصد بھی مختلف تھے۔

یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی عصر میں ادبی سطح پر انسانی سروکار مختلف ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال اس وقت زیادہ اہم، متعلق اور بامعنی ہو جاتا ہے جب ہم ادب کے آفاقی ہو نے کو کلیے کے طورپر لیتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر ادبی تجربہ، ادبی تحریک، ادبی نظریہ اور جمالیاتی نظام اور شعریات کسی نہ کسی تناظر اور صور ت حال کے پابند ہوتے ہے۔ ادبی سطح پر ظاہر ہونے والے انسانی سروکار بھی تناظر اور صورتِ حال کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ اس لیے کوئی تجربہ، تحریک، نظریہ یا شعریات آفاقی نہیں، وہ اپنی متعلقہ صورتِ حال اور تناظر میں’’آفاقی‘‘ہے۔ جہاں جہاں اور جب جب وہ صورتِ حال موجود ہوتی ہے، اس کے تحت لکھا جانے والا ادب مطلق اور اسی مفہوم میں آفاقی ہوتا ہے۔ بنا بریں بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے مغربی ادب پارے اور اقبال کی شاعری اپنی اپنی صورتِ حال اور تناظر کے پابند ہیں اور اسی لیے جدید مغربی ادبا اور اقبال کے سروکار ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ادب جب صورتِ حال اور تناظر سے الگ ہوتا ہے تو وہ ایلی نیشن (Alienation) کا شکار ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ایک نازک نکتے کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔کوئی ادبی تجربہ اور پھر ادبی انسانی سروکار ،تناظر اور صورتِ حال سے از خود پیدا نہیں ہوتے۔ تخلیقی ذہن تناظر اور صورتِ حال کی کاربن کاپی نہیں ہوتا۔اگر ایسا ہوتا تو ایک معاشرے میں تمام لکھنے والوں کے یہاں ایک جیسے ہی ادبی تجربات اور انسانی سروکار ظاہر ہوتے ۔اور ہم یہ کہنے میں قطعی حق بہ جانب ہوتے کہ ایک عہد میں کسی ایک بڑے تخلیق کار کو ہی لکھنے کا حق ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی عہد میں متعدد لکھنے والے موجود ہوتے ہیں اور ان کے یہاں ادبی تجربات اور سروکاروں کا تنوع موجود ہوتا ہے۔گو تعدد اور تنوع کے عقب میں ایک ساخت کو نشان زد کیا جا سکتا ہے مگر یہ بھی غور کیجیے کی یہ تنوع ہی ہے جس کی وجہ سے ساخت وجود پذیر ہوتی ہے۔نازک نکتہ یہ ہے کہ تناظر اور صورتِ حال سے از خود ادبی تجربات کا جنم نہیں ہوتا۔تخلیق کار صورتِ حال کی ’’تعبیر‘‘ کرتا ہے۔تعبیر کا عمل شعوری یا غیر شعوری ہو سکتا ہے،مگر ہوتا ضرور ہے۔اور تعبیر کے لیے تصورِ کائنات،آئیڈیالوجی،تھیوری ،مائنڈ سیٹ ،کئی طرح کی چیزیں کام آتی ہیں۔

ہر چند اقبال نے ماڈرن ازم سے راست ربط ضبط نہیں رکھا اور اس لیے نہیں رکھا کہ وہ ایک مختلف تصور کائنات اور مائنڈ سیٹ کے علم بردار تھے ،مگر ماڈرن ازم کے بعض تصورات اور اقبال کی شاعری کے بعض پہلوؤں سے تقابل و تماثل دلچسپی سے خالی نہیں۔ ماڈرن ازم کی تجربہ پسندی، روایت شکنی، انفرادیت پسندی ،تاریخی و جمالیاتی عدم تسلسل اقبال کے یہاں اپنے مغربی سیاق کے ساتھ موجود نہیں۔ مثلاً یہی دیکھیے کہ اقبال نے نئی ہیئتوں کی تلاش کے بجائے روایتی ہیئتوں کو ہی اپنے لیے موزوں سمجھا ہے۔ اس طرح روایت سے اپناتعلق قائم رکھا ہے،جسے توڑنے میں جدیدیت افتخار اور لذت ہی محسوس نہیں کرتی ،اپنی شعریات کے اظہار کے لیے لازم بھی سمجھتی ہے۔ جدیدیت کی نظر میں ہر فن پارہ مواد اور ہیئت پر مشتمل تو ہوتا ہے ،مگر دونوں میں رشتہ ناخن اور گوشت کا ہوتا ہے۔نئے مواد کو پرانی ہیئت میں پیش کرنے کا مطلب ،نئے موادکو روایت سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ہیئت روایت کے وسیع منطقے کا ایک جز ہے۔ تاہم اُسلوبی سطح پر اقبال نے تجربہ پسندی اور روایت شکنی کا مظاہرہ ایک خاص مفہوم میں بہ ہرحال کیا ہے۔ اقبال نے اُردو شاعری میں قطعی منفرد ڈکشن ہی متعارف نہیں کروایا بلکہ اسے بے مثال تخلیقی شان کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کچھ اس طورکہ یہ ناقابلِ تقلید ہے۔ اتنی شدید اور فقید المثال انفرادیت شاید ہی کسی دوسرے اُردو شاعر کے یہاں موجود ہو، جس کا مظاہر ہ اقبال نے کیا ہے۔ ماڈرن ازم میں بھی انفرادیت پر زور ملتا ہے۔ کیا اقبال کی انفرادیت کا وہی مفہوم ہے جو مغربی جدیدیت میں ہے؟ بالکل نہیں، اقبال کی انفرادیت اس کی اپنی انفرادیت ہے، تاہم ایک سطح پریہ انفرادیت مشرقی شعریات میں قابلِ فہم ہے اور دوسری سطح پر اقبال کے شعری وژن میں۔

مشرقی شعریات میں انفرادیت کے مظاہرے کو جدّت کا نام دیا گیا ہے۔ جدت کے ضمن میں حسنِ ادا، اپج، معنی آفرینی، مضمون آفرینی، نکتہ سنجی، نازک خیالی ایسی اصطلاحات کا بھی ذکر ہوا ہے۔ جدت ان سب کو محیط ہے۔ یہ سب جدت کی فروع ہیں، اس طور جدت کا تعلق معنی اور اُسلوب ہر دو سے ہے۔ جدت بہ قول ڈاکٹر عنوان چشتی، ’’مانوس اشیا کے مخفی امکانات کی دریافت کا عمل ہے۔۔۔ جدت روایت کے بطن سے نمودار ہوتی ہے، مگر روایت پرستی سے انحراف کرتی ہے۔‘‘ گویا جدت انحراف ہے مگر جدیدیت کا انحراف نہیں۔جدیدیت کا انحراف کلی ہوتا،جب کہ جدت کاجزوی ہوتا ہے۔جدت کا انحراف روایت کے حدود کے اندر ہو تا ہے اور اس محتاط انداز میں ہوتا ہے کہ روایت کی بنیاد کو اس انحراف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں جدت کے انحراف اس وقت ممکن ہے جب روایت کا علم موجود ہو۔اس علم کی سطح اور درجے کی مناسبت سے ہی انحراف کی سطح اور درجہ متعین ہوتا ہے۔لہٰذا جس تخلیق کار کا روایت کا تصور وسیع، گہرا اور سرایت گیر ہوتا ہے اس کا انحراف بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ اقبال کی انفرادیت دراصل جدت ہے۔ جدت کا مظاہرہ ہر چند اور بھی کئی اُردو شعر انے کیا ہے مگر روایت کا جتنا وسیع اور گہر ا تصوراقبال کا تھا، اتنا کسی دوسرے اُردو شاعر کا مشکل سے ہوگا۔ اقبال کی انفرادیت نا قابلِ تقلید تو ہے مگر اپنی مشرقی روایت میں قابلِ فہم بہ ہرحال ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اقبال نے مشرقی ادبیات کی روایت کو کھوجا ہی نہیں تھا اسے مرتّب بھی کیا۔ اقبال نے فارسی، عربی، اُردو، سنسکرت، ادبیات کو ایک روایت ٹھہرایا اور اسے اپنی شاعری کی روحِ رواں بنایا۔ ان کے یہاں فارسی شعرا ملّا عرشی، ابو طالب کلیم، فیضی، صائب، مرزا بیدل، عرفی، خاقانی، انوری، سنائی، حافظ، سعدی اور سب سے بڑھ کر فکر رومی کے اثرا ت بالواسطہ اور بطور تضمین ملتے ہیں۔ عربی ادبیات سے انھوں نے ہر چند کسی مخصوص شاعر کے اثرات نہیں لیے مگر عربی شعریات کے اصول سادہ بیانی اور صحرائیت پسندی ضرور قبول کیے۔ مولانا غلام رسول مہر نے جب طلوعِ اسلام پر تنقید کی تو اقبال نے جواب دیا کہ ’’میں عربی شاعری کی روش پر بالکل صاف صاف اور سیدھی سیدھی باتیں کہہ رہا ہوں۔‘‘

اسی طرح انھوں نے متعدد قرآنی آیات کو راست یا ان کے ترجمے کو اپنی شاعری میں پیش کیا۔ اقبال کا تصورِ روایت اگر چہ ایلیٹ کے تصورِ روایت سے مختلف ہے مگر دونوں میں یہ مماثلت موجود ہے کہ ایلیٹ نے تمام مغربی ادب :ہومر سے بائرن تک کو ایک روایت قرار دیا۔ اقبال نے روایت کی تنقیدی تھیوری پیش نہیں کی، مگر ادبی روایت کو مسلسل جاری روایت کی صورت اپنی شاعری میں مرتب، دریافت اور پیش کیا ہے۔ اقبال کی روایت مشرقی اسلامی روایت ہے۔ عبدالمغنی کا یہ کہنا وزن رکھتا ہے کہ ’’اقبال کی شاعری درحقیقت مشرقی ادبیات کی تمام شاعرانہ روایات کا نقطۂ عروج ہے۔‘‘

اقبال کا تصورِ روایت، مابعدجدید تنقیدی اصطلاح میں بین المتونی (Intertextual) ہے۔ فارسی، عربی، اُردو اورسنسکرت ادبیات مختلف متون ہیں، جنھیں اقبال نے باہم ممزوج کیا ہے۔ اقبال نے مختلف مشرقی روایات کو ایک نئے متن میں منقلب کر دیا ہے۔ یعنی یہ روایات اقبال کے شعری متن کے میکانکی اجزا نہیں، نامیاتی عناصر ہیں۔ اقبال کا شعر ی متن ایک زندہ متن ہے اور ایک زندہ وجود کی طرح ہی نہ صرف حسی تحریک کا حامل ہے بلکہ مخصوص زاویہ نظر اور آئیڈیالوجی بھی رکھتا ہے۔

اقبال کے اسلوب کو جو بات ناقابلِ تقلید بناتی ہے ،وہ ان کا شعری وژن ہے۔ان کا اسلوب ان کے وژن کی تجسیم ہے۔کسی تخلیق کار کے وژن کی تفہیم کی جا سکتی ہے، تقلید نہیں۔اس لیے کہ وژن ’ایک مسلسل نموئی عمل سے وجود میں آنے والی باطنی حقیقت ‘ہے۔

ماڈرن ازم کے’’نظامِ فکر‘‘ میں فرد کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ اہمیت تین چار سطحوں پر فرد کو تفویض ہوئی ہے۔ فرد بطور منفرد وتنہا وجود؛ فرد کا زندگی کو مستند اور براہِ راست طریقے سے تجربہ کرنا اور اس تجربے کے نتیجے میں اپنی تقدیر یعنی بے چارگی، تنہائی اور لغویت سے آگاہ ہونا؛ فرد کا سماج، فطرت اور کائنات سے داخلی انقطاع کی صورتِ حال سے دو چار ہونا۔

جدید ادب کا فرد ایلی نیشن کا شکار ہے۔ ایلی نیشن کا تصور مارکسیت میں بھی ملتا ہے مگر جدیدیت اور مارکسیت کی ایلی نیشن ایک جیسی نہیں ہیں۔ مارکسی ایلی نیشن یہ ہے کہ فرد اپنی محنت کے وسائل اور ثمرات سے بوجوہ اجنبی ہو جاتا ہے۔ جب کہ جدید فرد کی ایلی نیشن ایک خاص فلسفیانہ تصور کی پیدا کردہ ہے۔اس فلسفے (وجودی) کی رو سے فرد تنہاہے ۔وہ دوسروں سے اور کائنات سے علیحدہ ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اقبال کے یہاں بھی فرد موجود ہے۔ یہاں اشارہ اقبال کے مردِ مومن کی طرف نہیں۔ مرد مومن ایک آدرش ہے، جس میں وہ تمام بہترین خصوصیات یک جا ہو گئی ہیں جنھیں اسلامی تاریخ میں پیش کیا گیا ہے۔ مرد مومن ایک ’’غیرشخصی‘‘ تصور ہے۔ یہ بشری تقاضوں سے بلند اور اعلیٰ انسانی مقاصد کا علم بردار ہے۔ اقبال کی شاعری میں، بالخصوص بالِ جبریل کی غزلوں میں ایک اور فرد ظاہر ہوا ہے۔ یہ ایک شخصی وجود ہے۔ اس کا اپنا نقطۂ نظر اور اپنے سوالات ہیں۔ ہر چند اس کا لہجہ پُر تمکین اور کہیں جلالی ہے، مگر یہ ایک حقیقی فرد ہے اور اسی لیے تنہا بھی ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

اقبالناصر عباس نیر
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

2 comments

وجاہت فاروقی - ڈاکٹر عمیر منظر - Adbi Miras اپریل 14, 2021 - 7:12 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
- Adbi Miras اپریل 16, 2021 - 7:54 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں