ممدوحِ خدا ، صاحبِ اوصافِ حمیدہ
اے محرمِ اسرار ! تری ذات ستودہ
قسّامِ نِعَم ، مصدرِ الطاف و عنایت
دریائے سخا ، منبعِ اَفضالِ وحیدہ
نعتِ شہِ بطحا کی بَہاروں کی بدولت
ہے باغِ تخیّل کا ہر اک پھول دمیدہ
ہے جس سے معطر یہ گُل و غنچۂ امید
” گلزارِ براہیم ” کے ہو وہ گلِ چیدہ
مہتاب بکف رات ترے گیسو کا صدقہ
خورشید بکف دن ترے جلوؤں سے ہویدا
سرکار کے دربارِ گہر بارِ میں دیکھو !!
جبریل کا سر فرطِ عقیدت سے خمیدہ
للہ کرم کیجیے اے سیدِ عالم !!
رنج و غم و آلام سے ہے قلب تپیدہ
یہ آپ کی تبلیغ کا ثمرہ ہے یقیناً
مسلم جو ہے من جملۂ اقوامِ رشیدہ
قرآن میں مرقوم ہیں اوصاف تمہارے
” اے جانِ بیاں ، جانِ غزل ، جانِ قصیدہ "
میخانۂ مرشد کا ہے فیضان کہ احمد
ہے عشقِ شہِ دیں کا مئے ناب چشیدہ

