Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رح۔: آتی ہی رہےگی تیرے انفاس کی خوشبو – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

by adbimiras مئی 6, 2021
by adbimiras مئی 6, 2021 1 comment

دارالعلوم دیوبند کے مؤقر استاد، اس کے ترجمان الداعی کے باوقار مدیر، دسیوں کتابوں کے مصنف، مؤلف، مرتب، اور مترجم، قصر علم و ادب کے آفتاب و ماہتاب، خوش مزاج، خوش وضع، خوش کردار، عالم اسلام کی زبوں حالی پر اشک بار، حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی ابو اسامہ نور (ولادت ١٨/دسمبر ١٩٥٢ء) مطابق یکم ربیع الآخر ١٣٧٢ھ)بن حافظ خلیل احمد (مارچ ١٩٥٣ء)بن رشید احمد بن محمد فاضل بن کرامت علی صدیقی کا ٢٠/رمضان ١٤٤٢ھ مطابق ٣/مئی ٢٠٢١ء صبح کے سوا تین بجے میرٹھ کے آننداسپتال میں انتقال ہوگیا انا للہ و انا الیہ راجعون، جنازہ دیوبند لایا گیا، احاطہ مولسری میں  بعد نما ز ظہرمولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور مزار قاسمی میں جہاں اولیاء کرام، صلحاء عظام اور اساتذہ دارالعلوم کی ایک بڑی تعداد مدفون ہے، جگہ پائی،رمضان کا مہینہ، وبائی مرض میں موت کو مغفرت اور بخشش کے پروانے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے پس ماندگان میں تین لڑکے، چار لڑکیاں اور ایک اہلیہ کو چھوڑا۔سدا رہے نام اللہ کا۔

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی کا آبائی وطن راۓ پور موجودہ ضلع سیتامڑھی ہے، لیکن آپ کی ولادت آپ کے نانا بابو جان بن محمدنتھو بن محمد یار علی صدیقی کے گھر ہرپور بیشی ضلع مظفرپور میں ہوئی، یہ جگہ اورائ کے قریب ہے، شمالی بہار میں ماضی قریب تک یہ روایت رہی ہے کہ  خاص کر پہلے بچے کی ولادت کے موقع سے لڑکی کو میکے بلا لیا جاتاتھا؛ چنانچہ مولانا کی والدہ سلیمہ خاتون کو بھی میکے بلا لیا گیا تھا، ولادت کے صرف تین ماہ کے بعد مارچ ١٩٥٣ء میں والد اللہ کو پیارے ہوگئے، دادا پردادا کی زندگی ہی میں گذر گئے تھے؛ اس لیے والد محجوب تھے جس کی وجہ سے زمین جائداد بھی نہیں ملی، یتیمی اور بے سروسامانی میں دادی مقیمہ خاتون نے مدت رضاعت کے بعد پرورش کی ذمہ داری سنبھالی، والدہ صرف انیس سال کی عمر میں بیوہ ہوگئی تھیں، اس لیے ان کی دوسری شادی مولانا کے چچیرے ماموں محی الدین بن محمد نتھو سے ہوگئی، لیکن وہ بھی ١٩٦٧ء میں داغ مفارقت دے گئے اور چونتیس سال کی عمر میں مولانا کی والدہ کودوبار کی بیوگی کے صدمہ نے  نڈھال کردیا، اسی غمناک ماحول میں مولانا کی پرورش و پرداخت ہوتی رہی۔

رسم بسم اللہ مولانا کے نانا بابو جان نے ادا کی، پھر مولوی ابراہیم عرف مولوی ٹھگن کے سامنے راۓ پور میں زانوئے تلمذ تہہ کیا، راۓ پور کے بعد مدرسہ نورالہدی پوکھریرا موجودہ ضلع سیتامڑھی میں داخل ہوۓ، وہاں سے ١٣٨٠ھ مطابق جون ١٩٦٠ء میں مدرسہ امدادیہ دربھنگہ چلے آئے، درجہ حفظ میں داخلہ لیا؛لیکن سات پارے حفظ کرنے کے بعد درجہ ششم اردو میں منتقل ہو گئے، یہ ١٩٦١ء کا سال تھا، کم و بیش تین سال یہاں قیام پذیر رہے اور مولانا محمد اویس صاحب راۓ پوری اور مولانا محمد تسلیم صاحب سیدھولوی کی تربیت میں رہے، اس کے بعد دارالعلوم مؤ کا رخ کیا، ١٣٣٨ھ مطابق ١٩٦٤ء میں یہاں عربی اول میں داخلہ ہوا، مولانا ریاست علی بحری آبادی، مولانا امین صاحب ادروی عرف دادا، مولانا شیخ محمد مؤی ، مولانا نذیر احمد مؤی (م٢٠٢٠ء)مولانا نیاز احمد جہان آبادی، مولانا سلطان احمد مؤ ی،مولانا ریاض الحق مؤی، مولانا عبد الحق اعظمی، قاری محمد یسین اور مولانا محمد اسلام الدین مؤی سے کسب فیض کیا، ١٦/شوال ١٣٨٧ھ مطابق ٢٠/دسمبر ١٩٦٧ء کو آپ کا داخلہ دارالعلوم دیوبند میں ہوگیا،یہاں خاص طور سے عربی زبان وادب کی تعلیم مولانا وحیدالزماں صاحب کیرانوی رح سے پائی اور مہارت تامہ پیدا کیا، یہاں کے دیگر اساتذہ میں حضرت مولانا معراج الحق ، مولانا محمد حسین بہاری، مولانا نصیر احمد خاں، مولانا فخر الحسن مرادآبادی، مولانا شریف الحسن، مولانا قمر الدین، مولانا خورشید احمد، مولانا حامد میاں اور مولانا بہاء الحسن صاحبان کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب——گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی )

ابھی فراغت نہیں ہوئی تھی کہ دارالعلوم کے طلبہ نے بعض معاملات کو لے کر اسٹرائک کردیا، کئ نامور طلبہ کے ساتھ مولانا کا نام بھی اس سے جڑ گیا، اور اس پاداش میں جن طلبہ کا اخراج ہوا، ان میں ایک نام مولانا مرحوم کا بھی تھا، یہ بڑا جاں گسل موقع تھا، ایسے میں مولانا محمد میاں صاحب رح آگے آۓ اور انہوں نے اس ہونہار طالب علم کو ضائع ہونے سے بچا لیا وہ مولانا کومدرسہ امینیہ دہلی لے آۓ، اور یہیں سے سند فراغت پائی، اس پریشان کن وقت میں مدرسہ امینیہ نےدست تعاون دراز کیا اورسنبھالا تھا، فراغت بھی یہیں سے ہوئی تھی ، اس لیے مولانا نے اعتراف کے طور پر  اپنے نسبی باپ کے نام کے ساتھ اس روحانی باپ کے نام کو بھی اپنے نام کا جز بنا لیا اور امینی لکھنے لگے

تدریسی زندگی کا آغاز دارالعلوم ندوۃ العلماء سے کیا، ١٩٧٢ء سےبقول مولا عبدالمتین منیری بھٹکلی١٩٧٧ء تک یہاں تدریس کے فرائض انجام دیے، یہاں کا ماحول مولانا کی عربی زبان دانی اور حاصل شدہ مہارت کو صیقل کرنے کے لیے انتہائی خوش گوار تھا، حضرت مولانا علی میاں ندوی رح اور مولانا محمد ثانی حسنی ندوی کی نگارشات کا مولانا نےمطالعہ ڈوب کر کیا، وہاں سے نکلنے والے عربی اخبارات ورسائل اور خود حضرت مولانا وحیدالزماں کیرانوی کی ادارت میں نکلنے والے جمعیت علماء کے ترجمان الکفاح سے عربی صحافت کے اسرار و رموز سیکھے اور واقفیت بہم پہنچائی، انہوں نے عربی کے قدیم وجدید ادباء کی کتابیں کھنگال ڈالیں،جاحظ کے اسلوب وتعبیرات سے وہ بہت متأثر ہوئے؛چنانچہ ان کی عربی تحریروں میں یہ رنگ غالب آگیا۔بقول مولانا منیری ندوۃ العلماء کے بعد مولانا مدرسہ کاشف العلوم اورنگ آباد چلے گئے اور ١٩٨٢ تک وہیں خدمت انجام دیتے رہے

١٩٨٣ء میں دارالعلوم دیوبند میں انقلاب آیا، اہتمام و انتظام بدلا، الداعی کے ایڈیٹر مولانا بدر الحسن قاسمی دارالعلوم اور الداعی سے قطع تعلق کرکے کچھ دن برزخی زندگی گذار کرکویت تشریف لے گئے، ایسے میں مولانا وحیدالزماں کیرانوی رح جو ان دنوں دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم تھے نے ضرورت محسوس کی کہ مولانا کوالداعی کے ایڈیٹر کی حیثیت سے دارالعلوم بلا لیا جائے؛ چنانچہ مولانا نے اپنی علمی عبقریت و عظمت کی وجہ سے مادر علمی میں اپنی جگہ بنا لی اور الداعی کی ایڈیٹر کی حیثیت سے دارالعلوم چلے آئے، یہاں بحال ہونے کے بعد مولانا تدریب کے لئے سعودی عرب تشریف لے گئے اور کئ ماہ وہاں مقیم رہے، اس دوران میرا قیام دارالعلوم دیوبند میں تھا اور دارالافتاء میں بحیثیت طالب علم داخل تھا، مولانا وحیدالزماں کیرانوی سے قربت بھی تھی، اس لیے مولانا کے غائبانہ میں الداعی کا کام میرے درسی ساتھی مولانا عتیق اللہ قاسمی سہرساوی دیکھنے لگے اور نظر نہائ کا کام حضرت مولانا وحیدالزماں کیرانوی رح خود کیا کرتے تھے، مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی واپسی کے بعد مولانا عتیق اللہ قاسمی صاحب شیخ الہند اکیڈمی منتقل ہوگئے اور مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی زیر نگرانی الدراسات العلیاء کے نام سے عربی رسالہ نکالنے لگے، بعد میں مولانا عتیق اللہ قاسمی کی خدمت امارت شرعیہ کو حاصل ہوگئی اور چندسال کے بعد عارضہ قلب میں پٹنہ میں ہی ان کا انتقال ہوگیا۔

مولانا تدریب سے لوٹنے کے بعد الداعی کے ساتھ دارالعلوم میں بحیثیت مدرس بھی خدمت انجام دینے لگے اور  عربی زبان وادب خصوصاً تکمیلِ ادب کے اسباق ان سے متعلق ہوگئے، مولانا نے پوری دلجمعی کے ساتھ دونوں کام کو سنبھالا اور عالم عرب کے لیے علماء دیوبند کی کتابوں کو ترجمہ کرکے شائع کیا، علماء دیوبند کے افکار و خیالات کی ترویج و اشاعت کے لئے اداریئے اور مضامین لکھے، بعض اہم موضوع پر عربی میں کتابیں تصنیف کیں، فلسطین کے مسائل پر توجہ مبذول کرانے کے لیے فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں لکھ کر اسے شائع کرایا، یہ کتاب عربی و اردو دونوں میں شائع ہوئی، کتاب کے افکار و خیالات کی روشنی میں آسام یونیورسٹی سے اس پر اسکالر نےتحقیقی مقالہ لکھ کر پی اچ ڈی کی ڈگری حاصل کی گئی۔

مولانا عربی صحافی اور ادیب کی حیثیت سے عالم عرب تک متعارف ہوئے اور ہندوستان والوں نے بھی ان کی عربی نثر کو اعلیٰ ادبی نمونہ قرار دیا۔

اس وقت مولانا کی اردو ادیب کی حیثیت سے کوئی چیز نہیں آئی تھی، اس لیے اردو  کے ادباء اور فقہ و حدیث کے ماہرین کا حلقہ بقول ان کے” اِن کو عربی آوے ہے” سے ہی جانتا تھالیکن مولانا وحیدالزماں کیرانوی رح کے انتقال کے بعد ان کی پہلی  اردو کتاب "وہ کوہ کن کی بات” آئی، مولانا سے عقیدت و محبت، حق شاگردی اور جدائی کے غم نے اردو ادب میں ایسی کتاب ان سے تصنیف کروادی جو سوانحی ادب کا بہترین مرقع بن گئی، جس کو دل کے آنکھوں سے پڑھاگیا، واقعات و خیالات، جذبات و احساسات کی اتنی صحیح عکاسی کسی دوسری کتاب میں دیکھنے کو نہیں ملی، حضرت مولانا مفتی ظفیر الدین صاحب مفتاحی رح نے اس کتاب کے اسلوب اور حقیقت بیانی سے متأثر ہوکر فرمایا کہ اگر نور عالم جیسا شاگرد ہوتو مرجانے میں ہی فائدہ ہے۔

اس کے بعد مولانا نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا، حرف شیریں، پس مرگ زندہ ، رفتگان نا رفتہ، فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں، صحابہ رسول اسلام کی نظر میں، کیا اسلام پسپا ہورہاہے، عالم اسلام کے خلاف صلیبی اور صہیونی جنگ۔حقائق و دلائل، خط رقعہ کیسے لکھیں جیسی اہم کتابیں دنیائے علم و ادب کو دیں، ان کتابوں میں تاریخ بھی ہے، ادب بھی ہے، خاکے بھی ہیں، عالم اسلام کا درد و کرب بھی ہے، اسلام کی حقانیت کو عصری زبان میں ثابت کرنے کی لائق تحسین کوشش بھی ہے، سب کتابوں میں اعلیٰ ادبی تعبیرات اور پرکشش جملے دامن دل کو کھینچتے ہیں اور آدمی اس کے مطالعہ پر خود کو مجبور پاتا ہے، کہنا چاہیے کہ مولانا نے تاریخی ذوق مولانا محمد میاں صاحب رح سے حاصل کیا تھا اور ادبی ذوق نیز نستعلیقی رہن سہن کا طریقہ مولانا وحیدالزماں کیرانوی رح سے سیکھا تھا، عربی تو ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، اس زبان میں ان کی تصنیفات کی تعداد سات  بتائ جاتی ہے؛جب کہ انہوں نے پچیس کتابوں کا اردو سے عربی میں ترجمہ کیا، جن میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مفتی محمد تقی عثمانی، قاری محمد طیب ، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا منظور احمد نعمانی، حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی، مولانا سعید الرحمن اعظمی، ڈاکٹر خورشید احمد صاحبان وغیرہ کی تصانیف شامل ہیں، ان  کےعلاوہ بر صغیر ہندوپاک کے رسائل اور عالم عرب کے عربی مجلات میں پانچ سو سے زائد علمی و ادبی مقالے شائع ہوکر مقبول ہو چکے ہیں۔مولانا کی عربی زبان وادب کی خدمات کا حکومتی سطح پر اعتراف کیا گیا؛چنانچہ ٢٠١٨ء میں موجودہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند نے صدارتی توصیفی سند سے نوازا۔

مولانا سے میرے تعلقات کی نوعیت استاذی و شاگردی کی نہیں تھی، اس لیے ان کی درسی خصوصیات پر میرے لئے کچھ لکھنا ممکن نہیں ہے، وہ جب دارالعلوم تشریف لائے تو میں افتاء میں تھا اور افتاء کی تکمیل کے بعد میں وطن واپس ہوگیا، مولانا سے فون پر رابطہ رہا،بیش تر کسی کام سے ان کا ہی فون آتا، میں ایسے ہی فون کرنے میں کوتاہ واقع ہوا ہوں، حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی رح فرمایا کرتے تھے کہ آپ تو پہلے استخارہ کریں گے، پھر دورکعت نماز پڑھیں گے تب مجھ کو فون کرنے کی سوچیں گے؛ ایسا ہی کچھ مولانا سے رابطہ میں ہوا کرتا تھا؛لیکن مولانا نہیں بھولتے تھے، میرے مضامین کا مطالعہ کرنے کے بعد کہیں کوئی تاریخی سقم سمجھ میں آتا تو فوراً فون کرتے، حوصلہ افزائی فرماتے پھر اس غلطی کی نشان دہی کرتے، میں جب کبھی دیوبند جاتا تو ملاقات کا وقت دیتے، ناشتہ اور چاۓ کراتے، اندازہ ہوتا کہ یہ وقت بھی انہوں نے میری دل جوئی کے لیے نکالا ہے، ورنہ ان کے نظام الاوقات میں ملنے ملانے کی گنجائش کم ہی ہوتی تھی۔مولانا سے میری آخری ملاقات امارت شرعیہ پٹنہ میں ہوئی تھی، وہ وفاق المدارس الاسلامیہ کے تدریب المعلمین کے پروگرام میں میری دعوت پر تشریف لائے تھے،یہ تین روزہ پروگرام تھا اور المعھد العالی کے ہال میں منعقد ہوا تھا، مولانا نے عربی درس و تدریس اور انشاء کے حوالہ سے کئی محاضرے دئیے،پہلا محاضرہ ان کا استحضار نیت پر تھا، پھر عربی بولنے لکھنے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی، فرمایا: اگر عربی اور اردو میں مضمون لکھنا چاہتے ہوتو ڈائری پابندی سے لکھو،اور اس کے لکھنے کا طریقہ مولوی ثناء الہدیٰ سے سیکھو، میں نے وہ کوہ کن کی بات میں ان کی ڈائری سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس کے دوسرے ایڈیشن میں بہت کچھ ان کے مضمون کیمپ ڈائری کے چند اوراق سے حوالہ کے ساتھ نقل کیا ہے، مولانا کا اتنا کہہ دینا  میرے لیے باعثِ سعادت بھی ہے اور سند بھی۔مولانا نے اس موقع پر جو محاضرے دئیے، اسے کیسٹ سے نقل کراکر میں نے انکی خدمت میں نظر ثانی کے لیے بھیجا تھا مگر مولانا اس کے لیے وقت نہیں نکال سکے مجبوراً میں نے تقریر کو اسلوب تحریری دے کراپنی کتاب” مدارس اسلامیہ میں منصب تدریس اور طریقہ تدریس”میں شامل کردیا تھا، جو مطبوعہ شکل میں موجود ہے، یہ آخری ملاقات تھی جو آمنے سامنے مولانا سے ہوئی، اس کے بعد پھر کوئی ملاقات یاد نہیں ہے، حالانکہ ابھی کوئی چار ماہ قبل وہ  بہار آئے تھےجو  ان کا آخری سفر بن گیا ۔

میرا فون پر آخری بار رابطہ ان سے ٢٠١٩ء میں ہوا تھا، ان کی لڑکی کا رشتہ چکنوٹہ ویشالی کے ایک خاندان میں لگا تھا، وہ لوگ مقیم تو دہلی میں تھے؛لیکن رہنے والے ویشالی کے تھے، مولانا نے بغرض تحقیق مجھے فون کیا، اور فرمایا: کہ جب بھی آپ کو فون کرتا ہوں، کوئی نہ کوئی غرض اپنی شامل ہوجاتی ہے، پھر انہوں نے میرے ذمہ تحقیق کا کام کیا، میں نے تحقیق کے بعد حضرت کو خبر دی؛چنانچہ یہ رشتہ پائہ تکمیل کو پہونچا، مولانا نے اس کے لیے شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ جب بھی ادھر آیا ، آپ کے گھر ضرورآؤں گا، مولانا کا ادھر کا سفر نہیں ہوا، محرومی میرا مقدر ر ہی اور مولانا نے رخت سفر باندھ لیا، اب ملاقات قیامت ہی میں ممکن ہے، اللہ مولانا مرحوم کو بہتر بدلہ عطا فرمائے۔سیئات سے درگذر فرماۓ اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے؛جہاں تک جدائی کے صدمہ کی بات ہے تو حقیقت یہ ہے کہ

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ

9431003131

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

مفتی محمد ثنا الہدی قاسمیمولانا نور عالم خلیل الامینی
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
موجودہ حالات میں مدارس اسلامیہ کاتعاون انتہائی ضروری! – انوارالحق قاسمی ،نیپالی
اگلی پوسٹ
آ کہ پھر لوٹ چلیں ہم – اکملؔ نذیر

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

1 comment

حاصل رمضان - محمد اکرام الحق ندوی - Adbi Miras مئی 11, 2021 - 8:27 شام

[…] فکر و عمل […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں