غزل اردو کی سب سے مقبول صنف شاعری ہے. غزل کی یہ خوبی ہے کہ وہ بہت جلد قاری کے ذہن و دل میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے.. غزلیہ شاعری کی بات کریں تو جدید شعراء میں عالم خورشید کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے.. عالم خورشید دبستان آرہ سے تعلق رکھنے والے نئی نسل کے مشہور و معروف شاعر ہیں.. آرہ کی زمین ادب اور شاعری کے لیے ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے اور ایسے ایسے اردو ادب کے جیالے پیدا کئے ہیں کہ جن کے ذکر کے بغیر اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی… .بہار کی تاریخ میں دبستان آرہ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے….. موجودہ ادبی منظر نامے کی بات کریں تو بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ مشرف عالم ذوقی، عالم خورشید، نعمان شوق، تبسم فاطمہ، صغیر رحمانی، جنید عالم آروی، شین حیات اور عالمگیر ساحل کا تعلق آرہ شہر سے ہے اور جو موجودہ عالمی منظر نامے پر اس شہر کی نمائندگی الگ الگ شہروں سے کر رہے ہیں اور ادب کے حوالے سے اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں…
زیر مطالعہ کتاب "نہ یہ بستی ہماری نہ وہ صحرا ہمارا” عالم خورشید کا تازہ شعری مجموعہ ہے اس سے پہلے ان کے چھ شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں اور ہر خاص و عام میں مقبولیت بھی حاصل کر چکے ہیں.. عالم خورشید اپنے مجموعے میں…. میں اور میری شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ "مختلف حالات نے میرے ذہن و دل پر جو اثرات مرتب کیے اس کا فطری اظہار میری شاعری ہے.. میں نے احساسات کے اظہار میں کسی سکہ بند نظرئیے کو رکاوٹ نہ بننے دوں بلکہ حرف حقائق اور سچائی کا دامن تھام کر آزادانہ طور پر جو محسوس کروں وہی لکھوں..”یہ حرف بہ حرف سچ ہے کہ عالم خورشید نے اپنے ارد گرد جو دیکھا اور محسوس کیا اسے اپنے شعری قالب میں ڈھال دیا اگر آپ ان کے اشعار کا مطالعہ کریں گے تو محسوس ہوگا کہ جیسے انہوں نے ہمارے دل کی بات کو ہی اپنا شعری پیرہن عطا کیا ہے اس ضمن چند اشعار ملاحظہ فرمائیں..
آج اس کی رفاقت پہ بہت ناز ہے تم کو
کل تم ہی کہو گے کہ پرائی ہوئی دنیا
اداس ہو گئے اک پل میں شادماں چہرے
مرے لبوں پہ ذرا سی ہنسی کے آنے سے
کتنے بے خوف تھے دریا کی روانی میں ہم
کوئی اندازہ نہ تھا جب ہمیں گہرائی کا
اے مری جمہوریت تیری کہانی ہے عجیب
قابل نفرت ہیں جو وہ صاحب دستار ہیں
عالم خورشید کی شاعری کا محور زندگی ہے ان کی شاعری میں زندگی کی عکس دکھائی دیتی ہے.. وہ اپنی غزلوں میں زندگی کے تجربات اور حقائق کو پیش کرتے ہیں… اس حوالے سے چند اشعار دیکھیں
کبھی نہ کھل کے ملی ہم سے زندگی عالم
نہ جانے کیوں وہ ہمیشہ کھینچی کھینچی ہی رہی
کچھ نظر آتا نہیں اپنی ضرورت کی سوا
زندگی لگتی ہے اب درہم و دینار ہمیں
زندگی تماشا ہے اور اس تماشے میں
کھیل ہم بگاڑینگے کھیل کو بنانے میں
زندگی سے ہوئی شناسائی
اتنی تاثیر تو ادب میں ہے
خوبصورت ہے زندگی لیکن
زندگی معتبر نہیں ہوتی
ایک طرف جہاں ان کی شاعری میں یاس اور مایوسی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے تو وہیں دوسری طرف وہ جوش اور ولولہ بھی پیدا کرتے دکھائی دیتے ہیں.. ایک جنوئین شاعر کو ہر طرح کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے….اشعار دیکھیں
تب تب میں اشعار کے پھول کھلاتا ہوں
جب جب مجھ کو دل کی مٹی گیلی لگتی ہے
آنکھوں میں حسیں خواب تو ہیں آج بھی لیکن
تعبیر سے اب کوئی سروکار نہیں ہے
مجھے بھی شوق ہے دنیا کو زیر کرنے کا
تو اپنے آپ کو تسخیر کر رہا ہوں میں
اپنے ہونے کے گماں نے ہمیں ثابت رکھا
ورنہ طوفان کے ریلے میں بکھر جاتے ہم
عالم خورشید نرم اور دھیمے لہجے کے شاعر ہیں ان کی شاعری میں جہاں زبان کی سادگی پائی جاتی ہے وہیں تسلسل اور روانی بھی ان کی غزلوں کو پر کشش بناتی ہے وہ سیدھے سادے الفاظ میں بڑی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں بغیر کسی تصنع اور بناوٹ کے اپنی بات دلوں تک پہنچا دیتے ہیں کیونکہ عالم خورشید دماغ سے نہیں دل سے شاعری کرتے ہیں اور جو دل سے شاعری کرتے ہیں وہ قاری کے ذہن نہیں بلکہ سیدھے دل میں اتر جاتے ہیں…ہم امید کرتے ہیں کہ اسی طرح ان کے احساسات کو ان کی شاعری کے حوالے سے ہم محسوس کرتے رہیں گے آخر میں ان کے کچھ اشعار پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں ….
ہر روز پوچھتی ہیں مرے گھر کی کھڑکیاں
اتریں گے کب زمیں پہ ستارے ہمارے خواب
تپتے سفر میں سائے کی صورت ہر ایک پل
چلتے ہیں ساتھ آج بھی سارے ہمارے خواب
کاش تعبیر کی راہوں سے نہ بھٹکیں عالم
بجھتی آنکھوں میں لئے خواب جگاتے ہوئے لوگ
✍️اصغر شمیم
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Bahut umda