سیاست کے اعتبار سے ادبی انعامات کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ سرکاری انعام، غیر سرکاری انعام اور نوبل انعام۔ ان تینوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں مگر آخر الذکر کی خوبی یہ ہے کہ یہ جس کو نہیں ملتا ہے وہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اسے کیوں نہیں ملا جبکہ جس کو ملتا ہے و بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ آخر اس کو یہ انعام کیوں کر مل گیا اور جو سب سے بڑی خصوصیت اس انعام کی ہے وہ یہ کہ جب بھی اس کا اعلان ہوتا ہے توپورا عالمی ادب حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ ایسا کیونکر ہو گیا۔
ـ’میں اس انعام سے نوازے جانے پر حیرت زدہ ہوں کیون کہ علمی صلاحیت کے اعتبار سے چینی مصنفین میں میرا قد بہت بڑا نہیں ‘ نوبل انعام برائے ادب سے نوازے جانے کے بعد مو یان نے بہت ہی نپے تلے انداز میں اپنا ردّ عمل ظاہر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ، ’ادب کا نوبل انعام ادبی دنیا کا ایک اہم انعام ہے تاہم یہ ایک اعلیٰ ترین اوارڈ نہیں، یہ جیوری کی رائے کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں اپنی عمدہ کار کردگی سے مطمئین ہوں اور ابھی بھی ہاتھ سے لکھتا رہتا ہوں۔
نوبل انعام برائے ادب 2012 کی دوڑ میں اگلی صف میں جو لوگ تھے ان میں جاپان کے ہاروکی موراکامی کی دعویداری سب سے مضبوط تسلیم کی جا رہی تھی۔2011 میں بھی وہ ایک مضبوط دعویدار تھے مگر اس وقت ان کی بد قسمتی یہ رہی کہ سویڈش اکیڈمی نے اپنے شہری کو ترجیح دے دی۔ اس دفعہ چونکہ نوبل کمیٹی کو ایشیا کے ساتھ بد دیانتی کرنے کا داغ دھونا تھا اس لیے موراکامی کی امید زیادہ لگ رہی تھی۔ان کے علاوہ جو لوگ دوڑ میں شامل تھے ان میں امریکی ناول نگار فلپ روتھ، کنیڈا کی الیس منرو اور صومالیہ کے نورالدین فرح جن کی اعلیٰ تعلیم پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ میں ہوئی ہے اور عرصہ دراز تک وہ ہندوستان میں مقیم رہے ہیں۔ان کے علاوہ ہندوستان سے ڈاکٹر راجندر بھنڈاری جو نیپالی زبان میں لکھتے ہیں اور مہا شویتا دیوی جو بنگالی زبان کی مشہور قلمکار ہیں کے نام بھی سامنے آرہے تھے۔
پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی ایسے چینی شہری کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے جو وہاں کی سرکار کا نکتہ چیں نہیں۔موصوف کی شخصیت ایک فکشن نگار کی حیثیت سے چین کی سر زمین پر مستحکم ہے۔ نوبل انعام کمیٹی ،اس کے ضابطوں اور محرکات سے عالمی ادب کی سوجھ بوجھ رکھنے والے حضرات بخوبی واقف ہیں کہ اس انعام کے مستحقین کامیزان کیا ہوتا ہے۔ اب اس دفعہ سویڈش اکیڈمی نے کیا گل کھلایا یہ معلوم کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہمارے پاس جناب مو یان سے متعلق کچھ معلومات موجود ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں راجندر یادو :نئی کہانی کا روحِ رواں -ڈاکٹر انوار الحق )
مو یان ان کا اصل نام نہیں یہ ان کا قلمی نام ہے ان کا اصل نام گوان موئے ہے۔ ان کے قلمی نام کا مطلب ہے ’مت بولو‘ ان کی پیدائش ۱۷؍فروری ۱۹۵۵ میںچین میں ہوئی۔ انہوں نے اپنا پہلا ناول Falling Rain on a Spring Night کے عنوان سے تحریر کیا لیکن ان کو شہرت Red Shorgum سے ملی جس پر بنی فلم چین میں بے حد مقبول ہوئی۔Red Shorgum پہلی مرتبہ 1987میں چینی زبان میں شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔اس کا انگریزی ترجمہ چھ سال بعد یعنی 1993 میں منظر عام پر آیا۔ یہ ناول پانچ ابواب پر مشتمل ہے”Sorghum Wine” "Sorghum Funeral” "Dog Road” "The Odd Dead” او ر”Red Sorghu
sorghum جوار کی فصل کو کہتے ہیں۔ اس ناول میں جاپانیوں کے خلاف جنگ کی کہانی قلمبند کی گئی ہے۔ جنگی جرائم ، اور جنگ کے اصولوں پربات نہ کرتے ہوئے جنگ کے حالات کو کچھ اس طرح دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے انسان کے لالچی اور بدعنوان ہونے اور اس کے لیے کچھ بھی کر گذرنے کی صفت کو کچھ اس طرح سے پیش کیا گیا ہے کہ قاری کے دل کو چھو جائے۔ اس کا ہیرو کوئی فوجی کمانڈر نہیں بلکہ ایک ڈاکو ہے جو غریبی اور بھوک کی وجہ کر ڈاکو بن جاتا ہے۔ جاپانی حملہ آوروں کے خلاف ہونے والی جنگ کی یہ کہانی جاپانیوں کے ظلم و زیادتی کی داستان سناتی ہے۔اس کہانی کا ہیروایک غریب خاندان میں 1899 میں پیدا ہوتا ہے۔ ہیرو ڈاکو بننے سے پہلے شادی اور تجہیز و تکفین کی خدمت انجام دینے والی کمپنی چلاتا ہے اور بعد میں وہ ڈاکو بن جاتا ہے اورپھر آخر کار وہ ’آئرن سوسائیٹی ‘ سے منسلک ہو جاتا ہے اور پھر اسے جاپانی حملہ آوروں کے خلاف ایک مورچہ کی قیادت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ناول کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں شروع ہی سے ہیرو جینے کے لیے جد و جہد کرتا رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی زندگی خطرہ میں نظر آتی ہے۔ اس ناول کی کہانی کا راوی واحد متکم ہے اس لیے بیانیہ زوردار ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ایک بڑی پہیلی (ادب کا نوبل انعام 2011 )- ڈاکٹر انوار الحق )
بظاہر بہت مختلف معلوم ہونے والی مو یان کی کتاب Big Breasts & Wide Hips عورتوں کے مسائل پر مبنی ہے مگر اس کا پلاٹ بھی جاپانی حملہ وروں کے مظالم کی کہانی بیان کرتا ہے اور ساتھ ساتھ ایک عورت کی قربانیوں کا ذکر بھی بڑے پر اثر انداز سے جاری ہے۔ جس طرح ہندوستانی زبانوں میں تقسیم ملک ، جنگ آزادی اور ۱۸۵۷ کے غدر کی داستان اور اس درد کا بیان جو یہ واقعات اپنے پیچھے چھوڑ گئے تقریباََ ہر بڑے ناول نگار کے یہاں ملتا ہے ٹھیک اسی طرح مو یان کی بیشتر کہانیوں میں جاپانی حملہ آوروں سے ہونے والی جنگ اور اس کے اثر سے مچی تباہی کا بیان مو یان کی ناولوں کا خاصہ ہے۔ Big Breasts & Wide Hips تھوڑا الگ اس لیے ہے کہ اس میں اس ماں کے ڈاخلی جذبات اور خارجی حالات کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک عورت کی زندگی کی جد و جہد اور قربانیوں کا قوی احساس قاری کو یہ ناول پڑھتے وقت ہوتا ہے۔ اس ناول میں ایک ماں ہے جس کی کل نو اولاد ہیں ، جن میں آٹھ لڑکیاں ہیں اور ایک لڑکا ہے۔ یہی لڑکا اس کہانی کا راوی ہے۔ یہ ناول کل سات ابواب پر مشتمل ہے۔ ۱۹۳۰ میں ہونے والے جاپانی حملہ، ملک کی خانہ جنگی اور تہذیبی انقلاب کی بابت ذکر اس ناول میں پر اثر طریقہ سے کیا گیا ہے۔ مویان کی اس کتاب پر ان کو فکشن پر دیے جانے والے چین کے سب سے اہم انعام سے نوازا جا چکا ہے۔ جنسی کھلے پن اور فحاشی کے الزام میں اس کتاب کو کئی دفعہ پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ان کتابوں کے علاوہ مو یان کی دیگر تصانیف بھی معرۃالآرا تصانیف ہیں۔ ان کو نوبل انعام سے نوازے جانے کی جو وجہ بتائی گئی ہے اس میں سب سے بڑی وجہ ان کے Halucinatory Realism کو قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے موہوم حقیقت نگاری بہت خوب کی ہے مگر ایسا نہیں کہ اس فن میں وہی اکیلے یکتا تھے۔ اور یہ کوئی معقول وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی۔کسی قلمکار کی تخلیق کو محض اس وجہ سے اعلی یا ادنیٰ نہیں قرار دیا جا سکتا کہ وہ کسی مخصوص اسلوب میں مہارت رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے اس مخصوص اسلوب میں جو فن پارے اس نے تخلیق کیے ہیں ان فن پاروں کو فن اور فکر کی کسوٹی پر کتنا کھرا پایا جاتا ہے اور پھر اس کا تقابل دنیا کے دیگر قلمکاروں کے تحریر کردہ فن پاروں سے کر کہ اس کا مقام متعین کیا جاتا ہے اور پھر یہ کہنے کا حق ہمیں حاصل ہوگا کہ کون اس انعام کے لائق قرار پاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ایسا نہیں کیا جاتااور یونہی کسی کو بھی کسی بھی بنیاد پر اس انعام سے نواز دیا جاتا ہے تو اس طرح انعام اپنا وقار کھوتا چلا جاتا ہے۔
آئیے سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ Halucinatory Realism کیا ہوتا ہے۔ Realism لفظ کا استعمال مختلف فلسفیانہ دھاروں کے لیے اصطلاح کے طور پر کیا جاتا ہے۔اس کا اردو ترجمہ ہم ’حقیقت نگاری‘ کر سکتے ہیں۔ علوم کے مختلف میدانوں میں یہ اصطلاح رائج رہی ہے۔ سائینس کا شعبہ ہو یا سماجیات کا، مصوری کا شعبہ ہو یا ادب کا ہر جگہ اس اصطلاح کا استعمال ہوا ہے۔سائنسی تھیوری کے اطلاق کے لیے سائینسدانوں نے Scientific realism کی اصطلاح کا استعمال کیا۔ اسی طرح سماجی اور سیاسی اصلاحات کی تعلیم دینے والوں نے جہاں ایک طرف Left Realism, Right Realism, Socio-Political Realism, Classic Realism, Liberal Realism, Defensive Realism, اور Post-Realism جیسی اصطلاحوں کا استعمال کیا تو وہیں دوسری طرف فنونِ لطیفہ میں حقیقت نگاری کے لیے Photo Realism, Hyper Realism, Pseudo Realism وغیرہ اصطلاحات کا استعمال ہوا۔ ظاہر ہے ادب بھی فنونِ لطیفہ ہے اس لیے اس طرح کی اصطلاحات مختلف قسم کی حقیقت نگاری کے لیے یہاں بھی رائج ہوئیں ۔ادب میں پیر ریستانی Pierre Restany نے New Realism کی بنیاد 1960 میں ڈالی۔Ayn Rand نے Romantic Realism کی اصطلاح کو مقبولیت دی۔ ایلی سیگل Eli Siegel نے Aesthetic Realism کا فلسفہ دیا۔ اشتراکیت کا پروپگنڈا کرنے کے لیے Social Realism وجود میں آیا ۔ اور پھر اسی طرح ادب میں سائینس فکشن کا زور ہوا اور Magic Realism کی اصطلاح رائج ہوئی۔
یہ ساری باتیں ہو گئیں Realism کی۔ اب بات کرتے ہیںHallucinatory کی ۔ در اصل یہ لفظ ماخوذ ہے لفظ Hallucination سے۔ یہ ایک طبّی اصطلاح ہے۔ یہ ایک کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان وہ محسوس کرتا ہے جو اصل میں ہوتا نہیں ہے مثلاََ اس کو کسی کے بولنے کی آواز بار بار آتی وہ اور وہ شخص اصل میں وہاں موجود نہ ہو یازمانہ پہلے مر چکا ہو۔ یا اس کو اپنی جلد پر ہر وقت کسی کیڑے کے رینگنے کا احساس ہوتا ہو یا پھر اس کے کان میں کو ئی دھن لگاتار بجتی رہتی ہویا قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے جبکہ دور دور تک وہاں پر کسی کے چلنے کا امکان بھی نہیں۔ ان سب باتوں کا تعلق حقیقت سے نہیں ہوتا یہ محض ایک دھوکا ایک وہم ہوتا ہے۔ اب طبی اصطلاح سے الگ ادبی اصطلاح کے طور پر ہم Hallucinatory Realism یا موہوم حقیقت نگاری کی بات کریں تو یہ اس طرح کا ادب ہے جس میں ان کیفیات کو بنیاد بنا کر ادب تخلیق کیا جاتا ہے اور اگر مندرجہ بالا کیفیات بنیاد نہ بھی ہوں تو ان میں ان معاملات کو برتا گیا ہوتا ہے۔ادب میں موہوم حقیقت نگاری کی اصطلاح ستّر کی دہائی سے شروع ہوئی۔Magic Realism جادوئی حقیقت نگاری اور موہوم حقیقت نگاری میں صرف اتنا فرق ہے کہ جادوئی حقیقت نگاری کا تعلق خواب کی حالت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
موہوم حقیقت نگاری کی مثالیں مو یان سے پہلےPeter Carey کے ناول My Life as a Fake اور Kevin Baker کے ناول Paradise Alley میں بھی ملتی ہیں ۔ اردو میں موہوم حقیقت نگاری کی مثال قرۃالعین حیدر کے ناول چاندنی بیگم میں ایک کردار کے ذریعہ پیش کی گئی ہے جہاں موت سے پہلے لٹل سرایکو اس کے کان میں جو کچھ کہتا ہے وہ اصل میں رونما ہو جاتی ہے۔
مو یان کی کتاب Red Sorghum کی ابتدا کا ایک اقتباس یہاں دینا مناسب معلوم ہوتا ہے باوجود اس کے کہ یہ ترجمہ ہے ۔اصل تو چینی زبان میں ہے ، ملاحظہ کیجیے:
The ninth day of the eighth lunar month, 1939. My father, a bandit’s offspring, who has passed his fifteenth birthday, was joining the forces of commander Yu Zhan’au, a man destined to become a legendary Hero, to ambush a japanese convoy on the Jiao-ping high way. Grandma, a padded jacket over her shoulders, saw them to the edge of the village "Stop here,” Commander Yu ordered her. She stopped.
Douguan, mind your foster-dad,” She told my father. The sight of her large frame and the warm fragrance of her lined jacket chilled him. He shivered. His stomach growled.
Commander Yu patted him on the head and said, "Let’s go, foster-son.”
Heaven and earth were in turmoil, the view was blurred. By then the soldiers’ muffled footsteps had moved far down the road. Father could still hear them, but a curtain of blue mist obscured the men themselves.”
موہوم حقیقت نگاری کی ترکیب متضاد معلوم ہوتی ہے۔ موہوم کا مطلب ہی ہے کہ کوئی شئے جس کا وجود ہی نہیں اور پھر اس کی حقیقت نگاری کا کیا مطلب ہے؟بالکل در اصل یہ ترکیب اپنے اصل میں بھی یعنی سوِس زبان میں بھی جہاں سے یہ ماخوذ ہے ، متضاد (Oximoran) ہے۔ جب اس اصطلاح کا ترجمہ انگریزی میں ہوا تو اس کے لیے Hallucinatory Realism استعمال کیا گیا اور یہ یہاں بھی یعنی انگریزی میں بھی متضاد ہے۔ در اصل اصطلاح وضع کرتے وقت ہم الفاظ کے حقیقی معنی سے اسکے اصل کو جوڑ کر دیکھیں ایسا کوئی ضروری نہیں۔ عام الفاظ میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ جب موہوم کیفیات کو اس طرح قلمبند کیا جائے کہ وہ حقیقی معلوم ہوں تو اس کو ہم موہوم حقیقت نگاری کہہ سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا موہوم حقیقت نگاری نوبل انعام کے لیے واحد جواز ہو سکتی ہے؟ اگر ہم ہاں کہیں تو پھر 2011 کے نوبل انعام کے لیے مو یان کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا ٹامس ٹرانس ٹرامر نے اس طرح کے کسی خاص فلسفیانہ قلمکاری کا مظاہرہ کیا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ چونکہ ٹرانس ٹرامر کا تعلق سویڈن سے تھا اس لیے ان کو ادب کے نوبل انعام 2011 سے نوازا گیا اور چونکہ اس دفعہ کوئی ایسا مضبوط امید وار سویڈن سے نہیں تھا اور پچھلے نوبل اکیڈمی پر جم کر یوروپ نوازی کا الزام لگا اس لیے نوبل کمیٹی نے یہ فیصلہ لیا؟ یا پھر یہ کہ اس دفعہ امن کا نوبل انعام یوروپ نوازی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے یوروپی اتحاد کو دینا تھا اس لیے توازن برابر کرنے کے لیے ایک ایشیائی ادیب کو ادب کا نوبل انعام دے دیا گیا، ظاہر ہے سوِس اکیڈمی کے لیے یقیناََ ان سوالوں کا جواب دینا بے حد مشکل ہوگا۔
نوبل کی دوڑ میں جو دوسرے لوگ تھے اگر ہم ان کے ادبی سفر پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں یہ طے کرنا آسان ہو جائیگا کہ مو یان نوبل انعام کے کتنے حقدار تھے۔ امریکہ کے نیشنل بُک اوارڈ برائے فکشن سے نوازے گئے ادیب فلپ روتھ(Phlip Roth) پہلا ناولٹGood Bye Colombus جب 1959 میں منظرِ ؑام پر آیا تو انہیں اپنے ناول میں امریکی یہودی زندگی کا طنز و مزاح سے بھر پور نقشہ کھینچنے اور ایک خوبصورت ناول تخلیق کرنے کی پاداش میں امریکہ میں بہت شہرت ملی۔مو یان کی طرح ہی جنسی اظہار کے لیے جناب روتھ کی کتاب کو بھی تنازعہ کا سامنا کرنا پڑا۔ بلکہ مویان نے تو محض جنسی اظہار کی سزا بھگتی تھی جبکہ روتھ نے اپنے ناول میں جم کر گالی گلوج کا بھی استعمال کیا تھا۔ باوجود متعدد تنازعات کے روتھ کو امریکہ میں اپنی نسل کے موقر ترین مصنف ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ روتھ کو مین بوکر پرائز کے علاوہ تین درجن سے زائد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ روتھ کے چار ناولوں پر فلمیں بنیں جو بے حد کامیاب رہیں۔اسی سال روتھ کو Prince of Austrias کے انعام برائے ادب سے نوازا گیا ہے۔ پچھلے پچاس سالوں سے وہ ادبی شاہکار کی تخلیقات میں مصروف ہیں۔ فلب روتھ کی پیدائش1933 میں امریکہ میں ہوئی اور آج کل وہ نیوارک نیو جرسی میں مقیم ہیں۔
فلپ روتھ کے علاوہ جو لوگ نوبل انعام کے امیدوار تھے ان میں دوسرے مضبوط دعویدار جاپان کے ہاروکی مورا کامی تسلیم کیے جا رہے تھے۔ ان کے نوبل انعام حاصل کرنے کی امید ان کے چاہنے والوں میں اتنی زیادہ تھی کہ ٹوکیو میں ایک بار نے اپنی تمام شاخوں پر نوبل انعام کے اعلان سے پہلے ’ہاروکیوں‘ کی بھیڑ یکجا کی اور وہاں ہاروکی موراکامی کے ناولوں ، اور ان کی فریم کی ہوئی تصویروں کی نمائش لگائی اور ایک بڑے اسکرین کا انتظام کیا تاکہ موراکامی کو نوبل انعام لیتے ہوئے دیکھ کر اس کا جشن منایا جا سکے اور جشن کی تیاری کے لیے شراب کی بوتلیں پہلے ہی سے جمع کر لی گئیں اور جشن کے سارے انتظام پہلے سے کیے جا چکے تھے۔ ایسا نظارہ عام طور سے کرکٹ اور فٹبال کے ورلڈ کپ فائینل میں ہوا کرتا ہے۔ آخر کار جب نوبل انعام کا اعلان ہو ا تو وہاں جمع تمام لوگوں کے چہرے اتر گئے اور ان دلبرداشتہ لوگوں نے یہ کہہ کر خود کو سمجھا لیا کہ چلو اس دفعہ کم سے کم کسی ایشیائی کو تو ملا۔
ویسے تو ہاروکی موراکامی کو ایک سچے فکشن نگار کی طرح انعامات اور اعزازات کی کبھی پروا نہیں رہی۔مگر نوبل انعام کی قوی امید ان کے چاہنے والوں کو تھی نوبل انعام کے سلسلے میں جب ان کے ایک دوست نے ان سے اس کیاعلان سے پہلے ان سے اس متعلق گفتگو کی تو ان کا یہ خیال بھی بے نیازی سے پر تھا جس میں انہوں نے کہا کہ نہیں ان کو جو چاہیے وہ ان کے فکشن کے قارئین جو بڑی تعداد میں جاپان میں موجود ہیں ، یہی ان کے لیے سب سے بڑا انعام ہے ۔ اس کے علاوہ انہیں کسی انعام کی خواہش نہیں ۔ ملاحظہ کیجیے ان کے انٹرویو کا یہ حصہ:
“Every book I publish,” he noted, “even before it is promoted or reviewed, it sells three hundred thousand copies in Japan. Those are my readers. If you’re a writer and you have readers, you have everything. You don’t need critics or reviews.” When I asked him about the possibility of being awarded the Nobel Prize, he laughed. “No, I don’t want prizes. That means you are finished”
/www.newyorker.com/online/blogs/
(ترجمہ: ’’میری کوئی بھی کتاب شائع ہوتی ہے‘ ‘، انہوں نے کہا ’’اس سے قبل کہ اس کا تبصرہ ہو یا اس کو مشتہر کیا جائے جاپان میں اس کی تین لاکھ کاپیاں بک جاتی ہیں ۔ یہ ہیں ہمارے قارئین۔اگر آپ قلمکار ہیں اور آپ کے قارئین کی ایک تعداد موجود ہے ، تو آپ کے پاس سب کچھ ہے۔ اور ایسی حالت میں آپ کو نہ ناقد ین کی ضرورت ہے نہ تبصروں کی‘‘۔جب ہم نے ان سے نوبل انعام سے نوازے جانے کی امید کے متعلق بات کی تو وہ ہنسے ’’نہیں، میں انعامات کا خواہشمند نہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اب آپ کا کام تمام ہو چکا۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں جمیل مظہری کی نظم’ مہجوری‘ کا تجزیہ – ڈاکٹر انوار الحق )
ان کے انٹرویو کا یہ حصہ نوبل انعام کے اعلان کے چند دنوںبعد The Harukists, Disappointed کے عنوان سے The New Yorker کے بلاگ سیکشن میں سولہ اکتوبر ۲۰۱۲ کو شائع ہو تھا۔
ان کی بے نیازی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا آپ کے لیے مشکل نہیں کہ ان کو نوبل انعام سے کیوں نہیں نوازا گیا۔ نوبل انعام کے لیے نامزد کیے گئے لوگوں میں ہاروکی مورا کامی اور روتھ فلپ ظاہر ہے مو یان سے کہیں زیادہ مقبول مصنفین ہیں۔ اور یہ فہرست یہں پر ختم نہیں ہوتی ۔ صومالیہ کے نورالدین فرح بھی ان چند امیدواروں میں شامل ہیں جن کی نامزدگی نوبل انعام کے لیے متعدد دفعہ ہو چکی ہے مگر اس انعام سے نوازے جانے کا انہیں شرف حاصل نہیں ہوا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ادب میں فلسفہ کی ڈگری حاصل کرنے کے دوران انہوں نے ایک ناول لکھا جس میں ایک ایسی خانہ بدوش لڑکی کی زندگی کی کہانی ہے جو اپنے والدین کے ذریعہ طے کی گئی شادی سے ناخوش ہوتی ہے ۔ اس کی شادی ایک معمر شخص سے کرائی جا رہی ہوتی ہے۔ وہ منڈپ سے اٹھ کر بھاگ جاتی ہے ۔ یہ کہانی انہوں نے صومالی زبان میں لکھی تھی ۔یہ ان کا پہلا ناول تھا اس کے بعد وہ انگریزی کی طرف راغب ہوئے1976 میں یعنی پہلے ناول کے چھ سال بعد جب ان کا دوسرا ناولA Naked Needle شائع ہو ا تو فرح کو متنبہ کیا گیا کہ صومالیہ حکومت انہیں گرفتار کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ان دنوں وہ یوروپ میں مقیم تھے۔ انہوں نے کبھی صومالیہ واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا اور خود کو خود ہی جلا وطن کر دیا۔ نورالدین فرح نے ہندوستان میں رہائش کے زمانے میں انہوں نے بنگلور میں شادی کر لی۔ ابھی وہ کیپ ٹائون ، جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں۔ ان کے تمام ناولوں کے پلاٹ اور کردار کی جغرافیائی حد افریقہ ہے۔ ان کی اب تک کل پندرہ تصنیفات منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں تین’ ٹریلوجی‘ ہے۔ ٹریلوجی کا مطلب ہے تین کتابوں کی سلسلہ وار کڑیاں۔کہانیاں کہنے اور کہانیاں بنانے کا ہنر ان کو اپنی ماں سے وراثت میں ملا تھا۔ وہ مختلف ملکوں میں بیس سال بسر کرنے کے بعد جب 1996 میں صومالیہ واپس ہوئے تو صومالیہ کی تصویر بدل چکی تھی۔ ان کو صومالیہ راس نہیں آیا اور انہوں نے کیپ ٹاون کا رخ کیا۔ ان کے لکھنے کا مقصد ان کی زبان میں ’’اپنے ملک کو اس کے بارے میں مسلسل لکھ کر زندہ رکھنا‘‘ ہے۔ صومالیہ میں ہو رہی خونیں جنگیں اور جھڑپیں ، وہاں کی تہذیبی اساس، اسلام سے پہلے صومالیہ کے حالات ان کے ناولوں کا محبوب موضوع رہے ہیں۔ ان کا ناولMaps میں آزادی کے بعد صومالیہ میں تہذیب کی غیر یقینی صورتِ حال، عورتوں کے حقوق اور غریب اور امیر ممالک کے ما بین رشتے اور ان کی داخلی کیفیات اور پوشیدہ درد کا پر اثر بیان ان کے اس ناول کو دنیا کے چند بہترین ناولوں میں شامل کر دیتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ایک بڑی پہیلی (ادب کا نوبل انعام 2011 )- ڈاکٹر انوار الحق )
فرح کو اٹلی کا Premio Cavour اوارڈ، سویڈین کا Kurt Tucholsky Prize اور زمبابوے کا prize for the best novel مل چکا ہے۔St. Malo Literature Festival’s prize.ان کے ناول Gifts کے فرانسیسی ترجمہ کو مل چکا ہے۔ ان کے تمام ناولوں کا دنیا کی ۱۷؍ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔رپورتاژ کے فن کے لیے انہیں Lettre Ulisses Award for the Art of Repotage سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
اس سال نوبل انعام کے لیے دنیا کی دو بے حد اہم ادیبہ عورتوں کا بھی انتخاب کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک کینیڈا کی الیس منرو Alice Ann Munro ہیں۔ منرو کی پیدائش ۱۰، جولائی ۱۹۳۱؍ کو ہوئی۔ان کی ماں ایک اسکول میں تعلیم وتعلم کی خدمات انجام دیتی تھیں جبکہ ان کے واکہ والد لومڑی اور مر غیاں پالتے تھے۔ منرو کا پہلا مختصر افسانوں کے مجموعہ Dance of the Happy Shades (1968)کو کافی شہرت ملی اور اس مجموعہ کے لیے ان کو کینیڈا کے سب سے بڑے ادبی انعام Governor General’s Awardسے نوازا گیا۔ اس کے بعد ان کی دو مشہور کتابیں جن کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ناول ہیں یا افسانے،Lives of Girls and Women (1971) اور Who Do You Think You Are? شائع ہوئے۔ در اصل ان میں کہانیا ں اس طریقہ سے لکھی گئیں کے وہ ایک دوسرے سے فن اور فکر دونوں لحاظ سے ایک دوسرے سے مربوط تھیں اور اگر انہیں الگ الگ پڑھا جائے تو بھی یہ دلچسپ ہیں۔ اگر انہیں ایک ساتھ پڑھا جائے تو یہ ایک عمدہ ناول کے خانے میں رکھے جا سکتے ہیں اور اگر انہیں الگ الگ کر دیا جائے تو یہ بے حد خوب صورت افسانے ہیں۔ منرو کی کہانیوں کا تقابل ہمیشہ دنیا کے بڑے افسانہ نگاروں کی تخلیقات سے کیا جاتا رہا ہے۔ ان کی تازہ ترین تصنیف Dear Life اسی سال شائع ہوئی ہے۔ یہ بھی ان کی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ان کی طبیعت آج کل بے حد خراب ہے۔
ان کے علاوہ ہندوستان سے جن دو ادیبوں کی دعویداری مضبوط تھی ان میں مہاشویتا دیوی اور راجندر بھنڈاری کے نام اہم ہیں۔ مہاشویتا دیوی چودہ جنوری ۱۹۲۶ میں ڈھاکہ بنگال میں پیدا ہوئیں۔ ادب انکو اپنے والدین سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد منیش گھٹک اور ان کی ماں دھریتری دیوی دونوں شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی ماں کی شہرت سماجی کارکن کی حیثیت سے زیادہ تھی۔ مہاشویتا دیوی خود بھی ہندوستان کے چند چنندہ سماجی کارکنوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم کا استعمال ہمیشہ غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے کیا۔ ہندوستان کے تقریباََ تمام بڑے ادبی انعامات سے ان کو نوازا جا چکا ہے۔ساہتیہ اکادمی اوارڈ، گیان پیٹھ اوارڈ، پدم بھوشن ، بنگا ویبھوشن یہاں تک کے ایشیا کا سب سے بڑا ادبی انعام Ramon Magsaysay Award بھی ان ۱۹۹۷ میں ان کے حصہ میں آ چکا ہے۔چھوا چھوت ، اور طبقاتی کشمکش کے خلاف انہوں نے ہمیشہ لکھا ۔ اپنی تخلیقات کے بارے میں ان کا ایک مشہور قول ہے:
I have always believed that the real history is made by ordinary people. I constantly come across the reappearance, in various forms, of folklore, ballads, myths and legends, carried by ordinary people across generations….The reason and inspiration for my writing are those people who are exploited and used, and yet do not accept defeat. For me, the endless source of ingredients for writing is in these amazingly, noble, suffering human beings. Why should I look for my raw material elsewhere, once I have started knowing them? Sometimes it seems to me that my writing is really their doing.
(ترجمہ: میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ تاریخ عام لوگوں سے بنتی ہے۔ بلا تفریق نسل مجھے مختلف، ہیئتیں، لوک گیت، لوک کتھائیں، دیو مالائیں اور داستانیں عام لوگوں کے ذریعہ پیش کی گئی ہیں۔۔۔میری تحریروں کی تحریک وہ لوگ ہیں جن کا استحصال کیا جاتا رہا ہے اور پھر بھی انہوں نے کبھی اپنی ہار قبول نہیں کی۔ یہ کمال کے نیک اور ستائے ہوئے لوگ میری تحریروں کے مواد کے لیے لا متناہی ذرائع کے طور پررہے ہیں۔)
تو یہ ہیں مہاشویتا دیوی کے خیالات جس کی ترجمانی ان کے ادبی کائینات میں ملتی ہے۔ اس طرح کے بہت سے مستحقین کو نوبل انعام سے محروم محض اس وجہ سے رکھا گیا کہ ان کے تعلقات نوبل کمیٹی کے جیوری ممبر سے اس طرح نہیں تھے جس طرح مو یا ن یا ان سے ماقبل نوبل حاصل کرنے والے حضرات کے تھے۔ ادبی دنیا میں سیاسی طور پر فعال نہ رہنے کی سزا کے طور پر حاشیے پر رہنے والیادیبوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔
نوبل انعام کا ملنا یا نہ ملنا پوری طرح سیاسی بساط پر منحصر ہوتاہے ۔ یہ اس بات کی دلیل قطعی نہیں ہو سکتی کہ جس کو نوبل انعام مل گیا وہ بڑا ادیب اور جس کو نہیں ملا وہ چھو ٹا ادیب ہے۔ ہاں البتہ اس انعام کا وقار ضرو رمجروح ہوتا ہے جب وہ مستحق کو نہیں دیا جاتا۔زمانہ دھیرے دھیرے یہ طے کر لیتا ہے کہ کون لائق و فائق ہے اور کون نہیں۔ در حقیقت اصل کامیابی ایک ادیب کی تب ہی ہوتی ہے جب اس کے پاس بقول مورا کامی قارئین کی ایک تعداد موجود ہو۔ پھراسے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ نہ ناقدین کی نہ تبصروں کی اور نہ ہی انعامات و اعزازات کی۔ سچ پوچھیے تو کبھی کبھی شخصیت اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ انعامات اور اعزازات کو ان شخصیتوں کی وجہ سے شہرت ملتی ہے۔
مہاتما گاندھی کو، یا پریم چند کو یا ابھی حال میں اردو میں قرۃالعین حیدر کو نوٍبل انعام نہیں دیا گیا تو کیا ان حضرات کے قد میں کوئی فرق آ گیا؟ بالکل نہیں ہاں البتہ نوبل کی بد نامی ضرور ہوئی۔ اسی طرح آنے والے زمانے میں بھی ایسے لوگ رہینگے جن پر ا
س زبان اور اس ادب کو فخر حاصل ہوگا جس کی وہ خدمت کر رہے ہونگے ۔ نوبل کمیٹی نے اگر انہیں وقت پر نہیں پہچانا تو یہ نوبل کمیٹی کی ہار ہوگی ان شخصیتوں کے قد میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آئے گا۔ ہندوستان میں روندرناتھ ٹیگور کو اگر نوبل انعام نہیں بھی ملا ہوتا تو ان کی ادبی صلاحیت اور انکا ادبی مقام وہی ہوتا جو آج ہے اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

