ہر سال اکتوبر میں ایک بڑی پہیلی یہ ہوتی ہے کہ اس سا ل نوبل انعام سے کس کو نوازا جائیگا۔ اس لیے نہیں کہ دیکھیں کہ کون اس کا حقدار ثابت ہوا بلکہ اس لیے کہ کس کا سیاسی دائو اس دفعہ نشانے پر بیٹھا ۔ اور کس نے کس کو پٹخنی دے دی۔ کاش کہ اس کا معیار خالص ادبی ہوتا! اور اس سال تو یہ انعام’ ایک بڑی پہیلی‘ ہی کو مدِّ نظر رکھ کر دیا گیا ہے۔ ایک بڑی پہیلی یعنی The Great Enigma یہ کلیات ہے تامس ٹرانس ٹرامر کی جن کو امسال کے نوبل انعام کا حقدار تسلیم کیا گیا ہے یہ کتاب ان کی تیرہ شعری مجموعوں کا مجموعہ ہے۔
ادب کے نوبل انعام ۲۰۱۱؍سے نوازے گئے بزرگ سویڈش شاعر تامس جویستا ٹرانسٹرامر کی پیدائش ۱۹۳۱ ء میں سویڈین کے’’ اسٹاک ہوم ‘‘میں ہوئی ۔ ٹرانسٹرامر کو نوبل انعام کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد سویڈن کے وزیر اعظم نے یہ اعلان کیا کہ ان کو ٹرانسٹرامر کے حصول پر بے حد خوشی ہے اور وہ فخر محسوس کر رہے ہیں، اور بھلا وہ ایسا کیوں نہ کریں ۱۹۷۴؍ کے بعد ایسا پہلی بار ہے کہ کسی سویڈن کے ادیب کو نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا ہے۔ اس بزرگ شاعر کی شاعری کا ترجمہ دنیا کی ساٹھ زبانوں میں ہو چکا ہے۔
نوبل یا اس طرح کے کسی بھی انعام کا ملنا کسی بھی ادیب کے لیے بے حد سود مند ثابت ہوتا ہے۔ راتوں رات بین الاقوامی بازار میں نوبل انعام یافتہ ادیب کی کتابوں کی لاکھو ں جلدیں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔ نوبل انعام کسی بھی ادیب کو ملنے والا دنیا کا سب سے بڑا انعام تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا نوبل انعام سے جس کو نوازا جاتا ہے وہ واقعی دنیا کا سب سے بڑا ادیب ہوتا ہے ؟ کیا یہاں محض اچھے ادب پارے کو ہی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے یا پھر دوسرے انعامات کی طرح سیاسی بازی گری کی بھی کار فرمائی ہوتی ہے؟ اگر ہاں تو پھر دنیا کے دوسرے ادبی انعامات اور نوبل میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا اور اگر نہیں تو جیمس جوائس ، ٹالسٹائے ، اور ہنری جیمس جیسے معروف اور ماہر ادیبوں کو یہ انعامات کیوں نہیں دیے گئے؟ اور ہندوستان کے مہاتما گاندھی کو نوبل کا امن انعام کیوں نہیں دیا گیا جن کے بتائے راستے پر چلنے کی کوشش کرنے والوں کو آگے چل کر نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ مطلب صاف ہے معاملہ صاف ستھرا یہاں بھی نہیں ،نوبل انعام پر وقتاََ فوقتاََ یوروپ نواز ہونے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں اور ان الزامات کی تردید بھی آسان نہیں کیوں کہ نوبل انعام پانے والوں میں اکثریت یوروپ اور خود سویڈین کے ادیبوں کی رہی۔ اس کا اقرار سویڈش اکیڈمی بھی دبی زبان میں کرتی آئی ہے۔ خود امسال کا نوبل انعام بھی کسی سویڈش شاعر کو ملنا محض اتفاق نظر نہیں آتا کیوں کے موصوف کی جائے پیدائش بھی نوبل کمیٹی چلانے والی سویڈش اکیڈمی کا علاقہ ’اسٹا ک ہوم‘ ہی ہے۔
امسال ایک اورتنازعہ تب کھڑا ہو گیا جب سربیا میں مختلف میڈیا کے ذریعہ یہ اعلان کر دیا گیا کہ سربیائی ادیب ’ڈابریکا کاسک‘ کو اس سال کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ تقریباََ دو گھنٹے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ ایسی افواہ سربیائی میڈیا نے جان بوجھ کر اس لیے پھیلائی ہے تاکہ نوبل کمیٹی کو کاسک کی مضبوط دعوے داری کا احساس ہو سکے۔ ایشیائی اور لاطینی امریکی ادیبوں کے ساتھ محض اس وجہ سے نا انصافی ہوتی رہی کہ یہاں کے ادب کی روح تک اترنا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو نوبل انعامات بہت کم نصیب ہو پائے۔ یہ سب محض سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہوا۔ اتنا ہی نہیں ارجنٹینا کے ایک قلمکار جارج لوئیس بورج کو (ان کے ایک سوانح نگار کے مطابق)بار بار ان کی نامزدگی ہونے کے باوجود بھی نوبل انعام اس وجہ سے نہیں دیا گیا کیوں کہ وہ ارجنٹینا اور چیلی کے لوگوں کے حقوق کی خاطردائیں بازو کے حامی رہے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں "ادب ، صارفیت اور نیا دایاں بازو”- ناصر عباس نیّر)
نوبل کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہندوستان کے کویم پرمباتھ سچدا نند کی زندگی پر اگر نگاہ ڈالیں تو ہمیں ان کی دعوے داری کا احساس ہوگا،۔ ان کی پیدائش سن ۱۹۴۶؍ میں ہوئی ، ان کا شمار ہندوستان کے چند بڑے شاعروں میں ہوتا ہے، ان کی زیادہ تر تخلیقات ملیالم اور انگریزی زبانوں میں ہیں۔ ان کا تخلیقی میدان شاعری ، تنقید، ادارت، ترجمہ اور ڈرامہ نگاری رہا۔ ان کے ۲۲؍ شعری مجموعے ، شاعری کے ترجموں کے۱۶، مجموعے ، ادبی مضامین کے ۱۹؍ مجموعے جن میں تین انگریزی زبان میں ، چار ڈرامے اور تین سفر نامے شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے تمل، ہندی، بنگالی، فرانسیسی ، جرمن، اطالوی سمیت دنیا کے ۱۶؍ زبانوں میں ترجمہ ہو کر منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کو ملیالم کی جدید شاعری کا مینار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں سیاسی اور سماجی مضامین کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کرایسٹ کالج میں انگریزی کے لکچرر کی حیثیت سے ۱۹۷۰؍ میں ملازمت شروع کی۔ ۱۹۹۲؍ میں "Indian Literature” کے مدیر ہوئے، ساہتیہ اکادمی کے ایگزکٹیو ہیڈ جیسے پر وقار عہوں پر فائز رہے۔ ان کی ترجمہ نگاری کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے کیرالہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی شاعری کو دنیا بھر میں پسند کیا گیا اور مختلف ملکوں میں ان کے اشعار کے ترجمے لوگوں کی زبان زد ہوئے۔ ان کی شاعری میں طنز کی خصوصیت کی ناقدین نے خوب خوب پذیرائی کی۔
نوبل کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے سب سے قریبی دعوے دار ملک شام کے اکیاسی سالہ شاعرو مضمون نگار علی احمد سعید اسبر معروف بہ ’ادونیس‘ رہے۔ ادونیس کی پیدائش ایک جنوری ۱۹۳۱؍ کو ہوئی شعر و شاعری کا شوق انکے والد کی وجہ کر پیدا ہوا۔ ان کے والد ان سے اشعار یاد کروایا کرتے تھے ۔ آگے چل کر انہوں نے شاعری شروع کی۔ ابتدائی تعلیم لتاکیہ کے ایک اسکول میں حاصل کی اور پھر اعلی تعلیم شام کی یونیورسیٹی میں حاصل کی ، اور یہیں سے ۱۹۵۴؍ میں فلسفے کی ڈگری لی۔ ایک سیاسی جماعت کا ممبر ہونے کی وجہ کر ان کو چھ ماہ جیلکی ہوا بھی کھانی پڑی۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سکونت اختیار کر لی۔’’ مجلات شعر‘‘ کے مدیر بھی رہے مگر یہ ماہنامہ سن ۱۹۶۴ ؍ میں شائع ہونا بند ہو گیا۔ اس کے بعد ادونیس کے اشعار بیروت کے اخبار میں شائع ہوتے رہے۔ ان کی شاعری میں حب الوطنی اور صوفیانہ جذبات کی ترجمانی زیادہ ملتی ہے۔ ۱۹۷۰؍ سے ۱۹۸۵؍ تک لبنان یونیورسٹی میں ادونیس نے بحیثیت پروفیسر عربی ادب اپنی خدمات پیش کیں۔ ۱۹۷۶؍ میں انہوں نے دمشق یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے کام کیا۔ ۱۹۸۰؍ میں لبنان کی خانہ جنگی سے تنگ آکر وہ پیرس میں سکونت پذیر ہوئے ۔ ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۱ تک پیرس یونیورسٹی میں عربی ادب کے پروفیسر رہے۔ ان کی پیدائش ملک شام کے اس گائوں میں ہوئی جہاں بجلی تک نہیں تھی ایسے دیہات سے ابھر کر آئے عربی زبان کے اب تک کے دنیا کے سب سے بڑے زندہ شاعر نے یہ ثابت کر دیا کے لعل گدڑی میں پلا کرتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمس میں An Arab Poet who Dares to Differ کے عنوان سے آدم شاذ کا ایک مضمون۱۳، جولائی ۲۰۰۲ء کو شائع ہوا جس میں ان کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا
’’ اسلوب میں نت نئے تجربے اور لہجے میں الہام ، اور جدیدیت کی رسمی جدت کے ساتھ ساتھ کلاسیکی عربی شاعری کی صوفییانہ تصویر کشی کا حسین امتزاج موجود ہے ۔ ان کی شاعری میں جلا وطنی کا درد بھی ہے جو عرب دنیا کے روحانی روکھے پن کی علامت ہے اور شہوت کا بیان بھی اور اپنے اور دوسروں کے وجود کا رقص بھی ہے ، لیکن ان سب سے اوپر تخلیقی تباہی کا بیان جس کی آنچ ان کی تمام تر تحریروں میں موجود ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ اپنے پسندیدہ شاعر نطشے کے انداز میں لکھا تھا ”We will die if we do not create gods/We will die if we do not kill them,اقتباس بالا سے آپ ان کی شاعری کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
یہ تو ہوئی نوبل انعام کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے کچھ شاعروں کی باتیں ۔ اب ذرا جنا ب تامس ٹرانس ٹرامر صاحب کے بارے میں بات کریں، یہ وہ سویڈش شاعر ہیں جن کو نوبل کمیٹی یعنی سویڈش اکیڈمی نے نوبل انعام پائے جانے کا اہل سمجھا۔
تامس ٹرانس ٹرامر کی پیدائش ۱۵؍ اپریل ۱۹۳۱؍ کو ہوئی ۔ اس سویڈش شاعر ، ادیب و ترجمہ نگار کی شاعری کا ترجمہ اب تک دنیا کی ساٹھ زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ ان کی شاعری میں سویڈین کے جاڑے کے موسم کی منظر کشی ملتی ہے۔ منظر نگاری میں ان کو قدرت حاصل ہے، آگے چل کر ان کو ایک کرسچن پویٹ کے طور پر تسلیم کیا گیا یعنی عیسائیت کا شاعر۔ ۱۹۶۶ء سے اب تک ان کو تقریباََ ۱۰چنندہ انعامات ملے ہیں جن میں پانچ کا تعلق سویڈین سے ہے۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’سترہ نظمیں‘‘ کے عنوان سے ۱۹۵۴ میں شائع ہوا۔ایک علم نفسیات میں اسٹاکہام یونیورسیٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی اور اضافی مضامین کے طور پر تاریخ، مذہب اور ادب کی پڑھائی کی۔ ۱۹۶۰ سے ۱۹۶۶ کے درمیان ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ضمنی طور پر شاعری بھی کرتے رہے۔ ۱۹۵۰میں وہ مشہور شاعر رابرٹ بلائی کے دوست ہوئے رابرٹ بلائی ان کے اشعار کا ترجمہ انگریزی میں کیا کرتے۔رابرٹ بلائی اور ٹرانسٹرومر کے درمیان مراسلات کا سلسلہ زمانے تک چلتا رہا۔ عربی شاعر ادونیس نے عرب دنیا میں شہرت حاصل کرنے میں ٹرانس ٹرومر کی مدد کی(یہ وہی ادونیس ہیں جن کا نام نوبل انعام کے لیے نامزد ہوا تھا)۔ ۱۹۸۴ میں جب بھوپال گیس سانحہ پیش آیا تو تو تامس ٹرانسٹرومر نے ہندوستان کا سفر کیا اور یہاں کے شعرا کے ساتھ شعری نششتوں میں حصہ لیا اور یہاں ان کی ملاقات کویم پرمباتھ سچدا نند جیسے ہندوستانی شعرا سے ہوئی۔ ۱۹۹۰ میں ان پر فالج کا اثر ہوا اور اس کے بعد وہ قوت گویائی سے محروم ہو گئے مگر سن ۲۰۰۰ تک لکھنا بند نہیں کیااور شاعری کرتے رہیاور شائع ہوتے رہے۔ ان کی آخری نظم The Great Enigma سن ۲۰۰۴ء میں شائع ہوئی۔ شاعری کے علاوہ پیانو بجانا ان کا شوق تھا جو فالج کے باوجود بھی انہوں نے نہیں چھوڑا، وہ ایک ہاتھ سے بجاتے تھے۔ تیرہ شعری مجموعے ان کی شاعری کی کل کائنات ہیں۔ان کی سب سے مشہور نظم ’’کھڑکیاں اور پتھر‘‘ ہے۔
ایک ہندوستانی شاعر یا پھر ایک شامی شاعر جو نوبل انعام پانے کی اہلیت رکھتا تھا اس کے بجائے ایک سویڈن کے شاعر کو کیوں کر فوقیت دی گئی؟ اس طرح کا سوال میڈیا میں اب تک کسی نے نہیں اٹھا یا لیکن یہ سوال دبی زبان سے ہر کو ئی پوچھنے کی خواہش رکھتا ہے کہ وہ کون سی ایسی خصوصیت جناب ٹرانسٹرومر صاحب میں تھی جو دوسرے شعرا میں نہیں تھی۔ جناب سچدانند کو یا پھر ادونیس کو کہیں ایسا تو نہیں کہ ایشیا یا عرب مملک میں پیدا ہونے کی سزا ملی ہو یا یہ محض ایک اتفاق ہے۔ جتنے بھی انعامات جس کسی بھی میدان کے ہوتے ہیں رفتہ رفتہ اپنی وقعت محض اس وجہ کر کھوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ اہل کو نہ مل کر ان لوگوں کو عنایت کر دیا جاتا ہے جو کسی سیاست کی وجہ کر انعام کے حقدار قرار دیے جاتے ہیں۔ کچھ انعامات ایسے ہوتے ہیں جن کو اس زمرے میں رکھا جا سکتا ہے کہ جس کو مل جائے اس کو دنیا کا سب سے بڑا ادیب سمجھا جا سکتا ہے۔ نوبل کا حال یہ ہے کہ اس کا اور تنازعہ کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ ۱۹۸۹ میں جب سلمان رشدی کو اس انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اس زمانے میں بھی اس ادیب کو صرف اس وجہ سے نوبل نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے خلاف ایران سے موت کا فتوٰی دیا گیاتھا، اور اس کی وجہ سے نوبل کمیٹی کے دو ممبران نے استعفی بھی دے دیا تھا۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جہاں غیر ادبی وجوہات کی بنا پر ادیب کو کم تر یا برتر سمجھا گیا۔
بل کوئل ((Bill Coyleنے بھی ٹرانس ٹرومر کی نظموں کا تنقیدی مطالعہ کرتے وقت غیر ادبی وجوہات کی بنا پر نوبل انعامات دیے جانے کی بات کہی ہے۔وہ کہتا ہے:
’’ان کے ایک شخص کا نوبل انعام جیتنا امید کے بر خلاف ہے اور اس بہت سی وجوہات ہیں۔اس کی ایک وجہ تو وہ تنازعہ ہے جو ۱۹۷۴ میں سویڈش اکیڈمی کے اپنے ہی ممبران ہیری مارٹیسن اور ایونڈ جانسن کو نوازے جانے کے نتیجے میں کھڑا ہو گیا تھا۔ دونوں اچھے ادیب تھے اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن اس معاملے سے جانب داری کو نظر انداز کرنا نا ممکن تھا۔اس واقعہ کے بعد امسال سے پہلے تک کسی سویڈن کے یا نیویا کے ادیب کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔ اور بد قسمتی سے یہ بھی حقیقت ہے کہ انعام کے حقدار کے انتخاب میں ادبی معیار سے زیادہ سیاست کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ‘‘
http://www.cprw.com/Coyle/transtromer.htm, Anchor in the Shadow,
مندرجہ بالا اقتباس سے اس بات کی توثیق ہو جاتی ہے کہ جب ۱۹۷۴ میں سویڈش اکیڈمی نے نہ صرف اپنے ملک کے شہری کو نوازا بلکہ اپنی اکیڈمی کے ممبران کو بھی نوازا تھا اس وجہ کر بھی سویڈش اکیڈمی کو جم کر تنقید کا نشانہ بنا یا گیا ایسے میں ایک سویڈش شاعر کو پھر سے نوازا جانا کہیں نہ کہیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ سویڈش اکیڈمی اپنے ملک کے لوگو ں کو ترجیح دے رہی ہے۔ ان تنازعات سے پرے اگر ہم ٹرانسٹرامر کی شاعری پر نظر ڈالیں تو ہمیں احساس ہو گا کہ ان کی شاعری کو ہم اچھی شاعری کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ ان کی نظموں کی کلیا تThe Great Enigma جس کا ترجمہ سویڈش سے انگریزی میں رابن فلٹن ((Robin Fulton نے کیا ہے کے مطالعہ سے ہم ان کی شاعری کے کچھ اہم نکات سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس کتاب میں ان کی نظموں کو ۱۴ خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں تیرہ ان کے شعری مجموعے ہیں اور چودہواں ان کے کچھ نثری مضامین ہیں جو ان کی یاداشت کے عنوان سے شامل ہے ۔ پہلا ’’سترہ نظمیں (17 Poems)‘‘ جس کے سامنے سن ۱۹۵۴ درج ہے، دوسرا ــ’’راستےمیںراز (Secret on the Way)‘‘ اس کے سامنے سن۱۹۵۸ درج ہے، تیسرا ’’قید (Prison)‘‘ ۱۹۵۹ء چوتھا ’’ادھوری جنت (The Half-Finished Heaven)‘‘ ۱۹۶۲ء پانچوا ں’’گھنٹیاں اور راستے(Bells and Tracks) ‘‘ ۱۹۶۶ء چھٹھا’’اندھیرے میں دیکھنا(Seeing in the Dark)‘‘ ۱۹۷۰ساتواں ’’راستے(Paths)‘‘ ۱۹۷۳آٹھواں ـ’’بالٹک(Baltics)‘‘ ۱۹۷۴نواں ’’سچائی کی راہ میں رکاوٹ(The Truthbarrier)‘‘ ۱۹۷۸دسواں ’’ایک جنگلی بازار (The Wild Market Square)‘‘ ۱۹۸۳گیارہواں ’’زندوں اور مردوں کے لیے (For the Living and the Dead)‘‘ ۱۹۸۹بارہواں ’’اداس گندولہ (The Sad Gandola)‘‘ ۱۹۹۶تیرہواں ’’ایک بڑی پہیلی(The Great Enigma) ‘‘۲۰۰۴اور چودہواں ’’ یاد داشت کچھ نثر میں۔۔۔یادیں مجھے دیکھتی ہیں (Prose Memoir- Memories Look at Me)‘‘۱۹۹۳
فہرست بالا سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کی شاعری کو زمانی اعتبار سے ترتیب دیا گیاہے۔
ان کی سوڈش زبان کی شاعری کی روح تک پہنچنے کے لیے سویڈش زبان کا جاننا ضروری ہے، انگریزی ترجموں سے محض موضوع اور خد و خال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ترجمے شاعری کے ساتھ عموماََ وفا نہیں کر پاتے۔ ان کی پہلی کتاب ’’سترہ نظمیں ‘‘ سے کردار(prelude) عنوان سے ان کی نظم کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے:
Waking up is a parachute jump from dreams.
Free of the suffocating turbulence the traveler
sinks toward the green zone of morning.
یا پھر ان کی دوسری نظم ’’شنگھائی کی گلیاں‘‘ ۱۹۸۹ کا یہ حصہ
I’m surrounded by signs I can’t interpret, I’m totally illiterate.
But I’ve paid what I should and have receipts for everything.
I’ve accumulated so many illegible receipts.
I’m an old tree with withered leaves that hang on and can’t fall to the earth.
And a puff of air from the sea makes all those receipts rustle.
بنگلا دیش کے ایک مشہور تنقید نگار شاہد الاسلام نے ’’فائننشیل ایکسپریس نام کے ایک بنگلا دیشی اخبار میں ان کی شاعری پر بات کر تے ہوئے ان کی شاعری کے اوصاف کچھ اس طرح بیان کیے ہیں :
’’ ان کی شاعری استعاروں اور امیجری سے سجی ہے قدرتی مناظر اور عام زندگی کی تصویر کشی ان کے یہاں ملتی ہے ان کے یہاں داخلی جذبات کی کارفرمائی زیادہ ہے اور یاسیت کا جذبہ بے حد فطری ہیاور ٹرانسٹرومر کی زندگی سے بہت میل کھاتی ہے۔‘‘
(Shahidul Islam, Financial Express Dhaka, Friday October 14 2011)
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کی شاعری اچھی شاعری ہے۔کسی بھی ادیب کو کسی بھی انعام سے نوازے جانے کا یہ قطعی مطلب نہیں ہوتاکہ وہ ان حضرات سے برتر درجے کا ادیب ہے جن کو انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ اگر ایسا ہوتاتو جیمس جوائس، ہنری جیمس اور ٹالسٹائے کو نوبل انعام نہ ملنے کے باوجود بھی وہ حیثیت حاصل ہوئی جو کسی بھی نوبل انعام یافتہ ادیب کی تمنا ہو سکتی ہے۔ اس سال بھی ادونیس یا ’کے۔سچدانند ‘کا نوبل انعام نہ پانا ان کے شعری جہات یا ادبی قد کو کم نہیں کرتا اور نا ہی ٹرانس ٹرامر کے قد کو نوبل انعام ملنے کی وجہ سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ ٹرانسٹرامر ایک اچھے شاعر ہیں نوبل سے پہلے بھی تھے اور نوبل کے بعد بھی ہیں ۔ نوبل کا حاصل نہ ہونا ادونیس یا سچدانند کی عظمت کو کم نہیں کرتا۔ اصل فیصل تو وقت ہوتا ہے جو یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ کون بڑا ادیب و شاعر ہے اور کون کمتردرجے کا ۔ مہاتما گاندھی کو کوئی بھی نوبل انعام نہیں ملا لیکن پھر بھی اس سے ان کی امن پسندی کے لیے کی گئی جد و جہد کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

