شرافت کے سپوتوں کی
عبائیں چاک کس نے کیں؟
اخوت کے میناروں کی
ردائیں چاک کس نے کیں؟
بڑےبن کے جو پھرتے ہیں
نوازا ہے انہیں کس نے۔۔؟
یہ تخت و تاج کے مالک
بنایا ہے انہیں کس نے۔۔؟
مسیحا کس لئے آئے.۔۔۔
ہزاروں کارواں کس نے مسیحا بن کے لوٹے ہیں ؟
ہزاروں گلستاں کس نے
اجاڑے پھونک ڈالے ہیں؟
بغاوت کی یہ چنگاری
لگائی دل میں ہے کس نے؟
عداوت کے یہ انگارے
یہاں بھڑکائے ہیں کس نے ؟
مسیحا کس لئے آئے….
غنیموں سے گلے مل کر
وہ کس نے آستاں بدلے
جوانوں پر نہتوں پر
وہ کس نے آسماں توڑے
میرے معصوم بچوں سے وہ کس نے چھین لی مسکاں
میری ننھی سی لڑکی کی
اجاڑی کس نے ہے افشاں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔
کہیں عصمت دہلتی ہے
کہیں معصوم جلتے ہیں
عدو کس کے اشاروں پر
لپکتے ہیں۔۔۔کچلتے ہیں
زوالِ قوم و نکبت میں
ہزاروں خواب ڈھلتے ہیں
نہیں چھٹتی ہے تاریکی
چراغِ خون ڈھلتے ہیں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔
وہ منظر شام کے دیکھو
فلسطیں کی زمیں دیکھو
وہ عراقی سماں دیکھو
وہ افغانی جہاں دیکھو
بگولے آگ کے ہر سو
لگائے ہیں وہاں کس نے
زمین پر خون ناحق کو
بکھیرا ہے وہاں کس نے
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔
پیمبر امن کے بن کر
وہاں پر کون آئے ہیں درندے خون کے پیاسے
محافظ بن کے آئے ہیں
لٹیرے چار سو اپنے
کمیں گاہوں میں بیٹھے
مگر مانو حقیقت کو
وہیں اپنے بھی بیٹھے ہیں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔
سنو اپنوں نے اپنوں کو
یہاں لوٹا غنی بن کر
قبا اوڑھے مسیحیت کی
جو پھرتے ہیں سخی بن کر
رنجش میں عداوت میں
سنانیں تان لی ہم نے
بغاوت میں شقاوت میں
کمانیں تھام لی ہم نے
مسیحا کس لئے آئے ۔۔۔۔
سنو رنگیں قباؤں سے
کبھی بدلی ہیں تقدیریں۔۔؟
سنو آنسوکے قطروں سے
کبھی اٹھتی ہیں شمشیریں!!
سنو، سلاسل کی یہ جھنکار یں
حسیں لگتیں غلاموں کو
تو شوکت، ظلم فرعونی
کچل دیتے ہیں قوموں کو!!
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔
یہ خالی خولی امیدیں
یہ خوابِ امن و سلطانی
نہیں ملتی ہے انسان کو
مسلماں ہو یا نصرانی
مسیحا کیوں نہیں آتا۔۔۔!!مسیحا کس لئے آئے ۔۔۔؟
وہ کس کے واسطے آئے۔۔؟
وہ آخر کس لئے آئے۔۔۔؟!!
نہ جرات خالدی تم میں
نہ نفرت ، آذری تم میں
نہ عشقِ مصطفی تم میں
نہ رنگِ حیدری تم میں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔؟
فلک سے کیوں مدد آئے۔۔!!
نہ ذوقِ موسوی تم میں۔۔!!
نہ شوق القوی تم میں۔۔!!!
خلیلی شان پیدا کر
ندا آئے گی ربانی
ملک اترینگےگردوں سے
نوازش ہوگی یزدانی
عمل تدبیر بڑھ جائے
یقیں محکم جو ہوجائے
تفاوت رنگ مٹ جائے
جو ہم تم ایک ہوجائے
مسیحا پھر تو آئے گا
وہ لشکر ساتھ لائے گا
تیری آہوں کی خاطر بھی
وہ شمشیریں اٹھائے گا
مسیحا جب بھی آئے گا
تو کٹ جائیں گی زنجیریں
اسیروں بے سہاروں کی
بدل جائیں گی تقدیریں
عمیر محمد خان
ریسرچ سکالر
کھام گاؤں
مہاراشٹر۔ الھند


1 comment
نظم کے قطعات بے ترتیب ہو گئے ہیں۔سیٹنگ برابر نہیں ہو سکی ۔اس لئے دوباہ یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔
مسیحا کیوں نہیں آتا۔۔۔!!!
عمیر محمد خان
ریسرچ سکالر
رابط: 9970306300
شرافت کے سپوتوں کی
عبائیں چاک کس نے کیں؟
اخوت کے میناروں کی
ردائیں چاک کس نے کیں؟
بڑےبن کے جو پھرتے ہیں
نوازا ہے انہیں کس نے۔۔؟
یہ تخت و تاج کے مالک
بنایا ہے انہیں کس نے۔۔؟
مسیحا کس لئے آئے.۔۔۔
ہزاروں کارواں کس نے
مسیحا بن کے لوٹے ہیں ؟
ہزاروں گلستاں کس نے
اجاڑے پھونک ڈالے ہیں؟
بغاوت کی یہ چنگاری
لگائی دل میں ہے کس نے؟
عداوت کے یہ انگارے
یہاں بھڑکائے ہیں کس نے ؟
مسیحا کس لئے آئے….
غنیموں سے گلے مل کر
وہ کس نے آستاں بدلے
جوانوں پر نہتوں پر
وہ کس نے آسماں توڑے
میرے معصوم بچوں سے
وہ کس نے چھین لی مسکاں
میری ننھی سی لڑکی کی
اجاڑی کس نے ہے افشاں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔
کہیں عصمت دہلتی ہے
کہیں معصوم جلتے ہیں
عدو کس کے اشاروں پر
لپکتے ہیں۔۔۔کچلتے ہیں
زوالِ قوم و نکبت میں
ہزاروں خواب ڈھلتے ہیں
نہیں چھٹتی ہے تاریکی
چراغِ خون جلتے ہیں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔
وہ منظر شام کے دیکھو
فلسطیں کی زمیں دیکھو
وہ عراقی سماں دیکھو
وہ افغانی جہاں دیکھو
بگولے آگ کے ہر سو
لگائے ہیں وہاں کس نے
زمین پر خون ناحق کو
بکھیرا ہے وہاں کس نے
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔
پیمبر امن کے بن کر
وہاں پر کون آئے ہیں
درندے خون کے پیاسے
محافظ بن کے آئے ہیں
لٹیرے چار سو اپنے
کمیں گاہوں میں بیٹھے
مگر مانو حقیقت کو
وہیں اپنے بھی بیٹھے ہیں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔
سنو اپنوں نے اپنوں کو
یہاں لوٹا غنی بن کر
قبا اوڑھے مسیحیت کی
جو پھرتے ہیں سخی بن کر
رنجش میں عداوت میں
سنانیں تان لی ہم نے
بغاوت میں شقاوت میں
کمانیں تھام لی ہم نے
مسیحا کس لئے آئے ۔۔۔۔
سنو رنگیں قباؤں سے
کبھی بدلی ہیں تقدیریں۔۔؟
سنو آنسوکے قطروں سے
کبھی اٹھتی ہیں شمشیریں!!
سنو، سلاسل کی یہ جھنکار یں
حسیں لگتیں غلاموں کو
تو شوکت، ظلم فرعونی
کچل دیتے ہیں قوموں کو!!
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔
یہ خالی خولی امیدیں
یہ خوابِ امن و سلطانی
نہیں ملتی ہے انسان کو
مسلماں ہو یا نصرانی
مسیحا کیوں نہیں آتا۔۔۔!
!مسیحا کس لئے آئے ۔۔۔؟
وہ کس کے واسطے آئے۔۔؟
وہ آخر کس لئے آئے۔۔۔؟!!
نہ جرات خالدی تم میں
نہ نفرت ، آذری تم میں
نہ عشقِ مصطفی تم میں
نہ رنگِ حیدری تم میں
مسیحا کس لئے آئے۔۔۔۔؟
فلک سے کیوں مدد آئے۔۔!!
نہ ذوقِ موسوی تم میں۔۔!!
نہ شوق القوی تم میں۔۔!!!
خلیلی شان پیدا کر
ندا آئے گی ربانی
ملک اترینگےگردوں سے
نوازش ہوگی یزدانی
عمل تدبیر بڑھ جائے
یقیں محکم جو ہوجائے
تفاوت رنگ مٹ جائے
جو ہم تم ایک ہوجائے
مسیحا پھر تو آئے گا
وہ لشکر ساتھ لائے گا
تیری آہوں کی خاطر بھی
وہ شمشیریں اٹھائے گا
مسیحا جب بھی آئے گا
تو کٹ جائیں گی زنجیریں
اسیروں بے سہاروں کی
بدل جائیں گی تقدیریں