الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
ملک ہندوستان جو ہمیں بے حد عزیز ہے اس پر انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے اپنا قبضہ جما رکھا تھا۔پنجاب سے افغانستان کی سرحدوں تک سکھوں کا بول بالا تھا۔ دہلی اور ہندوستان کا جنوبی حصہ مرہٹوں کی بدعنوانیوں اور فسادات سے بری طرح زخمی تھا۔ حتیٰ کہ سکھ، مرہٹے اور جاٹ ہندوستانی سیاست پہ ایک بدنما داغ کے مانند تھے۔ جن کا کام لوٹ ، مار، قتل و غارت گری اور فنون حرب و ضرب کے سوا کچھ نہیں تھا۔آئے دن دہلی کے گرد و نواح میں قتل و خوں ریزی کے واقعات رونما ہورہے تھے۔
ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے اور انگریزوں کے چنگل سے چھڑانے میں ہمارے اسلاف نے بڑی قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر تن کے گورے اور من کے کالوں سے اپنے اس دیش کو آزاد کرانے میں اپنے تن، من، دھن کے ساتھ ساتھ اپنی جوانیوں کو بڑھاپوں میں تبدیل کیا اور ضعف کی کمزوریوں کے باوجود جہاد کا علم ہاتھ میں اُٹھا لیا۔ انہیں سرخیل مجاہدین آزادی کے خون کے قطروں کی وجہ سے آج ہم اس کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔اس جنگ آزادی میں علمائے اہلِ حدیث کی قربانیوں کوکبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، ان کے دلوں میں ملک کی محبت اس قدر موجزن تھی کہ زبان حال سے ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ ؎
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
ان مجاہدین کی جماعت میںسب سے اہم اور معتبر نام شاہ اسمٰعیل شہید دہلوی ؒ، سید احمد بریلویؒ،مولانا عنایت علی صادق پوری، مولانا ولایت علی صادق پوری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا عبدالکریم عظیم آبادی، مولانا نعمت اللہ ، مولانا احمد اللہ صادق پوری، مولانا عبدالرحیم صادق پوری، مولانا جعفر تھانیسری کے علاوہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اہل حدیث علما ء و عوام جنگ آزادی کے ہر اول دستہ میں نظر آتے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں جمیل اختر شفیقؔ کی شاعری : ایک مطالعہ – امام الدین امامؔ )
ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی باضابطہ کوشش شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے فتوے سے ہوا۔ جس میں انہوں نے ہندوستان کے ’’دارالحرب‘‘ ہونے کا فتویٰ صادر کیا، جس میں انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ :’’قانون سازی کے سارے اختیارات عیسائیوں (انگریزوں)کے ہاتھوں میں ہے۔ مذہبی آزادی ختم ہو چکی ہے اور شہری آزادی سلب کر لی گئی ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو اپنے وطن سے محبت کرتا ہے۔ اس کے لئے لازم ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف اعلان جنگ کرے اور اس کو ملک بدر کردے۔‘ ‘چنانچہ اسی کے زیر اثر سید احمد بریلویؒ اور شاہ اسماعیل دہلویؒ نے اپنا قدم بڑھایا،جس کو انگریزوں نے وہابی تحریک کا نام دیاتھا۔اسی کی بات پر لبیک کہتے ہوئے چند نام نہاد ہندوستانی ، چند نام نہاد مسلمانوں نے بھی انگریزوں کی اس بات پر عمل کرتے ہوئے اس تحریک کو وہابی تحریک کے نام سے موسوم کیا اور اس کے متعلق غلط فہمیاں پھیلائیں۔اس طرح کی بے سر وپا باتوں کے جواب میں اردو ادب کے مشہور و معروف محقق و ناقد جناب پروفیسر عبدالواسع ،سابق صدر، شعبۂ اُردو، بی۔ آر۔اے۔ بہار یونیور سیٹی ،مظفرپورکا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں :
’’علمائے صادق پور کی تحریکِ اہلِ حدیث کو تحریک شیخ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے اس فتوے سے ملی جس میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر ملک سے انگریزوں کو مار بھگانے کے واضح اشارے تھے۔ چنانچہ سید احمد بریلوی ؒ اور شیخ اسماعیل ؒ نے علمائے صادق پور سے مل کر تحریک اہلِ حدیث کی بنیاد ڈالی۔ یہ ایک خالص اسلامی و دینی تحریک تھی جس کے اصول و ضوابط قرآن و حدیث سے اخذ کئے گئے تھے۔ اسی وجہ کر اس تحریک کو تحریک اہلِ حدیث نام دیا گیا۔ مگر مسلمانوں میں اس کی قدر و قیمت کم کرنے کی نیت سے انگریزوں نے اس کو وہابی تحریک کے نام سے شہرت دی۔ یہ محض اتفاق ہے کہ عرب میں اسی قسم کی تحریک محمد بن عبدالوہاب ؒنے چلائی تھی اور وہ بھی انگریز مخالف تحریک تھی ورنہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے علاوہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں ہے۔‘‘
جناب پروفیسر عبدالواسع صاحب اپنے ایک دوسرے مضمون میں لکھتے ہیں کہ :
’’مگر اجتماعی کوششوں میںسید احمد بریلوی کی تحریک جس کو بدنام کرنے کی نیت سے انگریزوں نے وہابی تحریک کا نام دیا۔ ایک ادبی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ اس کے تحت شیخ محمد اسماعیل شہید،عبدالرحیم صادق پوری وغیرہ نے تالیفات و تصنیفات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔جن میں ہندوستانیوں کی زبوں حالی اور انگریزوں کی جارحیت کا بیان اشاروں میں ہوا ہے۔‘‘
(مضمون ’’پہلی جنگ آزادی کا تحریکی ادب‘‘از پروفیسر عبدالواسع)
درج بالا اقتباسات کی روشنی میں یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس تعلق سے جو بھی غلط فہمیاں پھیلائی گئیں ہیں۔ ان ساری باتوں کی بنیادیں ہلتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں انسانی زندگی پر موبائل کے منفی اور مثبت اثرات – امام الدین امامؔ )
مسلمانوں کا ایک باہمت اور حوصلہ مند طبقہ جب انگریزوں سے جہاد کرنے کے لئے بڑھا ۔جو ان مجاہدین کی کوششوں کی روشن مثال ہے لیکن اس طویل جنگ آزادی کی تاریخ اس وقت تک مستند اور مکمل نہیں ہو سکتی جب تک صوبۂ بہار کے محلہ صادق پور کے مسلم مجاہدین آزادی کے سرفروشانہ کاوشوں کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ جن کی مذہبی، علمی ادبی بصیرت فکری و سیاسی دانش مندی سے پورے ہندوستان کو روشنی ملی اور انگریزوں کو ہندبدر کرنے کا جذبہ سامنے آیا جب سید احمد شہید ؒ نے بہار کا دورہ کیا تو بہارکے محلہ صادق پور کے مجاہدین کی تحریک آزادی میںقوت و استقامت پیدا ہوئی۔ان میں سب سے اہم نام مولانا ولایت علی و عنایت علی کا ہے۔جو اس کے اہم رکن تھے۔ اس مشن کی ترقی و سربلندی کے لئے ان کے بے نفسانہ جوش اور تحریک کی خدمت میں ان کی طرح طرح کی قربانیوں کو سر ولیم ہنٹر نے (William Wilson Hunter)۱۵؍جولائی۱۸۴۰ء سے ۱۹۰۰ء )بھی کھلے دل سے تعریف کی ہے۔
محلہ صادق پور (پٹنہ)مجاہدین آزادی کا مرکز رہا ہے،جب انگریزوں نے بنگال، بہار، اُڑیسہ کی دیوانی حاصل کر کے حکومت قائم کرلی تو پورے ملک میں زلزلہ آگیا، سراج الدولہ نے ملک کے عام شہریوں میں بھی آزادیٔ ملک کی تڑپ پیدا کر دی۔ اسی دوران کئی مسلم تنظیمیں آزادی کے لئے وجود میں آگئیں۔جس میں علمائے صادق پور کا سب سے اہم رول رہا، مولانا عبدالرحیم صادق پوری کوانگریزوں نے جزیرہ انڈومان میں بیس سال تک نظر بند رکھا ۔ مولانا احمداللہ نے بھی جزیرہ انڈومان میں دن رات قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیںاور وہیں اللہ کو پیارے ہو گئے۔مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی بھی گرفتار کر کے پٹنہ لائے گئے ، جہاں ان کے اوپر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ پٹنہ سے باہر نہیں جا سکتے اور پولس سپرنٹنڈنٹ کی آفس میں روز حاضرہونا پڑتا تھا ، جیسے ہی یہ معیاد ختم ہوئی دونوں بھائی پھر سے اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں لگ گئے اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے قدم کو جمائے رکھا ۔ اکثر ایسے مواقع پیش آئے جب کھانے کو کچھ میسر نہ ہوا تو درختوں کے پتّوں اور چھالوںکو کھاکر پیٹ کی آگ کو سرد کیا۔گرفتاریوں کا یہ سلسلہ شروع تھا۔ رانچی، ہزاری باغ، آرہ، بکسر کے قید خانوں میں مسلم رہنماؤں اور جانباز سپاہیوں کو ڈالاگیا۔انہوں نے اپنی جانیں قربان کردیں مگر عَلم حرّیت کو جھکنے نہیں دیا۔انگریزوں نے ان بزرگوں کے مکانات کو ضبط کر کے مسمار کر دیا۔ان کے اس محلے اور ان کے بزرگوں کی قبروں پر ہل چلائے گئے اور میونسپلٹی کی عمارت کھڑی کر دی گئی۔ یحییٰ علی کی پھانسی کی سزا منسوخ کرکے اس مجاہد کی داڑھی کاٹی گئی ۔ مولانا احمداللہ جن کے اوپر حکومت نے پچاس ہزار کا انعام رکھا تھا، ان دونوںنے اپنے وطن سے دور ۱۸۸۲ء اور ۱۸۸۶ء میں جام شہادت نوش کیا لیکن مولوی عبدالرحیم صادقپوریؒ سزا کاٹ کر اپنے وطن واپس آئے۔جب مہاتما گاندی بہار آئے تو یہاں کے مسلم سرفروشوں نے ان کا پورے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا۔اس کے بعد مظفرپوراور چمپارن کا سفر کیا، چمپارن سے ہی ستیہ گرہ کی پلاننگ ہوئی۔(یہ بھی پڑھیں بیکل اُتساہی کی نعتیہ شاعری – امام الدین امامؔ )
مولانا ولایت علی ۱۸۵۰ء میں اَستھانہ کے لئے عازم ہجرت کیا اور دہلی پہنچے یہاں انہوں نے جامع مسجد فتح پوری کے قریب ایک مکان میں قیام فرمایا اسی دوران وعظ کا سلسلہ بھی قائم رہا۔ اس مجلس میں بادشاہ بیگم زینت محل کے استاد مولانا امام علی اور دہلی کے مشہور اردو شاعر حکیم مومن خان مومنؔ(۱۸۰۰ء)بھی اکثر شریک ہوا کرتے تھے۔ ان سے متاثر ہو کر یہ دونوں مذکورہ حضرات نے ان سے بیعت لے کر حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔ دہلی سے وہ اپنے منزل استھانہ پہنچ تو گئے مگر زیادہ دنوں تک زندگی نے وفا نہیں کی اور بالآخر ۵؍نومبر ۱۸۵۲ میں رحلت فرماگئے اور استھانہ میں ہی آخری آرام گاہ ہوا۔
پنجاب میں جب سکھوں نے مسلمانوں کا جینا دشوار کر دیا یہاں تک کہ مسلمانوں کو کھل کر اذان بھی دینے نہیں دیا جاتا تھا۔علمائے صادق پور نے سکھوں کی زیادتیوں اور انگریزوں کے جبر و تشدد کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا اور اس سے مسلمانوں کو نجات دلانے کے لئے کمر باندھا۔اس جانب سب سے پہلے پیش قدمی کرنے والوں میں سید احمد بریلوی ہیں۔ صادقپور کے وہ علماء جو سید صاحب کے ہاتھوں پہ بیعت کی ان میں مولانا عنایت علی پہلے ہی مرید ہو چکے تھے۔سید صاحب کے قیام پٹنہ کے دوران ہی ان کے بھائی مولانا ولایت علی ، مولوی شاہ محمد حسین، مولوی احمداللہ ان کے چچا مولوی یحییٰ علی اور ان کے والد مولوی الٰہی بخش مع اہل و عیال مرید ہو کر سید صاحب کے ساتھ ہو لئے۔پھر اس کے بعد انہوں نے پورے محلہ صادق پور کے سارے خانوادے کو اپنا معتقد بنا لیا۔ سید احمد شہیدؒ ۱۸۳۱ میں مقام بالاکوٹ پر اپنی شجاعت و بہادری کے باوجود شہید ہوگئے۔انہیں کے ساتھ شاہ اسماعیل دہلویؒ بھی شہید ہو گئے ۔شہید ملّت علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ کے الفاظ میں ؎
کلیوں کو مَیں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
لیکن جیسا اندازہ تھا اس طرح کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ گویا تحریک اہلِ حدیث کا اول دور ۱۸۲۷ میں شروع ہوکر ۱۸۳۷ میں ختم ہوگیا۔محلہ صادقپور کے مجاہدین کی ہمت اورقربانیوں کو مولانا سید ابولحسن علی میاں ندوی ؒ نے کچھ اس انداز سے بیان کیا ہے کہ :
’’اگر جاں نثاری و قربانی اور ہمت و جواں مردی کے وہ سارے کارنامے جو اس ملک کے جہاد حریت اور قومی آزادی کی تاریخ سے متعلق ہیں، ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور اہلِ صادق پورکے کارنامے اور قربانیاں دوسرے پلڑے میں تو آخر الذکر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ ‘‘
اگرچہ صرف محلہ صادق پور کے مجاہدین کی فہرست بنائی جائے تو ایک مکمل کتاب ہوسکتی ہے۔اس لئے میں اس سمندر میں غوطہ لگانے سے اجتناب کرتا ہوں۔
مولانا ابوالکلام آزادؒصحافت کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف ماحول بنانے اور مسلمانوں کے لہو کو گرمانے میں برابرلگے رہے۔انہوں نے اپنے ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ ان دو رسالوں کے ذریعے مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑنے اور ان سے آزادی حاصل کرنے کی ترغیب دی۔انگریز اس مرد مجاہد سے اس قدر خائف ہوا کہ مولانا آزاد کو جیل میں ڈال دیا۔ اسی دوران ان کی اہلیہ کا انتقال بھی ہو گیا۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود بھی مولانا کے پائے ثبات میں ذرا سی بھی لغزش نہ آئی۔ اس کے بعد ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء کے درمیان ہندوستان میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں، تحریکیں بپا ہوئیں اور جتنی بھی کوششیں ہوئیں ہر جگہ اہلحدیث علما اور عوام پیش پیش نظر آتے ہیں۔تحریک آزادی ہند میں چند اہلحدیث علماء کرام کے نام قابلِ ذکر ہیں۔مولانا عبداللہ قصوری، مولانا محمد علی قصوری، مولانا محی الدین قصوری، مولانا محمد علی لکھوی، مولانا عبیداللہ احرار، شیخ الحدیث مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ،مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی،مولانا ابوالقاسم سیف بنارسی، مولانا ابوالقاسم محمد علی مئوی، مولانا نعمان مئوی،مولانا محمد احمد مدرس مئوی، مولانا عبداللہ غازی پوری،مولانا ادریس خان بدایونی،مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی، مولانا عبدالرحیم عرف مولانا محمد بشیر، صوفی ولی فتوحی والا۔دہلی میں پنجابی اہلحدیث ، کلکتہ میں کپڑے والے اور لوہے کا کاروبار کرنے والے مدراس میںمحمد عمر، ۱۸۲۹ء میں مولانا محمد علی رامپوری ؒآئے۔بنگال میں مولانا عبداللہ الکائی،مولانا عبداللہ الباقی،مولاناغازی شہاب الدین وغیرہم کے علاوہ شمالی ہند میں بیجاپور کے علاقہ اور شہید ٹیپو سلطان کے دربار اور اس کے علاوہ علمائے اہلِ حدیث کے نام لینے سے میری گفتگو لمبی ہوجائے گی۔ اب اپنی بات کے اختتامی مرحلے میں آزادہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جناب پنڈت جواہر لعل نہرو کا وہ بیان جو انہوں نے محلہ صادق پور کے اہلحدیثوں کا جنگ آزادی میںجو کارنامہ ہے اس کے بارے میں کہا تھا ۔ملاحظہ فرمائیں :
’’اگر پورے ہندوستانیوں کی قربانیوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں اور علمائے صادق پور کی قربانیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو علمائے صادق پور کی قربانیاں بھاری پڑیں گی۔‘‘
یہ ہیں ہمارے وہ اسلاف جن کے خون کا قطرہ قطرہ اس ملک ہندوستان کی آزادی و آبیار ی اورحفاظت میں لگا ہوا ہے۔ بلکہ کسی نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان میں کسی پتھر کو اٹھایا جائے اس کے نیچے کسی کا خون ہوگا تو سب سے زیادہ اہلِ حدیث کا خون ہوگا ۔دوسرے کسی کا نہیں۔اپنی بات کو اس شعر پہ ختم کرتا ہوں کہ ؎
خون دل دے کے نکھاریں گے رُخ برگ گلاب
مَیں نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
Imamuddin Imam
(Student JNU, New Delhi)
Muzaffarpur
Bihar (India)
Mob.- +91 62061 43783
imamuddin.muz@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

