Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 2 –  ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

by adbimiras جون 25, 2021
by adbimiras جون 25, 2021 0 comment

اردو افسانے کی ماحولیاتی شعریات کا دوسرا زاویہ ”بے زبانوں کی کہانیوں“ سے مرتب ہوتا ہے۔یہاں اردو افسانہ ایک سیکولر کبیری سماج تشکیل دیتا ہے جس میں انسانی دنیا اور فطرت کی ثنویت کا تشکیلی تصور معدوم ہو جاتا ہے اور درخت،بہائم،طیور،حشرات الارض،فطرتی مظاہر اور نا انسانی مخلوق اپنی جدا گانہ حیثیت میں زندہ کردار بن کر افسانے میں ظہور کرتے ہیں۔افسانہ نگار ان کی آوازوں اور خاموشیوں کو سنتا ہے؛ان کے جذبات میں شریک ہوتا ہے اور ان سے ہمدردی،الفت اور موانست کا رشتہ قائم کرتا ہے نیز کسی افادی قدر کے بجائے ان کی ذات کو تسلیم کرتا ہے۔فطرت کے احترام کا یہ احساس اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ فطرتی مظاہر اور نا انسانی مخلوقات حیاتیاتی معاشرے میں برابر کی شریک اور حصہ دار ہیں۔

مذہب،اساطیر اور ادبیات عالم میں غیر بشری/نا انسانی کرداروں کی حامل علامتی و استعاراتی کہانیوں کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ان کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم ڈاکٹر تحسین فراقی کی تحقیق کے مطابق چھٹی صدی قبل مسیح کے مشہور حکیم لقمان سے منسوب ایسی کہانیوں کا ایک مجموعہ حکایات لقمان کے نام سے ملتا ہے۔ان کہانیوں کی جمع آوری فیدریوس نے کی جس کا تعلق پہلی صدی قبل مسیح سے تھا لیکن فیدریوس سے تین صدی پہلے برصغیر میں جاتک کہانیوں کا سراغ بھی ملتا ہے جو گوتم بدھ اپنے ارادت مندوں کو سناتے تھے۔حیوانی کہانیوں کا دوسرا بڑا اور نہایت معروف ذخیرہ پنج تنتر ہے۔یہ کہانیاں سنسکرت زبان میں ہیں۔چھٹی صدی عیسوی میں بر زوَیہ نے اس مجموعے کو حکایاتِ حکیم بید پای  کے نام سے پہلوی زبان میں ترجمہ کیا۔تقریباََ دو صدی بعد عبداللہ ابن مقفع نے پہلوی ترجمے کو کلیلہ و دمنہ کے عنوان سے عربی روپ دیا۔ان میں سے متعدد کہانیاں الف لیلہ میں بھی ظہور کرتی نظر آتی ہیں۔ازاں بعد مسلم علما،صوفیا اور فلسفیوں نے بھی اپنے مطالب کی ترسیل  و ابلاغ کے لیے اس اسلوب کا سہارا لیا۔امام غزالی،خواجہ احمد غزالی اور سہروردی المقتول کے تصنیف کردہ رسالتہ الطیر کے علاوہ اسی نام سے بو علی سینا نے بھی اپنا رسالہ تصنیف کیا تاہم اس نوع کی کتابوں میں سب سے زیادہ مقبولیت فریدالدین عطار کی منطق الطیر کے حصے میں آئی۔(10)اس باب میں دسویں صدی میں لکھا گیا رسالہ اخوان الصفا بھی خصوصیت سے قابل ذکر ہے جس میں انسان کے خلاف جانوروں کا  دائر کردہ مقدمہ انسان کی برتری اور بشر مرکزیت کے تصور پر گہری چوٹ لگاتا ہے۔قصص القرآن اور بائبل میں بھی حیوانی کہانیوں کا پتہ چلتا ہے جب کہ انگریزی ادب اور افریقہ کے زبانی کلچر میں Fable  کی ایک طویل روایت موجود ہے۔قدیم معاشروں میں انسان فطرت کے زیادہ قریب زیست کرتا تھا۔انسان اور نا انسانی دنیا کے مابین وہ تفریق اتنی گہری نہیں تھی جو نشاۃ الثانیہ اور روشن خیالی تحریک کے بعد نمایاں ہوئی چناں چہ انسان نے جہاں اپنے روحانی،سِری اور اخلاقی مسائل کے بیان کے لیے تمثیلات کا سہارا لیا وہیں ان تمثیلات کو زیادہ پُر اثر بنانے کے لیے غیر بشری کرداروں اور فطرتی مظاہر کو بھی اپنی دنیا کے مرکز میں جگہ دی تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ ان کہانیوں  کے غیر بشری کردار انسانی زبان بولتے ہیں اور ان کی معنویت مابعد الطبیعیاتی تناظر میں قائم ہوتی ہے؛یہ کردار انسانی دنیا کی ترجمانی کرتے ہیں۔اخوان الصفا میں جانور انسان کی عقلی برتری کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن بعض مبینہ صفات کی بنیاد پر جیت انسان کی ہوتی ہے۔یہیں سے ماحولیاتی ادب اور قدیم حیوانی/غیر بشری کہانیوں کا مابہ الامتیاز بھی قائم ہوتا ہے۔ماحولیاتی فلسفہ انسان اور فطرت کے مابین کسی ترجیحی /فوقیتی ترتیب کو تسلیم کرنے میں متامل ہے۔ماحولیاتی ادب کی شعریات جانوروں،پرندوں،چوپایوں،درختوں اور دیگر مظاہر کو کسی ماورائی دنیا کا نشان،کسی دوسرے کا نمائندہ اور افادی شے سمجھنے کے برعکس ان کی اپنی ذاتی حیثیت میں انھیں تخلیقی تجربے میں شریک کرنے پر اصرار کرتا ہے۔مثلاََ قدیم معاشروں،مذاہب اور اساطیر میں درخت پر اسراریت کا حامل ایک وجود ہے۔مختلف تناظرات میں درخت سے زندگی،موت ابدیت اور کئی دوسرے مفاہیم وابستہ کیے جاتے ہیں۔بدھ مت اور ہندی اساطیر میں برگد،پیپل،اشوکا اور تلسی مذہبی تقدیس کے حامل درخت متصور ہوتے ہیں۔رامائن،پرانوں کی کہانیوں اور کئی دوسری ہندی اساطیر میں درخت کو ایک مقدس وجود کا درجہ حاصل ہے۔تین ہزار سال پرانی مصری کہانیA Tale of Two Brothers میں ایک بھائی اپنا دل کیکر کے پھولوں پر رکھ دیتا ہے اور جب درخت کٹ کر گرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ بھی مر جاتا ہے۔یہ کہانی انسان اور درخت کے مابین ایک روحانی تعلق کی وضاحت کرتی ہے۔شمن پرستی(Shamanism) میں درخت ایک خاص اہمیت اور معنویت کا حامل ہے۔شمن پر اسرار قوتوں کا مالک شخص ہے جو مادی دنیا سے نکل کر ماورا سے اپنا تعلق استوار کرتا ہے۔اس کی روح درخت کے تنے کے اندر نشو نما پاتی ہے اور پھر درخت کی سب سے اونچی شاخ پر اپنے گھونسلے میں آرام کرتی ہے۔وہ درخت کی شاخوں سے ڈھول بناتا ہے؛ڈھول کی آواز میں جذب ہو کر خود کو ایک پرندے میں تبدیل کر لیتا ہے اور بلندیوں کی طرف پرواز کر جاتا ہے۔(11)  اپنشد میں بھی ایک عظیم درخت کا تصور ملتا ہے۔یہ درخت اُلٹا ہوتا ہے،اس کی جڑیں آسمان میں اور شاخیں زمین پر پھیلی ہوئی ہیں۔آگ،پانی،ہوا وغیرہ کو اس کی شاخیں کہا گیا ہے۔سکینڈے نیویا میں روایت کا شجر(Yggdrasil) بھی کائناتی شجر کی مثال ہے۔قدیم چینی روایت میں ایسے درخت بھی ہیں جن کی شاخوں کے آخری سرے دو دو ہوکر آپس میں ملتے جاتے ہیں۔بعض اوقات ایک ہی جڑ سے دو درخت پھوٹتے ہیں۔چینی روایت میں عظیم شجر ستون کی مانند ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ گویا شجر کے ذریعے کائناتی ظہور کی مختلف شکلوں یا وجود کی وحدت کو دکھایا گیا ہے۔(12)

(یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 1- ڈاکٹراورنگ زیب نیازی )

درخت قدیم ترین زمینی مخلوقات میں سے ایک ہے چنان چہ انسان اور درخت کے مابین ابتدا سے ہی ایک تعلق قائم ہوا جو مختلف معاشروں میں مختلف معنویتوں کا حامل رہا۔مذاہب،اساطیر اور ادب میں درخت کی علامت/استعارہ انسان اور فطرت کے مابین ایک دائمی رشتے کی نشان دہی کرتا ہے۔درخت کی اساطیری و مابعد الطبیعیاتی معنویت  اور حیاتیاتی حیثیت سے قطع نظر ماحولیاتی ادب درخت کا تجربہ ایک زندہ وجود کے طور پر کرتا ہے۔یہ درخت کو رومانی اور ماورائی مقام دے کر اسے زمین اور انسان سے لا تعلق نہیں کرتا بلکہ انسانی سماج کے ایک کردار کی حیثیت میں قبول کرتا ہے۔صادق حسین کے افسانے برگد کا پیڑ کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

گاؤں کے میدان میں کچے رستے کے پاس،برگد کا پیڑ یوں کھڑا ہے جیسے کوئی عہد ساز مفکر،حکمت کے سرمائے تلے جھکا ماحول کا جائزہ لے رہا ہو۔وقت نے اس کی جٹاؤں میں ان گنت لمحے گوندھ ڈالے ہیں۔گرمیوں کی آمد سے پہلے اس کے دور اندیش پتے اپنے اندر پانی جمع کر لیتے ہیں۔سردیوں میں ہر پتے کی ڈنڈی پر برگدیوں کے جوڑے کی نمود اعلان کرتی ہے کہ یگانگت فطرت کا حسن نکھارتی ہے۔برسوں کی جگر سوزی سے اس کے تنے میں گھاؤ آگیا ہے۔اس کے پتے ضرب کھا کر آنسوؤں کے سفید قطرے بہاتے ہیں تو اس کی چوٹی صدا دیتی ہے:”شانتی،شانتی!آؤ یہ دُکھ ہم آپس میں بانٹ لیں۔“

گاؤں میں مشہور ہے کہ برگد کا پیڑ کلام کرتا ہے۔بزرگ فرماتے ہیں کہ برگد کا پیر نہیں بلکہ اسے دیکھ کر خود گاؤں کے باسیوں کی یادداشت بولتی ہے۔

دیہی معاشرت میں برگد کا پیڑ ایک آرکی کردار ہے۔یہ اس مختصر سماج کا نیوکلیس ہے۔آج بھی پنجاب کے اکثر دیہاتوں میں برگد کا پیڑ روایات کے ضامن اور تاریخ کے امین کے طور پر تقدیس کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔گاؤں کا ماضی،حال اور مستقبل اس کے سامنے گزرتے ہیں۔مذکورہ افسانے میں برگد کا پرانا درخت مختلف کرداروں سے کلام کرتا ہے۔نوجوان،شاعر،تحصیلدار،پہلوان،عاشق اور جلال الدین جیسے کرداروں سے مکالمے کے ذریعے یہ معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والی سیاسی،مذہبی،معاشی اور اخلاقی تبدیلیوں کی گواہی دیتا ہے۔بعینہٖ دیوندر ستھیارتھی کے افسانے دھرتی کے بیٹے میں بڑ کا بوڑھا درخت ایک بے جان اور لاتعلق وجود سے ماورا ہوکر سماج اور تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔اس افسانے میں درخت کی حیثیت ایک قدیم بزرگ کی ہے جو گاؤں کی ثقافتی زندگی اور معاشرتی سرگرمیوں میں شریک رہا ہے۔یہ ایک زندہ وجود ہے جو انسانوں اور پرندوں سے کلام کرتا ہے اور خود کو آزار پہنچانے والوں کو بد دعائیں بھی دیتا ہے۔کسان اس کی چھاؤں میں سستاتے ہیں،لڑکیاں اس کی شاخوں پر جھولا جھولتی ہیں اور گاؤں کے باسی اس کے حوالے سے گیت گاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

آدمی اور درخت کے مابین پیار کا لطیف جذبہ قائم ہے اور یہ رشتہ ہمیشہ جاری رہے گا۔زمین میں جکڑے ہوئے درختوں کی رگوں میں بھی لہو دوڑ رہا ہے،کبھی تیز رفتار سے،کبھی آہستہ آہستہ۔۔۔آدمی کے لہو کی طرح۔

ہمارے بوڑھے بڑ کی جڑیں دھرتی کی نبض پہچانتی ہیں۔

کتنی لا انتہا ہے زندگی کی وسعت!آدمی اور درخت دونوں دھرتی کے بیٹے ہیں۔

آدمی اور درخت دونوں دھرتی کے بیٹے ہیں لیکن زمین کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت مختلف ہے۔آدمی تاریخ کے رحم و کرم پر رہتا ہے۔سماجی حرکیات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ زمین اور دھرتی کے ساتھ اس کے رشتے کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے جب کہ درخت تاریخ کا ناظر ہے۔اس کی جڑیں زمین میں پیوست رہتی ہیں اس لیے وہ اپنا مقام اور کردار تبدیل نہیں کرتا۔زمین اور انسان کے ساتھ اس کا رشتہ اپنی اصل حالت میں برقرار رہتا ہے۔درخت کی زمین کے ساتھ مضبوط جڑت اسے اسے زمان و مکان میں ربط اور تاریخی تسلسل کا مضبوط حوالہ باور کراتی ہے۔ستھیارتھی کے افسانے لڈو گھاٹی میں تین درخت شہتوت،پیپل اور نیم تین زمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہ آزادی اور تقسیم کے بعد چکوال (پاکستان) سے ہجرت کر کے دہلی میں سکونت اختیار کرنے والے ایک مختصر،سکھ گھرانے کی کہانی ہے۔نشان خاطر رہے کہ شہتوت،پیپل اور نیم ہندوستان کے مقامی درخت ہیں۔افسانے میں مقامی درختوں کا ذکر اپنی مقامیت پر اصرار اور انگریزی تسلط کے انکار سے عبارت ہے۔افسانے میں شہتوت کا تعلق افسانے کے مرکزی کردار روپ کور(روپاں) کے ماضی سے ہے۔یہ اس کے چکوال والے گھر میں تھا جسے نہ چاہتے ہوئے بھی چھوڑنا پڑا۔وہ ہجرت کو مقسوم سمجھ کر قبول کر چکی ہے لیکن ماضی اس درخت کی شکل میں اس کے دل میں آباد ہے۔روپاں ہجرت کر چکی ہے مگر درخت اپنی جگہ پر موجود ہے۔اس طرح زمان و مکان میں تسلسل اور ربط قائم ہے۔دوسرا نیم کا پیڑ ہے جو اس نے شہتوت کے متبادل کے طور پر اپنے نئے گھر میں لگایا ہے۔یہ اس کے حال کی نمائندگی کرتا ہے۔افسانے کے درمیان میں پیپل کا درخت آتا ہے۔ہندوستانی معاشرے میں پیپل کا درخت مقدس مانا جاتا ہے۔لوگ اپنے مستقبل کے خواب اور بہتر زندگی کی خواہش کو اس درخت سے وابستہ کرتے ہیں۔روپاں جب بہو لے کر آتی ہے تو اگلی صبح اسے چوک میں موجود پیپل کے درخت کے پاس لے جاتی ہے جہاں اسے کی جڑوں میں پانی انڈیلا جاتا ہے۔یہ عمل دیوتا کے چرنوں کو چھونے اور اس کے سامنے چڑھاوا چڑھانے کے مترادف ہے۔بہو کے اصرار پر بیٹااپنا گھر تبدیل کرنے پر راضی ہو جاتا ہے لیکن روپاں نہیں مانتی۔جب اس پر زیادہ دباؤ ڈالا جاتا ہے تو وہ نیم کے تنے سے لپٹ جاتی ہے اور اس کے چہرے کی جھریاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔

منشا یاد کے افسانے درخت آدمی میں گاؤں کی معاشرتی زندگی میں شریک درخت  جداگانہ کردار،شناخت اور حیثیت کے مالک ہیں۔گاؤں کا بوڑھا برگد گاؤں والوں کے لیے ایک پناہ گاہ ہے۔لوہاروں کی خراس کے پاس کھڑا وانہہ کا درخت باد پیما کا کام کرتا ہے،یہ ہوا کے ساتھ اپنی آواز بدل لیتا ہے۔چودھری اللہ وسایا کے گھر میں خوبصورت بکائن اس کی بہو سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔یہ گاؤں والوں کے حسِ جمال کی تسکین کرتی ہے۔کھرلوں کے آم،نہر کنارے شیشم کی قطار اور نمبرداروں کا ذخیرہ گاؤں کی خوبصورتی ہیں۔مسجد کے پچھواڑے ون کے درخت ہیں۔یہ بد وضع،ٹیڑھے میڑھے اور بہ ظاہر بے کار ہیں،انھیں پھل لگتا ہے نہ ہی ان کی لکڑی اچھی ہے لیکن گاؤں کے بچوں کے لیے تفریح گاہ ہیں اور بچوں کو کھیلتا دیکھ کر کرمو کے احساس محرومی کی تشفی ہوتی ہے۔موچیوں کے گھر میں لسوڑی کے درخت سے کرمو کی رومانی یادیں وابستہ ہیں۔کرمو کے لیے یہ درخت محض درخت نہیں تھے۔یہ اس کی زندگی میں اس حد تک دخیل تھے گویا اس کے خونی رشتہ دار اور اس کے دوست ہوں۔افسانے کا یہ  اقتباس دیکھیے جہاں باغ کے درخت، پرندے،بھنورے حتیٰ کہ سانپ تک کرمو کے ساتھ زندگی میں شریک ہو جاتے ہیں:

وہ وہیں باغ کے اندر ایک کٹیا میں پیدا ہوا تھا اور طرح طرح کے خوبصورت درختوں،پھولوں،پھلوں،تتلیوں اور رنگا رنگ پرندوں کی چہچہاٹوں میں پلا بڑھا تھا۔اسے اس باغ کے ایک ایک پیڑ کی صورت یاد تھی۔اسے ان کی بور اور پھلوں سے لدی شاخیں،ہوا سے تالیاں بجاتے پتے اور گھنے سائے سب کچھ ازبر تھا۔اسے وہ پرندے بھی یاد تھے جو راتوں کو باغ کے درختوں پر بسیرا کرتے اور دن کو کچے پکے پھلوں کو کتر کتر کر نیچے گراتے رہتے تھے اور جنھیں وہ ڈراتا دھمکاتا اور غلیل سے اڑانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ مگر وہ بالکل نہیں ڈرتے تھے۔اور وہ پرندے بھی جو باغ کی روشوں پر چل چل کر پنجوں سے طرح طرح کے نقش و نگار بنا دیتے،پانی کی کھائیوں اور آڈوں سے چونچیں بھر بھر پانی پیتے اور اور سیراب کیاریوں میں بھیگ کر زور زور سے پروں کو پھڑپھڑاتے۔چڑیوں،کوؤں،تلیرؤں اور جنگلی کبوتروں کی ڈاریں اترتیں اور اس کی پالتو بطخوں اور مرغیوں کے ہمراہ دانہ چگتی پھرتیں۔اسے پرندوں کے نغموں سے معمور صبحیں اور شامیں بھی یاد تھیں اور وہ بھنورے اور شہد کی مکھیاں بھی جو پھولوں،کلیوں اور درختوں کے بور پر منڈلاتی اور خوشبو اور مٹھاس جمع کرتی رہتیں۔اسے باغ کی ایک ایک چیز سے پیار تھا۔اسے تو وہ سانپ بھی اپنے رفیق معلوم ہوتے تھے جو باغ کے کسی نہ کسی گوشے میں اکثر نظر آتے تھے مگر انھوں نے اندھیرے یا اجالے میں اسے کبھی کوئی گزند نہیں پہنچایا تھا بلکہ ایک طرح سے باغ کی رکھوالی کرتے رہتے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں عصمت کے افسانوں میں بیانیہ کے مسائل – ڈاکٹر شہناز رحمٰن )

اس افسانے کا عنوان ”درخت آدمی“ آدمی کے درخت میں یا درخت کے آدمی میں انجذاب اور ہم روحیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ شمن پرستی کے قدیم  انسانی عقیدے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جس کے مطابق انسان کی روح مظاہر فطرت میں تحلیل ہو جاتی ہے۔افسانے کا مرکزی کردار کرمو گاؤں کا ایک سیدھا سادا بوڑھا شخص ہے جس کی عمر درختوں کی قربت میں گزری ہے۔اس کا عقیدہ ہے کہ ”درختوں میں بھی ایک طرح کی زندگی ہوتی ہے۔وہ بھی خوشی، غمی اور خوف محسوس کرتے ہیں،بعض زیادہ،بعض کم۔آدمیوں کی طرح ان میں بھی نر اور مادہ ہوتے ہیں۔پھل صرف مادہ درختوں کو لگتا ہے،جس کے لیے ان کا اپنے ہم جنسوں سے تعلق اور ملاپ ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ اپھل رہتے ہیں۔اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ درخت ناراض اور خوش ہو سکتے تھے اور ایک خاص حد تک اپنی خدمت یا نقصان پہنچانے والے ہاتھوں کو پہچانتے تھے۔“بڑے چودھری کی وفات کے بعد جب جائیداد تقسیم ہوتی ہے تو کرمو کا پسندیدہ باغ بھی کاٹ دیا جاتا ہے۔چودھری کا بیٹا اسے اپنے ساتھ شہر لے آتا ہے۔اسے پیسوں،ٹی۔وی اور دوسری اشیا سے بہلایا جاتا ہے مگر اس کا دل درختوں میں اٹکا رہا۔رفتہ رفتہ یہاں بھی اسے درخت مل گئے اور اس کا دل بہل گیا۔شروع میں اسے شہری درخت کچھ نامانوس اور اجنبی لگتے ہیں مگر جلد ہی وہ ان کے ساتھ مفاہمت کر لیتا ہے کیوں کہ شہر یا گاؤں کی تفریق اس کا مسئلہ نہیں ہے۔اس کا مسئلہ درخت ہیں۔چھوٹا چودھری گھر کے ایک حصے میں اس کی دل بستگی کا سامان کر دیتا ہے۔وہ آم کے پیڑ سے دوستی کر لیتا ہے۔وہ موسم سے پہلے ہی اعلان کردیتا ہے کہ اس بار پھل زیادہ لگے گا۔اس کا اعتقاد اسے دھوکا نہیں دیتا اور واقعی اس بار درخت پر معمول سے زیادہ پھل لگتا ہے۔کچھ عرصہ بعد گھر میں توسیع کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو آم کے اس پیڑ کو کاٹنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔یہ ناخوشگوار کام وہ اپنے ہاتھوں سے انجام دیتا ہے لیکن درخت کے گرتے ہی وہ اس کے نیچے دب کر مر جاتا ہے۔مرتے وقت اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ سے یہ طے نہیں ہو سکتا کہ یہ تکلیف یا موت کے خوف کی وجہ سے تھی یا یہ چیخ خوشی کا نعرہ تھی۔درحقیقت اس کی روح درخت کے اندر تحلیل ہو چکی تھی۔درخت کے کٹتے ہی اس کی روح مادی وجود سے آزاد ہو گئی۔بالکل A Tale of Two Brothers  کے ہیرو کی روح کی طرح۔

ناصر عباس نیر کا افسانہ درخت باتیں ہی نہیں کرتے،اس تیقن پر اساس رکھتا ہے کہ درخت ایک ناطق وجود ہیں۔افسانے کے عنوان میں حرفِ اصرار(ہی)اسی یقین کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس افسانے کا بیانیہ ماحولیات کے دو بنیادی مقدمات سے ترتیب پاتا ہے۔اول یہ کہ فطرت کی اپنی ایک آواز ہے جسے سنا جا سکتا ہے لیکن غلبہ پسند جدید انسانی تہذیب نے اسے خاموش کر دیا ہے اور دوم یہ کہ تمام اشیا آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔مصنف کا تاریخی شعور وقت اور واقعات کی باہمی جڑت کو بھی اس مقدمے میں شامل کرتا ہے۔افسانے کے تین کردار متکلم،اس کا والد اور دادا تین زمانوں (ماضی،حال اور مستقبل)کی ترجمانی کرتے ہیں۔جس طرح تین نسلیں (متکلم،والد اور دادا)جینیاتی طور پر آپس میں جڑے ہوئی ہیں اور انھیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسی طرح تین زمانے بھی آپس میں جڑے ہوئے ہیں،تاریخ کا ارتقا اور تغیرو تبدل ماضی کو حال سے،حال کو مستقبل سے اور مستقبل کو ماضی  اور حال سے جدا نہیں کر سکتا۔متکلم کا والد ایک منفعل کردار ہے جس کے ذریعے دادا(ماضی)کی باتیں متکلم تک پہنچتی ہیں۔افسانے کا بیشتر حصہ درختوں اور پرندوں کے متعلق دادا کی باتوں پر مشتمل ہے۔متکلم اپنے دادا کی طرح درختوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ہوتی:

ادھر میں گھنٹوں درختوں کے نیچے بیٹھتا ہوں۔قطار در قطار درختوں میں چلتا ہوں مگر ان کی کوئی بات مجھے سنائی نہیں دیتی۔مان لیا درختوں کی زبان کوئی اور ہوگی،پر آواز تو ہوگی۔میں نے ہر پرندے کی آواز بھی الگ پہچاننے کی کوشش کی ہے،اس خیال سے کہ شاید درختوں کی آواز،ان کی آواز میں مل جاتی ہو اور پہچان میں نہ آتی ہو لیکن ہر بار مجھے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک آخری کام بھی میں نے کر کے دیکھ لیا ہے۔دنیا میں سب سے اونچی آواز وہ ہے جو آدمی کے اندر ہوتی ہے۔اس کے ہوتے ہوئے کسی اور کی آواز اول تو سنائی نہیں دیتی،سنائی دے تو اس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو آدمی کے اندر کی آواز کا ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں "جدید اُردو افسانے  میں فنتاسی ” ایک مطالعہ – ڈاکٹر کامران شہزاد )

فطرت کی خاموشیوں کو سننے کی کوشش میں یہ انکشاف حیران کن حقیقت ہے کہ سب سے اونچی آواز آدمی کے اندر کی آواز ہے جو سب آوازوں پر حاوی ہے۔یہ جدید انسان کی آواز ہے۔اس کا بلند آہنگ انسان کی اپنے تئیں افضلیت اور اس کی استحصال پسندی کا نتیجہ ہے۔فطرت کی آواز کو سننے یا درختوں اور پرندوں کی زبان کو سمجھنے کے لیے اپنی آواز کی لے کو مدھم کر کے فطرت کی آواز کے برابر لازمی ہے۔ جس طرح بلندی سے چیزیں چھوٹی نظر آتی ہیں بعینہٖ بلند آواز کی موجودگی میں مدھم آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔دادا کے اقوال وافعال باور کراتے ہیں کہ ماضی میں جب تک انسان نے فطرت کو زیر نہیں کیا تھا،انسان بہ آسانی اس کی آوازیں سن لیتا تھا۔دادا درختوں اور پرندوں کی آواز سن،سمجھ لیتے تھے لیکن متکلم(جدید فرد)اس نعمت سے محروم ہے۔

اس بیانیے میں پیش کردہ دوسرا مقدمہ اشیا کی باہمی جڑت کا ہے۔یہ ماحولیات کا بنیادی اصول ہے۔متکلم کے دادا کو شیشم کے پرانے درخت سے گہرا انس تھا۔اس درخت پر چڑیوں،فاختاؤں،لالیوں اور کووں کے آہلنے تھے۔جب درخت کٹ گرا تو پرندوں کی بے چینی نا قابل یقین تھی۔”وہ سب دل کو چیر دینے والی آواز میں چیخ رہے تھے،جیسے کسی شخص کے سامنے اس کے پورے کنبے کو ذبح کر دیا گیا ہو۔“افسانہ نگار اس سانحے کو تقسیم،ہجرت اور فسادات کے تاریخی واقعے سے جوڑتے ہیں۔افسانے کے آخر میں جب ایک طویل عرصے کے بعد متکلم اپنے آبائی گھر میں جاتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ درختوں سے باتیں کرنے والے،ان کا خیال رکھنے والے اب موجود نہیں ہیں لیکن درختوں نے ایک دوسرے کو سہارا دے رکھا ہے اور ان کی جڑیں زمین سے باہر آکر ایک دوسرے میں پیوست ہو گئی ہیں۔یہاں آکر افسانے کے عنوان کی معنویت کھلتی ہے کہ درخت صرف کلام ہی نہیں کرتے،کائنات کی تمام اشیا کی طرح انسانوں سے، جانوروں، پرندوں سے اور ایک دوسرے سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں جنھیں کسی جدید نظریے یا آواز پر جدا نہیں کیا جا سکتا۔

درختوں،پرندوں اور جانوروں کی انسانی اقلیم میں بہ طور کردار قبولیت کا رجحان اردو افسانے کے آغاز سے ہی دکھائی دینے لگتا ہے تاہم ان کرداروں کی حیثیت علامتی تھی۔اردو کے اولین افسانہ نگاروں پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم کے  مشہور افسانے(بالترتیب)دو بیل اور چڑیا چڑے کی کہانی مذکورہ رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔پریم چند کا افسانہ دو بیل سماجی تناظر میں دہری معنویت کا حامل افسانہ ہے۔اس کے مرکزی کردار ہیرا اور موتی(بیل) ایک طرف دیہی معاشرت میں انسان اور جانور کے باہمی رشتے کو نمایاں کرتے ہیں تو دوسری طرف یہ افسانہ ہندوستان کی طبقاتی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔سجاد حیدر یلدرم کا چڑیا اور چڑے کی کہانی انسانی دنیا سے الگ،ایک مخصوص فاصلے سے انسانی سماج کی حرکیات کو دیکھنے،سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔اس افسانے میں پرندوں کی زبانی انسانی دنیا کے مختلف تضادات کو منکشف کیا گیا ہے۔اردو افسانے کے یہ غیر بشری کردار انسانی صفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔1944 میں رفیق حسین کے آٹھ افسانوں پر مشتمل مجموعہ آئینہ ء حیرت کے نام سے شائع ہوا۔ان افسانوں میں اردو قارئین کے لیے حیرت کا وافر سامان موجود تھا۔ان”آٹھوں افسانوں کے مرکزی کردار جانور ہیں اور ماحول بیشتر جنگل کا مگر انھیں نہ تو شکار کے افسانے کہا جا سکتا ہے نہ حکایتیں اور نہ تمثیل۔ان آٹھوں افسانوں میں انسان اور جانور پہلو بہ پہلو چلتے ہیں،محض سادہ مخلوق کے طور پر نہیں بلکہ اپنی جبلتوں،عادتوں،جذبوں اور اصولوں کی پاسداری کو ساتھ لے کر۔“(13) رفیق حسین نے انسانی دنیا کے متوازی ایک ایسی دنیا خلق کی جس سے اردو افسانہ ہنوز نا آشنا تھا۔یہ خالص جنگل کی دنیا ہے جس کے اپنے اصول اور ضابطے ہیں۔ان کے افسانوں میں ”جنگل کا قانون“جیسے روایتی تحقیری محاورے بھی مشکوک ٹھہرتے ہیں۔حیوانی دنیا کے قابل رشک مشاہدے،حیوانات کی جبلت،نفسیات،عادات اور معاشرت و رہن سہن کے قابل قبول بیان سے انھوں نے فطرت کی دنیا کو ایک ابدی حقیقت ثابت کیا۔ان کا کہنا ہے؛”جانوروں کو انسٹنکٹ (Instinct) کا مادہ دیا گیا ہے جس میں غلطی کا احتمال ہی نہیں اور ہم (انسان) کو عقل جو ہر قدم پر ٹھوکر کھاتی ہے۔“(14)

حیوانی جبلتوں کا اثبات رفیق حسین کے افسانوں کا کلیدی موضوع ہے۔عقلی تفوق اور استدلال انسان کا متیازی وصف ہے لیکن انسان کی یہ طاقت اکتسابی اور اختیاری ہے جب کہ جبلت ایک غیر اختیاری خلقی تحریک ہے جس کے تحت حیوانات اور انسان اپنے معاشرتی،جسمانی،نفسی،جنسی اور دیگر افعال انجام دیتے ہیں۔رفیق حسین کے افسانے کفارہ کے ابتدائی حصہ میں چیتل کھیت میں چرنے کے لیے آتے ہیں لیکن شیر کی آہٹ سن کر ایک دوسرے کو مطلع کرتے ہیں اورجان بچانے کے لیے جنگل کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔خطرے کا احساس اور جان بچانے کی یہ کوشش جبلی عمل کی مثال ہے۔کفارہ کا مرکزی کردار بہاری ایک قاتل ہے۔یہ قتل اس سے غیر ارادی طور پر سر زد ہوا ہے۔وہ بھی جان بچانے کے لیے جنگل میں پناہ لیتا ہے اور آہستہ آہستہ جنگل کی زندگی کا عادی اور جنگل کے باسیوں سے مانوس ہو جاتا ہے۔”صرف چار مہینے کے قلیل عرصے میں پیاری جان کی حفاظت کا جذبہ بہاری کے دماغ کو ان احساسات سے معطل کر چکا ہے۔انسانی خیالات اور محسوسات ساکت ہو چلے ہیں،ان کے بجائے خالص حیوانیت ترقی کر رہی ہے۔سر اور ڈاڑھی کے خود رو پریشان بالوں سے گھرا ہوا چہرہ انسان کے چہرے سے بہت کچھ جدا معلوم ہوتا ہے۔کمر سے گھٹنے تک اب بھی کپڑے کی چند لیریں لٹکی ہوئی ہیں۔حرکات میں وحشت،چال میں چیتے کی سی جھپک اور آنکھوں میں ہرن کا سا چوکنا پن ہے۔اب وہ بیٹھ کر بجائے اپنی بد قسمتی کے واقعات سوچنے کے جنگل کی آوازوں پر کان لگا کر ان کے مطلب اخذ کرتا ہے۔جنگل کی جڑوں اور پتوں سے بڑھ کر پرندوں کے انڈے،مرے گرے جانور اور دوسروں کا مارا شکار کھاتا ہے۔“جنگل اور جانوروں سے مفاہمت،ناتراشیدہ حلیہ،معمولات اور جانوروں،پرندوں کی زبان سمجھنا  درحقیقت عقلیت سے آزادی اور قدیم فطرت کی طرف مراجعت ہے۔افسانے کے مناظر فطرت کے حسن و مہربانی جب کہ واقعات فطرت کی غضبناکی اور آزاد قوانین کی عمل داری کو پیش کرتے ہیں۔فطرت اپنے متعین قوانین پر عمل پیرا ہوتی ہے۔یہ اپنی عمل داری میں انسانی مداخلت کو ایک خاص حد تک برداشت کرتی ہے جیسے ہی انسان حدود سے تجاوز کرتا ہے،فطرت انتقام پر اتر آتی ہے۔بہاری جنگل میں آزادانہ زندگی بسر کرتا ہے جنگل اسے قبول کر لیتا ہے مگر جیسے ہی وہ جنگل کے قوانین میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے،مہربان فطرت اس کے لیے غضب ناک ہو جاتی ہے۔وہ شیرنی کے شکار پر قبضہ کرنے لگتا ہے تو شیرنی اس پر حملہ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے یوں انسانی دنیا کے قوانین سے بچ جانے والا بہاری جنگل کا قانون توڑنے پر فوراََ سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔تاہم زیادہ اہم سوال جبلت اور عقل کے افتراق اور فوقیتی ترتیب کا ہے۔انسانی فلسفے میں یہ خیال چلا آرہا ہے کہ جبلت یا حیوانی افعال و اعمال شعور و ارادے کے تابع نہیں ہوتے۔رفیق حسین کا یہ افسانہ اس قدیم خیال کو معرضِ استفسار میں لاتا ہے۔بلدیو سنگھ کے قتل میں بہاری کا اراردہ شامل نہیں تھاتو کیا دوسرے انسان کو قتل کرنا انسان کی جبلت ہے؟نیز افسانے کے آخر میں جب شیرنی بہاری کو مار دیتی ہے تو شیر کو یہ قانون شکنی ناگوار گزرتی ہے اور وہ غضب ناک ہو کر شیرنی سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔جنگل کی دنیا میں دوسرے جانوروں کو مارنا یا شکار کرنا معمول کا عمل ہے۔اگر حیوانی اعمال شعور سے تہی ہیں تو شیر کے اس عمل کو حیوانی جبلت کہا جائے گا یا ایک عقلی عمل؟

رفیق حسین کے ہاں حیوانی جبلت کی ایک اور عمدہ مثال ان کے افسانے کلو ا میں سامنے آتی ہے۔کلو(کتا)کی قربانی محبت،وابستگی اور وفا کا مظہر ہے۔افسانے کا درد ناک انجام وفا کے باب میں حیوانی برتری کو ثابت کرتا ہے۔باوجودیکہ بعض مذہبی قصوں اور لوک دانش میں کتے کو وفا کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،مذہبی/مشرقی معاشروں میں کتے کو ایک حقیر اور نجس مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ایک چھوٹابچہ منن کتے کے ایک پلے کو گھر لے آتا ہے۔انسانی نظریات و عقائد سے نا واقف بچے کی جانور سے محبت دیدنی ہے مگر سرگشتہ ء خمارِرسوم و قیود گھرانہ اپنی اشرف المخلوقیت کے زعم میں کلو کو قبول نہیں کرتا۔ٹھیک آٹھویں دن اسے گھر سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔زمانے بھر کی پھٹکار،مار اور نفرت سہتا کلو جوان ہو جاتا ہے۔بے توقیری کے اس سفر میں صرف کچھ عرصے کے لیے اسے قصائی کی لڑکی چندو کی محبت ملتی ہے لیکن یہاں بھی انسان کا جذبہ ء رقابت مخل ہوتا ہے اور چندو کا ناکام عاشق اپنی ناکامی کا غصہ کلو پر نکالتا ہے۔وہ کلو کو چندو سے دور کر دیتا ہے اور اسے ایک قبرستان میں چھوڑ آتا ہے۔مار کھاتا،آوارہ گردی کرتا کلو جب جوان اور توانا کتے کا روپ اختیار کرلیتا ہے تو اپنی جسمانی طاقت کے بل بوتے پر،اپنی محرومیوں کا انتقام دوسرے کتوں سے لیتا ہے۔یہاں طاقت،اجارہ داری اور انتقام کی جبلت ظاہر ہوتی ہے۔کلو اپنے اولین محسنوں کو بھول نہیں پاتا۔وہ چندو کی تلاش جاری رکھتا ہے اور آخر کار اس تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔وہ کئی دن تک اس کے در پر پڑا رہتا ہے،ذلت اٹھاتا ہے لیکن چندو کے در سے دور ہونا قبول نہیں کرتا۔اس کا سامنا چندو سے ہو جاتا ہے لیکن وہ اسے پہچان نہیں پاتی تب وہ چپکے سے وہاں سے چلا جاتا ہے(وفا کیسی،کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا/تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو۔غالب)۔ایک بار پھر اس کی ملاقات منن سے ہوتی ہے اور وہ اسے پہچان لیتا ہے۔دونوں میں دوستی پروان چڑھتی ہے۔سکول سے بھاگنے پر جب جب ماسٹر منن کی شکایت کرتا ہے تو کلو ماسٹر پر حملہ کر دیتا ہے۔کلو اب منن کے ساتھ اس کی آوارہ گردی میں شریک رہتا ہے۔ایک دن یہ دونوں واٹر ورکس کے ٹینکوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔کھیل کھیل میں منن ٹینک کے اندر اترتا ہے اور ڈوبنے لگتا ہے۔کلو اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے رات بھر اسے بچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔منن بچ جاتا ہے،کلو مر جاتا ہے۔بچے کو تلاش کرنے والے اسے پاکر خوش ہوتے ہیں مگر کسی کا دھیان اس آوارہ،حقیر مخلوق کی طرف نہیں جاتا جس نے بچے کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کردی ہے۔اس افسانے کا تھیم ایک بار پھر اس مفروضے پر سوال اٹھاتا ہے کہ دوسرے کی جان بچانے کی کوشش میں اپنی زندگی قربان کرنے کا عمل محض خود کار جبلت ہے یا اس کا محرک جبلی تقاضوں سے ماورا کوئی اور جذبہ؟حیوانی جبلت کا تقاضا تھا کہ کلو منن کو خاموشی سے ڈوبتے دیکھتا اور اپنی جان کی فکر کرتا۔ڈوبتے شخص کو بچانا ایک کتے کی سماجی یا اخلاقی ذمہ داری نہیں تھی۔افسانہ  پیرو  انسان اور حیوان میں جنس کی مشترک جبلت اور فطرت کے متعلق انسان کے استعماری رویّوں کو پیش کرتا ہے۔جنگل کی دنیا کا عمیق مشاہدہ ایک متوازی دنیا کی تشکیل کرتا ہے۔اس دنیا میں انسانی مداخلت کے نتائج سے افسانہ نگار نے انسان پسندی کے خلاف اپنا بیانیہ ترتیب دیا ہے۔جنگل کی منظر کشی شہری دنیا سے الگ ایک ناتراشیدہ دنیا کی تصویریں پیش کرتی ہے:

یہاں سبزے کی آرائش میں قدرت نے اپنی تمام تر فیاضیاں ختم کر دی ہیں۔پتھروں پر کائی کی طرح سبزہ اُگتا ہے۔اس سبزے کی ہر پتی کرشمۂ قدرت کا ایک نمونہ نظر آتی ہے۔کوئی مخملی ہے،چاندی کی طرح چمکتی ہے۔کوئی چکنی ہے،ریشم کی طرح نرم و نازک ہے۔کسی پر سرخ ٹھپہ ہے۔کسی میں سفید دھاریاں ہیں۔کوئی انتہائی تراش اور کٹاؤ کی پتی ہے لیکن ہیں سب ہری۔ہر طرف ہر جگہ ہرا ہی ہرا ہے۔نیچے سبزے کا فرش اوپر جھاڑیاں۔جھاڑیوں پر بیلیں۔ہر جگہ طرح طرح کے پھول۔ہر جگہ طرح طرح کی خوشبوئیں۔جگہ جگہ مقطر پانی کے بہت چھوٹے چھوٹے شفاف چشمے، گنگناتے، دھیمے دھیمے راگ گاتے،پتھروں کو کتراتے،چتانوں پر جھلملاتے،دونوں طرف کی ڈھالوں پر سے بڑی بڑی جھاڑیوں کے سایے میں گھومتے گھامتے نیچے اترتے چلے جاتے ہیں۔

یہ محفوظ فطرت کی تصویریں ہیں جنھیں انسانی ہاتھوں نے آلودہ نہیں کیا۔اس دنیا کے اپنے قانون اور ضابطے ہیں۔یہاں کا بادشاہ سیاہ دھاریوں والا شیر ہے،وہ شکار کرتا ہے لیکن اپنی جبلی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے۔پیٹ بھر جانے کے بعد نفرت یا غصے میں دوسرے جانوروں کا قتل نہیں کرتا اس لیے سانبھر،نیل گائے،چیتل اور پاڑے اس سے خوف نہیں کھاتے۔”البتہ جب کبھی دو ٹانگوں والے جانور آگ اُگلنے  اور گرجنے والی لکڑیاں لے کر آجاتے ہیں تو پھر یہ جانور ان ظالموں کے خوف سے چاندنی کی چوٹیوں پر چڑھ کر خطرناک اور دشوار راستوں سے دوسری طرف نیچے اتر کر کالی کے گوشہ ء عافیت میں پہنچ جاتے ہیں حالانکہ یہاں ان کو شیر کے پہلو بہ پہلو رہنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی ان کو یہ گوارا ہے بہ نسبت اس کے کہ یہ اس جنگل میں پھریں جہاں کہ ظالم اور بے رحم انسان آگیا ہے۔“افسانے کے یہ حصے فطرتی دنیا کے محفوظ حسن کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی استحصال پسندی پر گہری چوٹ بھی کرتے ہیں۔

فی الاصل پیرو فطرتی دنیا کی طرف مراجعت کی کہانی ہے۔پیرو ایک نیل گائے(نر)ہے جو اپنی اصل سے کٹ چکا ہے۔انسانی معاشرے میں انسانوں کے ساتھ ایک لمبا عرسہ گزارنے کی وجہ سے اس کی حیوانی فطرت مسخ ہو چکی ہے۔اپنی اصل جون میں واپس آنے کے لیے اسے طویل کشٹ اٹھانا پرتا ہے۔پیرو انسانی دنیا میں پروان چڑھا ہے اس لیے حیوانی خصلتوں سے عاری ہے۔اسے ایک جوگی نے پالا ہے۔جوگی گرفتار ہو جاتا ہے تو دوسرے انسان اسے اپنی دنیا میں جگہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔انسانوں کی دھتکار سے تنگ آکر وہ جنگل کا رُخ کرتا ہے لیکن یہ دنیا اس کے لیے نئی ہے۔اس کے ہم جنس اسے قبول نہیں کرتے۔اس کے گلے میں  لٹکتا ہو اایک کنٹھا  اس کے لیے وبال جان بن جاتا ہے کہ یہ اس کے انسانی دنیا میں رہنے کی علامت ہے۔اپنی اصل سے دور ہونے کی وجہ سے وہ اپنی شناخت اور بنیادی جبلتیں کھو چکا ہے۔زندگی میں پہلی بار ماداؤں کو دیکھ کر اس کے اندر جنسی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔جنس مخالف کی مخصوص بو اس کے لیے اشتہا انگیز اور لذت آور ہے۔اسے محسوس ہوتا ہے کہ”اس کی اپنی دنیا جہاں وہ پیدا ہوا تھا،زیادہ شفاف اور کشادہ ہے۔ اس دنیا کا پتہ پتہ اس کے لیے لا محدود مسرتیں لیے پیدا ہو ا تھا۔“لیکن اب یہی دنیا اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔مادائیں اس کے گلے میں غلامی کا طوق(کنٹھا)دیکھ کر اس سے دور بھاگتی ہیں اسے خود کو اس دنیا کا حصہ باور کرانے کے لیے خود کو اس دنیا کا حصہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ریچھ اور شیر کی لڑائی میں مداخلت کرتے ہوئے وہ دونوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور فتح یاب ٹھہرتا ہے۔اس لڑائی میں شیر کا پنجہ لگنے سے اس کے گلے میں لٹکنے والا کنٹھا ٹوٹ جاتا ہے۔اس طرح وہ آزاد ہو کر مکمل جنگلی بن جاتا ہے اور مادائیں خود اسے اپنی طرف بلانے لگتی ہیں۔

ہر فرعون را موسیٰ جنگلی سماج کے قوانین،جنگلی حیات کی معاشرت،ان کے رویّوں اور باہمی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔افسانے میں جنگلی معاشرت اور جانوروں کی حرکات و سکنات کا باریک بیں مشاہدہ قابل رشک ہے۔یہ بنیادی طور پر شکاریات کی کہانی ہے جس کے پردے میں طاقت کی حیوانی جبلت کو نمایاں کیا گیا ہے۔انسانی اور حیوانی سماج کا نطام طاقت کے رشتوں سے متشکل ہوتا ہے۔طاقت کے حصول کے لیے اپنے ہم جنسوں کو زیر کرنے کی خواہش انسان اور حیوان کی مشترک جبلت ہے۔سؤر ایک طاقت اور جانور ہے لیکن گوند اپنی طاقت کے بل بوتے پر سؤر کو بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔گوند کا سامنا اپنے سے زیادہ طاقتور شیرنی سے ہوتا ہے اور شیرنی گوند کو ہلاک کر دیتی ہے۔شیرنی اپنی طاقت کے گھمنڈ میں بد مست ہاتھی سے ٹکراتی ہے لیکن وہ شیرنی سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے۔طاقت کے نشے میں چور ہاتھی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے والے لڑکے بدل پر حملہ آور ہوتا ہے۔بدل جان بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بعد ازاں میجر بوسٹ کے ساتھ ہاتھی کے شکار پر نکلتا ہے۔میجر بوسٹ اسلحے سے لیس ہونے کے باوجود ہاتھی کو مار نہیں سکتا البتہ بدل مارا جاتا ہے۔بدل کا باپ کلوا تلاش میں نکلتا ہے اور ہاتھی کو مارنے میں کامیاب ہو تا ہے۔یوں آخر کار طاقت ور ہاتھی اپنے سے زیادہ طاقت ور (انسان)کے ہاتھوں انجام کو پہنچتا ہے۔یہ کہانی جہاں فطرت کی غضب ناکی کو پیش کرتی ہے وہیں فطرت کے ایک نئے رُخ سے بھی آشنا کراتی ہے۔انسان اور حیوان کبھی اپنی بقا کے لیے،کبھی ضرورت کے تحت اور کبھی محض طاقت کے حصول اور اجارہ داری کی خواہش میں دوسری مخلوقات حتیٰ کہ اپنے ہم جنسوں کے استحصال کو بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔طاقت کے اس کھیل میں فتح یاب وہی ٹھہرتا ہے جس کے پاس طاقت زیادہ ہے۔انسان کے پاس بعض دوسرے جانوروں کی نسبت جسمانی طاقت کم لیکن تدبیر اور استدلال کی طاقت زیادہ ہے۔اس لیے وہ فطرتی قوتوں کو تسخیر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔میجر بوسٹ شکاریات کا ماہر ہے،اس کے پاس جدید اسلحہ بھی ہے لیکن وہ عقلی طاقت کا استعمال نہیں کرتا اس لیے جسمانی طور پر خود سے زیادہ طاقت ور کے سامنے شکست کھا جاتا ہے جب کہ خالی ہاتھ،سادہ لوح کلوا تدبیر کی طاقت سے خونخوار بد مست ہاتھی کو مارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔افسانے کا اختتام ایک عجیب المیے پر ہوتا ہے:

کلوا پاسی ہاتھی کے پیٹ پر بیٹھے ہوئے سر پکڑے رو رہے تھے۔

یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ کس کا المیہ ہے؟ کلوا کا رونا اپنے مقتول بیٹے کے لیے ہے یا ہاتھی کے لیے؟درحقیقت یہ انسان اور فطرت دونوں کا المیہ ہے۔انسان اور فطرت کے تصادم میں شکست دونوں کی ہوتی ہے۔ہاتھی کی موت فطرت کی شکست ہے اور بدل کی موت انسان کی۔فطرت اور انسان کا تصادم  انا،انتقام اور حصول طاقت کی جنگ ہے جس میں نقصان دونوں کو اُٹھانا پڑتا ہے۔

رفیق حسین کے مذکورہ مجموعے میں شامل افسانہ گوری ہو گوری اردو افسانے کے کلاسیکز میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ افسانہ ممتا کے عظیم جذبے کو حیوانی دنیا کے تناظر میں پیش کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ممتا کا جذبہ انسان اور حیوان کی ایک مشترک جبلی قدر ہے(گزشتہ صفحات میں اس افسانے کا تفصیلی ذکر آچکا ہے)۔اس مجموعے کے دیگر تین افسانے آئینہ ء حیرت،شیریں فرہاد اور بے زبان انسانوں اور جانوروں کے باہمی تعلق نیز جانوروں کے ساتھ انسان کے ظالمانہ سلوک اور تحقیری رویّوں کو بیان کرتے ہیں۔آئینہ ء حیرت چار ابواب پر مشتمل ایک طویل افسانہ ہے۔یہ انسان کے تکبر اور جانوروں کے بارے میں روا رکھی جانے والی بے حسی کو نمایاں کرتا ہے۔افسانے کے آغاز میں ایک امیر شخص قریشی صاحب،اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ ایک جنگل سے گزرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔انھیں راستے میں ایک جنگلی(ڈھٹیال) ملتا ہے۔وہ ترس کھا کر اس بے حال انسان کو گاڑی میں بٹھا لیتے ہیں لیکن اس کے قے کرنے کی وجہ سے کراہت محسوس کرتے ہیں اور اسے گاڑی سے اتار دیتے ہیں۔تھوڑاآگے انھیں ایک بندریا اپنے بچے سے کھیلتی دکھائی دیتی ہے۔وہ بندریا سے اس کا بچہ چھین کر گھرلے آتے ہیں۔بندریا اپنا بچہ لینے آتی ہے مگر اسے مار کر بھگا دیا جاتا ہے اس کا بچہ غائب کر دیا جاتا ہے۔اگلی بار بندریا انتقاماََ قریشی صاحب کے اکلوتے بیٹے کو اغوا کر لے جاتی ہے لیکن خود ایک تودے کے نیچے آکر مر جاتی ہے اور اب ڈھٹیال اس انسانی بچے کو جنگل میں جنگلی قوانین کے مطابق پالنے کا ارادہ کرتا ہے۔شیریں اور فرہاد ایک بلی اور بلے کی کہانی ہے جس کے پردے میں مرد مرکز معاشرے کے تضادات کو منکشف کیا گیا ہے۔شیریں اقبال کی بیوی نسیمہ کی پالتو بلی ہے۔یہ انسانی معاشرے میں عورت کی گرہستی اور وفا کی علامت ہے جب کہ فرہاد ایک آوارہ بلے کا نام ہے جو مرد کی مرکزیت،بے حسی اور بے وفائی کی علامت ہے۔شیریں اور فرہاد کی کہانی اقبال اور نسیمہ کی کہانی کے متوازی چلتی ہے۔نسیمہ کی بیماری کے دوران میں اقبال ایک نرس سے تعلقات استوار کرکے اس سے شادی کر لیتا ہے۔نسیمہ گھر چھوڑ کر اپنے بھائی کے گھر چلی جاتی ہے۔بلی کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے لیکن وہ وفا کی لاج میں گھر واپس آجاتی ہے(نسیمہ گھر چھوڑنے کے بعد واپس نہیں آتی)۔نسیمہ کے بعد اقبال نئی بیوی کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے گھر کو بند کر کے کہیں چلا جاتا ہے۔فرہاد اور شیریں ایک کمرے میں بند ہو جاتے ہیں۔انھیں باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔بھوک کی وجہ سے شیریں مر جاتی ہے اور فرہاد اپنی بھوک مٹانے کے لیے شیریں کے مردہ گوشت کا سہارا لیتا ہے۔شیریں اور فرہادکی کہانی اپنی علامتی حیثیت میں  معاشرے کی ترکیب پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے۔افسانہ بے زبان انسان اور حیوانات کے مابین بے لوث محبت اور احساس پر مبنی رشتوں کی تشریح کرتا ہے۔سرکس کی اتھری گھوڑی پر سواری کرنے والے کے لیے پانچ سو روپے کا انعام مقرر ہے لیکن سرکس میں کام کرنے والی ایک گونگی لڑکی کے سوا کوئی اس پر سواری نہیں کر سکتا۔درحقیقت گھوڑی کو مسلسل سوئیاں چبھو کر انسانوں سے متنفر کر دیا گیا ہے۔وہ گونگی لڑکی کے سوا جو اس سے محبت کرتی ہے کسی اور کو قبول نہیں کرتی۔لڑکی میک اپ میں بہت خوبصورت نظر آتی ہے۔ایک نواب اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور سرکس کے مالک سے خرید کر گھر لے جاتا ہے مگر لڑکی کی حقیقت کھلنے پر اس سے متنفر ہو جاتا ہے اور اسے گھر میں بہ طور ملازمہ جگہ دیتا ہے۔ادھر سرکس کا مالک نواب کو دھوکا دینے کے بعد وہاں سے فرار ہو جاتا ہے اور گھوڑی کو بیچ دیتا ہے۔پندرہ سال بعد بازار میں لڑکی اور گھوڑی ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں اور لڑکی گھوڑی کو لے کر فرار ہو جاتی ہے۔لڑکی اور گھوڑی دونوں بے زبان ہیں لیکن محبت کے رشتے میں بندھے ہیں۔ان کی زبان الفاظ کی محتاج نہیں رہتی۔تکلم کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باوجود وہ ایک دوسرے کی زبان سمجھتے ہیں۔یہاں الفاظ اور علامتوں کی محتاج زبان کی برتری معرض سوال میں آجاتی ہے۔

رفیق حسین نے جنگلی حیاتیات کے بارے میں اپنے باریک بیں مشاہدات اور اس کی جزئیات کو جس قدر تفصیل سے اردو افسانے کا حصہ بنایا؛یہ ان کا انفراد ہے۔وہ افسانے میں اس روش کے بنیاد گزار ہیں۔اگرچہ یہ اسلوب خاطر خواہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا(اس کے کئی اسباب ہیں جن کی تفصیل  اس مقالے کا موضوع نہیں)تاہم ان کے کئی معاصر اور مابعد افسانہ نگاروں نے اس موضوع کو اپنایا اور جانوروں،پرندوں کی زندگی،معاشرت اور نفسیات نیز انسانی اور حیوانی دنیا کے آپسی رشتے کو اپنے افسانے میں جگہ دے کر اردو ادب کی ماحولیاتی جہت کو تقویت ضرور دی ہے۔اردو افسانے کی روایت میں اس کی متعد مثالیں موجود ہیں۔

دیوندر ستھیارتھی کا افسانہ فتو بھوکا ہے انسان اور حیوان کے تعلق کے تناظر میں انسان کے دو متضاد اور متخالف رویّوں کو ظاہر کرتا ہے۔ایک رویّہ خود غرضی پر مبنی ہے جو جانوروں /چوپایوں کو اپنی ملکیت اور منافع بخش مال سمجھتا ہے۔فتو کے گھر والوں بالخصوص چاچا جی کے لیے بھینس کا بیچا جانا ایک معمول کی معاشی سرگرمی ہے۔ریشما (بھینس) سے ان کے تعلق کی نوعیت افادی ہے،جس میں احساس،جذبات اوروابستگی کو دخل نہیں۔دوسرا رویّہ احساس اور بے لوث محبت کا ہے۔فتو بھینسوں کا مالک نہیں،ان کا رکھوالا ہے۔اسے بھینسوں سے محبت ہے اور ان کے بیچے جانے پر وہ احتجاجاََ بھوک ہڑتال پر ہے۔بھینسیں اس کی تکلیف کو محسوس کر سکتی ہیں لیکن وہ انسانی زبان میں اپنے جذبات کے اظہار سے قاصر ہیں۔شاید انھیں اپنے بیچے جانے کا دکھ بھی نہیں یا انھیں اپنی حیثیت کا ادراک ہے،اس لیے خاموش ہیں مگر فتو کی اداسی ان کے لیے سوہان روح ہے۔فتو کے لیے گھر کے بقیہ افراد کی حمایت اور ہمدردی فتو کی محنت اور وفا داری کی وجہ سے ہے،بھینسوں کے بیچے جانے کا  انھیں دکھ ہے نہ ہی بھینسوں سے کسی طرح کی وابستگی۔فتو کے احتجاج اور گھر والوں کے اصرار پر چاچا جی ریشما کو فروخت نہ کرنے پر تو راضی ہو جاتے ہیں لیکن اس کی جگہ وہ دوسری بھینس کا سودا کر دیتے ہیں۔وہ فتو اور ریشما کے تعلق کا ادراک نہیں کر سکتے۔ان کی نظر میں یہ ایک جانور کا مسئلہ ہے حالانکہ یہ ایک جانور کا نہیں انسان اور جانور کے مابین محبت کا مسئلہ تھا۔انسان پسند فکر اس کنہ تک نہیں پہنچ پاتی جہاں فطرت اور انسان کا تعلق برابری،محبت اور مساوات کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔بشر مرکزی دنیا اور فطرت کے مابین خلق کردہ یہ خلا ہی اس افسانے کا اصل موضوع ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شہریارکی نظموں میں خواب اورشکست خواب کے مسائل – ڈاکٹرمعیدالرحمن )

ابو الفضل صدیقی کا طویل افسانہ انصاف انسان اور گھوڑے کی تعلق کی کہانی سناتا ہے۔اس افسانے کا کلیدی موضوع جاگیرداری سماج میں طبقاتی تقسیم ہے تاہم افسانے کے آغاز میں انصاف ایک ضمنی لیکن مضبوط کردار کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔انصاف چودھری شہباز کی ملکیت ایک اعلا نسل کا گھوڑا ہے۔ڈلی چمار کو انصاف کا سائیس رکھا جاتا ہے۔وہ انصاف سے بہت محبت کرتا ہے اور رد عمل میں گھوڑے سے ویسی ہی محبت وصول کرتا ہے۔جب ڈلی چمار بیمار پڑ جاتا ہے تو گھوڑا بھی کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔چودھری ڈلی چمار کوانصاف سے دور رکھنا چاہتا ہے لیکن گھوڑے کی خاطر چمار کو دوبارہ بلا لیتا ہے۔

 

ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

   ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہ ء اردو

 گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز،لاہور

 

11۔ڈاکٹر وزیر آغا،مجید امجد کی شاعری میں شجر مشمولہ مجید امجد:نئے تناظر(مرتبہ:احتشام علی)،لاہور:بیکن بُکس،2014،ص73

12۔ڈاکٹر سہیل احمد خان،علامتوں کے سرچشمے مشمولہ مجموعہ سہیل احمد خان،لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز،2009،ص27

13۔ڈاکٹر انوار احمد،اردو افسانہ:ایک صدی کا قصہ،فیصل آباد:مثال پبلشرز،2010ء،ص419

14۔رفیق حسین،کلوا(افسانہ)مشمولہ گوری ہو گوری،کراچی:اردو اکیڈمی سندھ،1952،ص40

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

اورنگ زیب نیازی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کبیر ریختہ کے بڑے شاعر ہیں اور ان کا کلام ہمارا مشترکہ قومی اثاثہ ہے:پروفیسرآفتاب احمد آفاقی
اگلی پوسٹ
باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ دوم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری

یہ بھی پڑھیں

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں