اب کوئی یوں سر بازار نہ رسوا ہوگا
ہم نہ ہونگے تو محبت کا نہ چرچا ہوگا
ریت ہی ریت تھی پھیلی ہوئی تا حد نظر
تشنگی کہتی تھی آگے کوئی دریا ہوگا
چھوڑ دیں چارہ گری چارہ گروں سے کہہ دو
زخم کہنہ ہے مرا ان سے نہ اچھا ہوگا
یوں بچھڑ جائیں گے سب راہ محبت والے
ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا ہوگا
اب کسی قیس کو ہوگی نہ تلاش محمل
کوہکن سا کوئی شیریں کا نہ شیدا ہوگا


1 comment
ماشاء
جگ بیتی بنا دی آپ نے
ریت ہی ریت