عبادت میں سیاست ہو رہی ہے
امانت میں خیانت ہو رہی ہے
گلی کوچوں کی معمولی جھڑپ میں
غلط قسموں کی بارش ہو رہی ہے
سناتے ہیں جو پردوں کی کہانی
انہیں گھر میں نمائش ہو رہی ہے
جو ہے یہ بزم اب قرب قیامت
کہ باطل کی یہاں ہرسو نیابت ہو رہی ہے
لاشوں ناز اب حاتم سخی کو
کہ نیلامی سخاوت ہو رہی ہے
نوٹ: شاعرہ ایم اے کی طالبہ ہیں

