اختر انصاری کی غزل تنقید: ایک مطالعہ / محمد ریحان- ڈاکٹر نوشاد منظر
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اختر انصاری
اختر انصاری کی شناخت افسانہ نگار،اور ایک غزل گو کی ہے۔۔ ان کی اہم تصانیف میں سرگزشت، غزل اور درس غزل، اور غزل اور غزل کی تعلیم شامل ہیں۔ انہوں نے غزل کی تعریف اور فنی محاسن کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت اور اہمیت کی جانب بھی اشارے کیے ہیں۔ وہ ایک ترقی پسند ادیب تھے اور ان کی تحریروں میں اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
محمد ریحان نے اپنی کتاب ’’اختر انصاری کی غزل تنقید: ایک مطالعہ‘‘ کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ حرف آغاز اور کتابیات بھی کتاب میں شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب کا پہلا حصہ’’اختر انصاری: سوانحی کوائف اور شخصیت‘‘ ہے۔مصنف نے اس باب کو پانچ ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ اختر انصاری کب اور کہاں پیدا ہوئے، ان کا خاندانی پس منظر کیا تھا ، تعلیم و تربیت کہاں اور کیسے ماحول میں ہوئی، شادی اور اولاد کی تعلیم وغیرہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔زیر نظر کتاب کے پہلے باب میں ہی محمد ریحان نے اختر انصاری کی ادبی خدمات اور ان کی شخصیت اور عادات و اطوار کا جائزہ بھی لیا ہے۔ اختر انصاری نہ صرف ایک بہترین ناقد ہیں بلکہ ان کو اردو کے بہترین افسانہ نگاروں میں شامل کیا جائے تو غلط نہ ہوگا، شاعر تو وہ تھے اور غزل کے ساتھ ساتھ نظم اور قطعہ بھی انہوں نے کہے ہیں ۔ کتاب کے اس حصے میں میں مصنف نے اختر انصاری کی ادبی خدمات کا اجمالی جائزہ لیا ہے، حالانکہ میرا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اختر انصاری کی ادبی خدمات کا جائزہ تفصیل سے لیا ہوتا تو ان کی شخصیت مزید نکھر کر سامنے آتی، یہ بات اس لیے بھی اہم معلوم ہوتی ہے کہ ترقی پسند نظریات کے حامل ہونے کے باوجود انہوں نے نئے طرز کے افسانے لکھے، ان کے افسانوں میں ہنگامہ آرائی کم کم نظر نہیں آتی اور احساسات و خیالات پیش کرتے ہوئے وہ فن کو مجروح نہیں ہونے دیتے، ان کے تین افسانوی مجموعے ہیں جو ادبی حلقے میں مقبول بھی ہوئے،اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ان کی افسانہ نگاری کا جائزہ تفصیل سے لینا چاہیے تھا، عین ممکن ہے محمد ریحان نے طوالت سے بچنے کے خاطر مختصراً جائزہ لیا ہو۔ (یہ بھی پڑھیں صرف تخلیق کاروں کی خوشی کے لیے / پروفیسر سدھیش پچوری – محمد ریحان )
زیر مطالعہ کتاب کا دوسرا باب’’غزل تنقید کی روایت‘‘ہے۔اس باب کو مصنف نے آٹھ ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔اردو میں غزل کی روایت تو کافی قدیم ہے مگر باضابطہ تنقید کا آغاز کافی بعد میں حالی کے مقدمہ سے ہوا۔محمد ریحا نے اپنی کتاب میں اصلاح سخن میں غزل تنقید کے جو عناصر پائے جاتے ہیں اس کی نشاندہی کی ہے ساتھ ہی انہوں نے مشاعروں میں غزل تنقید کے جو عناصر پائے جاتے تھے اس کو بھی بیان کیا ہے، یہی نہیں بعض شعرا کے یہاں اصلاح کا جو پہلو نظر آتا ہے یا انہوں نے اپنی شاعری سے اصلاح سخن کی جو کوشش کی اس پر بھی محمد ریحان نے روشنی ڈالی ہے۔محمد ریحان نے حالی اور ان کے بعد کی غزل تنقید پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ترقی پسند عہد میں غزل اور اس کی تنقید کی صورت حال کو بھی مصنف نے موضوع بحث بنایا ہے۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ترقی پسندوں نے غزل سے دوری بنانے کی کوشش کی اور نظم کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا ، یہ بات ایک حد تک تو درست ہے مگر نظریاتی طور پر اس کی اہمیت کیا ہے اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔کسی نے اسے دور انحطاط کے بکھرے ہوئے سماج سے تشبیہ دی تو کسی نے غزل کی گردن مارنے کی بات کی، ان تمام باتوں کے باوجود غزل اور اس کی روایت مستحکم ہوتی چلی گئی۔ محمد ریحان نے چند مثالوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ غزل کو لے کر ترقی پسندوں کے یہاں دو نظریات ملتے ہیں، ایک گروپ غزل کی مخالفت تو دوسرا گروپ غزل کو اظہار ذات کا بہترین وسیلہ مانتا ہے۔محمد ریحان نے جدید غزل کی تنقید پر شمس الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر سرورالہدیٰ کے مختلف اقتباسات پیش کیے ہیں۔ مصنف کا خیال ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے جدیدیت کو متعارف کراتے ہوئے یہ شکایت کی تھی کہ نئے ادب کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس سنجیدہ نقاد نہیں ہے، اور برسوں بعد سرورالہدیٰ نے بھی نئی غزل کی پہچان سے متعلق تحریروں کی کمی کی جانب اشارہ کیا ہے۔
جدید غزل کے تعلق سے شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے کہ ایسی شاعری جس میں ہمارے دور کے احساس جرم، خوف تنہائی کیفیت انتشار اور ذہنی بے چینی کا اظہار ملتا ہو اسے جدید غزل کہا جاسکتا ہے. ظاہر ہے جدید شعرا کے یہاں نہ صرف مذکورہ کیفیت کا اظہار ملتا ہے بلکہ تشکیک، بے یقینی اور اداسی کے رویے کا برملا اظہار بھی نشان زد کیا جا سکتا. محمد ریحان نے ان مباحث کے ساتھ ساتھ غزل کی ہئیت اور تجربے کے مباحث کو بھی پیش کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ غزل نے معنوی سطح کی تبدیلی کو تو قبول کیا مگر خارجی ہیئت کی تبدیلی کو قبول نہیں کیا۔ یہی سبب ہے کہ بقول جگن ناتھ آزاد آزاد غزل کی ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی جس سے غزل میں کوئی وسعت پیدا ہوئی ہو۔
زیر تبصرہ کتاب’’اختر انصاری کی غزل تنقید: اختر انصاری کی غزل تنقید کا تفصیلی جائزہ‘‘ ہے۔یہ کتاب کا مرکزی حصہ ہے، کیونکہ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد اختر انصاری کی غزلیہ تنقید کا جائزہ لینے کا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اختر انصاری کی ادبی شناخت کا ایک زاویہ ان کی تنقید اور تنقیدی خیالات و نظریات بھی ہیں۔محمد ریحان نے اپنی کتاب میں ان کی تنقیدی جہات کا اجمالی جائزہ لینے کے بجائے صرف ان تحریروں کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے جو غزل کی تنقید سے تعلق رکھتی ہوں۔ ان کا خیال ہے کہ اختر انصاری نے غزل پر جو کچھ بھی لکھا اس پر گفتگو نہیں ہوئی ایک دو مضامین کے علاوہ اختر انصاری کی غزلیہ تنقید کو توجہ نہیں دی گئ ہے. (یہ بھی پڑھیں مشرف عالم ذوقی سے ایک ملاقات : یادیں جو یاد رہ جاتی ہیں – محمد ریحان )
غزل تنقید کے حوالے سے اختر انصاری کی تین کتابیں ملتی ہیں۔ان میں غزل کی ہئیت، موضوع، اسالیب، علامتی اظہار اور غزل کے افہام و تفہیم کے مسائل کو پیش کیا ہے۔محمد ریحان کا خیال ہے کہ اختر انصاری نے افادی ادب کی اہمیت کو پیش نظر بھی رکھا اور ادب کے جمالیاتی پیکر کو بھی فراموش نہیں کیا ، انہوں نے اختر انصاری کی غزلیہ تنقید کو معتبر اور توانا بتایا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب اختر انصاری کی غزلیہ تنقید کا احاطہ کرتی ہے ساتھ ہی غزلیہ تنقید کی اردو میں جو روایت ملتی ہے اس پر بھی مصنف نے اظہار خیال کیا ہے۔یہ بات درست ہے کہ موضوع کے تقاضے کو پیش نظر رکھتے ہوئے محمد ریحان نے اختر انصاری کے ادبی کارنامے کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا ہے ناوجود اس کے ایک قاری کے طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر محمد ریحان نے اختر انصاری کی افسانہ نگاری اور غزل گوئی پر چند صفحات میں جائزہ لیا ہوتا تو کتاب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی۔کتاب کی طباعت اچھی ہے۔اس کتاب کے تعلق سے پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر شہزاد انجم اور پروفیسر کوثر مظہری صاحبان کا مختصر تبصرہ بھی شامل ہے، جو کتاب اور موضوع کی اہمیت کے ساتھ ساتھ محمد ریحان کی شخصیت پر روشنی ڈالتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں حکیم آغا جان عیش کی غزل گوئی۔ ڈاکٹر نوشاد منظر )
امید کی جاتی ہے کہ محمد ریحان کی اس کتاب کو ادبی حلقے میں پسند کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
مصنف : محمد ریحان، دہلی (9540382480)
ملنے کا پتہ: کریٹیو اسٹار پبلی کیشنز، دہلی (9958380431)
قیمت : 91 روپیے
سال اشاعت 2019
مبصر: ڈاکٹر نوشاد منظر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

