مولانا آزاد نے چائے کے شرب و شغف کا ذکر جس والہانہ سرمستی اور تفصیل و اہتمام کے ساتھ اپنے مفروضہ خطوط کے مجموعہ "غبار خاطر” میں کیا ہے، اس کا موازنہ صرف فارسی شاعروں کے یہاں ذکر مئے و صہبا سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ کہیں اور نثر میں ایسی توضیح و تعبیر نہیں ملتی۔ کم از کم مجھ کم سواد کو تو نہ ملی۔
چائے در اصل ہماری معاشرتی زندگی میں کلیدِ درِ صحبت و معاشرت ہے۔ چائے کسی نے پلادی تو اس کے اخلاق و اطوار کے سب قائل اور جس نے اس کا تکلف نہ کیا وہ مردود زمانہ ۔ انگریزوں کی چھوڑی وراثتوں میں اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے انگریزی زبان کی۔ اس سے شکوہ بھی ہے اور اس کے اسیر بھی۔
بہر حال، چائے تو ایک ہی طرح کی متعارف ہوئی ہوگی ، لیکن اس کے انواع و اقسام اتنے ہیں جتنی ہمارے یہاں بھانت بھانت کے اقوام و اقصار۔ ہندوستان میں عام طور سے چائے دودھ کے ساتھ بنائی اور پی جاتی ہے، البتہ اس کے بنانے، برتنے اور پینے میں بھی ہر جگہ، علاقہ، اور فرد کی خاصیت اور شخصیت کی جھلک دکھائی دے جاتی ہے۔جہاں علی گڑھ اور پرتکلف شرفا کے یہاں پوری ٹرے اور پھر الگ الگ ظروف خوش اندام میں جدا جدا اشیائے شرب مدام سے خوش آمدید کہا جاتا ہے تو سادہ لوحوں کے یہاں کٹوروں اور مٹی کے جام و قدح سے استفادہ عام ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غزل – پروفیسر اخلاق آہن )
چائے عام طور سے ناشتے کا جزو لاینفک ہے۔ متعدد علاقوں میں چائے پاپے، پاو، مٹری، بسکٹ کے ساتھ تو بعض دیہاتوں میں روٹی کے ساتھ سادی چائے لی جاتی ہے۔ لیکن عام طور سے شہری جنٹلمین ‘بیڈ ٹی’ کے عادی ہوتے ہیں اور جیسا کہ اس اصطلاح سے ہی واضح ہے یعنی بغیر منھ دھوئے، چنانچہ منھ کی غلاظت چائے کی شیرینی میں گھل کر مئے دو آتشہ کا لطف دیتی ہے۔
نیپال کے بعض کوہستانی علاقوں میں جہاں شدید سردی پڑتی ہے وہاں بھیڑ کے دودھ میں چائے، شکر خوب پکائی جاتی ہے اور پھر اس میں ایک چمچ گھی اور چٹکی بھر نمک ڈال کر پی جاتی ہے۔ میرے والد نے اپنے کاروبار اور شکار کے حوالے سے ایک مدت ان علاقوں میں گذارا اور ان کے راہ و رسم سے متاثر ہوئے، سو چٹکی بھر نمک ان کی چائے کا حصہ ہوگیا۔ مجھے ان سے شدید جذباتی لگاو کے باوجود عادت و اطوار میں ان سے مختلف واقع ہوا اور ان کا پیرو نہ ہوسکا۔ نہ ان کی طرح شکار کا شوق، نہ مہم جویانہ ہمت، نہ لوگوں سے زیادہ ملنے جلنے میں دلچسپی، نہ گھریلو ہو ہنگاموں کی طرف میلان، اور نہ ہی ان کی طرح خدمت خلق کا جذبہ سعید۔ سو یہ چائے کے ساتھ بھی ہوا۔ چنانچہ رسمی میٹنگوں میں چائے پکوڑے کے بجائے پانی یا بہت اصرار پر لیمن ٹی کے لیے گاہے بگاہے حامی بھر لینے میں عافیت جانتا ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں فلسطین اور ملتِ ناخلف – پروفیسر اخلاق آہن )
البتہ جہانگردی کے شوق تازہ کے نتیجے میں دنیا بھر سے انواع و اقسام کے برگہاے گیاہی جمع کرتا رہتا ہوں، اور شوقیہ طور پر صبح و شام بطور جام نوش کرتا ہوں۔ اس میں قلعہ الموت کے علاقے سے برگ گاوزبان، باکو ، دریاے خزر ، قفقاز، وادی فرغانہ وغیرہ کے علاقوں میں دستیاب اور اسی مصرف میں استعمال ہونے والی مختف النوع پتیاں زیبِ انبارِ خانہ ہیں جنھیں شہد کے آمیزہ کے ساتھ شوق چائے کی پیروی میں پی لیتے ہیں، تاکہ بے ذوق نہ کہلائیں۔ اور چائے والوں کے ساتھ بیٹھ پائیں۔ اس شوق کا علم جب ایک مہربان زہرہ رخسار کو ہوا (جو ایران کے شہر کرمان کی باسی ہیں اور باغات کی مالک اور شہد کی تاجر ہیں)، تو خاص شہد کا اہتمام کر ڈالا۔ اگر چہ برسوں سے ان کی دعوتِ سفرِ کرمان کی پذیرائی سے قاصر اور ان کی میزبانی سے محروم ہوں، سو شکایت کے ساتھ ساتھ ایک آدھ بار وہ خود عسل بردار دہلی وارد ہوئیں اور گلاب کے پھولوں سے مقطر شہد خاص کی سوغات لائیں۔ جو میری ادویہ آمیز چائے کو شیرینی بہشتی بخشتا ہے۔ گذشتہ برس پھر ان کا آنا ہوا اور اسی تحفہ کے ساتھ لیکن لعنت ہو دہلی کے ہو ہنگاموں اور شہرآشوبی کا کہ نہ مل سکا، نہ مہمان کرسکا، اور نہ عسل گلابی کی دستیابی سے مشرف ہو سکا۔ دراصل مجھ جیسے نازک طبیعت کو فتنہ چشم و عارض کے سوا اور باقی سارے شور و شغب سے دور کا بیر ہے، سو گوشہ عافیت میں بیٹھا عذر و معذوری کا اشک پیا اور صبر۔ بقول حافظ:
ما در پیاله عکس رخ یار دیدهایم
ای بیخبر ز لذت شرب مدام ما
ای باد اگر به گلشن احباب بگذری
زنهار عرضه ده بر جانان پیام ما
………۔۔۔۔ اخلاق آہن……………….


1 comment
[…] متفرقات […]