(بابا مرحوم کی یاد میں)
بہت روتے ہیں لیکن دل کی ویرانی نہیں جاتی
ہو کوشش بھی جو جینے کی تو بے جانی نہیں جاتی
سمجھتے ہیں کہ یہ ہجرت مقدر ہے زمانے کا
سمجھ کر بھی ہمارے من کی نادانی نہیں جاتی
ہمارے ذہن و دل میں ایک طوفاں ہے جو وحشت کا
کشید جام و مے سے بھی یہ بحرانی نہیں جاتی
بتاؤ ہم کو نا واعظ، ہمیں عرفان عالم ہے
اندھیرا ہو جو آنکھوں میں، تو پہچانی نہیں جاتی
یہ اک جھگڑا ہے تن من میں، یہ اک پیکار جان و دل
یہ سب کچھ ہے مگر من کی یہ منمانی نہیں جاتی
بہت سے طے کیے ہم نے، غموں کی سرد راہوں کو
مگر اک راہ غم یہ جس کی دورانی نہیں جاتی
بہائے چشم و مژگاں نے جو اشک خون دل اب کے
یہ چاہا بھی کہ تھم جائے تو بارانی نہیں جاتی
یہ کیسے ہو گیا ممکن کہ جو جانِ دل و جاں تھے
جدا بھی ہو گیے ہم سے، یہ حیرانی نہیں جاتی
یہاں آہن جو بیٹھا ہے کنار تربت آباء
سو اس کے تاب شوق غم کی تابانی نہیں جاتی

