تھرڈ جینڈر کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصبات
محض لذتیب کے لیے بچوں کی معصومیت کو مجروح اور مسخ کرنے والے مجرموں کے خلاف احتجاج
ہم جنسوں کے تئیں ہمدردانہ رویے کی وجہ سے اس کی غیر جانب داری قابل گرفت ہوگئی ہے
اس جملہ سے یہ مطلب تو قطعی نہیں نکل رہا ہے کہ آپ کی ہمدردی بچہ بازوں کے ساتھ ہے یا تھرڈ جینڈر کے ساتھ ہے یہاں تک کہ ہم جنسوں کے تئیں بھی مصنف کی ہمدردی کا دعویٰ نہیں بلکہ صرف ان عناصر کی وجہ سے مصنف کی غیر جانب داری قابل گرفت ہونے کا دعویٰ کیا ہے.
ریکھا اور رخسار والے باب میں میکس کے والد نے ان دونوں کے فیور میں کہا تھا کہ جو جیسا ہی ہمیں اسی طرح قبول کرنا چاہیے صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے سماجی جبر اور شدت پسندی کے خلاف بھی ناپسیندگی کا اظہار کیا تھا
یاد کیجیے وہ حصہ بھی جہاں ایک ہم جنس کردار اپنی محبت کو شناخت نہ دے پانے کی صورت میں افسوس کرتے ہوئے افزائش نسل کے متعلق بھی کہتا ہے.
وہ صفحہ بھی یاد کریں جہاں طوفان نوح کا ذکر ہے ہم جنس اپنی محبت کو امر نہ کر پانے کی صورت میں اس خدائی حکمت کو بھی طنز کی زد میں لا رہا ہے
ان مواقع پر کوئی ایسا کردار سامنے نہیں آتا جو اختلاف کرے جبکہ اب بھی ہم جنسوں کا معاملہ مختلف فیہ ہے مشرقی معاشرے میں بمشکل دو فیصد شرح ہوگی جو ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان کے وجود کو تسلیم کرے.. ہم جنس کرداروں نے خود کلامی کے انداز میں اپنی محرومیوں اور نارسائیوں کا گلہ کیا ہے جن میں ہمدردی کی زیریں لہر موجود ہے
حال ہی میں ایک ناول میں نے پڑھا ہے جس میں ایک کردار ہندو مذہب کی خامیوں اور توہمات کو نشان زد کرتا ہے وہاں پر مجھے مصنف کی جانبداری نظر آئ کہ دیکھو خود کلمہ گو ہیں تو کیسے دوسرے مذاہب کی خامیاں…. لیکن آگے پڑھا تو مذہب اسلام کے شیدائیوں کی بھی شدت پسندیاں بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کی گئی تھیں
اس نوع کا کوئی وقوعہ "اس نے کہا تھا” میں سامنے نہیں آیا جو میرے تاثر کو رد کرے
تخلیقی متن بلاشبہ دو دو چار سے ماورا ہوتا ہے لیکن متن کا خالق اسی دنیا کا متنفس ہے کردار، مکالمے، فلسفیانہ مباحث اسی خالق کے وضع کردہ راوی کے توسط سے قاری تک منتقل ہوتے ہیں مصنف کی مساعی دریافت کرنا تجزیہ کا جز نہیں لیکن اگر راوی سے زمینی حقائق کو فکشنائز کرنے میں لغزش ہوجائے تو کیا وہ قابل گرفت نہیں.. (اب اس جملہ سے آپ یہ نہ فرض کر لیں کہ آپ کے راوی سے لغزش ہو گئی ہے)
اس جملے کو توڑ کر تین الگ الگ باتیں واضح کرنے کے بعد آپ نے کہا کہ آپ کا موقف عجز بیان کا شکار ہو گیا جبکہ ایسا نہیں ہے اب تک تبصرہ پڑھنے والے تمام قارئین نے وہی سمجھا ہے جو میں نے کہنے کی کوشش کی. اس جملہ کی بنیاد پر خدا نخواستہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ مصنف اشعر نجمی بچہ بازوں اور ہم جنسوں کے وکیل ہیں.( یہ بھی پڑھیں شہناز رحمن کا ’’نیرنگ جنوں‘‘ – پروفیسرقدوس جاوید )
کیوں کہ ان تین باتوں میں اول الذکر دو سے صاف واضح ہے کہ معاشرے کے وہ افراد جو تھرڈ جینڈر کے ساتھ تعصب برتتے آئے ہیں اور وہ لوگ جو معصوم بچوں کو اپنی تفریح طبع اور لذتیت کے لیے ان کی معصومیت مسخ کرتے ہیں ان کے خلاف احتجاج ناول میں موجود ہے
اس طرح یہ دونوں جملے ناول اور ناول نگار کے فیور میں ہیں
رہی تیسری بات کہ "ہم جنسوں کے تئیں ہمدردانہ رویہ”
پانج لفظی اس سطر پہ اشعر نجمی صاحب آپ نے مجھ سے سوالات کیے اور دلیل کے طور پر صفحہ نمبر واضح کرنے پر زور دیا جس کے جواب میں، میں نے کہا "مکمل ناول پڑھنے کے بعد مجموعی طور پر میرا یہ تاثر ہے”
اپنے اس مجموعی تاثر کے لیے میں نے ناول دوبارہ پڑھنے اور اپنے موقف کی اثبات کے لیے دوسرے ناولوں سے تقابلی مطالعہ کے ذریعہ یہ واضح کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ آیا کیوں کریہ تاثر مرتب ہوا اور ثابت نہ کر پانے کی صورت میں اپنا یہ پانچ لفظی تاثر رد کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا اور آپ سے بھی کہا کہ اطمینان رکھیں میں ناول دوبارہ پڑھ کر آپ کا مطلوبہ جواب مضمون کی صورت میں دوں گی کیونکہ میں اپنی بات منوانے پر ہر گز مصر نہیں ہوں
لیکن آپ نے یہ معاملہ سوشل میڈیا کے حوالے کر دیا. میرے کچھ حدود ہیں اور سوشل میڈیا کے جھگڑوں میں الجھنا میرے لیے مشکل اس لیے بھی ہے کہ ایک ماں اور بھرے پرے گھر کی فرد ہونے کے فرائض انجام دینے کے بعد جو تھوڑا بہت وقت ملتا ہے اسے مکمل طور پر مطالعہ کے لئے وقف کرنا چاہتی ہوں..
آپ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں جو سرے سے تبصرے میں ہے ہی نہیں.. کیسے اس جملہ سے آپ نے یہ سمجھا کہ لذتیت کا الزام مصنف پر لگایا جا رہا ہے صاف لکھا ہے کہ لذتیت کے لیے بچوں کی معصومیت کو مجروح اور مسخ کرنے والے مجرموں کے خلاف احتجاج ہے
یہ احتجاج کون رہا ہے؟ ظاہر ہے مصنف یا مصنف کا وضع کردہ راوی یا مصنف کے تشکیل دئیے گئے کردار..100 بلکہ 101فیصد یہ بات ناول کے فیور میں ہے۔
لہذا آپ خود غور کریں کہ سرسری ناول پڑھ لینے، اختراعی متن یا من مانی تعبیر کا مورد الزام ٹھہرانا سراسر زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔
اگر یہ بات مان لیں کہ ناول پڑھے بغیر یا سرسری پڑھ کر جلد بازی میں تبصرہ لکھ ڈالا تو پھر ناول کے حوالے سے میں نے جو مثبت رائے قائم کی ہے، مصنف کے تخلیقی شعور اور اس کے نقطہ انحراف کی معنویت پر جو کچھ لکھا ہے وہ سب بھی مشکوک ہو جائے گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ مارے عجلت میں غور کیے بغیر میں نے یہ راے قائم کر لی ہو
آپ نے یہ بھی کہا کہ آپ پر لذتیت کا الزام لگانے کے (جوکہ میں نے لگایا ہی نہیں) بعد میں نے یو ٹرن لے لیا”
میں نے بڑے اشتیاق سے ایک ادبی ناول پڑھ کر اور بڑے انہماک سے تبصرہ کیا ہے نہ کہ کوئی سیاسی بیان دیا ہے جسے مصلحت کے تحت بدلنا یا یو ٹرن لینا پڑے اور ہم جنسوں کے تئیں اگر میرے ذاتی تحفظات اتنے شدید ہوتے تو شاید تبصرہ کرتی ہی نہیں یا چار چھ صفحہ پڑھ کر کنارے کر دیتی.. (یہ بھی پڑھیں شوکت صدیقی کے ناول ــــــــ’’کمین گاہ ‘‘کا فنی جائزہ – ڈاکٹر شہناز رحمن )
آپ کا اصرار ہے کہ صفحہ نمبر بتائیں، اس کے لیے بھی میرے پاس ناول کا ہونا ضروری ہے واٹس ایپ پر آپ سے گفتگو اسی جملہ پر ختم ہوئی کہ
اب مضمون کا انتظار کریں
ممکن ہو تو ناول مجھے میل کر دیں دو روز پہلے ہی موبائل ہینگ ہونے کی وجہ سے فائل ڈیلٹ کر دی
کوشش کی کہ میل پر یا گوگل ڈرائیو میں محفوظ کر لوں لیکن ہوا نہیں
واٹس ایپ پر گفتگو کے بعد اس پوسٹ کی ضرورت نہیں تھی لیکن اب معاملہ سوشل میڈیا پر آ ہی گیا تو مضمون لکھ کر وقت ضائع کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی
وہ وقت بچا کر اثبات پبلیکیشن کی شائع کی ہوئی ان نایاب کتابوں کا مطالعہ کر لوں گی( جو مجھے نگار عظیم صاحبہ نے تحفتاً بھیجی ہیں)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

