کسی ریاست یا کسی خطے کی سماجی سیاسی علمی اور تہذیبی منظرنامے کو سمجھنا ہے تو وہاں کے اخبارات کا مطالعہ کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ریاست بھوپال کے تین سو سالہ قیام کے دوران یہاں کن کن اخبارات کا اجرا ہوا اس کی کوئی تفصیل سرِ دست میرے سامنے نہیں ہے لیکن جیسا کہ سلیم حامد رضوی نے اپنی کتاب ”اردو ادب کی ترقی میں بھوپال کاحصہ“میں اشارتاً کہیں لکھا ہے کہ بھوپال سے نکلنے والے قدیم اخبارات کی کاپیاں نواب حمید اللہ خاں کے ذاتی اثاثے میں کہیں محفوظ تھیں لیکن اس سے قطع نظر بیسویں صدی میں جو اخبارات یہاں سے شائع ہوئے انھوں نے پوری ذمہ داری سے اپنے فرض کو نبھایا اور اس کے پیچھے ان جنوں پیشہ صحافیوں کا ہاتھ رہا جنھوں نے بغیر کسی مالی نام و نمود کے محض اپنے ذوق تسکین کے لیے اس کوچے میں اپنی زندگی بسر کی۔ قلم کے دھنی اور جری اِن صحافیوں میں چند اہم نام ابوسعید بزمی، قدوس صہبائی، حکیم سیدقمرالحسن، جوہر قریشی، مولانا محمد مسلم اور اشتیاق عارف کے ہیں، جبکہ قمر اشفاق اور اشفاق مشہدی ندوی وہ صحافی ہیں جنہوں نے صحافت کو مشن کے طور پر اپنایا اور ملک کی تعمیر نیز قوم کی بیداری کا وسیلہ بناکر ملکی سطح پر اپنی شناخت قائم کی اور صحافت میں سچائی کے وہ چراغ روشن کیے جن کو آج کا میڈیا دور سے دیکھ تو سکتا ہے لیکن اپنانے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اشفاق مشہدی نے صحافت کے خارزار راستے کو چنا اور تمام عمر پامردی سے اس کو سر کرتے رہے۔ دراصل صحافت وہ نشہ ہے کہ جو اس سے سرشار ہوا تو پھر اس کے سامنے دنیا کی ساری شرابیں بیکار ہیں۔ یہ سرشاری کبھی کبھی صحافی کو خبر پر ایک اچھی سرخی لگا دینے سے بھی حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنی ہی خبر پر دیوانہ وار رقص کرنے لگتا ہے۔ اشفاق مشہدی ندوی کی پشت پر ایک خانقاہی نظام بھی تھا۔ ان کے والد، صوفی شیخ محمد صاحب نسبت بزرگ تھے۔ خلافت اور اجازت ان کو ان کے پیر و مرشد سے ملی ہوئی تھی جس کا وافر حصہ اشفاق مشہدی کو بھی حاصل تھا۔ وہ چاہتے تو مریدین کا ایک حلقہ بنا کر اسی بھوپال میں ایک خانقاہ کی داغ بیل ڈالتے اور مریدین کے درمیان بیٹھ کر اپنی روحانی اور ذہنی وسعتوں کا اظہار کرتے رہتے لیکن وہ تو صحافت کے اسیر ہوچکے تھے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ ان کو عارف بیگ جیسے انقلابی مزاج کے لیڈر مل گئے جنہوں نے ”ایاز“ کے ذریعے ان کے شوق کی تکمیل کا سامان کردیا۔ ”ہفت روزہ ایاز“ بھوپال کا وہ نمائندہ اخبار تھا جو نامساعد حالات میں بھی اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا کیونکہ اس کی پشت پر اشفاق مشہدی جیسا بے باک صحافی موجود تھا اور جیسا کہ معروف صحافی عارف عزیز صاحب اپنی کتاب ”محفلِ دانشوراں“میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
”اشفاق مشہدی نے اپنی صحافت کا سفر ١٩٧٢ء میں ”ہفت روزہ ایاز“ سے شروع کیا اور ٢٦ سال تک سرد و گرم حالات میں اس ہفت روزہ کو ایڈٹ کرتے رہے۔“ اور پھر جب ”ایاز“ بند ہوا تو وہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے”روزنامہ راشٹریہ سہارا“ میں بھوپال کے نمائندے بن کراپنی حق گوئی و بے باکی کا اظہار کرتے رہے۔درمیان میں وہ نئی دہلی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ”قومی ایکتا“ کے مدیر بھی رہے۔کہا جاتا ہے کہ کسی بھی صحافی کی کامیابی زبان و بیان پر مکمل عبور یا دسترس کی رہین منت ہے۔ اگر کوئی صحافی زبان کے مزاج، الفاظ اور ان کے محل استعمال سے بخوبی واقف نہیں ہے تو وہ کبھی اچھا صحافی نہیں بن سکتا ہے۔زبان پر مکمل عبور سے مراد یہ ہے کہ صحافی ہر طرح کے واقعات و حادثات، احوال و کوائف اور خیالات و تاثرات کو سادہ، سلیس اور رواں دواں نثر میں پیش کرسکے۔ زبان پر قدرت کا یہ مفہوم قطعی نہیں ہے کہ مقفیٰ اور مسجع عبارت لکھی جائے اور صحافی اپنی تحریر کو صنائع و بدائع نیز تشبیہہ و استعارہ سے آراستہ کرے اور شاعرانہ نثر لکھے۔ یہاں انشا پردازی کے جوہر دکھانے کی اجازت نہیں ہوتی نیز عبارت آرائی رنگینی اور لفاظی کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ ( یہ بھی پڑھیں نئی نسل کی معتبر شاعرہ فوزیہ ربابؔ – رضوان الدین فاروقی )
ان خیالات کی روشنی میں جب ہم اشفاق مشہدی ندوی کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ صحافتی زبان و بیان کے جو اوصاف ہیں ان پر ان کو مکمل عبور حاصل تھا۔ ”راشٹریہ سہارا“میں لکھے گئے ان کے مضامین ہرچند کہ سیاسی نوعیت کے ہیں لیکن جس بے باکی، سیاق و سباق اور ادبی شوکت ِالفاظ سے عبارت ہیں وہ یقیناً اشفاق صاحب کے ذوق جمیل کی بدولت ہی ہیں۔اُن کے قلم سے نکلنے والے بے لاگ سیاسی تجزیئے اور سلگتے مسائل پر رپورٹیں پورے ملک میں توجہ سے پڑھی جاتیں۔ان کے لکھے گئے مضامین کی سرخیاں جہاں ادبی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہیں وہیں قاری کو پوری خبر پڑھنے پربھی مجبور کردیتی ہیں۔ مثلاً مدھیہ پردیش: ہندوتوا کی ایک اور لیبارٹری، ویاپم مہا گھوٹالہ: سیاسی طوفان میں تبدیل، تعلیم و روزگار گھوٹالہ: کالی بھیڑوں کی سفید سازش، ڈرگس مافیا سرکار کے لیے چیلنج جیسی سرخیاں صحافتی بے باکی کا مظہر ہیں۔ اسی طرح ۴۱/فروری ۳۱۰۲ء کے شمارے میں بھوپال میں خواتین کے اغوا اور اسمگلنگ کے تعلق سے جو مضمون انھوں نے ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ کے عنوان سے لکھا ہے اس میں نہایت بے باکی سے لکھتے ہیں:
”اس حقیقت کو بھوپال پولیس بھی تسلیم کرچکی ہے کہ ان بردہ فروش ریکٹوں کا تعلق بڑے شہروں کے بردہ فروش گروپوں سے ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سیکڑوں لڑکیاں اپنے اپنے گھروں سے لا پتہ ہیں اور باوجود پولیس تھانوں میں رپورٹ ہونے کے ان کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔“
اسی طرح یہ شہ سرخی بھی دیکھیے ”سفید ہاتھی اور خاکی وردی: ریاست کے لیے بنے ناسور“ ہمیں آپ کو یاد ہوگا کہ اسی بھوپال میں ایک زمانے میں عوام کے مشتعل اشخاص کی سرکاری ملازمین سے جھڑپوں میں اضافہ ہوگیا تھا اور جگہ جگہ عوام نے اختیارات اپنے ہاتھوں میں لے لیے تھے۔ متذکرہ شہ سرخی اسی سے متعلق ہے۔ لکھتے ہیں:
”سرکاری ملازمین کی پٹائی کے ان واقعات نے ان شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے کہ ریاست کا سرکاری عملہ خدمات پر کم اور مفادات پر زیادہ توجہ دینے لگا ہے، جس کے نتیجہ میں احساس ذمہ داری کا فقدان، اپنے فرائض کے تئیں لاپرواہی و سستی و کاہلی او اپنے مفادات کے حصول کے لیے جا و بے جا اعمال ارتکاب اور سماج دشمن افراد سے میل جول یا پھر ان کو اپنے دائرہ اختیار میں کھلی چھوٹ دیا جانا جیسے عوام دشمن اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں اضافے جیسی لعنت نے پوری ریاست کو بدعنوانی کے چنگل میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔“
بہرحال یہ تو ایک سرسری سا تعارف تھا جس کے حوالے سے میں نے بھوپال کے بے باک صحافی اشفاق مشہدی کے تئیں اپنے جذبات و احساسات پیش کیے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری نسل ان بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر جہاں صحافت میں ادب کی آمیزش کو بحال رکھے گی وہیں حق گوئی اور بے باکی میں بھی اپنے بزرگوں کی پیروی کرے گی کیونکہ اشفاق مشہدی ندوی مرحوم کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اردو صحافت کے مستقبل کو لے کر ہمیشہ فکر مند رہتے تھے جس کی مثال ہمیں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ شائع ہونے والے رسالے سہ ماہی تمثیل کے اپریل تا ستمبر ۱۱۰۲ء کے شمارے میں شائع ہوئے ان کے مضمون بعنوان ”شکوہ کی نہیں شمع جلانے کی ضرورت“میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس مضمون کے آخر میں وہ رقمطراز ہیں:
”موجودہ دور میں بھی اور آئندہ زمانہ میں بھی بنیادی نکات کو سامنے رکھ کر اردو زبان اور اردو صحافت دونوں کو اور نتائج کے اعتبار سے اردو صحافی، اردو ادیب اور اردو شاعر کو ہم تحفظ اور ترقی دونوں ہی چیزیں فراہم کرسکتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر آج بھی ہندوستان میں جو اخبارات شائع ہو رہے ہیں اور ترقی کی منازل سے ہم کنار ہیں ان کی اشاعتوں کو دیکھ کر اور ان اداروں میں جاکر ان کے طریقہئ کار میں جانفشانی، محنت، لگن اور اردو سے ان کی شیفتگی کو قریب سے دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ بس آخر میں بات یہیں آکر ختم ہوتی ہے کہ۔۔۔
شکوہ ظلمت ِ شب سے تو کہیں بہتر ہے
اپنے حصے کی کوئی شمع جلا دی جائے
(شعر میں لفظی تحریف کے لیے احمد فراز کی روح سے معذرت)
میں سمجھتا ہوں کہ اشفاق مشہدی ندوی اپنے حصے کی شمع جلا گئے ہیں جس کی روشنی میں اردو صحافت کے طالب علم اپنی منازل طے کرسکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں فن تاریخ گوئی اوربہار کے معاصر تاریخ گو شعرا – ڈاکٹر خان محمد رضوان )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

