تاریخ گوئی باضابطہ ایک فن ہے۔ یہ فن بھی اردو کی دیگرکئی اصناف کی طرح اردو میں فارسی سے آیا ہے۔ چونکہ اب تک یہ تعین نہیں ہوسکا ہے کہ فارسی میں تاریخ گوئی کی ابتدا کب اورکیسے ہوئی۔ اس امرِ واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی تاریخ کس قدر قدیم ہے۔ ظاہر ہے کہ اردو جب پل بڑھ کر ہوش سنبھال رہی ہوگی تب تک یہ صنف بے حد بالیدہ ہوچکی ہوگی۔ یہی سبب ہے کہ تاریخ گوئی کے نمونے اردو ادب کے کلاسیکی شعرا کے یہاں موجود ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ تاریخ گوئی ہے کیا؟ ہمیں جان لینا چاہیے کہ فن تاریخ گوئی ایک قدیم صنف ِسخن ہے۔ اور یہ انہی زبانوں میں رائج ہے جوعربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ ولادت، شادی، وفات ، کتابوں کی تصنیف، بادشاہوں کی تخت نشینی، فتوحات، خطاب یابی، منصب پر ماموریت اور عمارت کی تعمیر وغیرہ۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس فن کی اہمیت کیا ہے۔دراصل اس فن کابڑا مقصد اہم واقعات کے سال کو محفوظ رکھناہے۔
ایک کام یاب قطئہ تاریخ کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے متعلقہ واقعہ کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ اور اس کے اعداد جوڑنے سے واقعے کا سال بھی برآمد ہوجاتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے تاریخ گو ایسا مصرعہ ، جملہ یا فقرہ ترتیب دیتا ہے، جس کے حروف کے اعداد جوڑنے سے جس سال یہ واقعہ ہوا ہے اس سال کی تاریخ برآمد ہوجاتی ہے۔ ایسے مصرعے، جملے یا فقرے کو مادّئہ تاریخ کہتے ہیں۔ تاریخ گوئی کا فن مشکل ہی نہیں بلکہ مشکل ترین فن ہے۔ یہ فن دلچسپ بھی ہے اور معلوماتی بھی ۔تحقیق وتدوین کے اعتبار سے تاریخِ ادب میں اس کی اہمیت بے حد اہم ہے۔ مادئہ تاریخ کے سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مادئہ تاریخ مکمل ہویہ ضروری نہیں۔ کیونکہ شاعر مادہ سے دو اہم کام لیتا ہے۔ ایک یہ کہ واقعے کے اہم اشارے کوبیان کرنا اور اس کے اعداد سے واقعے کے سال کو ظاہر کرنا۔ اسی لیے کبھی تو ایسا مادہ برآمدہوجاتاہے جوہر اعتبار سے مناسب ہو لیکن کچھ اعداد کے بڑھ یا گھٹ جانے کی صورت میں شاعر مادہ تووہی رکھ لیتاہے، مگر اسی شعر میں یہ اشارہ بھی کردیتاہے کہ کتنے اعداد کا اضافہ کرنا ہے یاحذف کرناہے۔ اس اضافہ کرنے کو شعری اصطلاح میں ’تعمیہ‘ اور حذف کرنے کو ’تخرجہ‘ کہتے ہیں۔
بیسویں صدی اردو ادب کی تاریخ میں کئی اعتبار سے اہم ہے۔ اس صدی میں نہ صرف یہ کہ کئی ہمالہ صفت ادیب و شاعر ، ناقد و محقق پیدا ہوئے بلکہ اردو ادب کی اہم تحریکات بھی ظہور پذیر ہوئیں۔ جن میں ترقی پسند تحریک ، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا رجحان اور حلقئہ اربابِ ذوق کا رجحان اہم ہے۔ ان تحریکوں اور رجحانوں کے زیرِ اثر اردو ادب کی گراں قدر تخلیقات وجود میں آئیں اور اردو ادب کے روشن دریچے وا ہوئے۔ بہ ایں طور ادباء و شعراء کی معتدبہ تعداد وجود میں آئی۔
بیسویں صدی تک تقریباً تمام ہی اہم شعرا نے ایک دوہی سہی لیکن تاریخیں کہی ہیں ان میں نمایاں نام حسرت عظیم آبادی، فضل حق عظیم آبادی، حفیظ عظیم آبادی، شاد عظیم آبادی، شاہ مراداللہ منیری ، صابر براری ، یوسف خورشیدی، یوسف پھلواروی، فرحت قادری ، قتیل دانا پوری ، بسمل سنسہاروی، ریاض گیاوی ، ثمر ٹکاروی، رضا دائروی ، سریر کا بری ، نادم بلخی ،تمنا تمادی ، عرش گیاوی ، شمس مظفر پوری ، قسیم الحق قسیم گیاوی ، عطا کاکوی ،سید ناصر حسین زیدی ، اختر قادری ، مجیب نشتر ، اختر چھپروی وغیرہ ۔ موجودہ عہد میں ناوک حمزہ پوری سید انوار احمد، عبدالمنان طرزی اور واحدنظیرؔ اس روایت کوآگے بڑھا رہے ہیں۔بہار کے تمام شعرا کی تاریخ گوئی پر تفصیلی روشنی ڈالنا یہاں ممکن نہیں۔ لہذا مرحومین میں عطاء الرحمان عطا کاکوی اور جدید شعرا میں واحد نظیر کی تاریخ گوئی پرگفتگو کی جائے گی تاکہ بہارط میں تاریخ گوئی کی روا یت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
عطاء کاکوی شاد عظیم آبادی کے شاگرد تھے اوربسمل عظیم آباد کے قریبی دوستوں میں تھے۔ قدیم ادب پر ان کی گہری نظر تھی ساتھ ہی اردو اورفارسی کے کلاسیکی سرمائے پر دستِ کاملہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے تاریخ گوئی میں مہارت کا ثبوت دیا۔ عطا کاکوی کی ادب میں ایک بڑی حیثیت تاریخ گو کی بھی ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے معتبر اور اہم شخصیات کے سانحہ ارتحال پر متعدد تاریخیں کہیں جو ملک کے اہم رسائل میں مستقل شائع ہوتی رہیں۔ معاملہ تاریخ گوئی کا ہو یا کلاسیکی اقدارِ ادب کا عطا ء کاکوی کے بعد کوئی دوسرا نکتہ داں ہنوز سامنے نہیں آسکا۔
عطا ء کاکوی کی تاریخ گوئی کی مثال کے طور پر میں سب سے پہلے ان کامشہور قطعۂ تاریخ ’غم ارشد، پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر لکھا تھا۔ یہ قطعۂ تاریخ عطاء کاکوی کی فنی خوبیوں کا مظہر ہے اورتاریخ گوئی کی اعلیٰ خصوصیات کی بنا پر ممتاز ہے۔ اس میں انھوں نے نہ صرف لفظ سے سالِ وفات نکالا ہے بلکہ تمام ہی اشعار میں مرحوم کی خوبیوں اور خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے اور آخری شعر کے مصرعۂ ثانی سے سالِ وفات ظاہر کیاگیا ہے۔ ملاحظہ کریں:
غم ارشد
یہ واقعہ ہے کہ ارشد کی موت سے اے دوست
کھلا دریچہ غم در ہوا خوشی کا بند
ابھی جوان تھا چونتیس سال کی تھی عمر
ہوئی نہ جانے ادا کون سی قضا کو پسند
مثالِ شمع جو بزم ادب میں روشن تھا
ہوئی ہواے اجل سے زبان اس کی بند
کھلا دریچہ قضا کا توکر گئی پرواز
تھی روح جسم میں جیسے قفس میں طائر بند
کسی کی رو نہ رعایت نہ تھا کسی سے عناد
وہ صاف گو تھا بڑا اپنی وضع کا پابند
حیات چیست؟ چہ مرگ است کس نمی داند
ازیں دیار فنا روح او کجا بردند
کجا روم، چہ کنم، صبر از کجا آرم
خبر کنید بہ احباب حال ما بینند
یہ وہ الم ہے کہ دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے
کسی کے دل کونہ پہنچے خدا کرے یہ گزند
رہیں جمیل و عقیل اس جہان میں قائم
کہ یادگار ہیں مرحوم کیے یہ دو فرزند
عطاؔ کو فکر ہوئی اس کے سال رحلت کی
سرِ الم کو ملا کر کہا ’غمِ فرزند‘
سید شاہ عطاء الرحمن (عطاء کاکوی) کا شمار بھی انیسویں صدی کے انہیں روشن دماغ ، باکمال اور یگانہ روزگار شاعر و ادیب، ناقد اور محقق میں ہوتا ہے۔ آپ ۱۷؍ستمبر ۱۹۵۶ء کو بہار کے مردم خیز ضلع جہان آباد کے معروف گائوں کاکو میں پیدا ہوئے اور ۱۹۹۸ء میں پٹنہ میں انتقال ہوا۔ وہ اردو اور فارسی زبان و ادب کے عالم تھے۔ دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ ان کا فکری منطقہ وسیع تھا، تنقید، تحقیق، شاعری اور تاریخ نویسی پر انہیں درک حاصل تھا۔
شعبہ اردو فارسی ، بہار یونیورسٹی مظفرپور، شعبہ فارسی پٹنہ یونیور سٹی اورادارۂ تحقیقات عربی و فارسی میں بہ حیثیت ڈائریکٹر انھوں اپنی خدمات انجام دیں۔ صدر جمہوریہ کے سرٹی فیکیٹ آف آنر سے سرفراز کیے گئے۔ عطاء کاکوی پائے کے ادیب تھے بالخصوص تحقیق وتنقید کے نبض شناس تصور کیے جاتے تھے۔ تنقید و تحقیق میں مطالعہ حسرت ’’تنقیدی مطالعے، تقابلی مطالعے، اور تحقیقی مطالعے کے نام سے ان کے ۱۹؍ تحقیقی مضامین کا ایک انتخاب ۱۹۶۵ء میں شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے۔ دس غزل گو شاعروں کا انتخاب ’’میخانہ تغزل‘ کے نام سے شائع ہوا۔ حیرت زار، مرزا عبدالقادر بیدل کی حیات اور خدمات پر ان کی گرانقدر تصنیف ہے۔انہوں نے ایک رسالہ ’’سفینہ‘‘ بھی جاری کیا تھا جس کے متعدد خصوصی شمارے دستاویزی اہمیت کے حامل قرار پائے۔ وہ نہ صرف خوش فکر شاعر تھے بلکہ کج کلاہ نقاد اور دھن کے پکے محقق بھی تھے۔ انھوں نے چند کتابوں کو ترتیب بھی دیا ہے۔ ان میں تذکرہ شمع انجمن ونگارستان سخن، مولفہ صدیق حسن خان اور نورالحسن خان، دوسری کتاب ’تذکرہ صبحِ گلشن، مولف سید علی حسن خان، قابل ذکر ہیں۔ ان دو تذکروں کو ترتیب دے کر آپ نے تذکرہ کے سرمائے میں اہم اضافہ کیا ہے۔ نمونے کے چند قطعہ تاریخ دیکھئے ۔مشہور معالج اور ماہر سرجن ڈاکٹر احمدعبد الحئی کی وفات پر یہ قطعہ کہا گیا:
کل تک جو خود بلا تے رہے شاعرِ حیات
رحلت کا سال لکھ دے پیا سا غر فنا
۱۴۰۵ھ
ـ’بانی ایران سوسائٹی کلکتہ ‘ڈاکٹر محمدعبدالحئی کی وفات پر لکھا گیا قطعہ :
باسردرد از عطائے حزن
گفت ہاتف ـ’’غریقِرحمتباد ‘‘
۴+ ۱۹۶۵= ۱۹۶۹
شاعرِ سخن داں بسمل عظیم آبادی کی وفات پر یہ قطعہ رقم کیا گیا :
حرفِ اول ’’ الم ‘‘ کا لے کے لہو
چپ ہوا بلبلِ ریاض شاد
۱+ ۱۳۹۷= ۱۳۹۸ھ/ ۱۹۷۸
عظیم محقق اور دانشور قاضی عبد الودود کی وفات پر یہ تحریر کیا گیا:
صدا آئی ’’ عظیم محقق نماند‘‘
۱۴۰۴ھ
یہی سالِ رحلت ہوا برملا
شاعر و دانشور ڈاکٹر عظیم الدین احمد کی وفات یہ قطعہ کہا گیا :
کیوں فلک ٹوٹ پڑا پٹنہ پر
ظلم اس طرح کا کہیے تو سہی
سانحہ سخت ہے یہ مرگِ عظیم
بزمِ پٹنہ کی وہ رونق نہ رہی
ہاتفِ غیب نے تاریخِ وصال
رحلتِ ثانی اقبال سہی
۱۹۴۹
ماہرِ تعلیم ادبیاتِ انگریزی پروفیسر فضل الر حمن کی وفات پر کہا گیا قطعہ ملاحظہ کریں:
ہاتف نے کہا یہ سالِ رحلت
’’ دانائے زمانہ فضل الر حمن ‘‘
۱۳۷۷ھ
تاریخ گوئی کی روایت سست روی کاشکار ضرور ہوئی ہے ، مگر اس صنف میں تاریخ ساز بدلائو بھی آیا ہے جو کہ فن تاریخ گوئی کی پوری روایت میں نہیں آیا۔ ۱۹۸۰ء کے بعد فکر وفن کے عام رویے اور رجحان میں بے حد تبدیلی آئی۔۔ ان کے یہاں لفظ، اسلوب، بیان، لہجے، فکر اور جوش وجذبے کی سطح پر جو تبدیلی آئی وہ تاریخ کے دامن میں گوہر نایاب کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔نتیجے کے طور پر قطعۂ تاریخ گوئی کی روایت میں بھی بدلائو آیا جو نئے تاریخ گو شعرا کی دین ہے۔ یہ اضافہ جو فن تاریخ گوئی کی روایت میں نئے قادرالکلام تاریخ گو شعرا کے فکری اور فنی رویے کے رچائو کی صورت میں ہوا ہے۔ جسے ہم جدید تاریخ گویوں کا تاریخی قدم یا بدلائو تصورکرتے ہیں۔ قدیم تاریخ گو شعرا کے یہاں کسی اہم شخصیات کے کسی بڑے عہدے پر فائز ہونے پر یا کسی تاریخی عمارت پر تاریخیں ملتی ہیں۔ ان کے یہاں ان پر تاریخیں لکھنے کی روایت تھی مگر درمیان میں یہ سلسلہ ٹوٹ سا گیا اور صرف کسی شخصیت کے وفات ہوجانے پر تاریخ لکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔
نئے تاریخ گویوں نے زبان و بیان اور فکر وفلسفے کی بنیاد پر اس فن کو مزیدقابلِ توجہ بنایا۔ اہم اضافے اور بدلاؤ سے یقینا تاریخ گوئی میں ایک نوع کی جدت پیداہوئی جس سے تاریخ گوئی کی اہمیت مزید دو چند ہوگئی ہے۔ فن تاریخ گوئی کی اہمیت یوں بھی ہے کہ وہ شخص تاریخی قطعہ لکھے اور اس کی لکھے جو اس کا ہم عصر ہو یا اس کے عہد میں موجود رہا ہو۔ ہمارے نئے تاریخ گویوں نے تاریخ گوئی کے مفہوم کو وسیع کیا اور یہ واضح کیا کہ تاریخ گوئی کا مطلب یہ ہے کہ مادہ تاریخ سے سال وفات برآمد کرنے کے ساتھ اس سے وفات پانے والی کی خصوصیات بھی واضح ہوں۔ تاریخ گوئی کی روایت میں اس فکری بدلائو نے فن تاریخ گوئی کی جاذبیت اور جدت طرازی کو مہمیز کیا ہے ۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو ۱۹۸۰ء کے بعد کے تاریخ گو شعرا کے یہاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ جدت پسند قطعہ تاریخ گو شعرا میں واحد نظیر کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔
صوبہ بہار کے حوالے سے قطعۂ تاریخ میں واحد نظیر کا نام اعتبار حاصل کرچکا ہے۔تحقیق، تنقیداور ترتیب سے متعلق تقریباً ایک درجن کتابیں داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ فن عروض اور فن نعت گوئی پر بھی درک رکھتے ہیں۔ انھوں نے خاصی تعدادمیں ہر رنگ کے قطعات کہے ہیں۔ خواہ کسی ادیب، معروف عالم دین، سیاسی وسماجی اہم شخصیات کی وفات یا ان شخصیات کی تاج پوشی یا پھر تاریخی عمارات کی تعمیر، ان تمام معاملات و مسائل پر خوبصورت قطعات کے نمونے ان کے یہاں موجود ہیں۔ اس سے قبل یہ ذکر کرچکا ہوں کہ قطعۂ تاریخ مشکل فن ہے چونکہ اس میں بیک وقت تین چیزوں کو سنبھالنا ہوتاہے جیسے وزن، اعداد اورمفہوم، یہ وہ صفات ہیں جو کسی بھی اچھے قطعات کے لیے ضروری ہیں اوراہم بھی ۔واحد نظیر کی تاریخ گوئی ان صفات سے مملو ہے جس کی بنیا د پر وہ اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کاایک قطعۂ تاریخ جو مجاہدِ آزادی معروف قانون داں اور شاعر اشرف قادری کی رحلت کے موقعے پر کہا گیا ہے ملاحظہ کریںجس میں حیات و موت کا فلسفہ،اشرف قادری کی ظاہری اور باطنی خوبیاں مثلاً ان کے شغل، منصب، مشرب سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے:
ثبت ہے مخلوق پہ مہرِ الیہ ترجعون
موت کی بنیادپر ہے زندگی کی چھت بنی
ساعیِ جمہوراشرف، شاعروقانون داں
کیا معمر ذات تھی جو قبر کی زینت بنی
موت سے کس کو مفر ہو، تاجور ہوں یا گدا
جب شہِ لولاک کی بھی ظاہراً تربت بنی
کہیے اشرف قادری ہم سایہ قادر بنے
۱۴۱۹ھ
غوث کی نسبت وہاں بھی باعثِ رحمت بنی
قریۂ افکارمیں ملہم لگاتاہے صدا
کہہ سکونت گاہِ اشرف قادری جنت بنی
۱۹۹۸ء
اس قطعۂ تاریخ میں واحد نظیر نے اپنی ذہانت زکاوت اور فنی خوبیوں کاثبوت فراہم کیا ہے۔ ’ساعی جمہور اشرف، شاعر وقانون داں‘ اس ایک مصرعے میں شاعر نے مرحوم کی تین خصوصیات یعنی مجاہد آزادی ، شاعر اور قانون داں کو نہایت روانی سے پیش کردیا ہے۔ اسی طرح ہجری مادہ ٔتاریخ ، کہیے اشرف قادری ہم سایہ قادر بنے، ۱۴۱۹ھ کے ذریعہ ان کے سلسلے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ اس قطعہ کی خصوصیت اس کے علاوہ یہ ہے کہ اس میں دو مصرعوں سے تاریخ برآمد کی گئی ہے۔ جیسے چوتھے شعر کے مصرعہ اولیٰ سے ہجری سال اور آخری شعر کے دوسرے مصرعے سے عیسوی سال ، یہاں دونوں تاریخی مادے مکمل مصرعے کی شکل میں ہیں، جو قطعۂ تاریخ کی اہم خوبی ہے۔
نئی نسل میں واحد نظیر واحد ایسے قطع تاریخ کے فن کار ہیں جنھوں نے ہر رنگ میں قطعہ تاریخ کہنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ خواہ کسی اہم شخصیت کی تاج پوشی ہو، گدہ نشینی، کتاب کی طباعت ہو یا کسی کی وفات میں بطور نمونہ ایک
ایک قطعہ پیش کرتا ہوں دیکھئے:
واحدؔ نظیر نے اپنی کتاب ’’ادب کشا‘‘ کی طباعت پر قطعہ تاریخ انطباق وادب کشا کے عنوان سے کہی ہے۔ وہ یہ ہے:
کہا سروشی نے یہی نظیر برملا لکھو
بفضل حق ادب کشا ہے یک کتاب حق نما
۲۰۱۵ء
اسی طرح ممتاز عالم دین ،محقق، شاعراور خطیب سید شاہ اسماعیل روح کی وفات جب مدینہ شریف میں ہوئی تو یہ قطعۂ تاریخ کہا:
وہ شاہ جوکرتاتھا یہاں روح تخلصؔ
شہر حبیب آیا تو سکتے میں پڑ ا ہے
ہاتف نے کہا مصرعِ تاریخ لکھ نظیرؔ
جو عاشق نبیؐ تھا مدینے میں مراہے
۱۴۱۸ھ
واضح ہو کہ شاہ اسماعیل جب حج کو تشریف لے جارہے تھے رخصت کرتے ہوئے کسی شخص نے کہامیری دعا ہے آپ بہ خیرو خوبی واپس آئیں۔ شاہ صاحب رونے لگے اور کہا کہ دعا کیجیے کہ وہیں رہ جائیں۔ اللہ نے ان کی تمنا پوری فرمائی ۔ مدینہ منورہ میں وفات ہوئی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ واحد نظیر نے اس قطعۂ تاریخ میں سارے اشارے نظم کر دیے ہیں۔
میں یہ عرض کرچکا ہوں کہ واحد نظیر کے یہاں مختلف مواقع سے کہے گئے قطعات کے نمونے موجود ہیں۔یہاں میں دو قطعات پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔دونوں قطعات کتابوں کے انطباع سے متعلق ہیں۔پہلے قطعے میں جہاں کتاب ’نئی پرانی کتابیں‘ کی خصوصیات اور اس کے مشملات تک کا بیان ہے وہیں مصنف صفدر امام قادری کے اسلوب اور تنقیدی رویوں کے اشارے بھی موجود ہیں۔ فنی نقطۂ نظر سے تعمیہ کا ایسا خوب صورت استعمال ہوا ہے کہ زبان سے بے ساختہ داد نکلتی ہے۔یعنی مصرعِ تاریخ اور مصنف کے نام سے سالِ تصنیف بر آمد ہوتا ہے۔قطعہ ملاحظہ فرمائیں
لگتا ہے مل رہے ہوں گلے نکہت و انوار
تحریر میں یوں علمی شعائیں ہیں عطر بیز
جب سے بسا ہے آنکھوں میں یہ گلبنِ نکات
کہتے ہیں لوگ میری نگاہیں ہیں عطر بیز
پھولوں میں پنہاں کانٹوں سے کرتا ہے روشناس
دل سے مری نکلتی دعائیں ہیں عطر بیز
رکھتا ہے دکھتی رگ پہ یوں انگلی کہ واہ واہ
صفدر کی پر خلوص ادائیں ہیں عطر بیز
منہہ موتیوں سے بھرنے کے قابل نہیں نظیرؔ
ہاں فکر کے گہر کی یہ کانیں ہیں عطر بیز
نقد و نظر کا دیکھ کے عمدہ یہ اہتمام
ہاتف کی آتی غیبی صدائیں ہیں عطر بیز
تاریخ ہو گی نامِ مصنف سے شاد کام
بائیس نئی پرانی کتابیں ہیں عطر بیز
1242+771=2013
اب دوسرا قطعہ غضنفر کی مثنوی’کربِ جاں‘ کے انطباع سے متعلق پیش ہے۔ اس میں واحد نظیر نے مثنوی کے فورم میں تاریخ کہی ہے۔ساتھ ہی شعری اسلوب بھی مثنوی کاہی ہے۔میں یہ عرض کر دوں کہ میر حسن کی مثنوی ’سحرالبیان‘ میں بھی یہ تجربہ کیا جا چکا ہے۔ اس تاریخ میں آپ یہ محسوس کریں گے کہ شاعر کی خصوصیات اور مثنوی کے اوصاف بھی سلیقے سے بیان ہوئے ہیں:
ہے پیشِ نظر مثنوی کربِ جاں
جو ہے فکروفن میں غضنفر نشاں
ہے رودادِ جاں صورتِ مثنوی
جہاں آگ ہے آگہی کی لگی
ضیاپاشیاں ہیں یہ انوار کی
ہے عقدہ کشائی یہ اسرار کی
اک اک لفظ سنسار کے بھید ہیں
ہیں اشعار کیا جامِ جمشید ہیں
یہ قصّہ ہے تعمیر و تخریب کا
یہ آئینہ خانہ ہے تہذیب کا
نہیں اس کے اوصاف دو ایک چند
معانی کا ساگر ہے گاگر میں بند
زبان وبیاں جیسے آبِ زلال
صنائع بدائع کی عمدہ مثال
ہو آغاز، انجام یا درمیاں
فصاحت کا دریا رواں ہی رواں
نہیں لب کشائی کا مجھ میں دماغ
دکھاتے ہیں سورج کو ناداں چراغ
نہ کھل جائے اپنا بھرم اے قلم
قلم ہے غضنفر کا معجز رقم
نظر میں کھپی مثنوی دل پذیر
ہوئی فکرِ تاریخ واحد نظیر
سماعت میں گونجی سروشی صدا
تردّد ہے کیسا یہ لکھ بر ملا
تھی شاعر کی روزِ ازل سے مِیاں
تمنّاے جاں مثنوی کربِ جاں
۱۴۳۷ھ
الغرض سر زمینِ بہار دیگر شعری اور نثری اصناف کے ساتھ ساتھ تاریخ گوئی میں بھی ایک مستحکم روایت رکھتی ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے۔کسی بھی صنف کے زندہ رہنے اور اس کے پھولنے پھلنے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں زندگی کی رمق کتنی ہے۔ جدّت طرازی کس حد تک ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تواس صنف کی جانب سے لوگوں کی رغبت اوررجحان رفتہ رفتہ کم ہوتا جاتا ہے بالآخر وہ صنف ختم ہونے لگتی ہے۔ چوں کہ تاریخ گوئی کی تاریخ بہت قدیم ہے مگر تاریخ گوئی عرصہ دراز تک ایک ہی طرز پرلکھی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ادبا وشعرا کا رجحان اس جانب سے کم ہوتا گیا۔ کیوںکہ ایک ہی طرز پر شعر کہتے کہتے تاریخ گو میں اُوب جانے کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ لیکن خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اب جو نمونے سامنے آرہے ہیںان میں زبان، فکر اور ڈھانچے کی سطح پر تازہ کاری کااحساس پیدا ہوا ہے۔
قطعئہ تاریخ کا فن ، شعر گوئی سے قدر ِمختلف اورمشکل فن ہونے کی بنا پر بھی شعرا قصداًــ اس جانب توجہ نہیں کرتے کیونکہ یہ دقت طلب اور وقت طلب کام ہے، یہ فن دیگر فن کے مقابلے میں خاصہ محنت والا اور فنی مشکلات سے مملو ہے۔ مگر جو قادرالکلام شعرا ہیں انہیں اس صنف کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ اس فن کی جانب توجہ نہ کرنے کا قصیدے جیسا کوئی جواز نہیں ہے کہ اب سلاطین اور نوابین کا وہ دور نہیں کہ قصیدہ کہا جائے۔یہی سبب ہے کہ قصیدہ کا فن رفتہ ردفتہ زوال آمادہ ہوتا گیا۔ جب کہ اس کے بالمقابل تاریخ گوئی کا موضوع اپنے عہد کے اہم واقعات ہیں جو ہر روز رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اور ظاہر بھی ہیں۔ کیوں کہ جب تک انسانی زندگی ہے غیر معمولی واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ لہٰذاتاریخ گوئی کو نظرانداز کرنا اس زندہ فن کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ فن تاریخ گوئی کی جانب عمومی توجہ نہ ہونے کا صرف ایک اہم سبب جوسمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ صنف جہاں دقت طلب ہے وہیں وقت طلب بھی ہے ،ساتھ ہی یہ فنی اعتبار سے بے حد مشکل بھی ہے، مگر یہ جواز ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اس بنیاد پر کسی بھی اہم فن کو جیتے جی دفن کردیں۔ جب کہ آج کے شعرا عموماً سہل پسندی کی بنا پرکاٹے اور لے دوڑے کے رویے کا شکار ہیں۔ یہی کم محنت اور زیادہ شہرت کی خوٗنے فنِ تاریخ گوئی کو نقصان پہنچایا ہے۔
DR. KHAN MOHD RIZWAN
M.M.I.P – D-307,
ABUL FAZL ENCLAVE
JAMIA NAGAR, OKHLA
NEW DELHI -110025


1 comment
Achcha mazmoon