ستمبر کے شب خون ’اردو افسانہ میں انحراف‘ پر جو دلچسپ سمپوزیم شائع ہوا ہے، اس نے موضوع زیربحث کے کئی اہم پہلوؤں کا احاطہ کرلیا ہے۔ میں یہاں صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
دوران گفتگو شہریار نے ایک اہم بات کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ ’’افسانہ اب شاعری سے نزدیک آرہا ہے۔‘‘ بلراج کومل نے زبان کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اب ساری کی ساری زبان شاعری کی زبان ہے۔‘‘ اس پر خلیل الرحمن اعظمی نے وضاحت کی ہے، ’’رومانی دور کے افسانوں میں … ضرورت سے زیادہ حصہ شعریت کا حامل ہوتا تھا … یہ مستحسن نہیں تھا۔ بعد میں کرشن چندر، قرۃ العین حیدر وغیرہ کے یہاں جو شعرزدگی اور غیرضروری شاعرانہ زبان پائی جاتی ہے، وہ ہمیں کھٹکتی رہی … ایک طرح کا صحافتی افسانہ جو بہت مروج ہوگیا تھا اور جس میں زبان کا تخلیقی استعمال بہت کم ملتا تھا، اس کے مقابلے میں آج کے افسانے کا شعری کردار ہمیں زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ افسانہ میں ’شعریت‘ اور شعرزدگی‘ کے نام سے جو چیز غیرمستحسن رہی ہے، اس کی نوعیت کیا تھی؛ اور اس میں اور جدید افسانہ کے ’شعری کردار‘ میں جس کی بظاہر سب نے تعریف کی ہے، کیا فرق ہے؟ نیز افسانہ کی اس تبدیلی کا تعلق محض ’زبان‘ سے ہے یا افسانہ کے پورے مزاج سے ہے؟ اور کیا واقعی افسانہ کی زبان ’’ساری کی ساری شاعری کی زبان‘‘ ہوگئی ہے؟
ان باتوں کا تعلق چونکہ اردو نثر کے بنیادی مزاج سے ہے، اس لیے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اردو نثر کی یہ بدنصیبی ہے کہ اس نے غزل کے سایہ تلے آنکھ کھولی، اور آج تک یہ شاعری کے اثر سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکی۔ اردو نثر پر غزل کا تسلط دو طرح سے ظاہر ہوتا رہا ہے یعنی سستی جذباتیت میں اور آرائش لفظی کی صورت میں، نثر میں یہ دونوں باتیں غیرمستحسن ہیں۔ سرسید اور حالی کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے نثر کو نثری بنیاد پر آگے بڑھایا اور عقلیت کے مقابلے میں جذباتیت اور سادہ اسلوب کے مقابلے میں شعرزدگی کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ یہ ایک ’ترقی پسندانہ‘ اقدام تھا، لیکن خود ترقی پسند تحریک نے جس کی مقصدیت اگرچہ سرسید تحریک کی اصلاحی کوششوں سے یکسر غیرمتعلق نہ تھی، زبان کے مقابلے میں سرسید تحریک کے رول کو الٹ دیا اور اپنی ولولہ انگیزی اور ہیجان خیزی کی بدولت اردو کو پھر اسی شعرزدگی اور جذباتیت کی دلدل میں ڈال دیا، جس سے سرسید تحریک نے اسے آزاد کرانے کی کوشش کی تھی۔
نثر کی یہ شعریت جس کا تعلق سستی جذباتیت، کھوکھلے جوشیلے پن اور لفظوں کی سجاوٹ اور رنگینی سے ہے، جدید اردو افسانہ سے کوئی میل نہیں رکھتی۔ جدید افسانہ کا سفر زبان کے چٹخارے سے انحراف کا سفر ہے لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ ’’جدید افسانہ شاعری کے نزدیک آرہا ہے‘‘ تو میرے نزدیک اس سے مراد فقط یہ ہے کہ جدید افسانہ شاعری کے جوہر سے نزدیک آرہا ہے،(1) یعنی اب بات واشگاف اور کھلے ڈلے طور پر نہیں کی جاتی۔ کومل صاحب نے صحیح کہا ہے، ’’پہلے افسانہ کی زبان بیانیہ ہوتی تھی، اگر اس کی کوئی علامتی Significance مجموعی طور پر بن جائے تو بن جائے، اس طرف کوئی شعوری کوشش نہیں تھی۔‘‘ شمس الرحمن فاروقی اور محمود ہاشمی نے شاعری کے ’’خلاقانہ اور استعاراتی عمل‘‘ پر زور دیا ہے۔ فاروقی صاحب نے کہا ہے ’’تفصیلات کو چھانٹنے کا عمل شاعری کا عمل ہے … غیرضروری تفصیلات کا اخراج جو شاعری کرتی ہے، وہ افسانہ بھی کررہا ہے۔‘‘ گویا مطلب یہ ہوا کہ افسانہ اس معنی میں شاعری کے نزدیک آرہا ہے کہ اب یہ سپاٹ بیانیہ (بیان) نہیں رہا، بلکہ ’’استعاراتی‘‘ اور علامتی ہوگیا ہے۔ لیکن یہاں اس بات پر زور دینے کی بھی ضرورت ہے کہ ایسا محض ’زبان کی تبدیلی‘ کی وجہ سے نہیں ہوا۔ بنیادی تبدیلی رویہ کی تبدیلی ہے جس سے ’اندازبیان‘ متاثر ہوتا ہے۔ مقصدی دور میں افسانہ خارجی اور معروضی تھا، اب inward ہونے سے یہ موضوعی، داخلی اور ذاتی (باطنی) ہوگیا ہے۔ اب افسانے کا فن سطح کے حقائق کو چن کر ان کی تصویرکشی کا یا خارج کی ریل پیل کو من و عن پیش کرنے کا فن نہیں رہا، بلکہ اب یہ خارجی حقائق کے پیچھے چھپے ہوئے تہہ در تہہ پیچیدہ رشتوں، نہاں خانہ ذات میں گونجنے والی پراسرار آوازوں یا ذہن و روح کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والی ہلکی گہری لہروں کو اظہار کی سطح تک لے آنے کا فن ہے، اس لیے انداز بیان علامتیت اور اشاریت کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ تاہم یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ اب افسانہ کی زبان ’’ساری کی ساری شاعری کی زبان‘‘ ہے۔ میرے نزدیک علامتیت زبان نہیں، انداز بیان ہے، پیرایۂ اظہار ہے۔ جہاں تک جدید افسانہ کی زبان کا تعلق ہے، یہ شاعری (آرائش لفظی کے معنی میں) سے نزدیک ہونے کی نہیں بلکہ اس سے دور ہونے کی مثال پیش کرتی ہے، یعنی جدید افسانہ کی زبان اب سادہ، سپاٹ، ٹھیٹھ اور کھری، اور غیرمرصع اور غیررنگین ہوگئی ہے، کم و بیش وہی جو منٹو کی زبان ہے، بنیادی اردو کے مزاج سے لگا کھاتی ہوئی، جو ادائے مطلب پر قادر ہے اور اظہار سے عاجز نہیں۔ اس کی جامع تعریف اگرچہ آسان نہیں، لیکن مانع طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ غیرسجیلی اور معرا زبان ہے۔ جدید افسانہ کے علامتی اور تجریدی انداز بیان نے اسی زبان پر اپنی بنیاد رکھی ہے۔
رہا افسانہ میں خلاقانہ نثر کا استعمال تو اتنی بات خاطرنشان رہے کہ شعرزدگی اور شعریت اور خلاقیت میں فاصلہ ایک قدم کا ہے۔ میرے نزدیک اس سلسلے میں کرشن چندر اور قرۃ العین حیدر کا نام ایک ساتھ لینا مناسب نہیں۔ ایسا ایک تو ’شعریت‘ کی مبہم اصطلاح کے استعمال کی وجہ سے اور دوسرے ’زبان‘ اور ’انداز بیان‘ کے تصور میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ کرشن چندر کی شعریت پر ہمیں اعتراض اس کی رومانیت اور جذباتیت کی وجہ سے ہے جو ان سے ازلی گناہ (Original sin) کی طرح چپکی ہوئی ہے۔ ان کی نثر کی خلاقیت پر اس سے کوئی حرف نہیں آتا۔ یہی خلاقیت ہی تو انھیں دوسروں سے ممتاز کرنے میں مدد دیتی ہے، ورنہ رومانیت کے مرد میدان تو اور بھی بہت سے ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے اپنی خلاقانہ نثر سے دوسرا کام لیا ہے۔ اپنے حالیہ افسانوی ادب میں انھوں نے وقت کی روانی کو گرفت میں لینے، ماضی (زماں) کے تسلسل کو دریافت کرنے اور ذہنی بہاؤ کی موجوں کو اظہار کا روپ دینے میں جو کارنامہ انجام دیا ہے، اس میں ان کی نثری خلاقیت کو خاصا دخل ہے اور ان کا یہ تجربہ لائق قدر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نثر کی خلاقیت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی پہلو جدید افسانہ کے تجریدی اور علامتی انداز سے میل نہیں رکھتا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی اہمیت سے چشم پوشی کی جائے!
سمپوزیم کے آخر میں کومل صاحب نے ایک اور اہم سوال کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ’’وہ کون سا معیار ہوگا جس کے ذریعہ ہم رام لعل اور احمد ہمیش کو بہ یک وقت Judge کرسکیں۔‘‘ اس کے جواب میں شمس الرحمن فاروقی نے کافکا اور پشکن کی مثال دے کر بتایا ہے کہ جدید افسانہ اس طرح نئے انسان کو پیش کرتا ہے کہ مابعدالطبیعیاتی Pre occupations زیادہ سامنے آتی ہیں جو اس کی Metaphysical کیفیات سے متعلق ہیں، بجائے ان کیفیات کے جو Socially Conditioned ہیں۔‘‘ میں کافکا کی حد تک اس وضاحت سے متفق ہوں، لیکن پشکن کے لیے — Socially conditioned reference کی جو اصطلاح استعمال ہوئی ہے، اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ جدید ہونے کے لیے افسانہ کا سماجی صورت حال سے قطع تعلق کرنا ضروری ہے۔ میرے نزدیک جدید اور غیرجدید میں بنیادی فرق صرف رویہ کا نہیں بلکہ treatment کا بھی ہے۔ پشکن غیرجدید اس لیے نہیں کہ اس کا ادب social reference کا ادب ہے، بلکہ اس لیے کہ اس نے حقائق کو tangible سطح پر بالذات طور پر پیش کیا ہے۔ گویا جدید ہونے کے لیے قید سماجی طور پر متعلق یا غیرمتعلق ہونے کی نہیں بلکہ حقائق کے inward روپ اور ان کے مرئی اور غیرمرئی رشتوں سے واسطہ رکھنے یا نہ رکھنے کی ہے۔
ہماری بدنصیبی ہے کہ جدیدیت ہمارے ہاں ترقی پسندی کے بعد اور بہت کچھ اس کی ضد میں آئی۔ ترقی پسندوں کی مقصدیت اور سماجی معنویت کا ردعمل علاوہ اور باتوں کے سماجی صورت حال سے قطع تعلق کرنے میں بھی ظاہر ہوا اور یہ ایک حد تک فطری بھی تھا، لیکن اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ جو تخلیق سماجی صورت حال سے جتنی غیرمتعلق ہوگی، وہ اتنی ہی جدید بھی ہوگی تو اس سے جو مضحک صورت حال پیدا ہوگی اس کا تصور آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ ادب کا سماجی صورت حال سے جو تعلق ہے وہ ظاہر ہے ادھر جو تبدیلی آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ سماجی صورت حال کوئی بالذات چیز نہیں، یعنی اس کی ایسی پیش کش جس میں فرد یا انسان کی ذات کی uniqueness فنا ہوجائے، غلط ہے۔ دراصل پہلے افسانہ نگار کا سفر سماج کی اہمیت سے شروع ہوتا تھا، اب یہ فرد کی uniqueness سے شروع ہوتا ہے اور جس نہج سے ذات سماجی صورت حال سے متعلق ہے، اسی نہج سے اگر سماجی صورت حال کا ذکر بھی افسانہ میں آئے گا تو اس سے افسانہ کے جدید ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا Socially- Committed اور Socially involved ادب میں ہمیں فرق کرنا ہوگا۔ مغرب کے جدید ترین شاعروں اور ادیبوں کو لیجیے، وہ کارل شپیرو ہوں، گنزبرگ ہوں، کیرواسک ہوں، سناڈگراس، جان اوہیرا، برنارڈ مالیموڈ، سال بیلو، یاگری سنائڈر ہوں یہ لوگ جس داخلی کرب، قدروں کی پامالی اور لاانسانیت کا ذکر کرتے ہیں، وہ یہاں کی سماجی صورت حال کی پروردہ ہے۔ ہمارے ادیبوں کو بھی یہ موضوعات جی سے پسند ہیں، اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں، کیونکہ یہ موضوعات موجودہ تہذیب کا جدید ذہن کو چیلنج ہیں۔ لیکن زندگی کے امکانات ان گنت ہیں، دوسرے تضادات اور چیلنج بھی قابل توجہ بن سکتے ہیں، اور انھیں قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ سماجی حقائق کو محض خارجی (سطحی) طور پر پیش کرنا مقصود نہ ہو بلکہ ان کے اثر سے ذہن کی گہرائیوں میں جو پراسرار دنیا ابھرتی ہے، اس کی منطقی اور غیرمنطقی معنویت بھی نظر میں رہے۔ اس طرح اگر حقائق کا تجزیہ ذہن و ذات کو نقطۂ آغاز بناکر کیا جائے تو وہ کسی طرح جدیدیت کے منافی قرار نہ پانا چاہیے۔
(شب خون، الٰہ آباد، فروری 1970، تحریر زمانۂ وسکانسن)

