مومن، یعنی حکیم مومن خاں مومن یوں تو غزل کے معروف و مقبول شاعر ہیں، لیکن انھوں نے مثنویاں بھی کہی ہیں اور قصیدے بھی۔ رباعیاں بھی یادگار چھوڑی ہیں اور قطعات بھی۔ یہاں ان کے قصائد کے حوالے سے اپنی رائے پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔
’کلیاتِ مومن‘ (مرتبہ از نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ 1243ھ، مطبوعہ بذریعہ کریم الدین از مطبع رفاہ عام، دہلی، 1846) میں نو قصیدے ملتے ہیں جن میں سات قصیدو ںکے موضوعات دینی اور مذہبی ہیں یا پھر شخصیات مذہبی ہیں۔ صرف دو قصیدوں میں بادشاہ اور راجہ موضوع بنے ہیں۔ شیفتہ نے نہایت ہی شگفتہ، پُرمغز اور عقیدت مندانہ دیباچہ تحریر کیا ہے۔ انھوں نے جہاں مومن کی غزل، رباعیات، ان کے اشعار، مطلعوں اور مصرعوں کی تعریفیں کی ہیں، وہیں قصیدے کے بارے میں لکھا ہے:
’’ابیاتِ قصیدہ در فراوانی چون ثوابت و در درخشانی چون سیارہ‘‘
(کلیاتِ مومن، دیباچہ، کتابی دنیا، دہلی، 1903، ص 6)
چوں کہ پہلا قصیدہ حمدیہ ہے اس لیے اسے کلیات میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ پہلے سارے قصیدے ہی رکھے گئے ہیں، اس کے بعد غزلوں کا باب شروع ہوتا ہے۔ اس پہلے قصیدے کاعنوان ہے:
’’گہر ریزیٔ خامہ بہ ستائش یگانہ ایست کہ دُر یکدانہ بآب رساندۂ اوست و گوہرِ شب چراغ بتاب آوردۂ او۔‘‘
عنوان سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ خدا کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ قصیدہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے:
الحمدُ لواہب العطایا
اس شور نے کیا مزا چکھایا
والشکر لصانع البرایا
جس نے ہمیں آدمی بنایا
احسان ہیں اس کے کیا گرانبار
سر سبع شدّاد کا جھکایا
وہ نیر آسماں تقدیس
جانسوز مناظر و مرا یا
اس کے آگے چل کر واحد غائب کے بجائے خدا واحد حاضر کے طور پر سامنے آجاتا ہے:
ہر جائے ہے تیرا جلوہ لیکن
دیکھا تو کہیں تو نظر نہ آیا
یا عقل ہے گم کہ بس تجھی کو
پایا ہر شے میں پر نہ پایا
تجھ کو ہی سزا ہے کبریائی
کُرسی کانہ عرش کا یہ پایا
شروع کے دو شعروں کے پہلے دو مصرعے عربی میں کہے گئے ہیں۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکیم مومن خاں کو عربی زبان پر کس قدر عبور حاصل تھا۔ اسی قصیدے میں آپ دیکھیں گے کہ قرآنی آیات اور اس کے ٹکڑے اور احادیث نبویہ کے حصے جگہ جگہ مصرعوں میں کھپانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ مومن کے اس قصیدے میں یہ خوبی بھی آپ دیکھیں گے کہ وہ زبردستی قصیدے کے پُرشکوہ اسلوب کو بحال کرنا نہیں چاہتے بلکہ جہاں بہت ہی سلیس اور رواں مصرعے اور فقرے منظوم ہوتے ہیں۔ انھیں اسی طرح فطری انداز میں رکھتے چلے جاتے ہیں۔ جیسے یہ اشعار: (یہ بھی پڑھیں تحریکِ آزادی اور اردو غزل – پروفیسر کوثر مظہری )
اللہ ری تیری بے نیازی
یعقوب کو مدتوں رلایا
ہر جا ہے تیرا جلوہ لیکن
دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا
آیا نہ کبھی خیال حج کا
تلوا سو بار گر کھجایا
مجھ کو بھی بچا لے جیسے تونے
یوسف کو گناہ سے بچایا
خدائی حمد و ثنا میں مومن نے انسان کی فکری پس ماندگی اور ذہنی تنزلی کو بھی پیش کیا ہے۔ دنیاداری میں انسان کس قدر اپنی اصل منزل اور اصل منصب کو بھول جاتا ہے، اس طرف بھی انھوں نے اشارے کیے ہیں۔ دنیاوی عشق سے الگ رہنے کے لیے مومن آخر میں دعا بھی کرتے ہیں۔ پہلے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے جن سے اندازہ ہوگا کہ مومن خدا کے حضور کس بات کے لیے دست بدعا ہوئے ہیں:
یہ عشق وہ بدلا بلا ہے جس نے
ہاروت کو چاہ میں پھنسایا
ہر حلقۂ دام آرزو نے
طوق لعنت مجھے پنہایا
گہ ساقیٔ سرخ لب کے غم نے
خوننابۂ دل جگر پلایا
تھا شور فداکَ جائے لبیک
اس دشمن دیں نے گر بلایا
روٹھا کوئی نازنیں صنم گر
سو گند دروغ کھا بٹھایا
کتنی ہی قضا ہوئیں نمازیں
پر سر کو نہ پانوسےاٹھایا
اور یہ پھر انداز کہ:
واعظ کی کبھی کوئی نہ مانی
کتنا ہی عذاب سے ڈرایا
توڑا نہ وفا کے سلسلے کو
توبہ ہی پہ زور آزمایا
اب آگے بڑھتے ہی گریز کا رنگ یوں ابھرتا ہے:
اللہ مرے گناہ بے حد
وہ ہیں کہ شمار کو تھکایا
وہ عشق دے جس کا نام اسلام
وہ شیوہ نبیؐ نے جو بتایا
اور پھر قصیدہ دعائیہ اشعار پر ختم ہوجاتا ہے۔ قصیدے میں عام طور پر آخر میں بادشاہ یا کسی بھی شخص کے لیے دعائیہ اشعار ہی ہوتے ہیں۔ اس قصیدے کے کچھ اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
مجھ کو بھی بچا لے جیسے تونے
یوسف کو گناہ سے بچایا
وہ رفعت حال دے کہ جس نے
منصور کو دار پر چڑھایا
مومن کہے کس سے حال آخر
ہے کون ترے سوا خدایا
اس قصیدے کا سبک اور رواں اسلوب مثنوی کے آس پاس پہنچ گیا ہے۔ اگر عربی کے فقروں اور آیات قرآنی کے ٹکڑوں کو منہا کرکے دیکھا جائے تو یہ قصیدہ قصیدے کے اسلوب سے قدرے دور جاپڑتا ہے۔ یوں بھی مومن نے مثنویاں زیادہ کہی ہیں اور اس صنف میں وہ زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ لیکن پہلے قصیدے کے بعد جب ہم دوسرا قصیدہ دیکھتے ہیں تو مومن کا اسلوب قصیدہ نگاری کے پُرشکوہ اسلوب کا حامل نظر آتا ہے۔ یہ قصیدہ نعتیہ ہے جس کا عنوان کچھ اس طرح ہے:
’’زمزمہ سنجی طبع بہ مضمون بادخوانی نسیم گلشنِ نبوت و شمالِ چمن رسالت‘‘
اس قصیدے کے تشبیب سے چند شعر ملاحظہ کیجیے:
چمن میں نغمۂ بلبل ہے یوں طرب مانوس
کہ جیسے صبح شب ہجر نالہائے خروس
ہے اس طرح فرح انگیز کوکوئے قمری
کہ جیسے فوج مظفر میں شور و غلغل کوس
نوائے طوطیٔ شکر فشاں کی لذّت سے
سماع و رقص میں اہل مذاق جوں طاؤس
ہجوم سبزہ نے کی بسکہ رنگ آمیزی
زمیں پہ چادر مہتاب بن گئی ہے سدوس1؎
(1؎ ایک طرح کی مصری چادر)
قصیدے میں یوں تو کئی اجزا ہوتے ہیں مگر سب سے زیادہ تشبیب اور مدح کی اہمیت ہوتی ہے۔ مدح شخصیت کی اور شخصیت سازی کے دوسرے عوامل و عناصر کی۔ لیکن مومن نے چوں کہ زیادہ تر قصیدے مذہبی رنگ کے کہے ہیں، اس لیے تشبیب حسن و عشق کے مضامین باندھنے کے مواقع کم آتے ہیں، پھر بھی مومن کے یہاں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ دو مختلف قصیدوں سے تشبیب کے چند اشعار یہاں پیش کیے جاتے ہیں تاکہ اندازہ ہوسکے کہ مومن کا تخلیقی ذہن تغزل سے کس درجہ مانوس ہے:
چاہنا خلق کو صہبا و صنم سے محروم
ایسی نیّت پہ بہشت آپ کو واعظ معلوم
محتسب نے خمِ مے چھین لیا یا قسمت
ایسے کمبخت کو ہاتھ آئے ہمارا مقسوم
گاہ کہتا ہے جنوں عشق کو گہ کفر و حرام
جہل کرنے کو پڑھتے تھے مرے ناصح نے علوم
مصرعۂ زلف کبھی ہاتھ نہ آیا اپنے
نہ ہوا پر نہ ہوا حال پریشاں منظوم
(قصیدہ در مدح حضرت امام حسنؓ)
——
ہے یہی حسرت دیدار تو مرنا دشوار
دم شماری کی مری عمر ہے تا روز شمار
دیکھ اتنا میں ترے عشق میں رویا کہ ہوئی
جلوہ گر مہر گیا دشت سے لے تا کہسار
بے سبب قتل سے آیا نظر انجام اپنا
سرمۂ دیدۂ دشمن ہے مری خاک مزار
ہم سے دشمن نے ترے راز کہے مستی میں
ایسے کم ظرف کو دیتے نہیں جام سرشار
(قصیدہ در منقبت حضرت عثمانؓ)
مومن نے قصیدے میں بھی اپنا الگ رنگ قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، اور وہ اس طرح کہ انھوں نے زمانے کی ستم ظریفی، اپنی ناقدری اور اپنی اناپسندی کو بھی قصیدے کے اشعار میں جگہ جگہ پیش کیا ہے۔ انا پسندی اور تعلی دونوں متحدالمضامین ہیں۔ آئیے اس نوع کے اشعار دیکھتے ہیں:
ہوں وہ نبّاض جس کے ناخن میں
حرکات عروقِ شریانی
میرے خامے کے جوشِ گریہ سے
روئے دیتا ہے ابر نیسانی
میرے ربط کلام کو پہنچے
نثر سعدی نہ نظم سلمانی
میرے گوہر تمام ناسُفتہ
میرے یاقوت سب بدخشانی
میں وہ سرمایۂ بلاغت ہوں
جس کے در کا گدا ہے خاقانی
اپنی علمیت اور سخن طرازی کے حوالے سے تعلی کے ساتھ ساتھ مومن نے اپنی حکمت و طبابت کے حوالے سے بھی اس نوع کے اشعار کہے ہیں:
حکیم وہ ہوں کہ جاتے رہیں حواس اگر
کرے معارضہ سر دفتر عقول و نفوس
طبیب وہ ہوں کہ ہو سوزِ سینۂ بلبل
نظارۂ رخِ گلفام سے مجھے محسوس
جو ہوں معالج مبطوں تو قابض ارواح
کرے دعائے رواج طریقِ جالینوس
ورم ہو چارہ گر قبض تا بدست لئیم
کیا ہو میں نے جو تجویز وزن مغز فلوس
(قصیدہ نعتیہ)
مومن نے اپنے قصیدوں میں اپنی ناقدری، زمانے کی ستم ظریفی کے ساتھ ساتھ نااہلوں پر طنز بھی کیے ہیں۔ اس حوالے سے یہ اشعار پیش کیے جاسکتے ہیں:
آب و ناں کے لیے گِرو رکھیں
رستمانِ زمانہ تیغ و سپر
سرورانِ سپہر مرتبہ ہیں
بسکہ جاہل نواز و دوں پرور
دیکھے نرگس حَسد سے جانبِ گُل
خوردہ بیں ہوگئے ہیں اہل نظر
پھلے پھولے ہیں بے خرد کیا دور
بید مجنوں بھی گر لے آئے ثمر
قدردانی کا نام ہی نہ رہا
چند ناداں ہوئے ہیں نام آور
(قصیدہ، منقبت حضرت ابوبکرؓ)
اسی طرح حضرت عثمان کی منقبت میں کہے گئے قصیدے کے یہ اشعار دیکھیے جن میں شکوہ سنجی اور اپنی ناقدری کا رونا رویا گیا ہے:
حور و جنت کی بھی امید خدا سے نہ رہی
شور محشر سے نہ ہوں گے مرے طالع بیدار
نہ ہنر کی مرے پُرسش نہ سخن کی مرے قدر
نہ گہر کی مرے ارزش نہ طلا کی معیار
کس قدر حکمت اشراق سے جی جلتا ہے
ہوگئے شعلۂ دوزخ مرے دل کے انوار
کیا حساب اس لیے سیکھا تھا کہ گھر میں بیٹھے
کیجیے دِرہم و دینار کو داغوں کے شمار
موشگافی کی بہت شعر میں پر فائدہ کیا
ہے وہی دست تہی شانۂ دست اِدبار
درنایاب تو کیا خاک سے بھی منہ نہ بھرے
جس کے در پر میں کروں لولوئے شاداب نثار
ان شعروں سے اس بات کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے کہ مومن کے دل میں کہیں نہ کہیں دربار شاہی میں اپنی نارسائی کا بھی احساس رہا ہے۔ ان کے ہم عصروں میں ذوق اور غالب کی دربار شاہی سے قربت جگ ظاہر ہے اور شاید اسی لیے ذوق اور غالب کے قصیدوں میں اپنی ناقدری کا رونا نہیں رویا گیا ہے اور شاید مومن کے یہاں زیادہ تر قصیدوں کا مذہبی ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ حالاں کہ اس زاویۂ فکر پر بحث کی گنجائش رہ جاتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کوثر مظہری کی نظمیہ شاعری میں رات کا تصور – ڈاکٹر نوشاد منظر)
اب ذرا مومن کے قصیدوں میں مدح سرائی کے نقوش بھی دیکھ لیجیے۔ حمدیہ قصیدہ تو خیر پورا کا پورا ہی حمد باری کا مرقع ہے، اس میں اِدھر اُدھر بھٹکنے کی کم گنجائشیں ہوتی ہیں۔ اس میں بھی انھوں نے دنیاوی حسن و عشق کے جال میں پھنسنے اور اسلام سے دوری کو موضوع بنایا ہے جس کے ذریعہ وہ احکام الٰہی سے لوگوں کی روگردانی بتانا چاہتے ہیں۔ مدح میں مبالغے سے بھی خوب کام لیا جاتا ہے، لیکن اللہ کی حمد و ثنا میں مبالغے کے بھی ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، لہٰذا اس صنعت کی نشاندہی یہاں مشکل ہے۔ بزرگانِ دین کی شان میں جو مدح سرائی کی جاتی ہے، اس میں عقیدت اور خلوص کا رنگ غالب ہوتا ہے جبکہ دوسرے اشخاص یا بادشاہوں کی مدح سرائی میں جاہ و حشمت، خلعت و انعام اور منصب کی حصول یابی کی نیت کافرما ہوتی ہے۔ یہ چند شعر:
یقیں کہ راہ نمائی ہے پیروی اس کی
نہیں تو سائے سے کیوں بھاگتا ہے دیو مُضِل
مثال عدل میں نوشیرواں کو تجھ سے غلط
کہ بُت پرست کہاں فارق حق و باطل
وہ آنچ تیغ میں تیری کہ کہتے ہیں دشمن
ابھی سے ہم تو جہنم میں ہوگئے داخل
مثال دوں جو زرہ پوشی مخاصم سے
ہزار پارہ ہو بے صدمہ دانۂ فِلفِل
(منقبت حضرت عمر)
راجہ اجیت سنگھ کی شان میں جو قصیدہ ہے، اس کے چند مدحیہ اشعار دیکھیے:
فصل بہار بعد یاس کس لیے غنچہ پھر ہوا
بزم میں تیری گر نہ تھی گُل کو اُمیدِ ساغری
تو وہ سوار یکّہ تاز عرصۂ رزم گاہ میں
جامہ دریدہ جس کے ساتھ قطرہ زنی سے صف دری
تو سن باد یا ترا روز وغا بگاڑ دے
صرصر عاد کی ہوا دم میں دکھا کے صرصری
بال و پر فرشتۂ موت ہیں یا پرِ خدنگ
دشنہ ہے دشنۂ قضا یا تیرے تیر کی سری
بسکہ خلف محال تھا ہوگئی نسل منقطع
ذات پہ تری اس قدر ختم ہے پاک گوہری
مدح میں شخصیت سے لے کر ممدوح سے وابستہ اشیا اور دوسرے عوامل کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ تیر و تفنگ اور محاذ جنگ کے گھوڑے اور ہاتھی وغیرہ کی مبالغہ آمیز توصیف پیش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر کے اشعار میں آپ نے دیکھا۔
مومن کی قصیدہ نگاری میں مختلف اصطلاحات علمیہ بھی ملتی ہیں۔ جیسے علم ہیئت، طب، فلسفہ، ریاضی، نحو، تصوف وغیرہ سے متعلق اصطلاحات، طب اور حکمت کے حوالے سے چند اشعار اوپر پیش کیے جاچکے ہیں۔ اپنے قصائد میں مومن نے اقتضائے مضمون کے لحاظ سے صنائع و بدائع سے بھی کام لیا ہے۔ چونکہ صنائع و بدائع کے زیادہ استعمال سے کلام گرانبار بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے حوالے سے بھی احتیاط لازمی ہے۔ البتہ قصیدہ ایک ایسی صنف ہے جس کے لیے صنعتوں کا استعمال زیور کی طرح ہے۔ مومن نے اپنے قصیدوںمیں اس کا اہتمام کیا ہے جیسا کہ ان کے پیش روؤں یا ہم عصروں نے اپنے قصائد میں کیا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر قصیدہ بہت ہی سادہ ہو اور صنائع و بدائع سے معرّا ہو تو اس کی پذیرائی کی امید بھی کم ہوگی۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )
آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ مومن جس طرح غزل میں اپنا ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں بلکہ غالب کے بعد مومن ہی کا مقام ہے اُسی طرح قصیدے میں بھی ان کا مقام کسی سے کم نہیں۔ اس صنف کے تقاضوں کو پوری طرح برتا ہے اُن کے عہد میں قصیدہ نگاری میں اگر ترتیب بنائی جائے گی تو اول ذوق دوسرے مومن اور تیسرے نمبر پر غالب کا شمار ہوگا اور اگر غزل گو کی ترتیب بنے گی تو شاید اس طرح ہوگی پہلے غالب، دوسرے مومن اور تیسرے ذوق۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

