پروفیسر محمد حسن اردو و ادب کا ایک اہم اور معروف نام ہے۔ پروفیسر محمد حسن ترقی پسند ادیب اور قلم کے مجاہد تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ایک صحت مند انسان دوستی اور ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کے لئے جد و جہد میں صرف کی۔ وہ نہ ابلہ ٔ مسجد تھے نہ تہذیب کے فرزند، انہوں نے تو نو آباد یاتی معاشرے میں ہوش سنبھالا تھا۔
یکم جولائی1926ء کو مراد آباد شہر کے معزز گھرانے میں محمد حسن کی ولادت ہوئی۔ مذہبی اور دینی ماحول و فضاء میں پرورش پائی۔ مدرسے کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1939میں ہیوٹ مسلم ہائی اسکول مراد آباد سے میٹرک کیا۔ آگے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لکھنو یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔یہاں ادب کے ساتھ سیاست، تہذیب، فنون لطیفہ، عصری آگہی کے ہر پہلو سے کچھ نہ کچھ دلچسپی پیدا کی۔ جنگ آزادی میں سر گرم اور عملی حصہ لیا۔ زخمی ہوئے ۔ قید کئے گئے ، لیکن نو آباد یاتی نظام کے خلاف مسلسل بر سرِ پیکار رہے۔ 1946میں ایم اے اردو اور 1956ء میں پی ایچ ڈی کی سند لکھنؤ یونیورسٹی سے حاصل کی اور اسی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں عارضی لکچرر کی جگہ ملی۔ 1954 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مستقل ٹیچر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر بنے اور 1971میں پروفیسر بن کر کشمیر یونیورسٹی پہنچے۔ 1973میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی آگئے اور 1991تک درس و تدریس کی خدمت انجام دی۔ 1973میں ملک کا سب سے بڑا تحقیقی اعزاز جواہر لعل نہرو فیلو شپ ملا۔ پروفیسر محمد حسن نے اردو میں صحافت ،فلم،ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے لکھنے کا باقاعدہ پوسٹ ڈپلوما کو رس شروع کیا۔ پرفیسر محمد حسن صاحب کی 78سے زائد کتابیں شائع ہو ئیں۔
1936 ء میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ا لہ آباد، لکھنؤ کا روایتی ادبی ماحول سیاسی طور پر متحرک ہوا اور ادب میں پرانی نزاکتوں کی جگہ ایک نیا حوصلہ ، جوش نمایاں ہونے لگا۔ سجادؔ ظہیر، سبط حسنؔ، سردارؔ جعفری، احتشام حسینؔ، ڈاکٹر عبد العلیم ؔ، ڈاکٹر رشید ؔجہاں اور ان جیسے بہت سے لوگ نہ صرف لکھنؤ اور گردو پیش کی سر زمین سے ابھرے، بلکہ انہوں نے سارے ہندوستان میں ایک نئی پرُ حوصلہ کشمکش کی فضا کو پھیلایا۔ یہ زمانہ ڈاکٹر محمد حسن کے ذہنی رجحان کی ساخت کا تھا۔ انہیں اس ماحول سے پورا پورا فائدہ ہوا اور ادب کے میدان میں ایک نہایت سرگرم اور پر جوش ترقی پسند مصنّف کے طور پر داخل ہوئے۔ سیاسی دلچسپیوں کی بنا پر کچھ عرصہ صحافت کی نذر بھی کیا مگر ان سب سر گرمیوں سے ان کے ذوق اور شخصیت کی نشو و نما ہوئی۔ صحافت، ادب،سیاست اور تہذیبی مسائل سے گہرے شغف کی بنا اور ترقی پسند فکر و نظر کی توسیع و اشاعت کے سلسلہ میں انہوں نے سہ ماہی جریدہ’ عصری ادب‘ نکالا جو 1976میں جاری ہوا اور 20سال سے زائد مدت تک نکلتا رہا۔’’ عصری ادب‘‘کے صفحات میں شعر و ادب کے علاوہ ملک اور ساری دنیا کے سیاسی، معاشرتی اور فکری مسائل پر’ آڑے ترچھے آئینے‘ اور دوسرے عنوانات کے تحت تیکھے مضامین اور تبصرے شائع ہوتے تھے۔ ( اردو صحافت میں غیر مسلموں کا تعاون – ڈاکٹر شیخ نگینوی )
محمدحسن نے مجموعی طور پر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر وجود میں آنے والے ادب کا جائزہ لیتے ہوئے جذباتیت کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ان کی نگاہ میں ’’اعلیٰ ادب کا ایک معیار ہے۔ یہ معیار نام نہاد ترقی پسندی سے بلند ہے‘‘۔ محمد حسن کی تحریروں میں ترقی پسند تحریک اور اس سے وابستہ ادب کے متعلق ہمیشہ ایک معر وضیت باقی رہی۔ اسی معروضیت نے انہیں بدلے ہوئے وقت میں نئی نسل سے قریب کیا۔ محمد حسن نے میرا جی اور ان سے متاثر ہونے والے شعرا و ادبا کا ذکر کرتے ہوئے جس کشادہ ذہنی کا ثبوت پیش کیا ہے وہ پوری ترقی پسند تنقید میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ترقی پسند ی کے بارے میں ڈاکٹر محمد حسن نے لکھا ہے۔
’’ترقی پسند ی ایک نقطۂ نظر، ایک ہمہ گیر تصور حیات کا نام ہے۔ وہ ایک نقطہ فارمولا یا مذہب نہیں، سائنٹیفک انداز ِنظر ہے اور اس اندازِ نظر سے زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے تجربے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے اور سیاسی حکمت عملی کا زاویہ بھی‘‘۔( جدید اردو ادب ص 211)
’’ترقی پسندی کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ ہر نظم یا افسانہ حل ضرور پیش کرے یا خواہ مخواہ رجائیت کا روپ دھارے۔ ترقی پسند ی کے معنی تو صرف یہ ہیں کہ وہ پڑھنے والوں میں سماجی تبدیلی کی صحت مند خواہش پیدا کرے اور اشارے کنائے ہی سے سہی ،ان میں صحت مند تجسس اور منزل کی خواہش جگائے‘‘۔(جدید اردو ادب ص 211)
پروفیسر محمد حسن اپنی تحریروں اور تخلیقات میں جتنی سنجیدگی، متانت اور وقار سے متصف نظر آتے ہیں ،اپنی حقیقی زندگی میں بھی وہ اتنے ہی سنجیدہ، متین ،باوقار اور وضع دار آدمی تھے۔ سیکولرازم، قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر جنون کی حد تک ایمان رکھتے تھے۔ تعصّب، تنگ نظری ، فرقہ وارایت، علاقائیت اور کسی قسم کے امتیاز و تفریق کے سخت مخالف تھے۔
مختلف علمی اور ادبی خدمات کے علاوہ ڈاکٹر محمد حسن نے ترقی پسند ادبی تحریک کے فروغ میں نمایاں حصہ لیا۔ ترقی پسند نظریہ ادب اور مارکسی تنقید کے مختلف پہلوئوں پر انہوں نے متعدد مقالات قلم بند کئے۔ کانفرنسوں اور مذاکروں میں سر گرمی سے حصہ لیا۔ ان کے ڈراموں اور نثری نظموں میں جبر و ظلم کے استحصالی نظام کے خلاف بڑی سفاک تنقید ملتی ہے۔ مسلم معاشرہ کی قدامت پرست اور اس میں عورت کی پامالی اور مظلومی کے خلاف بھی محمد حسن نے سخت تنقیدی رویہ اختیار کیا۔ ایمر جنسی کی زباں بندی اور جبر کے خلاف بھی انہوں نے’’ ضحاک ‘‘جیسا ڈرامہ لکھا۔ ترقی پسندی کو وہ ایک مثبت تعمیری رویّے کا نام دیتے ہیں۔’’ زنجیر نغمہ ‘‘کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔
’’ترقی پسندی نئے دور کے اور ہر دور کے ترقی پسند رویّوں کو اپناتی ہے۔ ترقی پسند ی تو زندگی کا ایک مجموعی رویہ ہے اور یہ رویہ ویت نام پر نظم لکھتے وقت بھی ظاہر ہو سکتا ہے اور اپنی ٹوٹی ہوئی نب پر نظم لکھتے وقت بھی موضوع ضمنی ہے اور رویہ بنیادی ہے۔‘‘ ( یہ بھی پڑھیں اردو کی بقاء میں خواتین کی ذمہ داری – ڈاکٹر شیخ نگینوی )
جو اہر لعل نہر و فیلو شپ حاصل کرنے والے اردو کے پہلے اور واحد پروفیسر محمد حسن نے فکشن کے میدان میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا دنیائے ادب سے منوایا۔ مجازؔ کی زندگی پر لکھا گیا سوانحی ناول’’ وحشتِ دل‘‘ اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہنے والی تخلیق ثابت ہو چکا ہے۔ ان کے افسانوں، ڈراموں اور ناولوں میں جبر و استحصال کے خلاف ان کے ترقی پسند اشترا کی نظر یے کی اثر آفرینی ابھر کر سامنے آئی۔ ان کی شاعری میں یہی انداز بہت نمایاں ہے۔ انکے شعری مجموعے’’ زنجیر نغمہ ٔ ‘‘ اور’’خواب نگر‘‘ میں ان کی نظمیں اور اشعار انہیں عہد کا صاحبِ فکر شاعر ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان کا قطعہ ٔملاحظہ فرمائے۔
اے اہل اقتدار ہمارا سلام لو
ہر جنگ تم نے جیت لی ہارے نہیں ہنوز
ہاں،آج کی حقیقتیں سب تم نے جیت لیں
لیکن ہمارے خواب تمہارے نہیں ہنوز
ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد حسن نے تحریر کیا۔
’’ادب انسانی زندگی اور اس کے تہذیبی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے اور اس کی تعمیر و تشکیل میں مختلف طریقوں سے حصہ لیتا ہے ۔ادب کا اعلیٰ تر حصہ زندگی کو براہ راست نہیں بدلتا، وہ نعروں میں باتیں کرنے، مسائل کا فوری حل دینے سے زیادہ نسبتاً دیر پا عناصر سے بحث کرتا ہے۔ ادب کا سماجی عمل قوموں کے ہاتھ میں ہتھیار دینے سے زیادہ ان کے خوابوں کو بدلنے اور ان کی آرزوئوں کو ڈھالنے کا عمل ہے۔ ادب محض آج لمحے سے مطمئن ہونے کے بجائے کل کے انسان کو ڈھالنا چاہتا ہے‘‘۔ (ادبی تنقید)
پروفیسر محمد حسن کی فکری تشکیل ترقی پسند مفکّرین کے زیر سایہ ہوئی۔ وہ شروع سے آخر تک انجمن ترقی پسند مصنّفین کے سر گرم رکن رہے۔ ترقی پسند ی ان کی زندگی کا عنوان تھی۔ محمد حسن کا نقطۂ نظر نئی ترقی پسندی کے منثور، سنگ بنیاد رہے، بلکہ جدید یت اور ترقی پسندی کے افکار و خیالات کے درمیان ایک نقطۂ مفاہمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے محمد حسن ترقی پسند فنکاروں میں ایک ممتاز دانشور کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
محمد حسن کی نگاہ در اصل بین الا قوامی سطح پر فکر و دانش کی دنیا میں عصری زندگی کے تعلق سے پیدا ہونے والی تبدیلی و تعمیر پر ہے۔ یہی وسیع النظری اور عالمگیر سطح پر فکری اور دانشورانہ، انقلاب و تغیر کی آگہی محمد حسن کے فکر و خیال کا محور ہے ،جس نے ان کی تحریروں میں بے باکی جرأت ، بے جگری، حق پسندی اور حق گوئی کے ایسے عناصر یکجا کر دئے ہیں، جو ہماری صوفیانہ روایت میں بعض ائمہ کرام سے وابستہ ہیں۔
محمد حسن فکری اعتبار سے ترقی پسند روایت کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی ایسی نئی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ فنکاروں اور دانشوروں کو حق گوئی ،بے باکی، آزادی، امن، جمہوریت اور عالمی انسانی قدروں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ عصری ادب میں سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ رقم طراز ہیں۔
’’اہل سیاست اپنے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، لیکن کیا پورے معاشرے کی بے آبروئی، رسوائی اور اس طرح بے قدری اور بے وقتی ادیبوں اور دانشوروں کے لئے لمحۂ فکر نہیں ہے؟ کیا ہم اپنے سماج سے سارے رشتے توڑ کر آسودگی سے زندہ رہ سکتے ہیں‘‘؟
ان الفاظ میں خلوص بھی ہے، درد مندی بھی اور انسانیت دوستی کی جاں سوزی بھی، جس سے محمد حسن کے فکر و خیال کی وسعت اور سچائی سامنے آتی ہے۔ ترقی پسند دانشور کی حیثیت سے محمد حسن تاریخی شعور اور معاشرتی اور سماجی بصیرت پر زور دیتے ہیں۔ محمد حسن نے ترقی پسند نظریے کی ترویج ہی نہیں تبلیغ بھی کی ہے۔ پروفیسر محمد حسن ممتاز مفکّر، دانشور، ناقد، ڈرامہ نگار، مورخ اور شاعر ہی نہ تھے، بلکہ ان کی شخصیت مختلف حوالوں سے ایک مکتبہ فکر اور انجمن کی حیثیت رکھتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کی شاعری میں طنز و مزاح – ڈاکٹر شیخ نگینوی
پروفیسر محمد حسن کاشمار ان کے ترقی پسند تنقیدی رویے اور فرسودہ نظام اقدار کو بدل ڈالنے کی فکر ی جد و جہد کے سیاق میں عصر ی ادب کی اگلی صف میں متمکن اہل دانش میں ہوتا ہے ،لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مخصوص تخلیقی ذہن رکھنے والے استاد شاعر، ناول، افسانہ و ڈرامہ نگار اور صحافی کی حیثیت سے بھی معروف تھے۔ فکر و قلم کی طاقت سے ظلم، استحصال، نابرابری اور سیاسی بد عنوانیوں کے خلاف انکا جہاد مسلسل جاری رہا۔ ترقی پسند تحریک کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ایک سے بڑھ کر ایک قلم کا ر، شاعر اور دانشور نظر آتے ہیں، مگر ان کے درمیان اپنے نکلتے ہوئے ذہنی، علمی ،فنّی قد کی وجہ سے پروفیسر محمد حسن نمایاں نظر آتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک نے لاکھ دم توڑ دیا تھا لیکن 25اپریل 2010ء تک پروفیسر محمد حسن اس دنیا کو الوداع کہہ دینے تک وفاداری بشرط استواری کی بنیاد پر اپنے ایمان و یقین کی دولت سنبھالے ترقی پسند تحریک کی فوج کے آخری سالا ر کی طرح میدا ن ِ عمل میں سرگرم رہے۔ اردو دنیائے ادب کے رہنے تک ان کا کام اور نام زندہ رہیگا۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

