Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمینوشاد منظر Naushad Manzar

کوثر مظہری کی نظمیہ شاعری میں رات کا تصور – ڈاکٹر نوشاد منظر

by adbimiras جولائی 6, 2021
by adbimiras جولائی 6, 2021 2 comments

کوثر مظہری شاعر بھی ہیں اور نقاد بھی، مگر ان کی اصل شناخت بحیثیت ناقد کی ہے۔ان کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کتابوں سے کوثر مظہری کے تنقیدی شعور کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔تنقید کے علاوہ ان کا شعری مجموعہ’’ ماضی کا آئندہ‘‘ اور ان کا مشہور ناول’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘بھی شائع ہوچکے ہیں۔ان دونوں کتابوں کے مطالعے سے احساس ہوتا ہے کہ کوثر مظہری ناقدانہ ذہن بھی رکھتے ہیں اور تخلیقی شعور بھی۔
چند دنوں قبل ان کی چند نظمیں رسالہ ’ آج کل‘ میں شائع ہوئیں تھیں۔ یہ تمام نظمیں بے حد مختصر ہیں۔ان نظموں کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں رات کو ایک خاص تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔اردو میں شعرا نے رات کو استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بیشتر شعرا نے رات کی تاریکی کو منفی معنوں میں استعمال کیا ہے، مگر شاعری کا ایک حصہ وہ بھی ہے جس میں رات کو پر سکون زندگی اور تنہائی کے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، گویادن کی روشنی کو اذیت اور رات کو سکون کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ رات کو شعرا نے متضاد معنوں میں استعمال کیا ہے۔ کوثر مظہری نے رات کے تصور کو بیشتر مقامات پر منفی معنوں میں استعمال کیا ہے۔کوثر مظہری کی ایک نظم دیکھئے جس میں رات کی خوفناکی بیان کی گئی ہے۔
رات ہی رات ہے
رات ہی رات ہے ہر سو، ہر پل
رات پہ رات چلی آتی ہے
صبح تو خواب ہوئی جاتی ہے
رات کو کیسے سنبھالا جائے
رات کچھ بھوکی ہے ایسی کہ نگل جاتی ہے سورج یکسر
وہ بھی آدھا نہیں، پورا سورج
کوثر مظہری نے رات کو ایک خاص تناظر میں پیش کیا ہے۔ متکلم کا خیال ہے کہ رات اپنی تمام تر خوفناکی کے ساتھ ظاہر ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اب صبح نہیں ہونے والی اور رات نے پورے سورج کو نگل لیا ہو۔رات کو بھوکی ہونا اور سورج کو مکمل طور پر نگل جانایہ اشاریہ ہے کہ اب روشنی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔اس نظم کو اگر موجودہ سیاسی اور سماجی تناظر میں دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ شاعر نے کس خوبصورتی کے ساتھ حالات کے جائزہ کو پیش کیا ہے۔چو طرفہ مظالم پر حکومت وقت کا خاموش رہنا کئی سوال قائم کرتا ہے۔جمہوری نظام کو جس طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہر عام و خاص کو یہ خوف ستانے لگا ہے شاید جمہوریت اب باقی نہ رہ پائے گی۔اور رات کی تاریکی یعنی آمریت کہیں انسانی حقوق کو نگل نہ لے۔ظاہر ہے اس خوف کو جو سیاسی پس منظر ہے اس کو یہان بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے
اردو شاعری کے موضوعات میں نت نئے موضوعات کا اضافہ ہوتا رہا ہے۔شعرا نے سماجی، سیاسی ، معاشی صورت حال کے علاوہ مختلف موسموں اور تہواروں کا ذکر بھی کیا ہے۔ کوثر مظہری نے گلوبل وارمنگ کے زیر اثر آب و ہوا میں آنے والی تبدیلی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اپنی نظم میں دہلی کی آب و ہوا کو ہی مرکز بنا کر پیش کیا ہے۔ نظم ملاحظہ کیجئے:
رات آتی ہے تو جاتی ہی نہیں
رات، یہ رات، جو پھیلی ہی چلی جاتی ہے
آسماں سے تو نہیں رات اترتی ایسی
رات اب بننے لگی دلّی میں
فیکٹری رات بنانے والی
اب اسی ارض ہنرور پر ہے
گلوبل وارمنگ کے اثرات دہلی میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ گرد و غبار کی ایسی پرت نظر آتی ہے جو دن کی روشنی کو بھی رات کے خوفناکی جیسا بنا دیتی ہے۔ دہلی کے ارد گرد میں بنی ہوئی فیکٹریوں کی وجہ سے انسانی زندگی ہی نہیں جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔جو لوگ دہلی میں قیام پذیر ہیں وہ براہ راست اور بقیہ لوگ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے جمنا ندی اور دہلی کی آب و ہوا میں آرہی تبدیلیوں کو محسوس کرسکتے ہیں۔کوثر مظہری نے اسی خوفناک صورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دراصل دھند نے اصل روشنی کو بھی مدھم کردیا ہے۔کوثر مظہری کی اس نظم میں جو گہرائی ہے اور آب و ہوا کے تعلق سے جو ان کی فکر ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم نے اس دھند پر قابو نہی پایا تو اس زمین پر رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ جمیل مظہری کی سلام نگاری – ڈاکٹر نوشاد منظر)

ایسا نہیں ہے کہ رات کاصرف منفی معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔ مذہب نے بھی رات کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے۔اسلام نے رات کو عبادت و ریاضت کے لیے سب سے اچھا اور افضل وقت بتایا ہے۔کوثر مظہری نے یوں تو رات کو منفی معنوں میں استعمال کیا ہے مگر چند نظمیں ایسی بھی ہیں جن میں رات پوری طرح مثبت نظر آتی ہے۔ ایک نظم دیکھئے:۔
دن کے ہارے تھکے انسان کو سلاتی ہے یہ رات
رات، یہ رات نہیں
رات آغوش ہے اک مادر کی
سر بہ سجدہ کبھی ہوتے ہیں
کبھی روتے ہیں
جوش میں رحمت باری جو کبھی آتی ہے
سب گنہہ بندوں کے دھل جاتے ہیں
رات ایسی بھی ہوا کرتی ہے
جیسا کہ میں نے عرض کیا اسلام میں رات کی ایک خاص اہمیت بھی ہے۔شب قدر سے لے کر عام راتوں کی عبادت کی فضیلت بتائی گئی ہے۔ کوثر مظہری نے اس نظم میں اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ رات کی تنہائی میں لوگ عبادت و ریاضت میں مشغول ہوتے ہیں کبھی وہ اپنے معبود کو سجدہ کرتے ہیں اور کبھی ان سے رو رو کر معافی تلافی کرتے ہیں تاکہ اللہ کی رحمت جوش میں آئے اور بندے کی خطا معاف اور ان کی پریشانیوں کا حل نکلے۔بنیادی طور پر رات کو آرام کے لیے بنایا گیا ہے مگر مذہبی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو رات کی عبادت کو اہمیت دی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ پاک رات کے آخری پہر آواز لگاتا ہے کوئی ہے جو مجھ سے مدد چاہے اور میں اس کی ہر خواہش پوری کردوں۔انبیاء کرام سے لے کر اولیا اللہ تک نے رات کی عبادت کو پسندیدہ عمل بتایا ہے۔ کوثر مظہری نے اسلامی تعلیمات ی روشنی میں رات کی عبادت کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اور اس بات کی طرح اشارہ کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مسعود حسین خاں کے چند بکھرے ہوئے مضامین- ڈاکٹر نوشاد منظر)

کوثر مظہری کی ایک نظم ایسی بھی ہے جس میں رات کی تاریکی کے پھیلنے کا ڈر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ متکلم کس قدر رات یعنی تاریکی سے خوف زدہ ہے۔ نظم دیکھئے:۔
دستکیں کس کی ہیں
خامشی، خامشی اور خاموشی
میں نہ کھولوں گا کبھی دروازہ
کون یہ دستکیں چپ چاپ دیے جاتا ہے
جو بھی ہو، چاہتا ہے وہ تو یہی
کھول دوں بڑھ کے یہ دروازہ ابھی
کیا پتہ خامشی سے دستکیں اندر آجائیں
اور پھر گھر میں سیہ رات کا منظر جاگے
رات کے تعلق سے پچھلے دنوں ایک تحقیق سامنے آئی تھی اس تحقیق میں اس جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ انسانی دل و دماغ پر تاریکی سے زیادہ رات کا خوف طاری ہوتا ہے۔ یعنی رات کے وقت انسانی ذہن زیادہ حساس ہوجاتا ہے جو اسے ہر وقت محتاط بنائے رکھتا ہے، یہی جہ ہے کہ ہلکی سی جنبش بھی اسے خوف زدہ کردیتی ہے۔مذکورہ نظم میںمتکلم کسی ہلکی سی آہت سے خوف زدہ نظر آتا ہے۔متکلم کا اشارہ رات کی سیاہی کی جانب ہے۔ متکلم کی حس نہ صرف بیدار ہے بلکہ خوف زدہ بھی ہے۔ دروازے پر ہلکی سی آہٹ نے اسے اندر سے خوف زدہ اور بے چین کردیا ہے۔ دروازے پر کسی اجنبی کی آہٹ نے اسے اندر سے ڈرا دیا ہے وہ اس کشمکش میں ہے کہ دروازہ کھولا جائے یا نہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ خاموشی سے دستکیں اندر آجائیں،اور پھر گھر میں سیہ رات کا منظر جاگ جائے۔اس نظم میں بھی اس معاصر سیاسی نظام اور سماجی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جس سے انسانی رشتے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔اسی تناظر میں ایک نظم اور دیکھئے:۔
رات آئی ہے قطاروں بھری رات
رات آئی ہے ہے تو پھر اوس بھری آئی ہے
اوس گرتی ہے، عجب رنگ کی اوس
مر گئے ،لوگ قطاروں میں اوس کھا کھا کر
رات قاتل ہے چلی آتی ہے
اپنے دامن میں لیے آگ کی اوس
کتنے رنگوں میں رات آئے گی
کبھی خنجر، کبھی افلاس، کبھی بھوک لیے
اے خدا! بھیج دے سورج ایسا
جو کہ اس اوس بھری رات کو ہی کھا جائے
مذکورہ نظم میں رات پوری طرح سیاسی علامت کی طرح ہمارے سامنے آتی ہے۔جس طرح موجودہ وقت میں سیاسی پشت پناہی کے سبب خون ریزی کا بازار گرم ہے اسے دیکھتے ہوئے شاعر و ادیب یا کسی بھی حساس انسان کا تڑپ جانا عام بات ہے۔متکلم کا خیال ہے قطاروں بھری رات ایسی آئی ہے کہ ہر طرف اوس بھری جارہی ہے، اور یہ اوس ایسی ہے جسے کھا کر لوگ مرتے جارہے ہیں، کیوں یہ آگ کی اوس ہے، جو کبھی بھوک ، افلاس تو کبھی خنجر بن کر سب کچھ تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔ رات اور اوس کا ایک گہرہ تعلق ہے۔ ممکن ہے نئی نسل اوس سے واقف ہی نہ ہو۔ رات کے وقت آسمان سے گرنے والی اوس گل و برگ اور پیڑ پودے کے لیے کافی مفید ہوتی ہیں۔مگر شاعر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اسی اوس کو بطور علامت استعمال کرتے ہوئے اسے قاتل بنا دیا ہے۔اوس کھا کھا کے لوگوں کا قطاروں میں مرجانا یہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ شاعر نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر جرم کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔نظم کے آخر میں متکلم خدا سے ایسے سورج کو بھیجنے کی دعا کررہا ہے جو اپنی روشنی سے نہ صرف تاریکی دور کرے بلکہ اس قاتل اوس کو ہی کھا جائے۔گویا متکلم ظالم حکومت اور ظلم کے خاتمے کی تمنا لیے ہوئے ہے۔ایک نظم اور دیکھئے جس میں رات کے رقص بلکہ اس کی بھیانک شکل کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں حسرت جے پوری کی فلمی شاعری-نوشاد منظر)

تم نے کبھی دیکھا ہے رات کا رقص
رات جب رقص کناں ہوتی ہے
پھر تو سمجھو کہ
سنامی ہے، بگولہ ہے، راکشش ہے، یہ رات
رات سنّاٹا ہے، خاموشی ہے
رات کا رقص تو طوفان ہے ہلانے والا
خس و خاشاک بہانے والا
اس پہ ہی بسر نہیں
اس کا چہرہ بھی بھیانک ہے پر اسے مت دیکھو
یہ دعا مانگو کہ یہ رات نہ رقصاں ہو کبھی
کوثر مظہری نے رات کو راکشش،بگولہ، طوفان وغیرہ سے تعبیر کیا ہے۔ ظاہر ہے ان تینوں تشبہات کا استعمال منفی معنوں میں ہوتا ہے، بلکہ اسے ہم تباہی اور بربادی کی بدلی ہوئی شکل بھی کہہ بھی سکتے ہیں۔متکلم کا خیال ہے کہ دعا کرو کہ یہ طوفان تھم جائے اور راکشش کی موت آجائے ورنہ وہ تمام خس و خاشاک کو بہا لے جائے گا،اور اگر ایسا ہوا تو چاروں طرف تباہی ہی تباہی نظر آئے گی۔
کوثر مظہری کی ایک اور نظم ملاحظہ کریں جس میں رات کو علامت کے طور پر پیش کرتے ہوئے معاصر سیاسی نظام پر طنز کیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوثر مظہری کے یہاں بس نا امیدی ہے، بلکہ ان کا خیال ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو یہ تاریکی دور بھی ہوسکتی ہے۔مگر اس کے لیے مقابلہ کرنا ہوگا۔نظم دیکھئے: ( یہ بھی پڑھیں مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر)

اے مری رات! اسی ملک کی رات!!
کب تلک مجھ پہ مظالم کے یہ بادل آخر
تجھ میں ہمت ہے اگر
اپنے با حوصلہ بد رنگ پروں سے اڑ کر
اس طرف جاکے برس
مجھ سے مت پوچھ کہ اس’اُس طرف کے کیا معنی؟‘‘
اس طرف کی کئی جہتیں ہیں، سمجھ لے خود ہی
کوثر مظہری کا خیال ہے کہ رات کی پہچان یہی ہے کہ اس کے دو کان ، دو آنکھیں ہیں جو اس کی پہچان بتا رہی ہیں۔آنکھیں بند ہیں، گویا وہ کسی کی نہیں سنتا بلکہ صرف اپنے من کی کرتا ہے، اور آنکھوں کے تعلق سے متکل کا خیال ہے کہ اس کی آنکھیں چیچک کی طرح باہر نکل گئی ہیں۔ ظاہر ہے ایسی رات جو کسی کی سنتا نہیں اپنے من کی سناتا ہے اوپر سے اس کی آنکھوں نے حالات کو مزید خراب کردیا ہے۔ایسے وقت میں کسی کا خوف زدہ ہونا خلاف فطرت نہیں۔ نظم دیکھئے:۔
اس کے دو کان تھے، دو آنکھیں تھیں
بس یہی رات کی پہچان کے آثار بھی تھے
کان تو خیر اس کے بند ہوئے
ہاں، مگر آنکھیں تو کچھ اور نکل آئی ہیں چیچک کی طرح
یہ تو سنتی نہیں، بس دیکھتی ہے
یہ بھی کیا رات ہے، اس رات سے ڈر لگتا ہے
کوثر مظہری کی ایک نظم دیکھئے جو دوسری نظموں کے مقابلے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے بیشتر نظموں میں جہاں رات کے اثرات اور اس کی ڈراؤنی شکل کو پیش کیا ہے وہیں اس نظم میں رات کے خوف کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ا س کی ایک بڑی وجہ ہے کہ رات چاہیے جتنی تاریک بھی ہو مگر اسے اس بات کا خوف ضرور ہوتا ہے کہ کہیں سورج کی کوئی کرن اس کے اندیرے پن کو دور نہ کردے۔ یہی سبب ہے کہ ہلکی سی روشنی بھی اسے خوفزدہ کردیتی ہے۔نظم دیکھئے۔
رات سے رات نے کل رات کہا
کوئی ترکیب تو کرنی ہوگی
لوگ سورج کو بلالیں کہیں
لوگ پھر تان کے سینہ نہ کہیںمد مقابل آجائیں
ہم سے ڈرنا نہ کہیں چھوڑ دیں سب
رات نے قدرے توقف کرکے
’’ایک ترکیب مجھے سوجھی ہے‘‘
دھیرے سے کہا:
’’وہ جو اک دھیمی سی سہمی سی کرن دیکھتی ہو
بس اسی پر ہے نشانہ کرنا
یعنی، اک چھید جو کارندے کی غلطی سے کہیں چھوٹا تھا
یہ کرن بس اسی اک چھید پہ نازاں ہے بہت
آؤ اُس چھید پہ اک رات سے پردہ کردیں
اور اس چھید میں دس راتوں کی کالک بھر دیں‘‘
رات کا رات سے ہم کلام ہونا دراصل ظالموں کا متحد ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ ظالم متحد تو ہوگئے ہیں ، انہیں اپنی طاقت کا بھی اندازہ ہے مگرکہا جاتا ہے کہ ظالم خواہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو حقیقت میں وہ اندر سے ڈرا رہتا ہے، اسے ہر وقت اپنی ہار کا خوف ستاتا رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ نت نئی تراکیب تلاش کرتا رہتا ہے جس سے اس کی طاقت میں اضافہ ہو اور اس کے مخالفین کمزور پڑیں۔یہی وجہ ہے کہ دھیمی سی کمزور سی کرن سے بھی وہ خوفزدہ ہے۔اگر اس نظم کو سیاسی تناظر میں دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ سیاست نے محض اپنی کرسی بچانے کی خاطر ہندوستان کے عدلیہ نظام کو بھی کمزور کرنا شروع کردیا ہے۔ظاہر ہے یہاں کے عوام صرف اس بات سے مطمئن ہیں کہ یہاں کی عدلیہ جب تک منصفانہ رخ اختیار کرتی ہے تب تک ان کے ساتھ نا انصافی نہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اندھیرا قائم رہے اور ظالموں کی حکومت برقرار رہے۔رات کے حوالے سے ایک نظم اور دیکھئے ۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری)

اک عجب رات
اک عجب رات کل بھی آئی تھی
کچھ سرہانے وہ کان میں کہہ کر
جانے کس اور ہوگئی غائب
نیند میری اُچٹ گئی آخر
نیند پہلے ہی کہاں آئی تھی
رات آتی تھی چلی جاتی تھی
پر،
اب تو ہر لمحہ کان میں میرے
گونجتی رہتی ہے اک بات کوئی
جو کہ ملفوظ نہ منقول ہوئی
یہ بھی بخشا ہوا عذاب اسے اک
خوف یہ ہے کہ اسی رات نہ پھر آجائے
اور چپکے سے مرے کان میں کچھ کہہ جائے
کوثر مظہری نے دہلی میں قائم ایک ہاسپیٹل ’ ہولی فیملی‘ کے تعلق سے ایک نظم کہی ہے۔ جو لوگ کوثر مظہری کو قریب سے جانتے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ کوثر مظہری نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ہاسپیٹل میں گزار دیا۔ مختلف قسم کی پریشانیاں اگر ان کے ساتھ نہ ہوتیں تو یقینا ان کے علمی و ادبی کارناموں کا دائرہ مزید وسیع ہوتا۔ان بیماریوں کے باوجود انہوں نے اردو زبان و ادب میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔بہرحال یہ ایک ضمنی بات تھی۔ کوثر مظہری نے ’ہولی فیملی‘ کے حوالے سے ایک نظم کہی ہے۔ اس نظم میں بھی رات کو ایک خاص تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔میں نے جن نظموں کا حوالہ اوپر درج کیا ہے ان سب کا عنوان رات ہے، جب کہ انہوں نے اس نظم کا عنوان ’’ ہولی فیملی ‘ رکھا ہے۔ نظم دیکھئے:
ہولی فیملی
وہی دوش ہے پرانے لوگ
نئی نئی سی ہے دنیا تو کچھ نیا ہوتا
میں اس کو دیکھتا آئینے میں سنورتے ہوئے
اور اُس کا آئینہ چہرہ مرا ہوا ہوتا
یہ کائنات ہے جیسے سیاہ کالی رات
کوئی تو روشنی ہوتی کوئی دیا ہوتا
جہان عشق کے تارے بھی ناز کرتے ہیں؟
کبھی جو ہوتا ادھر میں ، قطب نما ہوتا
یوں تو کوثر مظہری کی نظموں میں مختلف کیفیات کو بیان کیا گیا ہے، مگر میں نے ان کی چند نظموں کے حوالے سے یہاں گفتگو کی ہے۔ میرا ارادہ صرف اس جانب اشارہ کرنا تھا کہ انہوں نے رات کے تصور کو کیسے دیکھا اور سمجھا ہے۔ان نظموں میں ایک ناامیدی ضرور نظر آتی ہے مگر درمیان میں ایک دو نظمیں یا ایک دو مصرعے ایسے بھی ملتے ہیں جن کو پرھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کے یہاں امید کی ہلکی سی امید باقی ہے۔ اسے یہ امید ہے کہ رات کی تاریکی ضرور دور ہوگی، مگر سچی بات یہ ہے کہ شاعر شیر خوار بچے کی طرح خوف زدہ ہے اور اسے اس بات کا بھی ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رات کی تاریکی پوری فضا پر اپنی ایسی گرفت بنا لے اور روشن دان ہی نہیں ہلکی اور سہمی ہوئی کرن بھی نظر نہ آئے۔میں اپنی بات ان کی ایک نظم کے ساتھ کتم کرنا چاہتا ہوں۔
اے مری رات، میری محبوبہ
آ تجھے پیار کروں، پیار سے دیکھوں تجھ کو
ہاں، مگر شرط ہے آنکھیں نہ تری کھل جائیں
تیری آنکھوں سے کہیں آگ نکلنے نہ لگے

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

شاعری میں رات کا تصورکوثر مظہرینوشاد منظر
2 comments
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شاہ زادے کی پریم کہانی – صغیر رحمانی
اگلی پوسٹ
جدید اردو نظم میں ماحولیاتی عناصر – سمیہ محمدی

یہ بھی پڑھیں

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

2 comments

محمد حامد رضا خان علیمی جولائی 6, 2021 - 4:40 شام

بہت خوب
ماشاءاللہ
قلم گوید من شہنشاہِ جہانم

Reply
Abdul Wahab جولائی 7, 2021 - 4:02 صبح

عمدہ تجزیہ ہے

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں