Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

جدید اردو نظم میں ماحولیاتی عناصر – سمیہ محمدی

by adbimiras جولائی 6, 2021
by adbimiras جولائی 6, 2021 0 comment

1857 کے سانحہ کے بعد سرسید احمد نے جب مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کی عملی کوشش کی تو انھیں اپنا ادبی سرمایہ ناقص معلوم ہوا، سرسید خود اچھے نثر نگار تھے لہٰذا ’’تہذیب الاخلاق‘‘  اور دوسری کتابوں کے ذریعے اردو ادب کے سرمایے میں بیش بہا اضافہ کرنے کی کوشش کی، مگر جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو انھو ں نے یہ ذمہ داری مولانا محمد حسین آزاد کو دی ۔ اس طرح انجمن پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔ انجمن پنجاب کے قیام کے بعد15اگست 1868 کو مولانا محمد حسین آزاد نے ایک لکچر بعنوان ’’نظم اور کلام موزوں کے باب میں‘‘دیا تھا، اس کے سات برسوں بعد 1874 میں نمونے کے طور پر مولانا محمد حسین آزاد نے ایک نظم ’’شب قدر‘‘ سنائی۔ سرسید احمد خان نے نیچرل شاعری پر زور دیا وہ شاعری سے تصنع ختم کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے فروری 1875 میں ایک مضمون بعنوان ’’اردو نظم’’ لکھا۔ ان کا خیال تھا کہ انجمن پنجاب کے زیر تحت جو نظمیں پڑھی گئی وہ نیچرل شاعری کے زمرے میں آتی ہیں۔دراصل سرسید کے ذہن میں نیچرل شاعری سے مراد وہ شاعری ہے جو اسلوب اور موضوع کے لحاظ سے فطرت کے قریب ہو۔ سرسید کی اسی خواہش کو مولانا محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی نے پورا کرنے کی کوشش کی۔اور یہیں سے جدید نظم کا آغاز ہوتا ہے۔

جدید نظم کے علمبردار محمد حسین آزاد نے’’ انجمن پنجاب‘‘ کے مشاعروں میں چار طویل نظمیں سنائیں،جن میں’ شب قدر‘، ’موسم زمستاں‘،’ابر کرم‘ اور ’صبح امید‘شامل ہیں۔ ان نظموں میں مولانا محمد حسین آزاد نے فطرت نگاری کی عمدہ تصویر پیش کی ہے۔

اب یاں جو چند روز سے جاری نظام تھا

گرمی کے بادشاہ کا گرم انتظام تھا

 

دنیا میں بوند بوند کو خلقت ترس رہی

پانی کی جگہ آگ فلک سے برس رہی

 

شہروں میں سوکھ سوکھ کے جنگل  چمن ہوئے

اور جنگلوں میں دھوپ سے کالے ہرن ہوئے

 

طفل نبات پیاس کے مارے بلک رہے

خلق خدا کے نعرے بہت دور تک گئے

محمد حسین آزاد کی زبان نہایت شگفتہ اور لہجہ نرم ہے۔مذکورہ بند میں برسات سے قبل کی گرمی اور اس کی شدت کو پیش کیا گیا ہے۔ظاہر ہے بارش کی اہمیت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے۔آزاد نے اپنی نظم میں برسات کی آمد کی طرف اشارہ کیا ہے، گرمی کی شدت اپنے پورے عروج پر ہے،پوری دنیا بارش کے ایک قطرے کے لیے ترس رہی ہے مگر پانی کی جگہ آسمان سے آگ برس رہی ہے۔اس گرمی کی شدت سے نئے پیڑ اور پودے کی نئی شاخیں بلک بلک کر رو رہی ہیں۔گرمی کی یہ شدت حقیقی معلوم ہوتی ہے ، اور مبالغہ سے پاک بھی ہے ۔آزاد نے نہایت عمدہ طریقے سے منظر کشی کی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے سب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو۔ محمد حسین آزاد کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:

’’جہاں جہاں منظر نگاری کا فطری حسن اور سادگی نکھر آئی ہے،انگریزی کلاسیکی شعرا کی پر تصنع منظر نگاری کے خلاف تھامسن کی ’’ دی سیریز‘‘ کی منظر نگاری کا شائبہ پیدا  ہوجاتا ہے۔‘‘

(بحوالہ: جدید اردو نظم،حالی سے میراجی تک۔ کوثر مظہری، ص:۸۵)

(یہ بھی پڑھیں جدید نظم کی شعریات اور کہانی کا تفاعل-پروفیسرگوپی چند نارنگ )

اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد حسین کی نظموں میں فطرت کے حسن کو نہایت سادگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،وہ موسم میں ہورہی تبدیلی کو بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔بارش کی آمد کا ذکر وہ اس طرح کرتے ہیں:

بوندوں میں جھومتی وہ درختوں کی ڈالیاں

اور سبز کیاریوں میں وہ پھولوں کی لالیاں

 

آب رواں کا نالیوں میں لہر مارنا

اور روئے سبزہ زار کو دھوکر سنوارنا

 

گرنا وہ آبشار کی چادر کا زور سے

اور گونجنا وہ باغ کا پانی کے شور سے

 

جل تھا میں کوہ و دشت میں تالاب آب کے

گویا چھلک رہے ہیں کٹورے گلاب کے

آزاد کی شاعری کی اصل خوبی ان کے کلام کی سادگی، اصلیت اور شعریت ہے۔مذکورہ نظم میں مولانا محمد حسین آزاد نے برسات کی اہمیت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

انجمن پنجاب کے دوسرے اہم شاعر الطاف حسین حالی ہیں۔ انہوں نے اس انجمن کی چار شعری نشستوں میں شرکت کی اور ’برکھارت، نشاط امید،حب وطنی اورمناظرہ رحم و انصاف ‘ کے عنوان سے چار نظمیں پیش کیں۔ان نظموں میں ’برکھارت‘ کو کافی شہرت ملی۔ حالی دراصل جدید شاعری کے امام بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں:

’’جدید اردو شاعری کی حد بندی آزاد اور حالی کے کلام سے ہوئی ہے۔ جدید شاعری میں آزاد کی اہمیت جتنی تاریخی ہے اتنی ادبی نہیں، حالی نظم کے امام ہیں۔ انھوں نے زبان وبیان کے نئے سانچے بنائے…‘‘

(ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری ، صفحہ321:)

الطاف حسین حالی نے نظم ’’برکھارت‘‘ انجمن پنجاب کے مشاعرے میں 1874سنایا تھا۔ نظم کی ابتدا یوں ہوئی ہے۔

گرمی کی تپش بجھانے والی

سردی کا پیام لانے والی

 

قدرت کے عجائبات کی کان

عارف کے لیے کتاب عرفان

 

وہ شاخ و درخت کی جوانی

وہ مور وہ ملخ کی زندگانی

 

وہ سارے برس کی جان برسات

وہ کون؟ خدا کی شان برسات

نظم کے مذکورہ بند سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ گرمی کی شدت اپنے عروج پر ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس گرمی سے ساری فصل، پیڑپودے سب تباہ وبرباد ہو جائیں گے مگر اس سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ گرمی کی شدت سے کوئی چیز بچاسکتی ہے تو وہ برسات ہے۔الطاف حسین حالی برسات اور بارش کی اہمیت سے واقف تھے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بارش کو قدرت کے عجائبات میں شامل کرتے ہوئے شاخ ودرخت کی جوانی کے لیے ضروری بتایا ۔ بارش کی اپنی ایک حیثیت ہے اگر وقت پر بارش ہو جائے تو فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے، الطاف حسین نے پوری نظم میں برسات کی اہمیت کو پیش کیاہے، چند مصرعے ملاخطہ کریں۔

آئی ہے بہت دعاؤں کے بعد

اور سینکڑوں التجائوں کے بعد

 

وہ آئی تو آئی جان میں جان

سب تھے کوئی دن کے ورنہ مہمان

 

گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار

اور دھوپ میں تپ رہے تھے کوہسار

 

بھوبل سے سوا تھا ریگِ صحرا

اور کھول رہا تھا آب دریا

 

تھی لوٹ سی پڑرہی چمن میں

اور آگ سی لگ رہی تھی بن میں

حالی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں بیگانگی کا احساس نہیں ہوتا۔حالی نے جن چیزوں کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے وہ ہمارے مشاہدے کا حصہ ہیں،کیونکہ حالی ہندستانی ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں۔الطاف حسین حالی نے بڑی خوبصورتی سے برسات کی آمد کی تصویر کشی کی ہے۔ برسات سے قبل چرند وپرند سے لے کر کھیت کھلیان اور حیوان و انسان جس قسم کی پریشانی میں مبتلا تھے، حالی نے اسے سادگی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ برسات کی آمد کے بعد ہمارے گردوپیش میں جو تبدیلی ہوتی ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حالی لکھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں سر سیداور حالی کی تحریروں میں سماجی محرکات کاعکس- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )

باغوں نے کیا ہے غسل صحت

کھیتوں کو ملا ہے سبز خلعت

 

بٹیا ہے نہ ہے سڑک نمودار

اٹکل سے میں راہ چلتے رہوار

 

ہے سنگ و شجر کی ایک وردی

عالم ہے تمام لاجوردی

 

پھولوں سے پٹے ہوئے کہسار

دولہا سے بنے ہوئے ہیں اشجار

پوری نظم منظر نگاری کی عمدہ مثال ہے۔ اس میں حالی کا قوت مشاہدہ اپنے عروج پر ہے۔ حالی نے یہ نظم حب الوطنی کے جذبے میں کہی تھی، یہی وجہ ہے کہ نظم میں کئی جگہ حب الوطنی کا احساس مل جاتا ہے مگر میرے مطالعے کا مقصد حب الوطنی کے بجائے ماحولیاتی عناصر کی تلاش ہے۔

الطاف حسین حالی کی فطرت نگاری اور مناظر فطرت اس نظم میں نظرآتی ہے۔ حالی نے گرچہ برسات کی اہمیت کا ذکر کیا ہے مگر آج جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ Global Warming کا ہے۔ اوزون کی پرت اور سورج کی Raditaion انسانی زندگی کے لیے تباہی کا سامان مہیا کرنے پر آمادہ ہیں، ایسے میں اس نظم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ’برکھا رت‘ میں وہ تمام چیزیں موجود میں جو گلوبل وارمنگ سے اس دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ بارش کا صحیح وقت پر ہونا اس بات پر بھی منحصر کرتا ہے کہ ماحول میں پیڑ پودے کی تعداد کا صحیح تناسب میں ہوں ۔ حالی نے دریا، پیڑ ہوا، کہسار، باغ، کھیت، پرندے، جنگل، جانور وغیرہ ہمارے Eco.System کے لیے بے حد ضروری ہے۔ گرچہ حالی کے پیش نظر نہ تو گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تھا اور نہ ہی انھوں نے یہ نظم اس تناظر میں لکھی تھی باوجود اس کے حالی کی اس نظم کو ماحولیاتی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو نظم کا تہذیبی تناظرحالی، اخترالایمان اور میراجی کے حوالے سے- پروفیسر کوثر مظہری )

ادب میں ماحولیاتی عناصر کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ صرف ان چیزوں کا ذکر کردینا کافی نہیں جو تباہ وبرباد ہورہی ہیں بلکہ شاعر وادیب کے لیے ضروری ہے کہ ان کا مطالعہ وسیع ہو اور وہ ماہر فلکیات، صنعت وحرفت کے علاوہ ان تمام عوامل سے واقف ہوں جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ عام قاری کا ذہن جہاں تک نہیں جاتا شاعر کا تخیل اسے دیکھ اور سمجھ لیتا ہے۔حالی کا تخیل بھی بلند تھا اورانہوں نے مستقبل کی ضرورت کو سمجھ لیا تھا۔

اسی زمانے کے ایک اہم شاعر اسماعیل میرٹھی ہیں۔اسماعیل میرٹھی نے حب الوطنی، اتحاد انسانی اور معاشرتی نظام کو موضوع بناکر کئی اہم نظمیں کہی ہیں۔انہوں نے بچوں کے لیے بھی نظمیں کہی اور انہیں بچوں کا شاعر بھی کہا جاتا ہے۔اسماعیل میرٹھی کی کئی نظموں میں قدرتی مناظر کی خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ اسماعیل میرٹھی نے آزاد اور حالی کی منظر نگاری کی روایت کو آگے بڑھایا بلکہ بقول عبد السلام سندیلوی :

’’اسماعیل میرٹھی کی منظر نگاری آزاد اور حالی کی منظر نگاری سے زیادہ واضح سلیس اور فطری ہے۔‘‘

(اردو شاعری میں منظر نگاری، عبد السلام سندیلوی،ص ۳۶۳)

اسمعیل میرٹھی نے گاؤں اور دیہی زندگی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ،یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری منظر نگاری کی عمدہ مثال معلوم ہوتی ہے، مگر انھوں نے قدرتی مناظر کی عکاسی جس انداز میں کی ہے وہ یقینا قابل ذکر ہے۔ اسماعیل میرٹھی کی نظم ’’برسات‘‘ سے چند مصرعے ملاحظہ ہو:

گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی

ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی

 

گھٹا آن کر مینہ جو برساگئی

تو بے جان مٹی میں جان آگئی

 

زمیں سبزے سے لہلہانے لگی

کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی

 

یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا

کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا

الطاف حسین حالی نے ’برکھارت‘ میں برسات کی آمد سے قبل جس تشنگی کو پیش کیا تھا اور برسات کی آمد کے بعد گرد و نواح میں ہوئی تبدیلیوں کو جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے، اسی خوبصورت انداز میں اسماعیل میرٹھی نے بھی بارش کے موسم کو ’’برسات‘‘ میں پیش کیا ہے۔اسماعیل میرٹھی کی ایک نظم ’’ ہوا ‘‘ ہے۔ اس نظم میں ہوا کی رفتار اور اس کی خصوصیت کو بیان کیا گیا ہے۔

چمن ہے، ابر ہے ٹھنڈی ہوا ہے

ہجوم طائران خوش نوا ہے

 

کبھی جھونکا نکل جاتا سن سے

کبھی آہستہ رو موج صبا ہے

 

غبار و گرد سے جو اٹ گئی تھی

صبا نے غسل  کا سامان کیا ہے

 

ہوا نے کیا ہوا باندھی چمن میں

کہ خوبان چمن کا سر ہلا ہے

 

چمن کا پتہ پتہ ہے نواسنج

صبا کی آمد آمد جا بجا ہے

 

گلوں کی ڈالیاں جھک جھک گئی ہیں

زمیں پر سبزہ کیا کیا لوٹتا ہے

اسماعیل میرٹھی کی مذکورہ نظم غزل کی ہیئت میں ہے،مگر قافیہ کی پابندی نظر نہیں آتی۔ اسمعیل میرٹھی نے پور نظم میں ہوا کو محور و مرکز بنا کر پیش کیاہے۔یہ نظم تصنع اور مبالغہ سے پاک ہے۔ پروفیسر کوثر مظہری لکھتے ہیں:

’’ان نظموں [برسات، رات، ہوا چلی] میں مضامین کے سادہ اور نیچرل ہونے کے جو اوصاف ہیں، ان سے انکار ممکن نہیں، بلکہ اگر آزاد اور حالی کی نظموں سے اسماعیل میرٹھی کی ان [برسات، رات، ہوا چلی]کا مقابلہ و موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ اسماعیل میرٹھی کے یہاں روانی، جاذبیت اور اصلیت زیادہ ہے۔‘‘

(جدید نظم: حالی سے میراجی تک، صفحہ96:)

کوثر مظہری کی مذکورہ باتوں سے اتفاق کیا جاسکتا ہے۔جن نظموں کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے ان میں اسمعیل میرٹھی کے نیچرل شاعری کے تمام اوصاف موجود ہیں۔ اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں کہی، ان نظموں میں ایک خاص فضا کا احساس ملتا ہے۔ درس وتدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بھی اسماعیل میرٹھی کا ذہن بچوں کی تربیت پر مرکوز رہا، لہٰذا انھوں نے اونٹ، کوا، عجیب چڑیا، گائے، جگنو اور بچہ کے علاوہ چھوٹی چینوٹی کے عنوان سے نظمیں کہی۔ گرچہ مذکورہ نظمیں اور ان جیسی نظموں کا تعلق بچوں کی تربیت ہے مگر اس کا ایک رشتہ ہمارے ماحول سے بھی قائم ہوتا ہے۔ اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے ذہنوں کو قدرت کے بیش قیمتی تحائف کی ضرورت، اہمیت اور حفاظت کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔انھوں نے قدرتی وسائل کی جس خوبصورت انداز میں تصویر کھینچی ہے کہ بس دل خوش ہوجاتا ہے۔پروفیسر کلیم الدین احمد نے اسمعیل میرٹھی کی منظر نگاری کی خوبیوں کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:

’’جو چیز انھیں [اسمعیل میرٹھی ]ذکر کا مستحق بناتی ہے وہ ان کی دیہی شاعری ہے۔آزاد کی طرح انھوں نے نیرنگ قدرت کے نقش و نگار کھینچنے کی کوشش کی اور اس میں انفرادی رنگ بھی حاصل کیا ،اگر ان نظموں میں شان و شوکت نہیں تو بے رنگ و بے مزہ سادگی بھی نہیںان کی سادگی میں ایک قسم کی دلکشی ہے۔ان کی تصویریں عام نہیں خاص ہیں اور ہندستانی فضا میں سانس لیتی ہیں اور ان تصویروں کو ان آنکھوں نے دیکھا ہے۔یہ خیالی یا مصنوعی نہیں۔‘‘

(اردو شاعری پر ایک نظر،جلددوم، کلیم الدین احمد، ص: ۴۸، ۴۹)

قدرتی مناظر کو جس خوبصورتی کے ساتھ علامہ اقبال نے پیش کیا ہے اس کی مثال بہت مشکل سے ملتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں قومی، وطنی شاعری کے علاوہ تہذیبی اور ثقافتی نظمیں بھی مل جاتی ہیں۔ اقبال کے مجموعہ کلام ’’بانگ درا‘‘ کی پہلی نظم ’’ہمالہ‘‘ ایک خوبصورت نظم ہے۔ نظم کی ابتدا اس مصرعے سے ہوتی ہے کہ:

اے ہمالہ! اے فصیل کشورِ ہندوستان

چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

اقبال نے نظم کی ابتدا ہی ہمالہ کی عظمت اور اس کی بلندی سے کی ہے۔ اقبال کا خیا ل ہے کہ ہمالہ اپنی بلندی کی وجہ سے ہندوستان کو دشمنوں سے محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ کوہ طور کی اہمیت سے اقبال یقینا واقف تھے مگر اقبال کوہِ طور پر ہمالہ کو فوقیت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں تو اﷲ کی بس ایک تجلی ہوئی تھی مگر تو تو خدا کو براہ راست دیکھ سکتا ہے۔ نظم کا چوتھا بند ایک خاص فضا کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اسماعیل میرٹھی کی نظم”بارش کا پہلا قطرہ“ کی نئی قرأت- ڈاکٹر سمیع احمد)

امیر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے

تازیانہ دے دیا برق سرِ کہسار نے

 

اے ہمالیہ! کوئی بازی گاہ ہے تو بھی، جسے

دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے

 

ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر

فیل بے زنجر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر

متکلم ہمالہ کو بادل، بارش اور ہوا کا وسیلہ تصور کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمالہ جسے قدرت نے تین عناصر مٹی، پانی اور ہوا سے بنایا ہے وہ گویا کھیل کا میدان ہے جہاں بے زنجیر ہاتھی کی طرح بادل جھومتے جاتے ہیں۔علامہ اقبال کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:

’’ اس راہ سے اقبال ایک دوسری راہ نکالتے ہیں۔ابر، چاند، تارے کی زبانی اخلاقی یا فلسفیانہ مضامین بیان کرتے ہیں۔یا ابر، چاند، تارے میں جان ڈال کر ان کے فرضی جذبات کو شاعری کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔’’شعاع آفتاب‘ ،’’شبنم اور تارے‘‘،’’بزم انجم‘‘، ’’ستارہ‘‘،’’چاند اور تارے‘‘ پہلی قسم کی نظمیں ہیں،ہر نظم میں کسی خیال کو شاعرانہ ڈھنگ میں بیان کیا گیا ہے۔‘‘

(اردو شاعری پر ایک نظر،حصہ دوم،کلیم الدین احمد،ص ۹۲)

کلیم الدین احمد نے اقبال کے کلام کی جن کوبیوں کا ذکر کیا ہے اس سے اقبال کے کلام کی خوبیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔علامہ اقبال کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے فطرت کی مختلف اشیاء کو اس طرح پیش کیا ہے گویا ان سے گفتگو کر رہے ہوں۔انھوں نے بے جان اور جامد شئے کو بھی جاندار اور متحرک بنادیا ،یا یوں کہیں کہ قوت گویائی عطا کردی۔جہاں تک اقبال کے کلام میں موجود فطرت کا تعلق ہے تو وہ فطرت کے حسن سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کی بعض نظموں میںفطرت سے مسرت اندوزی کا جذبہ نظر آتا ہے۔وہ فطرت کے ذریعے حیات و کائنات کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔اقبال کے یہاں فطرت نگاری میں کسی قسم کا مبالغہ یا تصنع نظر نہیں آتا ہے، بلکہ فطرت کی واضح اور حسین تصویر ابھری ہوئی نظر آتی ہے۔

اقبال نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں کہی ہیں جن میں اہم ’’ایک گائے اور بکری‘‘ ہے۔جانور ہمارے Eco-system کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ گرچہ اقبال اس نظم میں Eco-system سے زیادہ انسانیت کی اس تعلیم کو عام کرنا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو تکلیف دے تو صرف اسی بنیاد پر کسی سے نفرت کرنا ٹھیک نہیں۔ یہ طریقۂ رسولﷺ کے منافی بھی ہے۔ نظم کا پہلا بند ملاحظہ کریں:

اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں

تھی سراپا بہار جس کی زمیں

 

کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں

ہر طرف صاف ندیاں تھی رواں

 

تھے اناروں کے بے شمار درخت

اور پیپل کے سایہ دار درخت

شاعر زمین کی سرسبزی وشادابی اور بہار کے منظر کو پیش کرتے ہوئے بہتی ہوئی ندیوں اور دلکش مناظر کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے، جہاں باغوں میں انار کے درخت پھلوں سے لدے اور پیپل کا سایہ خوبصورتی کا محور ومرکز ہے۔

علامہ اقبال کا خاصہ ہے کہ انھوں نے مختلف زاویوں سے فطرت نگاری کی ہے۔ گرچہ اقبال کی شاعری کا دائرہ اور مقصد مختلف ہے۔ ان کے کلام میں فلسفیانہ اور حکیمانہ خیال کا جس انداز میں بیان ملتا ہے وہ اردو نظم کے لیے نیا ہے، وہ نظمیں جس میں فطرت نگاری نظر آتی ہے وہاں بھی اقبال نے فطرت کو بطور تمہید یا پس منظر کے پیش کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں خدا سے اقبال کی ہم کلامی – پروفیسر کوثر مظہری )

اردو کے ایک اہم نظم شاعر برج نارائن چکبست ہیں۔ان کی شاعری کا بیشتر سرمایہ وطن سے محبت اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار نظر آتے ہیں۔ان کے کلام میں فطرت نگاری کچھ اس طرح کی گئی ہے معلوم ہوتا ہے کسی مصور نے برش سے کوئی تصویر بنادی ہو۔ان کے یہاں فطرت کی تصویر نہایت واضح انداز میں ملتی ہیں۔چکبست کی ایک اہم نظم ’’ سیر دہرادون‘‘ہے جس میں فطرت نگاری اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔

یہیں بہار کا پہل ہوا تھا شگون

عجیب خطۂ دلکش ہے شہر دہرہ دون

 

کیا نہیں اسے غارت بشر کی صنعت نے

یہ سبزہ زار کھلایا ہے دست قدرت نے

 

سپرد ابر کے ہے انتظام پانی کا

ہوائے سرد کو ہے حکم  باغبانی کا

 

تمام شہر ہے گرد و غبار سے خالی

جدھر نگاہ اٹھے ہر طرف ہے ہریالی

لباس پہنے ہیں گل خشت و سنگ سبزہ کا

بجائے خاک کے اڑتا ہے رنگ سبزہ کا

 

گھنے درخت، بڑی جھاڑیاں، زمیں شاداب

لطیف و سرد ہوا، پاک و صاف چشمۂ آب

 

طلسم حسن کا ہے بیچ میں یہ گل دستہ

کھڑے ہیں کوہ و شجر پہلوؤں میں صف بستہ

مذکورہ نظم ایک عمدہ نظم ہے،گرچہ انھوں نے دہرہ دون شہر کی تعریف و توصیف بیان کی ہے مگر حقیقت میں یہ ہمارے ماحول کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔پروفیسر عبد القادر سہروردی اس نظم کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ سیر دہرہ دون ان [چکبست]کی منظری نظموں میں بہترین سمجھی گئی ہے۔منظر نگاری کی اکثر خوبیاں اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں، جزئیات نگاری کی تفصیل تصویروں کی صفائی اور بیانات کی حقیقت کے اعتبار سے یہ نظم اوردو شاعری کی منظر کش اضافہ ہے۔‘‘

(جدید اردو شاعری،پروفیسر عبد القادر سہروردی، ص : ۲۷۰)

چکبست کی ایک نظم ’’کشمیر‘‘ہے۔ اس نظم میں شاعر نے کشمیرکی مصورانہ تصویر کشی کی ہے۔یہ نظم مسدس کی شکل میں کہی گئی ہے،انھوں نے جس طرح کے جملے کا استعمال کیا ہے اس سے انیس کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

وہ صبح کو کہسار کے پھولوں کا مہکنا

وہ جھاڑیوں  کی آڑ میں چڑیوں کا چہکنا

 

گردوں پہ شفق، کوہ پہ لالے کا لہکنا

مستوں کی طرح ابر کے ٹکڑے کا مہکنا

 

ہر پھول کی جنبش  سے عیاں ناز پری کا

چلنا  وہ دبے پاؤں نسیم سحری کا

 

وہ طائر کہسار، لبِ چشمۂ کہسار

وہ سرد ہوا، وہ کرمِ ابر گہر بار

وہ میوہۃ خوش رنگ وہ سر سبز چمن زار

اک آن میں صحت ہو جو برسوں

 

یہ باغ وطن روکش گلزار خیال ہے

سرمایۂ ناز چمن آرائے جہاں ہے

برج نارائن چکبست نے کشمیر کا نقشہ صاف ستھرے الفاظ میں کھینچا ہے۔اس نظم کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اگر اس نظم سے ’’ ڈل کا وہ سرِ شام ادھر کروٹیں لینا‘‘نکال دیا جائے تو پوری نظم وادیٔ کشمیر کے بجائے ہر خوبصورت مقام کا استعارہ بن جائے گی۔مذکورہ بندوں میں وادیٔ کشمیر کی  آب و ہوا، کہسار، پہاڑ، چرند و پرند، اب، پھو ل اور چمن وغیرہ کو جس خوبصورتی کو اس طرح بیان کیا ہے کہ وہاں کے سارے مناظر آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں نقد شعر اور چکبست – ڈاکٹر عمیر منظر)

جوش ملیح آبادی کو شاعر فطرت شاعر انقلاب کہا جاتا ہے، انھوں نے فطرت کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، جوش کا مشاہدہ بہت بلند ہے لہٰذا مناظر فطرت کا ذکر کرتے ہوئے جوش کی منظرنگاری مصورانہ اور واضح ہوتی ہے۔ بقول ڈاکٹر کوثر مظہری ’’جوش کی شاعری میں گوداکم اور چھال بہت ہی موٹی ہے‘‘

جوش کی ایک نظم ’’سہاگن بیوہ‘‘ ہے۔ نظم کا اصل موضوع ستی پرتھا ہے۔ مگر ابتدا میں جوش نے شام کی تصور کشی کچھ اس طرح کی ہے معلوم ہوتا ہے سارے مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہے ہوں:

نیک تلسی داس گنگا کے کنارے وقت شام

جارہا تھا اک طرف بشاش جپتا ہر کا نام

 

جھاڑیاں تھیں، سبز دریا کے کنارے جابجا

پھول کھلے ہوئے تھے مست تھی موج ہوا

 

راہ میں جالے لگے تھے پتیوں پر گرد تھی

لانبی لانبی گھاس ہلتی تھی پتادر فردہ تھی

 

جمع تھے اس طرح پتے جابجا سوکھے ہوئے

جس طرح شادی کے خیمے صبح کو اٹھے ہوئے

جوش کے یہاں اقبال جیسا  فلسفیانہ نکتہ نظر نہیں آتا بلکہ بقول عبد السلام سندیلوی انھوں نے فطرت برائے فطرت کا نظریہ اپنایا ہے۔۔جوش دراصل الفاظ کو برتنے کا جادوگرانہ ہنر سے  واقف تھے۔جوش  کے یہاں جس قسم کی فطرت نگاری اور منظر کشی ملتی ہے اس سے قدرتی مناظر سے لطف اندوزی حاصل ہوتی ہے۔جوش کی نظم ’’برسات کی پہلی گھٹا‘‘ سے تین بند ملاحظہ کریں:

کیا جوانی ہے فظا میں مرحبا، صد مرحبا

چل رہی ہے روح کو چھوتی ہوئی ٹھنڈی ہوا

آرہی ہے دور سے کافر پپیہے کی صدا

حسن اٹھا ہے خاک سے انگرائیاں لیتا ہوا

جھوم کر برسی ہے کیا برسات کی پہلی گھٹا

 

آرزو میں ہے تلاطم،جوش ارمانوں میں ہے

حسرتوں میں ولولے ہیں تازگی جانوں میں ہے

نوجوانوں کا تبسم، سرد میدانوں میں ہے

روشنی ہے دشت میں، خوشبو بیابانوں میں ہے

جھوم کر برسی ہے کیا برسات کی پہلی گھٹا

 

 

مطربوں نے ساحلوں پر جا کے چھیڑے  ہیں ستار

ہل دھرے کاندھے پہ ہنستے جاتے ہیں کاشتکار

مست ہے جنگل میںچرواہا،چمن میں جوئے بار

گارہا ہے نا خدا دریا کے سینے پر ملہار

جھوم کر برسی ہے کیا برسات کی پہلی گھٹا

جوش کا کمال یہ ہے کہ وہ قدرتی مناظرکو پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں،انھیںہندستانی موسم بہت پسند ہے۔برسات پر جو نظم جوش نے کہی ہے اس کے مطالعہ کے بعد قارئین مناظر کی سحر میں مسحور ہوئے بنا نہیں رہ سکتا ۔جوش کی نظم البیلی صبح بھی منظر نگاری کی خوبصورت مثال ہے۔

جوش کی ایک نظم ’’جذباتِ فطرت‘‘ ہے ۔اس نظم کو شاعر نے ۱۲؍مختلف عنوانات میں پیش کیا ہے۔اس نظم سے ایک بند’پہاڑ کی صدا‘ بطور نمونہ پیش ہے۔

پہاڑ کی صدا

میری وادی میں ہے پھولوں کی دنیا

ابلتا ہے مرے پہلو سے چشمہ۔۔۔

میرے دامن میں ہے شفاف دریا

مری چوٹی پہ قدرت کا تماشا

ادھر آ، اے میرے شاعر ادھر آ

مذکورہ نظم کے تمام بند ایک خاص فظا اور ماحول کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔جوش کی نظموں کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ جوش نے فطرت کاگہرا مطالعہ کیا تھا  اور وہ ان کی شاعری میں نظر آتا ہے۔

المختصر: فطرت نگاری اور ماحول میں موجود عناصر کی تصویرکشی اردو شاعری میں جابجا نظر آتی ہے،ان نظموں میں فطرت نگاری اور ماحول کو بطور تمہید یا باضابطہ موضوع بنایا گیا ہے۔عین ممکن ہے کہ شعرا کے ذہن میں ماحول کا وہ تصور نہ رہا ہو جسے آج ہم محسوس کررہے ہیں مگر اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ شاعر و ادیب سماج کا حساس شخص ہوتا ہے اور اس کی بلند تخیلی فکر مستقبل کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھ لیتی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اردو شاعری میںقدرتی مناظر کی عمدہ اور دلکش تصویر کشی موجود ہے۔قدرتی وسائل اور ماحولیات انسانی زندگی کی بقا کے لئے بے حد ضروری ہیں،مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری شاعری میں اس کی طرف اشارہ نہیں ملتا۔قدرتی وسائل کا استعمال تو ہوا ہے مگر محض منظر نگاری کی حد تک۔مذہبی بنیاد پر ہونے والے فسادات پر بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جارہا ہے مگرگلوبل وارمنگ Global Warming کے برے اثرات جو انسان ہی کیا تمام ذی روح کو متاثر کر رہی ہیں اس کو اب تک موضوع نہیں بنایا گیا ہے۔ ہمارے ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے ،لہذا شاعر و ادیب کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے۔حالانکہ شاعر و ادیب کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جس موضوع کو چاہے اپنی تخلیقات میں پیش کرے باوجود اس کے سماج کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے ان کو ماحولیات کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ماحولیات پر وقت رہتے توجہ نہیں دی گئی تو پوری دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی۔موجودہ عہد کو گلوبل وارمنگ نے جس طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔آج ہمیں تازی ہوا میسر نہیں، صاف پانی کا تصور مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے،ندیاں اور تالاب سوکھ رہے ہیں،پیڑ پودے دن بہ دن کم ہوتے جارہے ہیںجس سے چرند و پرند کی کئی قسمیں تاریخ پارینہ کا حصہ بنتی جارہی ہیں اور بہت سی ذی روح تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ہماری شاعری میں اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے کسی لائحہ عمل کی طرف اشارہ نہیں ملتا،اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کا مسئلہ ابھی نیا ہے، مگر امید کی جانی چاہیے کہ ہمارے موجودہ شاعر و ادیب اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنی تخلیقات سے عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کرئیں گے۔

 

(مضمون نگار، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ریسرچ اسکالر ہیں۔)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

eco criticismبرساتسمیہ محمدیگلوبل وارمنگماحولیاتی تنقید
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کوثر مظہری کی نظمیہ شاعری میں رات کا تصور – ڈاکٹر نوشاد منظر
اگلی پوسٹ
آخری پہر کی دستک :شمیم حنفی -ثاقب فریدی

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں