شمیم حنفی ہمارے عہد کے ایک بڑے نقاد ہیں۔ ان کی تنقیدی بصیرت نے اس پورے عہدے کومتاثر کیا ہے۔ تاریخ و تہذیب کے حوالے سے ان کا مطالعہ بہت عمیق اور اس موضوع پر ان کی تنقیدی نگارشات بہت اہم ہیں۔ نئی شاعری کے تعلق سے جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اس میںان کا تجربہ اور داخلی شعور بھی شامل ہے۔ شمیم حنفی کی پہلی غزل ۶۵؍۱۹۶۴ میں’’ نقوش‘‘ لاہور میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد بقول شمیم حنفی’’ کتاب‘‘ لکھنؤ،’’ گفتگو‘‘بمبئی،’’شب خون‘‘الٰہ آباد،’’ سطور‘‘دہلی، ’’شعر و حکمت‘‘ حیدرآباد،’’اظہار‘‘ ممبئی،’’محور‘‘دہلی اور’’فنون‘‘ لاہور وغیرہ میں ان کی غزلیں شائع ہوئیں۔’’آخری پہر کی دستک ‘‘کے نام سے شمیم حنفی کی غزلوں کا مجموعہ منظر عام پر آیا ہے جسے ریختہ فاؤنڈیشن نے ۲۰۱۵ میں شائع کیا ۔ ۸ جون ۲۰۱۵ کی شام نہرو گیسٹ ہاؤس جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی ۔ میں آخری پہر کی دستک کی تقریب رونمائی میں شریک تھا ۔ایک اور محفل میں ،میں نے شمیم حنفی صاحب کی زبانی ان کی غزلیں سنی ہیں۔ ’’ لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے ‘‘ والی غزل بہت دنوں سے میرے استحضار کا حصہ ہے۔ ’’ آخری پہر کی دستک‘‘ کا نسخہ مرے پاس موجود ہے اور میں نے بالاستیعاب اس کا مطالعہ کیا ہے ۔ اس میں ایک سو تیرہ غزلیں موجود ہیں۔ جن میں تقریباً چھ سو انتالیس ۶۳۹ اشعار ہیں۔’’ آخری پہر کی دستک‘‘ کی غزل کا زمانہ وہی ہے جو اردو میں جدید یت کے فروغ کا زمانہ ہے ۔شمیم حنفی کی غزلیں ان اہم نئے شعراء کے ساتھ رسالوں میں شائع ہوئیں جنہیں نئی غزل کے سیاق میں دیکھا گیا ۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ خلیل الرحمان اعظمیٰ نے اپنے اہم ترین مضمون جدید تر غزل میں شمیم حنفی کے دو شعر درج کئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی شمیم حنفی کے اشعار نئی غزل پر لکھے جانے والے نتقیدی مقالوں میں بطور حوالہ مل جاتے ہیں۔ ان حقائق کہ باوجود شمیم حنفی کی غزل موضوع گفتگو نہیں بن سکی۔ اس سوال کا جواب آخری پہر کی دستک سے ہی مل سکتا ہے۔ ان کی غزلیں اس فرد کی کہانی ہیں جس نے بدلتے ہوئے معاشرے اور تہذیب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس بدلتی ہوئی صور تحال کو شدت سے محسوس کیا ۔ اسے فرد کی فردیت کا احساس پریشان کرتا ہے۔ نئی شاعری نے اجتماعی مسئلہ کو ایک فرد کی حیثیت سے دیکھا اور محسوس کیا۔ اس کے نتیجے میں رات کی تیرگی ، وقت کے بدلتے ہوئے دھارے کی تیزی ، تنہائی اور اکیلے پن کی شدت کا احساس، ذات کا عرفان اور اس کا اپناوجود نئی شاعر ی مسئلہ بنا ۔ شمیم حنفی کی غزل بھی انہیں معاملات اور کیفیات کا اظہار ہے۔ (یہ بھی پڑھیں نسخۂ حمیدیہ میں غالب کے مقطعے ردیف الف تک -سید ثاقب فریدی )
میں لفظ لفظ بکھرتا رہا فضاؤں میں
مری صدا سے وہ کرتا رہا شکار مجھے
مرے زوال کا ہر رنگ تجھ میں شامل ہے
تو آج تک مری حالت سے بے خبر کیا تھا
کون بہتے ہوئے پانی کو صد ا دیتا ہے
کون دریا سے یہ کہتا ہے سمندر ہوں میں
یہی اجڑی ہوئی بستی ہے ٹھکانہ میرا
ڈھونڈنے والے اسی خاک کے اندر ہوں میں
ہر سمت اجالا بھی ہے سورج بھی ہے لیکن
ہم اپنے چراغوں کو بجھانے کے نہیں ہیں
نقش لوح دل پہ بنتے ہیں مٹا دیتی ہے شام
ہم کو سورج کی طرح اکثر بجھا دیتی ہے شام
میں ہوں ذرہ تو مجھے ریت کے طوفاں سے بچا
میں ہوں قطرہ تو سمندر سے جدا رہنے دے
رات دن اپنے تعاقب نے تھکا ڈالا مجھے
خود کو پانے کی ہوس کا شور لیکن سر میں ہے
حال سے اپنا تعلق بس برائے نام تھا
یا تو ہم ماضی رہے یا حرف آئندہ رہے
پہلے شعر میں لفظ لفظ فضا میں بکھرنے اور صدا کے ذریعہ شکار ہونے کا احساس انفرادی وجود کے پامال ہونے کا علامیہ ہے۔ فضامیں ذروں کی طرح بکھرنا وجود کی بقاء بھی ہے۔ یعنی انسان کا ایک ظاہری وجود تو ختم ہو ا لیکن فضا میں جو شئے ضم ہوئی ہے وہ بھی اسی کا وجود ہے ۔ دوسرے شعر میں اپنے زوال کا رنگ کہیں اور تلاش کرنا بھی اپنی ذات کی موجودگی کا اظہار ہے ۔ تیسرے شعرمیں اپنے وجود کے تئیں احساس کی لے تیز تر ہوگئی ہے۔ بہتے ہوئے دریا کو صدا دینے اور اپنی ذات کو سمندر کہنے کا عمل اسی رو یے کا اظہار ہے ۔ سمندر کاوجود یوں بھی دریا سے بہت بڑا ہے لیکن دریا کے بہتے ہوئے پانی دیکھ کر اپنے وجود کو سمندر کہنا بہت بامعنی ہے ۔وہ اس طرح سے کہ دریا کے تحرک کے مقابلہ سمندر کی طبیعت بہت پر سکون اور شانت ہوتی ہے ۔ اس مناسبت سے نئی غزل کا فرد بھی خاموشی اور سکوت کا مظہر ہے لہٰذا دونوں کی خاموشی کے مابین ایک طرح کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے ۔ چوتھے شعر میں اجڑی ہوئی بستی کو اپنا ٹھکانہ کہنا اور ایک خاص جگہ کو اپنا مسکن قرار دینا پرانے رشتوں کی بازیافت ہے ۔ اجڑی ہوئی بستی کا فقرہ نئی بستیوں کے جبر کا اظہار ہے ۔شمیم حنفی کی غزلوں میں پرانی بستیوں کے اجڑ جانے کا شدید احساس ہے۔ پانچویں شعر میں’’ہم اپنے چراغوں کو نہ بجھانے کے نہیں ہیں‘‘ کا مصرع خوبصورت بھی ہے اور با معنی بھی وہ اس طرح کہ یہاں سورج کی روشنی نئی تہذیب کا استعارہ ہے۔ تمام سمتوں میں اجالے کے باوجود اپنے چراغ کو نہ بجھانے کا رویہ اپنے وجود کو فنا کرنے کی نفی اور تمام پرانی قدروں کا تحفظ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب روشنی پھیلتی ہے تو چراغ بجھا دئے جاتے ہیں۔ایسی صورت میں اپنے چراغ کو جلائے رکھنے کا خیال ہی در اصل فرد کی فردیت کا احساس ہے۔ چھٹے شعر میں نقش لوح دل ابھرنا بھی اپنے وجود کی بازیافت کا ایک عمل ہے اور شام کو سورج کی طرح بجھنے کا احساس تنہائی اور تاریکی میں گم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔اردوغزل میں شام کا کرب تو بہت پرانہ موضوع ہے جسے میر نے’’رات گزرے گی کس خرابی سے‘‘ سے تعبیر کیا تھااور اس کے بعد یہ مضمون مختلف زاویوں سے اردو غزل میں برتا گیا۔شمیم حنفی کے یہ اںرات اور شام کا جبر تو نظرآتا ہے لیکن رات کی خرابی کا وہ خوف نہیں ہے جو میر کو پریشان کرتا ہے۔بلکہ شمیم حنفی کے یہاں رات شدت تنہائی کے علاوہ تہذیب کے نئے مسائل کے ساتھ بھی نظر آتی ہے ۔ساتویں شعر میں ریت کے طوفان اور سمند ر کی بیکرانی میں گم ہوجانے کا خوف ہی وجود کو زندہ رکھتا ہے ۔ ذرے کے مقابلے ریت کا طوفان اور قطرے کے سامنے سمندر گویا فرد کی موت ہے۔ آٹھویں شعر میں خود کو پانے کی ہوس کا شور سر میں ہونا بہت با معنی ہے ۔انسان کے جسم کی تھکن اس کے جذبے اور حوصلے کو متاثر نہیں کرتی یعنی ایک انسان جسمانی اعتبار سے تھک تو جاتا ہے لیکن اس کا حوصلہ تھکن کی آلودگی سے پاک رہتا ہے ۔یہاں اس شعر میں شور کا لفظ بھی بہت با معنی ہو گیا ہے۔یہ شور در اصل حوصلہ مندی کا علامیہ بن گیا ہے جسے ایک طرح کے جنون سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور پھر شور بھی خود کو پانے کی ہوس کا ہے۔آخر ی شعر میں ماضی اور مستقبل سے اپنا رشتہ استوار کرنے کا رویہ حال سے برگشتگی کا اظہار ہے ۔ شمیم حنفی کی غزل میں ماضی کی عظمت ،پرانی قدروں کی اہمیت اور ایام گذشتہ سے ایک خاص رشتہ نظر آتا ہے جیسے کوئی جانے والا پلٹ کر اپنے گھر کی طرف دیکھتا ہے ۔ نئی تہذیب نے پرانی قدروں کو رفتہ رفتہ ختم کردیا ۔انسان نے ایک ایسی دنیا میں قدم رکھا جہاں پرانی قدریں باقی نہیں ہیں۔ نئی تہذیب ،اس کی چمک اور روشنی میں پرانی چیزیں دھندلی پڑگئی۔ لیکن شمیم حنفی کی غزل میں احساس کی سطح پروہ تمام نقوس بار بار ابھرتے ہیں۔
آتی تھی روز نیند کی سوغات لے کے شام
پہلے یہ ہاؤ ہو یہ طلسمات شب نہ تھے
سیاہ دھوپ شجر برگ و بار سے خالی
طنابیں ٹوٹ گئیں شامیانہ ختم ہوا
سن رہا ہوں دیر سے جاتے ہوئے لمحوں کی چاپ
اب کسی کو سرحد ادراک تک آنے نہ دے
ہوا بھی زرد ہے دشت نگاہ کی صورت
بدل گئے گل منظر کے نقش یوں کیسے
ہمارے اجداد کی کہانی سنارہا تھا ندی کا پانی
کئی صداؤں نے خون تھوکا کئی بدن سنگسار دیکھے
نہ اب وہ شہر نہ گلیاں نہ وہ مکاں نہ مکیں
یہی دیار تھا اپنا یہی ٹھکانے تھے
کچھ مویشی کھیت جنگل اور سر پر آسماں
ان دنوں کی بات ہے جب بستیاں اجڑی نہ تھیں
گلی گلی یہی اجڑے ہوئے مکاں دیکھے
خلا خلا یہ اداسی کا سلسلہ دیکھا
کچھ سرنگوں تھا بوجھ سے اپنے درخت بھی
طوفان ابرو باد کی منزل تھی سخت بھی
اول شعر میں پرانی شاموں کو یادکرنا،اورنیند کی سوغات کا تذکرہ کرنا احساس کی سطح کو متاثر کرتا ہے اور پھر ہاؤ ہو کا رشتہ نئی تہذیب سے قائم ہوجاتا ہے۔ اس شعر میں طلسمات شب کی ترکیب بہت بامعنی ہے ۔ شمیم حنفی کی غزل میں جہاں پرانی تہذیب کا تذکرہ ہے وہاں نئی تہذیب کا شکوہ بھی ہے۔ جہاں نئی تہذیب کی بات ہے وہاں پرانی قدریں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ دوسرے شعر میں نئی تہذیب کو سیاہ دھوپ اور بے برگ و بار شجر سے تعبیر کرنا بہت خوبصورت شعری عمل ہے۔ پرانی قدروں کے تعلق سے طنابیں ٹوٹنا اور شامیانہ ختم ہونے کا استعارہ بہت توجہ طلب ہے۔ بڑے شہروں میں اب شامیانے کم کم لگتے ہیں۔ عہد قدیم میں شامیانہ انسانی زندگی اور اس کے پر خلوص اجتماع کی علامت تھا ۔ شامیانے کا رشتہ دھوپ سے بہت گہرا ہے ۔وہ اس طرح کے شامیانہ دھوپ اور اس کی شدت کو روک دیتا ہے ۔گویا پرانی قدروں کی حیثیت ایک شامیانے کی تھی جسے آج کی زندگی نے ختم کردیا۔ تیسرے شعر میں جاتے ہوئے لمحوں کی چاپ سننا احساس کی سطح پر بہت سخت عمل ہے ۔ گزرتے ہوئے لمحوں کی چاپ سننا پرانی قدروں کے خاتمے کو محسوس کرنا ہے۔ اس کے بعد کے اشعار میں گل منظر کے نقش کے بدلنے کا احساس ، پرانی گلیوں اور مکان و مکیں کا ختم ہوجانے کا خیال، مویشی ، کھیت ، جنگل اور آسمان کے منظر نامے کا گم ہونا اور بار بار اجڑی ہوئی بستی و مکان کا تذکرہ کرنا پرانی قدروں سے محبت اور اس سے گہرے تعلق کا اظہار ہے ۔ آسمان آج بھی باقی ہے لیکن شہر سے اٹھنے والے دھوئیں اور غبارے نے اسے پاٹ دیا ہے ۔ پرانی شاعری میں آسمان آزمائش و ابتلاء کا استعارہ تھالیکن یہاں آسمان حسن فطرت کا استعارہ بن گیا ہے۔آخری شعر میں زندگی اور پرانی تہذیب کا درخت کے مانند سرنگوں ہونا اور نئی روایت کو طوفان ابروباد سے تعبیر کرنا بہت خوبصورت ہے۔ ہر نئی تہذیب پرانی تہذیب کو ختم کرتی ہے اور نئی تہذیب وقت کی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن پرانی قدروں کی یادیں ختم کرنا آسان عمل نہیں ہے۔ اس میں زندگی کی ترتیب ایک نئے طور سے نظرآتی ہے اور یہاں زندگی گذارنے کا انداز بھی پرانی قدروں سے بہت الگ ہے۔ شمیم حنفی کی غزلوں میں اس نئے شہر سے بیزاری تو نہیں ہے لیکن اس میں ایک طرح کی حیرانی کی کیفیت ضرور موجود ہے۔
(یہ بھی پڑھیں شوق نیموی کی غزل گوئی-ثاقب فریدی)
دن نکلا سب جاگے پھر دفتر کو بھاگے
اب کمروں کے اندر کیا ہے صرف اندھیرا
کس کو پتہ چلے گا کہ اک دن گذر گیا
دستک سرائے دل پہ اگر شام بھی نہ دے
بند کرلے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ
ڈوبتی آنکھوں سے اپنے شہر کا منظر نہ دیکھ
اک آہنی صدا کے اشارے پہ رات بھر
کیوں جاگتے ہیں شہر طلسمات کے مکیں
یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیر ا ہے
چمکتی دھوپ میں سونا پڑا تھا رات بھر ہم کو
یہ کیسے لوگ ہیں کیسا عجیب شہر ہے یہ
گھڑی ہے دن کی مگر سر پہ شامیانہء شب
اس شہر میں لوگوں کو مگر کام بہت ہیں
اس شہر میں راتوں کو اندھیرا نہیں کرتے
ہجوم سیر تماشے نمائشیں بازار
تمام شہر میں جیسے کہیں مکاں نہ رہے
ان اشعار میں مضامین کی سطح پر شہر کی زندگی اور اس کی مصروفیتوں کا ذکر ہے۔ اس طرح کے موضوعات تو نئی غزل میں مل جائیں گے ۔خاص کر رات کے اجالوں اور دن کے اندھیروں پر کئی اچھے شعر مل جائیں گے۔اور ان میں نئی زندگی کا بھر پور عکس ہے لیکن ان اشعار میں اظہار کی سطح بہت مختلف ہے۔ اس میں شہر کی زندگی کا تجربہ بھی ہے اور اس زندگی سے ایک خاموش شکوہ بھی۔ آج کی زندگی میں ہم عموماً ان مسائل سے دو چار ہیں اوراس طرز زندگی کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان اشعار کی داخلی کیفیت ہمیں نیند سے جگانے کا کام کرتی ہے۔ یہ اشعار کسی ایک نوع کی طرز زندگی کی تصویر نہیں بلکہ موجودہ زندگی کے تمام ڈھب اس میں شامل ہیں۔ ایک زندگی تو وہ ہے جس میں دن بھرکی بھاگ دوڑ شامل ہے ۔دوسری زندگی وہ ہے جس میں مستقل راتوں کا جاگنا ہے اور رات بھر تھک کر دن بھر کا سونا۔ اب ایسے میں یہ شعر
کس کو پتہ چلے گا کہ اک دن گزر گیا
دستک سرائے دل پہ اگر شام بھی نہ دے
احساس کی سطح کو متاثر کرتا ہے۔ دن بھر سونے کے بعد بالآخر شام کو پورے ایک دن کے گذرجانے کا احساس ہو تاہے۔ اگر اس طرز زندگی سے تعلق نہ بھی ہو تویوں بھی شام کو پورے دن کا گذرجانا گراں محسوس ہوتا ہے۔ اس شعر کے داخل میں ایک دھیمی آنچ جل رہی ہے جس میں ایک خاموش احتجاج بھی شامل ہے۔اس کے اظہار کی سطح بہت مختلف ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ اشعار بھی دیکھئے۔ (یہ بھی پڑھیں انشاء اللہ خاں انشاء کی قصیدہ گوئی- سید ثاقب فریدی)
یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیرا ہے
چمکتی دھوپ میں سونا پڑا تھا رات بھر ہم کو
یہ کیسے لوگ ہیں کیسا عجیب شہر ہے یہ
گھڑی ہے دن کئی مگر سر پہ شامیانہ شب
ان جیسے اشعار میں استعجابیہ لہجہ ہی دراصل قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ اس لہجے میں شہر کی زندگی پر ایک طنز ہے لیکن طرز اظہار کی شیرینیت طنز کے نشتر کو نمایاں نہیں ہونے دیتی۔ اسی لہجہ اور طرز اظہار کی شیرینیت قاری کے احساس کو متحرک کرتی ہے۔اور شعر سے اس کا ایک جذباتی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔وحید اختر نے اپنے مضمون’’ جدید شاعری اور فرد‘‘ میں یہ بات کہی تھی
’’ خیال خواہ کتنا ہی بڑا، کتنا ہی اہم ۔ کتناہی بلند کیوں نہ ہو جب تک وہ ذات کی بھٹی سے تپ کر نہ نکلے فن نہیں بن سکتا‘‘ ۱؎
نئی غزل میں تنہائی ، خاموشی ، سکوت زندگی کی بے ثباتی اور اس کے تئیں جو منفی رویہ قائم ہوا اسے رسمی شاعری نہیں کہا جاسکتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نوع کے مضامین رسم کے طور پر نہیں برتے جاسکتے اور پھر جہاں محض رسم کی ادائیگی مقصود ہوگی وہاں فن مجروح ہو گا ۔خصوصاً اس نوع کے مضامین میں وہ گھلاوٹ اور تاثیر پیدا نہ ہوسکے گی لہذا احساس کی گھلاوٹ اور جذبے کی گہرائی کے لیے وحید اختر کے مطابق اسے ذات کی پھٹی سے تپ کر نکلنا ہوگا۔ شمیم حنفی کی غزل میں بھی تنہائی ، سکوت اور خاموشی ہے جسے انہوں نے اپنے داخل میں جھلسا کر کندن بنایا ہے۔
میں اپنے شور میں گم تھا نہ سن سکا اس کو
وہ بے سبب ہی مجھے دیر تک پکارا کیا
دل کی ویرانی کا سایہ شام کے منظر میں ہے
گھر سے باہر بھی وہی کچھ ہے جو میرے گھر میں ہے
روشنی ہوگی تو سائے بھی ستم ڈھائیں گے
اور کچھ دیر چراغوں کو بجھا رہنے دے
جنگلوں کی رات کیوں آواز دیتی ہے ہمیں
ہم ابھی زندان بے خوابی سے اکتائے نہیں
ٹوٹ جاتا ہے نشہ لذت تنہائی کا
لوح خلوت پہ کوئی نقش ابھرتا کیوں ہے
سنا ہے دشت ہی کافی ہے ڈوبنے کے لیے
اب اس کے بعد سمندر کی سمت جائے کون
ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے
ایک سناٹا مگر چھایا ہوا احساس پر ہے
پھر فصیل شہر تک جاکر پلٹ آؤں گا
پھر وہی جنگل کا سناٹا بلاتا ہے مجھے
ہر طرف منظر بچھے ہیں خشک پتھریلی زمیں پر
ہر طرف الجھی ہوئی تنہائیوں کا سلسلہ ہے
ساحل جزیرے کشتیاں غرقاب سب ہوئے
اپنی فسردگی بھی سمندر کوئی نہ ہو
ان شعروں کی قرأت کے بعدطبیعت پر، اداسی ، تنہائی اور خموشی کی فضا کا احساس ہوتا ہے ۔ یہ تمام افسردہ رویے یونہی نہیں ہیں بلکہ ان میں زندگی کی تلخ او رکڑوی سچائی کا بہت کچھ حصہ شامل ہے۔ انسان زندگی بھر صرف ہنستا نہیں وہ روتا بھی ہے اور مسلسل رولینے کے بعد اداسی اور خاموشی اپنے پاؤں پھیلاتی ہے۔شمیم حنفی کی غزلوں میں اس نوع کے اشعار بہت ملیں گے بلکہ ممکن ہے اسی موضوع پر ان سے کوئی بہتر شعر مل جائے ۔ ان شعروں کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کسی شعر کی جانب اشارہ کر کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں تنہائی ہے اور اس میں اداسی ہے یا اس میں خاموشی اور سکوت ہے بلکہ بیشتر جگہوں پر مختلف کیفیتوں کی ملی جلی شکل نظر آتی ہے۔ ایک ہی شعر میں الگ الگ کیفیتوں کا رنگ موجود ہے۔ مثال کے طور پر آخر الذکر شعر دیکھئے۔ (یہ بھی پڑھیں فلسفہ اور ادبی تنقید- عامر سہیل )
ساحل جزیرے کشتیاں غرقاب سب ہوئے
اپنی فسردگی بھی سمندر کوئی نہ ہو
اب شعر میں ساحل اور جزیرے کا لفظ ایک بیکراں سناٹے اور عالم ہوکی علامت ہے۔ اس میں خاموشی بھی ہے ۔ سمندر کا لفظ بجائے خود نئی غزل میں خاموشی کااستعارہ ہے اور فسردگی کالفظ ایک گہری اداسی پر دلالت کررہاہے۔ اس شعر میں کئی تصویریں موجود ہیں۔ یہاں تاریکی ،خاموشی، تنہائی، گہرائی اور ایک ہولناک سناٹے کی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اپنے شور میں گم ہوجانا، روشنی کے بجائے تاریکی پسند کرنا ، جنگلوں کے سناٹے کی آواز سننا اور اس جانب کا قصد کرنا ، اپنے اندرون میں سناٹا محسوس کرنا ، یہ سب زندگی کے مسلسل جبر کا فطری نتیجہ ہیں ۔ان میں ایک بھی کوئی ایسی کیفیت نہیں جسے بالا رادہ کسب کیا گیا ہو۔ ان شعروں کو اظہار کے جس پیرائے میں برتا گیا ہے یہ شاعرانہ ہنرمندیوں کی دلیل ہے۔ ان شعروں میں خود کلامی کا لہجہ ان کے حسن میں اضافہ کرتا ہے ۔ شمیم حنفی کی غزلوں میں بعض اوقات خود کلامی کا لہجہ احساس کو گھلا دینے والی کیفیت پیدا کرتا ہے۔اس ضمن میں یہ اشعار بھی ملاحظہ کریں:
پھر دل سے گفتگو کا ہوا ختم سلسلہ
پھر یہ گماں کے روح کے اندر کوئی نہ ہو
اپنے سایے کو نہ اس طرح سے ٹھکرانا تھا
زندگی ایسی شرارت سے تو باز آنا تھا
بس آئینے میں کبھی خود کو دیکھ لیتے ہیں
وہ روز روز کا ملنا ملانا ختم ہوا
نہ تیرگی نہ اجالا یہ کیسی دنیا ہے
کہ صبح نیند سے بوجھل ہے شب چراغ نصیب
ہر کہانی ایک حرف رائیگاں تک جائیگی
زندگی معلوم ہے سب کو کہاں تک جائیگی
ایک دن مسمار ہوجائیگی آوازیں تمام
ایک دن ہر بات احساس زیاں تک جائے گی
چٹختی گرتی ہوئی چھت اجاڑ دروازے
اک ایسے گھر کے سوا حاصل سفر کیا تھا
ان شعروں میں خود کلامی کا لہجہ احساس میں گھلاوٹ کی فضاہموار کرتاہے۔ اس میں حیرانی بھی ہے اور فنا کا احساس بھی ۔جو چیز بھی عالم وجود میں آتی ہے اسے فنا ہونا ہے لیکن اس قدر فنا کا احساس زندگی کے تئیں بیزاری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہ زندگی کے خلاف ایک منفی رویہ ہے۔ ہر کہانی کو بالآخر ایک دن ختم ہونا ہے۔ اس رویے میں زیاں کا احساس کسی خود رو پودے کی طرح نہیں اگ آیا ہے بلکہ اس کے پس منظر میں زندگی کی سچائی پوشیدہ ہے۔ شمیم حنفی کی غزلو ں میں فنا کا احساس تو ہے لیکن فنا کے تئیں ان کا رویہ مثبت ہے یعنی اس میں آہ و گریہ اور نوحہ کی روش نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ جہاں فنا کا احساس بڑھتا ہے وہاں ان کی غزلوں میں فضا سو گوار ہوجاتی ہے۔ اوپر کے آخری شعر میں چٹختی گرتی ہوئی چھت اور اجاڑ دروازہ صرف کسی ایک گھر کا زوال نہیں ہے بلکہ یہ ایک پوری تہذیب ، اور زندگی کے رشتوں کا زوال ہے۔ اس نوع کی اور بھی مثالیں شمیم حنفی کی غزلوں میں موجود ہیں۔
تاریکیوں نے شام کو نرغے میں لے لیا
دن پر لکھی ہوئی تھی مری سرگذشت بھی
ہر ہر قدم پہ اپنے ہی سائے کا سامنا
یہ وقت آچکا ہے تو ہوگی شکست بھی
آوازۂ جرس کی طرح ڈوب جائے گی
اس دشت بیکراں میں مری سرگذشت بھی
گرنی ہی تھی اک روز یہ دیوار بدن کی
یہ راہ کا پتھر بھی ہٹانے کے لیے تھا
ہمیں غرور تھا سو ہم بھی ڈوب گئے
ہماری آنکھوں کو اندازۂ سراب نہ تھا
شمیم حنفی کی غزلوں میں جسم اور روح کی کشمکش بھی فنا کے اس احساس کو جلا بخشتی ہے ۔ جسم اور روح میں ایک فرق تو یہ ہے کہ جسم فنا ہوجاتا ہے اور روح باقی رہتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جسم اور روح کو علاحدہ علاحدہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ احساس کے تما م رشتے روح سے قائم ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جسم کی موت کے بعد بھی احساس باقی رہتا ہے۔ اب شعر دیکھئے: (یہ بھی پڑھیں شدت احساس کا شاعر: شکیل جمالی (’’کٹورے میں چاند‘‘ کی روشنی میں) – پروفیسر خالد محمود)
یہ جسم و روح کی دوری بھی اک معمہ ہے
ہزار کوس چلے فاصلہ نہ ختم ہوا
رنگ دکھلائی دئے جسم کے زنداں میں اسیر
آئینے روح کے تصویر طلب لگتے ہیں
ایک بے نام و نشاں روح کا پیکر ہوں میں
اپنی آنکھوں سے الجھتا ہوا منظر ہوں میں
آسماں حد نظر تک ایک بحر بے کراں
روح پیاسی ہے مگر سمٹی ہوئی پیکر میں ہے
شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا
مجھ کو اپنی روح کی ویرانیوں سے ڈر لگا
پہلے شعر میں جسم اور روح کے مابین فاصلے کا احساس دراصل ایک نفسیاتی کشکمش کا اظہارہے۔جسم ایک مادی اور مرئی شئے ہے جبکہ روح ایک غیر مادی اور غیر مرئی شئے۔ ایک طویل زندگی گزارنے کے باوجود روح کو بالآخر جسم سے آزاد ہوجانا ہے ۔اس طرح دونوں کے درمیان کا فاصلہ مزید بڑھ جانا ہے۔ایسی صورت میں جسم و روح کے فاصلے کا احساس بالکل فطری معلوم ہوتا ہے ۔ دوسرے شعر میں روح کے اندررنگوں کا تصور بہت بامعنی ہے۔ جسم کو تو عموماً زندان کہا گیا ہے لیکن روح کے لئے آئینہ کالفظ ایک نئی تعبیر معلوم ہوتی ہے۔پھر آئینے کا تصویر طلب ہونا بھی بہت خوبصورت ہے۔ گویا جسم روح کا آئینہ ہے ۔ تیسرے شعر میںخود کو بے نام و نشاںروح کا پیکر کہنا اپنے وجودکی تلاش ہیاور خود اپنے آپ سے الجھنا ایک گہری کشمکش کا اظہار ہے۔ایک انسان زندگی بھر اپنی ہی تلاش میں رہتا ہے لیکن تلاش مکمل نہیں ہو پاتی۔۱۹۶۰ کے بعد کی غزلوں میں انکشاف ذات اور تلاش ذات کا مسئلہ بہت شدت کے ساتھ نظر آتا ہے۔شمیم حنفی کی غزلوں میں بھی یہ مسئلہ مختلف کیفیتوں کے ساتھ موجود ہے۔ چوتھے شعر میں روح کی پیاس کا اظہار اوربے کراں آسمان میں پرندوں کی طرح اڑنے کا خیال روح کی زندگی اور اس کی بیکراں خواہشوں کی طرف اشارہ ہے۔دنیا میں آسمان اپنی وسعتوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ عظیم ہے اور پھر پیاس کی حد بھی متعین نہیں کی جا سکتی ۔اس طرح آسمان اور پیاس کے مابین ایک طرح کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ آخری شعر میں روح کی ویرانیوں کا خوف ایک بالکل الگ تصویر ہے جس کا رشتہ شام سے بہت گہرا ہے۔اس شعر میں صحن جاں کی ترکیب بھی خوب ہے وہ اس طرح کہ جان ایک لطیف شئے ہے جبکہ صحن لطیف نہیں ہے ۔ شمیم حنفی کی غزلوں میں شام کا کرب اوراس کی ہولناکی کا ذکر بار بار آتا ہے اور اس کار شتہ اداسی ، مایوسی اور خاموشی سے قائم ہو جاتا ہے۔
آتی تھی روز نیند کی سوغات لے کے شام
پہلے یہ ہاؤ ہو یہ طلسمات شب نہ تھے
دریا بھی لہو رنگ تھا آنکھیں بھی لہو رنگ
کل شام کے ہاتھوں میں تھی تلوار عزیزو
زوال شام کی ساعت تمہیں بتائے گی
کہ آسماں سے اترتی ہے موج خوں کیسے
آج اس گہرے اندھیرے غار میں اترے گا کون
ساحل شب پر کھڑی کس کو صدا دیتی ہے شام
دیکھ لے مجھ کو ابھی کچھ روشنی باقی ہے مجھ میں
شام تک اک ریت کا طوفان آنے کی خبر ہے
گرد میں الجھی ہوئی ہر رات پیاسی آئے گی
سوکھ جائے گا گھڑی بھر میں سمندر شام کا
ان اشعار کو دیکھ کر شمیم حنفی کی غزل میں شام اور اس کے کرب کی مختلف کیفیتوں کا احساس ہوتا ہے۔ شام کی ان چھ تصویروں میں احساس کے کئی رنگ ہیں۔ جیسے زندگی کی ہر شام ایک الگ الگ کیفیت کی حامل ہے اسی طرح ان چھ اشعار میں ایک الگ کیفیت کا اظہار ہے۔ زوال شام کی بات ہو، ساحل شب پر شام کے صد ا دینے کی بات ہو، شام کو ایک گہرے اندھیرے غار کہنے کا رویہ ہو یا پھر شام کو ایک سمندر خیال کرنے کا احساس، ہر تصویر کا الگ رنگ ہے اور پھر یہ بھی دیکھئے کہ ہر تصویر مکمل ہے۔مثلاً ایک ہی شعر میں گہرے،اندھیرے ،غار،ساحل، شب ،صدا،شام سارے الفاظ آ گئے ۔یعنی حولناکی کی تصویر بنانے کے لئے جتنے رنگ درکار تھے وہ سب استعمال کئے گئے۔ جسم و روح کی کشمکش کی تصویریں ہوں یا اداس شاموں کے منظر مے اتنی جہتوں سے ایک ہی چیز کو دیکھنے کا رویہ نئی غزل میں کم کم نظر آتا ہے۔ صرف یہی نہیں اس تعلق سے شمیم حنفی کی غزلوں میں اور بھی تصویریں موجود ہیں اور اس شام کے کرب میں اندھیرے کا احساس بھی موجود ہے۔ یہ اندھیرا صرف شام کا اندھیرا نہیں ہے بلکہ اس کاتعلق زندگی کی تاریکی اور فرد کے اندرون سے بھی ہے ۔ جسم و روح کی کشمکش ، شام کے کرب کے ساتھ ان غزلوں میں اندھیرے پن کے مرقعے بھی بہت صاف ہیں۔
کالی مٹی کالا بادل کالا پانی
میں نے بس اک لفظ سنا ہے صرف اندھیرا
دھوپ کے دشت میں سایوں کی دیوار کھڑی ہے
تجھ تک آنے کا رستہ ہے صرف اندھیرا
گھنے اندھیروں میں بھٹکیں گی عمر بھر آنکھیں
تماشہ بن گئے خوابوں کی پاسبانی کے بعد
نیلے سرخ سفید سنہرے ایک اک کر ڈوب گئے
سمتوں کی ہر پگڈنڈی پر کالا رنگ پگھلنے لگا
اندھیرے دوڑ کر آئے پناہ کی خاطر
ہمارے گھر کا دریچہ اگر کھلا دیکھا
اندھیروں کی اتنی تصویریں حالت دل کی شفاف ترجمانی کرتی ہیں۔ ان تصاویر کی سیاہی کارشتہ کائنات سے بھی ہے اور متکلم کے اندرون سے بھی۔ یہ سیاہی اوراس کا کالاپن کسی ایک فرد کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس اندھیرے پن کی فضا ایک پورے عہدسے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں منظر کا ہر رنگ شامل ہے اور مظاہر فطرت کی ہر شئے موجود ہے۔ مٹی ، بادل ، پانی ، دھوپ ، ہوا، چہار سمت میں کالا رنگ محسوس کرنا کوئی آسان عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل کرب کا علامیہ ہے۔ اس کرب میں کالے سایے اور سیاہی کا بھی ایک بڑا حصہ ہے۔ ان تمام اشعار میں سیاہی جامد نظر نہیں آتی بلکہ ایک سیال صورت میں ہے ۔ منجمد ہونے کے بجائے سیال صورت زیادہ خوفناک اور پر تشدد ہوجاتی ہے۔صرف اندھیرے کا لفظ سننا،گھنے اندھیروں میں عمر بھر بھٹکنے کا احساس ہونا،ہر پگڈنڈی پر سیاہی نظر آنا اور اندھیروں کا گھر کے دریچوں کی جانب دوڑپڑناوغیرہ سیاہ رنگ سے ایک گہرے تعلق ہی کی علامت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ ہما شیرازی )
شمیم حنفی کی غزل لوح دل پھر پھیلی ہوئی اداسی، تنہائی اور خاموشی سے جب باہر نکلتی ہے تو مظاہر کائنات سے ایک گہرا رشتہ استوار کرلیتی ہے۔ مناظر فطرت سے اس کا لگاؤ داخل کی ایک نئی فضا دریافت کرلیتا ہے۔ یہاں ہوا، روشنی، آب رواں ، خلاء ، غبار ، دھوپ ، پرچھائی ، دن کی تابناکی ، رات کی سیاہی، ستارے ، چاند ، سورج، زمین و آسماںن، ساحل و سمندر ، دریا، شفق کی لالی سب کچھ ہیں۔مناظر کے حسین مرقعوں میں ڈوب کر شمیم حنفی کی غزل جاذب نظر اور خوبصورت ہوجاتی ہے۔ انہوں نے مناظرقدرت کی اس قدر خوبصورت تصویریں بنائی ہیں کہ نئی غزل میں ایک شاعرکے یہاں مناظر کا اتنا تنوع کم نظر آتا ہے۔
سرمئی گہرا خلاء بے جان لمحوں کا غبار
میں نہ کہتا تھا گل منظر کو مرجھانے نہ دے
کھلے گی دھوپ جب پرچھائیاں پیٹروں سے نکلیں گی
یہ منظر بھی اسی سمٹے ہوئے منظر میں رہتا ہے
دن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرح
پھیلتا جاتا ہے اک قطرہ سمندر کی طرح
ڈوبتے سورج کا ہر منظر مری آنکھوں میں ہے
کیسا پاگل ہے اندھیروں سے ڈراتا ہے مجھے
دیوار سے دیوار بھی آزاد نہیں ہے
موہوم خلاؤں میں بھی زندان ہوا ہے
ٹھہر گیا ہے کہ منظر غروب کا دیکھے
مری نگاہ کی صورت ندی کا پانی بھی
تو جزیرہ ہے تو مجھ سے ترا رشتہ کیا ہے
میں سفینہ ہوں سمندر مجھے بہنے دے گا
دھوپ سمٹی تو گھنی چھاؤں کا جادو ٹوٹا
اور کچھ رنگ نئے شاخ و شجر میں آئے
نیلے سفید سرخ سنہرے سیاہ زرد
سائے بھی روز رنگ بدلتے ہوئے لگے
سنا ہے آج لہو آسماں سے برسے گا
ہوائے سبز میں تحلیل ہو چکے پتھر
دھوپ ڈھلتی ہے تو ہم گھر سے نکل جاتے ہیں روز
دل ہے اک ڈھلتے ہوئے منظر کا شیدائی بہت
ان شعروں میں سرمئی گہرا خلاء اور گل منظر کا مرجھانا، دھوپ کا پیڑوں کی پرچھائیوں میں چھپا ہوا ہونا ، دن کا اجلے کبوتر کی طرح نکلنا ، ڈوبتے سورج کا اندھیروں سے رشتہ، خلاؤں میں زندان ہوا کا خیال ، ندی کے پانی کا غروب آفتاب کے منظر کو ٹھہر کر دیکھنا ،سفینے کی طرح سمندر میں بہنے کا تصور ، دھوپ کے سمٹنے اور گھنی چھاؤں کا جادو ٹوٹنے کا منظر، نیلے سفید سرخ سنہرے اور سیاہ سایوں کا روز رنگ بدلنا، سبز ہواؤں میں پتھروں کا تحلیل ہوجانا اور ڈھلتے ہوئے منظر کا شیدائی ہوجانا احساس کی تراشی ہوئی ایک نئی تصویر ہے۔ نئی غزل میں مناظر کی مختلف تصویر یں تو ملتی ہیں لیکن اتنے دلکش رنگ ایک ساتھ دیکھنے کوکم کم ملتے ہیں ۔ شمیم حنفی کی غزلوں کے علاوہ زیب غوری کی غزلوں میں بھی مناظر فطرت سے گہرا سروکار پایا جاتاہے۔ ساحل، سمندر، پیڑ، سورج کا ڈوبتا ہوا منظر، اندھی ہوا اور دھوپ وغیر ہ کی تصویریں زیب غوری نے بہت خوبصورت بنائی ہیں ۔ ان تمام منظر ناموں سے ان کے داخل کا بڑا گہرا انسلاک ہے۔ شمیم حنفی اور زیب غوری کی ان تصویروں کے مابین بعض اوقات بہت کم فرق نظرآتا ہے ۔زیب غوری اور شمیم حنفی دونوں کی غزلوں میں مناظر فطرت کا رشتہ اندرون ذات سے قائم ہوجاتا ہے اور اس منظر میں وجود کا نقش ابھرنے لگتا ہے ۔میں ان کی چند مثالیں یہاں پیش کرتا ہوں۔
اندھی ہوا نے توڑ دی سب کے بدن کی ڈھال
اب اے دیار حسن ستمگر کوئی نہ ہو
ٍخلا کی دھجیاں بکھری ہوئی ہیں چاروں طرف
بہت اداس ہوئے لوگ کامرانی کے بعد
شب گزیدوں سے وہیں صبح کی سازش ہوگی
میرا سورج بھی اسی شام کے گھر جائے گا
مری طرح تری کشتی بھی ڈوب جائے گی
طلسم آب میں الجھا ہوا کنارہ دیکھ
زمین سخت تھی دریا بھی منجمد نکلے
گذر سکا نہ کوئی شخص سطح آب سے بھی
بوجھ سے کتنی پریشاں تھیں ہوائیں
سارے ہنگامے انہی کے دوش پر تھے
ان شعروں میں صرف فرد کی ذات نہیں ہے بلکہ ان کا رشتہ زندگی اور سماج کے دوسرے افراد سے بھی ہے۔ان مناظر کا ایک رشتہ تہذیب سے بھی قائم ہو جاتا ہے اور یہی وصف شمیم حنفی کے مناظر کوزیب غوری کے مناظر سے مختلف کر دیتا ہے۔ وحید اختر نے اپنے ایک مضمون ’’ جدید شاعری اور فرد‘‘ میں نئی غزل کے سماجی، معاشرتی اور روحانی رویوں کے تعلق سے لکھا ہے ۔
’’جدید شاعری کے معترضیں یہ کہتے ہیں کہ آج کا شاعر اپنی ذات کے خول میں بند اور اس کے حصار میں محصور ہے۔ یہ اعتراض سچائی پر مبنی نہیں ۔ فرد اپنے آپ کو معاشرے اور کل کائنات سے الگ کر ہی نہیں سکتا ۔ اسلئے غم ذات بھی غم جاناں اور غم دوراں بن کر رہتاہے۔ فرق صرف راستے کا ہے۔ پہلے ہماری شاعری براہ راست غم جاناںاور غم دوراں کی بات کرتی تھی لیکن اس وقت شاعروں نے یہ بات فراموش کردی تھی کہ شاعری ہو یا فن لطیف اس کی بنیاد ہمیشہ خالق کی اپنی ذات اس کے ذاتی تجربات و احساسات اور جذبات ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج ہماری شاعری برسوں سماجی شعور کا درس لینے کے بعد اتنی بالغ نظر ہوگئی ہے کہ وہ ہر خیال اور ہر تجربے کو انفرادی احساس کی آگ سے گذارنا سیکھ گئی ہے ۔ آج کا شاعر بھی اپنے عہدے کے سیاہی، سماجی، اور معاشی، اخلاقی اور روحانی مسائل پر سوچتا اور لکھتا ہے اور شاید زیادہ شدت سے ، زیادہ گہرائی میں جاکر لیکن اس کا انداز فکر اور طرزاحساس بیشتر صورتوں میں داخلی اور موضوعی subjectiveہوتاہے‘‘ ۲؎
شمیم حنفی کی غزلوں میں بھی سماج اور معاشرے سے ایک گہرا تعلق ہے۔ اس میں ان کی داخلی حس کا بھی بڑا حصہ ہے۔ زندگی کے مٹے ہوئے نقوش کو انہوں نے نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ انہیں ایک نئے طور سے ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ زیب غوری کی غزل میں ان کی داخلی آنچ کی لو زیادہ تیز ہے اور اپنے وجود کی تلاش کا رویہ زیادہ حاوی نظرآتا ہے ۔ مناظر اور مظاہر کی تصویر کشی میں مجھے ان دونوں کے یہاں بعض اشعار ایسے نظرآئے جن میں موضوع کا اتحاد، اظہار کی یکسانیت اور مناظر کی تصویر میںبڑی مماثلت ہے۔میں انہیں یہاں پیش کرتا ہوں
نمبرشمار
شمیم حنفی
زیب غوری
(۱)
میں لفظ لفظ بکھرتا رہا فضاؤں میں
مری صدا سے وہ کرتا رہا شکار مجھے
اسی نواح میں میری صدا بھی ہے خاموش
پس غبار کہیں فرد فرد میں بھی ہوں
(۲)
شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آلگا
ڈوبتی آنکھوں کو یہ منظر بہت اچھا لگا
بے رنگ ساعتوں میں کبھی کام آئے گا
دریا سے ڈوبتا ہوا منظر نکال لے
(۳)
اس کنارے سے کوئی آواز آتی ہے مگر
کشتیاں ٹوٹی ہوئی دریا میں گہرائی بہت
ایسا لگا ہے جیسے خموشی میں شام کی
میں ہی کھڑا ہوا ہوں سمندر کے پار بھی
(۴)
ہر ہر قدم پہ اپنے ہی سائے کا سامنا
یہ وقت آچکا ہے تو ہوگی شکست بھی
گھرا ہوں اپنی ہی پرچھائیوں میں چارطرف
پڑا ہے اب کے عجب دشمنوں سے رن میرا
(۵)
آسماں حد نظر تک ایک بحر بے کراں
روح پیاسی ہے مگر سمٹی ہوئی پیکر میں ہے
یہ آسماں یہ صحرائے بے شکن یہ سکوت
سفر میں زیب کہاں چھٹ گیا بدن میرا
(۶)
اک دور کنارہ ہے وہیں جاکے ملیں گے
بستی میں تو آثار ٹھکانے کے نہیں ہیں
لے چلی مجھ کو گھٹا ساحل پہ بہلاتی ہوئی
کیا طبیعت تھی مری بستی سے اکتائی ہوئی
(۷)
پھر دل سے گفتگو کا ہوا ختم سلسلہ
پھر یہ گماں کے روح کے اندر کوئی نہ ہو
آج اس قریۂ ویراں میں یہ آہٹ کیسی
دل کے اندر ہے نہ کوئی اور نہ باہر کوئی
(۸)
چٹختی گرتی ہوئی چھت اجاڑ دروازے
اب ایسے گھر کے سوا حاصل سفر کیا تھا
رنج سفر ازل سے ابد تک اٹھا کے بھی
دامن میں صرف گرد مسافت ملی مجھے
(۱) یہاں شمیم حنفی کے شعر میں لفظ لفظ کی تکرار ہے اور زیبؔ کے شعر میں فرد فردکی تکراراور دونوں کے یہاں صدا کا لفظ ہے۔لفظ لفظ بکھرنا اور فرد فرد ہونا تقریباً ایک ہی کیفیت ہے۔زیب غوری کے شعر میں فرد فرد ہونے کا رشتہ غبار سے قائم ہو جاتا ہے اور یہ غبار زندگی کا بھی ہے اور فضاء کا بھی۔فرد فرد ہونے کی تصویر غبار کے ذروں سے بہت مماثل نظر آتی ہے۔ زیب غوری کے شعر میں ’’ میری صدا بھی‘‘ اور ’’ میں بھی ہوں ‘‘ کا فقرہ شدت احساس کا علامیہ بن گیا ہے اور اس میں احتجاج کی لے دھیمی نظر آتی ہے۔شمیم حنفی کے شعر میں لفظ لفظ کا رشتہ صدا سے بہت گہرا ہے ۔اس عمل میں تسلسل بھی ہے اور صدا کے ذریعہ شکار ہونا بھی جو زیادہ خوفناک ہے۔
(۲)شام کے ساحل پر سورج کا سفینہ آنا زندگی کی شام بھی ہے ۔ شمیم حنفی کی غزل میں شام اپنی مختلف صورتوں اور کیفیتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔ ’’ڈوبتی آنکھوں ‘‘کا فقرہ بھی زندگی کی شام ہے اور ڈوبتے سورج سے بہت مماثل بھی ہے۔شمیم حنفی اور زیب غوری دونوں کے یہاںڈوبتے ہوئے منظر کے تئیں پسندیدگی کا جذبہ ہے۔گویاڈوبتے سورج کا منظر پسند آنے کے رویے میںزندگی کا احساس شامل ہے۔زیب کے شعر میں کسی اور وقت کے لئے دریا سے ڈوبتا ہوا منظر نکال لینے کا خیال بہت خوبصورت ہو گیا ہے۔زیب غوری نے ڈوبتے ہوئے سورج کو زندگی کے طور پر دیکھا ہے۔ اس میں ڈوبتی آنکھوں کا احساس شامل نہیں ہے۔ بے رنگ ساعتوں کے لیے ڈوبتے ہوئے سورج کا منظر چرا لینا مستقبل کے تئیں ایک مثبت رویے کا اظہار ہے۔
(۳) شمیم حنفی کے شعرکے دوسرے مصرعے میں کشتیوں کی شکستگی اور دریا کی گہرائی ایک دوسرا معاملہ ہے۔ لیکن ’’ اس کنارے سے کوئی آواز آتی ہے مگر‘‘کے مصرعے میں وہی احساس ہے جو زیب غوری کے یہاں ہے۔ یعنی دوسرے کنارے پر بھی خود کو محسوس کرنا۔شمیم حنفی کے یہاں ایک جگہ یہ مصرع بھی ہے کہ’’دریا میں خود کو چھوڑ کے اس پار میں ہی تھا‘‘اس مصرعے کی قرأت کے بعد زیب غوری کے مضمون سے شمیم حنفی کے دونوں مصرعوں کا مضمون بہت مماثل ہو جاتا ہے ۔زیب غوری کے شعر میں بیک وقت سمندر کے دوسرے کنارے پر بھی خود کو کھڑا ہوا محسوس کرنا دراصل شام کی بیکراں خموشی میں گم ہوجانا ہے۔اس شعر میں خارجی فضاء کی خاموشی اور متکلم کے اندرون کی خاموشی کے مابین ایک گہرا رشتہ ہے اور یہی رشتہ زیب غوری کے شعر کا حسن ہے۔
(۴)اس جگہ دونوں اشعار میں خود اپنی ہی پرچھائیوں میں گھرا ہونا بہت با معنی ہے۔دوسروں کے مقابلے میں اپنوں کی دشمنی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے اور یہاں انسان اپنی تمام تر قوتوں کے باوجود شکست سے دو چار ہو جاتا ہے۔ شمیم حنفی کے شعر میں’’ہر ہر قدم پہ اپنے ہی سائے کا سامنا ‘‘اور زیب غوری کے شعر میں ’’گھرا ہوں اپنی ہی پرچھائیوں میں چار طرف ‘‘ایک ہی احساس کی دو تعبیریں ہیں ۔ زیب غوری کے شعر میں لفظ دشمن کی مناسبت سے گھراہونے کا فقرہ بہت خوبصورت اور بامعنی ہے۔شمیم حنفی کے شعر میں شکست کا لفظ ہے جبکہ زیب کے شعر میں شکست کا لفظ نہیں ہے لیکن چاروں طرف دشمنوں سے گھرا ہونا شکست کو بہت قریب لا کھڑا کرتا ہے۔زیب کے شعر میں در اصل شکست کا ایک معنی ابھارنے کے لئے دشمن کا لفظ لایا گیا ہے اور دشمن بھی اپنی ہی پرچھائی ہے ۔پرچھائی کا رشتہ جسم سے سب سے قریب بھی ہے لہذا اتنا قریبی کوئی اگر دشمن ہو جائے تو پھر شکست لازمی ہے۔
(۵)اس جگہ شمیم حنفی اور زیب غوری دونوں کے اشعار کے پہلے مصرعوں میں آسمان کی لامتناہی وسعتوں کا ذکر ہے۔شمیم حنفی نے یہاں آسمان کو تا حد نظر ایک بحر بے کراں کہا ہے اور ان کے یہاں دوسرے مصرعے میں بحر کی مناسبت سے پیاس کا لفظ ہے۔جبکہ زیب غوری نے آسمان کو صحرائے بے شکن سے تعبیر کیا ہے اور اس کی فضاء میں سکوت کا نقش اجاگر کیا ہے ۔ان کے یہاں روح صحرائے بے شکن آسماں کے سفر میں بہت دور نکل چکی ہے اوربدن کی قید بہت پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ جبکہ شمیم حنفی کے شعر میں روح بے کراں آسمان میں سفر کی ابھی پیاسی ہی ہے اور جسم کے پیکر نے اسے ابھی سمیٹ رکھا ہے۔ دونوں اشعار کے مابین ایک لطیف فرق یہ ہے کہ زیب غوری کے شعر میں بدن کے بہت پیچھے چھوٹ جانے کا احساس ابھر آیاہے اور شمیم حنفی کے شعر میں روح کی پیاس کے باوجود پیکر جسم میں قید ہونے کا ملال شامل ہے۔ زیب غوری کی غزل میں روح کی یہ پرواز بہت نظرآتی ہے لیکن اس اڑان میں زندان جسم حائل نہیں۔
(۶)اس جگہ دونوں اشعار میں بستی سے اکتاہٹ اورسمندر کے کنارے یاساحل سے مانوسیت نظر آتی ہے۔خاص کر شمیم حنفی کے یہاں’’بستی میں تو آثار ٹھکانے کے نہیں ہیں‘‘کا مصرع خوبصورت اور بہت با معنی ہے۔ ٹھکانے کے آثار نظر نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ طبیعت جس ماحول اور معاشرے سے مانوس تھی اس میں غیر معمولی تبدیلی آ چکی ہے۔پرانے معاشرے اور ماحول کے آثار بھی ختم ہو چکے ہیں۔لہذا اس پوری کیفیت کے اظہار کے لئے ’’آثار ٹھکانے کے نہیں ہیں‘‘کا فقرہ بہت خوبصورت ہو گیا ہے۔ بستی کے شور شرابے یوں بھی طبیعت میں اکتاہٹ پیدا کر دیتے ہیںاور پھردونوں جگہ اس رویہ میں تنہائی پسندی کا عنصر بھی شامل ہے ۔ ساحل اور سمندر کے کناروں پر خاموشی اور تنہائی زیادہ ہوتی ہے ۔اس تنہائی سے اپنے داخل کا رشتہ قائم کرلینا آسان نہیں ہے۔شمیم حنفی کے شعر میں بستی سے جس قدر اکتاہٹ اور جتنا دور نکل جانے کا شدت احساس ہے زیب غوری کے شعر میں وہ بات نظر نہیں آتی۔
(۷) اس جگہ شمیم حنفی کے شعر میں روح کا لفظ ہے جبکہ زیب غوری کے شعر میں دل کا لفظ ۔انسان جب کسی سے تما م رشتے ختم کرلے اس کے باوجود اس کی یادیں دل پر دستک دیتی ہیں ۔دل سے گفتگو کا سلسلہ ختم ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ تعلق خاطر جو کبھی تھا ختم ہو چکا۔زیب غوری کے شعر میں دل کے لئے قریہء ویراں کا استعارہ اور اس میں آہٹ کا احساس بہت خوبصورت ہے۔دونوں جگہ خیال کا رنگ ایک ہے۔یعنیی ایک مدت تک بے تعلقی کے بعد اچانک سے اندرون میں کسی کے موجود ہونے کا احساس۔پھر یہ احساس یونہی اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ سے رہتا ہے البتہ اس احساس کی لئے مدھم پڑ جاتی ہے۔
(۸) زیب غوری کے شعرمیں گرد مسافت کی ترکیب بہت خوب ہے اور شمیم حنفی کے یہاں چٹختی گرتی ہوئی چھت اور اجاڑ دروازے زندگی کی تلخ سچائی کی تصویر کشی ہے۔دونوں جگہ شعر کا مضمون زندگی کی تمام ترمشقتوں کے باوجود تہی دستی کا اظہار ہے۔زیب کے شعر میںازل سے ابد تک کی تحدیدشعر کو بہت وسیع پس منظر میں دیکھنے پر امادہ کرتی ہے۔ تمام تر مشقتوں کے باوجود دامن میں گرد مسافت کا ملنا ہی در اصل زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جبکہ شمیم حنفی کے شعر میں چٹختی گرتی ہوئی چھت اور اجاڑ دروازے کی تخصیص زندگی کی بدصورتی اور اس کے قبیح چہرے کی تصویر کشی ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں ادب میں انسان دوستی کا تصور – پروفیسر شمیم حنفی )
حوالہ
۱؎ ’’جدید شاعری اور فرد‘‘ مضمون نگار وحید اختر رسالہ’’ شاعر ‘‘ممبئی۔ جلد۳۸،شمارہ ۸۔۹ ۔۱۹۶۷
۲؎ ’’جدید شاعری اور فرد‘‘ مضمون نگار وحید اختر رسالہ ’’شاعر‘‘ ممبئی۔جلد۳۸،شمارہ ۸۔۹ ۔۱۹۶۷
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کا ان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

