سر سید علیہ الرحمہ کی یاد میں
گلشن قوم کا باغباں ہو گیا
اس کا کوچہ ہمارا جہاں ہوگیا
ایک پودا جو اس نے لگایا یہاں
دیکھتے دیکھتے گلستان ہوگیا
علم و فن کا وہ مہتاب چمکا
بہت ایک ستارہ تھا جو کہکشاں ہوگیا
قافلہ قوم کا پھر نہ بھٹکے کہیں
منزل دہر کا اک نشاں ہوگیا
اس کا دامن محبت سے بھر پور تھا
اتنا پھیلا کہ بس آسماں ہوگیا
مفلسی قوم کی دیکھ کر رو دیا
زندگی سونپ دی ارمغاں ہوگیا
محمد غزالی خان علیگ
ایم اے انگلش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی


20 comments
عمدہ 🥰
Masha Allah very well composed
Well written
MashaAllah
Well composed
Memories revived thank you for such a beautiful poem
💥💥💥💥💯💯💯bht umdah
Bht aaalaaa1💯💯💯💥💥💥💥💥
Masha Allah it’s beautiful
Beautiful…Wow
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کھوں گا
جادو ہیں تیرے نین غزالاں سوں کھوں گا….
ماشہ اللہ ..بہت ہی خوبصورتی سے بیان کیا کچھ ہی اشعار میں.. ❤👏😊
👏
You write so well. Masha Allah
Bohot khub bhai… 👌Aligarh ki tho baat hi kuch aur hai aur jab aap jaise masha allah
talimi aftab log inti khubsurti se bayan karte hain tho bohot khushi hoti hai… Allah apko aur taraqqi de… Ameen
Mashaallah bht hi umdah likha hai
Very nice
Masha Allah 👍👍
Beautifully composed..
ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائیں گے ان کو (حالی)
تخلیقی زبان کی بڑی بات یہ ہوتی ہےکہ اس میں لفظ اپنے لغوی معنی سے کہیں آگے نکل جاتا ہےاور معنی ومفہوم کی ایسی دنیا آباد کرتا ہے جسے صرف حواس کی سطح پر دریافت کیا جاسکتا ہے- ان شعروں میں دیکھیے کہ محمد غزالی خان علیگ نے اپنی حسی قوت کی بنیاد پر کن گوشوں اور کیفیتوں کو بیان کیا ہے، احساس کی شدت کسی فن کارے کے تخلیق میں کیا کردار ادا کر تی ہے, اس کا اندازہ محمد غزالی خان صاحب کے مذکورہ بالا اشعار سے ہوتی ہے!!
Mashallah 🥰