خویش را آدم اگر خاکی شُمرد
نورِ یزداں در ضمیر او بمُرد
اقبال کی شاعری روح انسانی کی تہذیب اور افکارعالی کا شناخت نامہ کہی جاسکتی ہے۔ اقبال نے عظمت آدم کے نغمے سنائے ہیں۔ یہ عظمت آدم خلا میں نہیں بلکہ داخلی کیفیات اور روحانی سفر طے کرنے کے بعد قائم ہوئی ہے۔ آدم کی تمام تر لغزشوں اور خطاؤں کے باوجود اقبال کی نظر میں تخلیق آدم کے وقت کا وہ نقشہ بھی رہاہے جب بارگاہِ ایزدی میں آدم مسجود ملائک ٹھہراتھا۔ اقبال کی پوری شاعری مسجود ملائک آدم کی عظمت کو ازسرنو دریافت (Discoer) کرنے کا عمل ہے۔اس منصب کے لیے جو ذمہ داریاں خدا نے آدم پرعائد کی تھیں، اقبال نے ان پر بھی نظر رکھی ہے۔لہٰذا اقبال آدم کو باربار اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ:
شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیراللہ کو
خوف باطل کیا، کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تو
پھر سبق یاد دلاتا ہے:
تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدارِ قوتِ حیدری
(میں اور تو)
یہ تو محض دو اشعار پیش کیے گئے ہیں۔ ایک فلسفۂ خودی کو اگر سمجھ لیاجائے تو اقبال کی شاعری اور مقصد شاعری دونوں کی تفہیم آسان ہوجائے گی۔ مجھے اس مضمون میں اقبال اورخدا کے درمیان ہم کلامی کو موضوع بنانا ہے اس لیے خودی پریا اقبال کے دوسرے فلسفوں پر گفتگو نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ خودی کے ذکر سے خالی اقبال کا کوئی گوشۂ فکر نہیں۔دراصل اقبال جس انداز اور لہجے میں خدا اور اہلیان عرش سے ہم کلام ہوتاہے وہ خودی ہی کی تکمیل کے بعد کا لہجہ ہے۔ یہ لہجہ ’’بانگ درا‘‘ ہی سے فروغ پذیر ہونے لگا تھا۔ ۱۹۰۵ سے پہلے کی ایک غزل کا یہ شعر دیکھئے:
بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ
خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے
۱۹۰۵کے بعدکئی اشعار ملتے ہیں جن میں موسیٰ کلیم اللہ سے بھی خطاب ہے۔ یہ شعر:
خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تری
شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں
نظم ’’شکوہ‘‘کی شہرت اوراس کے تیورسے ہم سب واقف ہیں۔ اگر صرف اس نظم کوسامنے رکھ کربات کی جائے تب بھی اقبال کی خدا سے ہم کلامی اور اس کے لہجے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن اس نظم پر اکثر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ اس لیے اقبال کے کلام میں اس کے علاوہ جویہ معتبر اورمستحکم لہجہ ملتاہے یہاںاس کے حوالے سے گفتگو کی جارہی ہے۔
’’بانگ درا‘‘ کی نظم غرّئہ شوال (ہلال عید) ہے۔ اس میں اقبال نے ہلال عید کو مخاطب کرکے ملت مرحوم اورعظمت رفتہ کی کہانی پیش کی ہے۔ دراصل دھیرے دھیرے یہ منظر خداکے سامنے پیش کیا جاتاہے۔ اقبال ہلال عید کے سامنے اپنے احوال وکوائف آخرکیوں پیش کرتاہے؟ میں نے اس کا حوالہ اس لیے دیاہے کہ خدا سے یا عرش والوںسے خطاب کی نوعیت تقریباً ایک سی ہے۔اقبال سامنے کے کسی بھی کردار کورکھ کراپنے احساسات اور خیالات پیش کرنے کے لیے بہانہ تلاش کرلیتا ہے۔ اس نظم سے چنداشعار ملاحظہ کیجیے: (یہ بھی پڑھیں قدیم حس کا جدید شاعر: صابر گودڑ – پروفیسر محمد کاظم )
فرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیر
اپنی آزادی بھی دیکھ ان کی گرفتاری بھی دیکھ
دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخ
بتکدے میں برہمن کی پختہ زنّاری بھی دیکھ
چاک کردی تُرکِ ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
ظاہر ہے یہ کوائف خدا کے سامنے رکھے جارہے ہیں۔ اقبال یہ سمجھتاہے کہ توحید ایک صداقت ہے جس کی تکریم وتحفظ ضروری ہے۔ وہ ماضی کی عظمت کو مستقبل میں بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اقبال کا یہ تصورہے کہ اس روئے زمین پر مسلم قوم سے ہی عالم رنگ وبو قائم ہے:
حق نے عالم اس صداقت کے لیے پیدا کیا
اور مجھے اس کی حفاظت کے لیے پیدا کیا
دہر میں غارت گرِ باطل پرستی میں ہوا
حق تو یہ ہے حافظِ ناموسِ ہستی میں ہوا
میری ہستی پیرہن عریانی عالم کی ہے
میرے مٹ جانے سے رسوائی بنی آدم کی ہے
قسمتِ عالم کا مسلم کوکب تابندہ ہے
جس کی تابانی سے افسونِ سحر شرمندہ ہے
مسلم قوم کواقبال اس دنیا کے وجود کا محافظ بھی بتاتا ہے اوراس کی عریانی کے لیے پیرہن بھی۔ لیکن باربار اس قوم کو اس کا وعدہ قدیم بھی یاد دلاتاہے:
مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
ہر زماں پیش نظر لایخلف المعیاد دار
وعدہ یاد دلانے کے بعداقبال سیدھا پیغام دے کرقوم کو بیدار کرتاہے:
مکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیاجائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
جب اس انگارئہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا
اس انگارہ خاکی میں یقیں پیدا ہونے کی بات کی جارہی ہے اور صداقت اور یقین کی دولت حاصل کرنے کا پیغام دیاجارہاہے۔ کیونکہ یہی وہ دولت ہے جس پر دنیا کی امانت کا دار و مدار ہے۔ ساتھ ہی یقین کا مل سے ہی مرد مومن بنتا ہے اور پھر اس مرد مومن میں بال و پرِ روح الامیں کی سی شان پیدا ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس روح الامینی شان کے بعد اس مردمومن کی قوت پرواز میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔
اقبال نے اپنی قوم سے خطاب کیا اور پیغام ربانی کو شاعری میں پیش کیا۔ لیکن پیغام ربانی کو قوم تک پہنچانے کے بعد اس کا رُخ خدا کی طرف ہوگیا۔ یعنی وہ خدا سے بھی ہم کلام ہوا اور یہ ہم کلامی آدم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے تھی۔ اقبال کی نظر اس پر بھی ہے کہ یہ خاکی وجود بارگاہ الٰہی میں مسجود ملائک رہاہے، اس لیے اس کی عظمت اور اس کا افتخار بھی جائز ہے۔ اقبال یوں بھی اپنے طرز تخاطب میں ’’تو‘‘ کے صیغے کا استعمال کرتاہے۔ وہ قوم کو خطاب کررہا ہو یاکسی غیرذی روح شے کو یا پھر خدا کو۔ یہ صیغہ امر بھی تخاطب کی بلندی اور خطیب کے یقین کامل کو ظاہر کرتاہے۔ خطاب کرنے کے لیے کسی اونچی جگہ کا بھی انتخاب ہوتاہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ایک پہاڑی سے وعظ دیا تھا جسےSermon of the Mountکہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے بھی کوہ طور سے خطاب کیا تھا اورآخری نبی محمدؐ نے بھی پہلی بار کوہ بوقبیس سے اہل قریش کو اللہ کی وحدانیت کی طرف آنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ محض اونچی جگہ کا انتخاب ہی منصب خطابت کے لیے اہم نہیں۔ سب سے اہم وصف تو اپنے باطن کی قوت اور اعتماد کی پختگی ہے۔ علامہ اقبال کو اپنے نفس اورایقان پر پورا بھروسہ ہے۔ تبھی تو وہ کہتاہے:
یقیں پیدا کر اے ناداں یقیںسے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری
خود رسول عربیؐ کی زندگی اوران کے صحابہ کرام کی زندگی اور دوسرے بہت سے اللہ والوں کے کوائف تاریخ میں محفوظ ہیں جن کی فقیری پر امیری قربان ہوتی رہی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )
علامہ اقبال نے خدا سے ہم کلامی کے لیے جس توانا اورپرسوز لہجے کو اپنایا اس میں ایمان وایقان کی گرمی و توانائی ہے، ساتھ ہی بندگی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے بعد جوقرب الٰہی نصیب ہوتاہے،اس کی روشنی بھی ہے۔ وہ ایک ایسا داعی ہے جو پہلے تو بندوں کو خدا کی طرف بلاتاہے، اس کے پیغامات واحکامات کی نشاندہی کرتاہے نیز خودی کی آبیاری کی ترغیب دیتاہے اور بعدہٗ اپنا روئے تخاطب خدا کی طرف پوری استقامت اور شان بندگی کے ساتھ کرلیتا ہے۔ آدم کی دریوزہ گری کوبھول کر شان بندگی اور جبرئیل آشوب نغمے کے ساتھ ہم کلام ہوجاتا ہے۔ اقبال کی ذہنی سطح کو سمجھنے کے لیے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کے لیے
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندئہ مومن کی اذاں سے پیدا
یہ بندئہ مومن کی اذاں ہی ہے جس سے شبستان وجود لرزتا ہے اور یہی اذاں ہے جو نغمہ جبرئیل آشوب میں بدل جاتاہے۔ لیکن یہ سفرآسان بھی نہیں۔ مجاہدے اورآداب سحرگاہی اور فغان نیم شبی کی تربیت کے بعد ہی یہ مقام حاصل ہوتاہے۔ یہ مقام وہی ’’خودی‘‘ ہے جو اقبال کی فکر اور شاعری کا مرکزی تصور ہے۔ خودی جوتلوار کی دھار ہے۔ خودی جو رازدرون حیات ہے۔ خودی جو بیداریٔ کائنات ہے۔ خودی جوازل سے ابد کو محیط ہے۔ اقبال اپنے لیے اور جنون عشق کے رموز کو عام کرنے کے لیے ہمیشہ نغمۂ جبریل اور صور اسرائیل کا خواہاں نظر آتا ہے:
وہ شعر کہ پیغامِ حیاتِ ابدی ہے
یا نغمہ جبرئیل ہے یا صورِ سرافیل
وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں
لیکن عشق کی ایک منزل وہ بھی آتی ہے جب جبرئیل اور قدسیوں کو بھی اقبال پیچھے چھوڑدیتاہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ عشق کے مرحلے صرف مرد مومن ہی طے کرسکتا ہے۔ لیکن کہیں کہیں عشق کووہ دم جبرئیل اور دل مصطفی بھی تصور کرتاہے۔ اقبال کی فکر میں جبرئیل ایک ایسے کردار کی شکل میں آتاہے جو عشق الٰہی سے متصف ہے یعنی وہ بالکلیہ احکام الٰہی کی تعمیل کرنے کے لیے پابند ہے۔ اگریہی عمل ایک مومن کرتاہے تو گویا اس کا عشق بھی دم جبرئیل کے مشابہ ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ جبرئیل فطری طور پر اس خوبی سے متصف ہے جبکہ آدم مجاہدے کے بعداس مقام پر پہنچتا ہے۔ اس لیے اقبال خدا سے یوں ہم کلام ہوتاہے:
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہوں زیاد
نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کی
تن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اولیٰ
خودی پرسان چڑھتی ہے اور خدا سے ہم کلامی کا انداز تیکھا اورتیز ہوتا جاتا ہے۔ اب اس کی نوائے شوق سے حریم ذات میں شور وہنگامہ بپاہے۔ ’’الاماں الاماں‘‘ کی آوازیں گونج رہی ہیں۔خدا کی تجلیات میں نگاہ مومن خلل انداز ہورہی ہے۔
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بتکدئہ صفات میں
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
اقبال کواس بات کا یقین ہے کہ آدم کی مٹی میں جنون کی جو کیفیت ہے وہ ادراک کو صیقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس جنوں میں وہ قوت ہے کہ قبائے جبرئیل کوچاک کردے۔ یہ محض آدم کی جھوٹی عظمت کا قصہ نہیں بلکہ اقبال کا ماننا ہے کہ اس خاکی وجود کو خدا نے جوآنسوعطا کیے ہیں،ان کی تابندگی ستاروں کو شرمندہ کرتی ہے۔ ایسا اس لیے بھی کہ اقبال سمجھتا ہے کہ یہ ارض وسما آدم کے لیے ہیںآدم ان کے لیے نہیں۔ وہ مومن کو اس کی منزل سے ہمیشہ آگاہ کرتاہے:
نہ تو زمیں کے لیے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
فضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگے
قدم اٹھا یہ مقام آسماں سے دور نہیں
مقام آدم اگرآسماں ہے یا اس سے بھی آگے توپھراقبال اس دنیا کے لیے اگر یہ کہتا ہے توغلط کیاہے:
عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے
طلسمِ گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں
زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں
جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی
مرے کلام پہ حجّت ہے نکتۂ لولاک
اسی انداز گفتگو اورطرزادا کودیکھ کر فرشتوںنے خدا سے شکایت کی:
کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی
گستاخ ہے کرتا ہے فطرت کی حنا بندی
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے کاشی نہ سمرقندی
سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی
آدم کو اقبال آداب خداوندی سکھاتاہے۔ آداب میں خودی کا درس بھی شامل ہے۔ اقبال چاہتاہے کہ آدم کے اندر سوز اور تڑپ پیدا ہوجائے کہ اس کی اذاں سے شبستان وجود بھی لرزتا ہے۔ دراصل مومن کی شان کوفروغ دینے کے بعد اقبال خدا سے ہم کلام ہوتاہے۔ اقبال سمجھتا ہے کہ مومن کی زندگی ایسی ہوتی ہے کہ پوری دنیا اس کے آگے سرنگوں ہوجاتی ہے بلکہ مومن کا کوئی خاص مقام نہیں جہاں وہ ٹھہرجائے:
ہراک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
یہ زندگی ذوق سفر کو ظاہر کرتی ہے۔ منزل تو کہیں اور ہے۔
خدا نے بھی آدم کو مسجود ملائک اور اشرف المخلوقات بنایاہے۔ خالق اور مخلوق یعنی آقا اور بندے کے درمیان جو رشتہ ہے اس کے بارے میں اقبال کا نظریہ بہت ہی دلچسپ اورقابل غورہے۔ اقبال کا انداز تخاطب اس کے اندر کے مردمومن اوراس کی صفات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس انداز میں ’’بندگی‘‘ کو ’’خدائی‘‘ پر فوقیت دی گئی ہے۔ دراصل اس میں بندے کے حددرجہ انکسار کا نکتہ بھی پنہاں ہے۔ یعنی اگر ہمیں بندہ بنایا گیا توہمارے لیے یہی بڑی دولت ہے جس پر تفاخر کسی طرح بے جا نہیں۔ یہی فکر کی گہرائی اقبال کو دوسرے شعرا سے بہت بلند مقام عطا کرتی ہے۔ یہ دراصل کوئی موازنہ بھی نہیں ہے بلکہ ایک باشعور اورغیور بندے کا احساس ناز ہے جو منفی قطعی نہیں۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی
زمین و آسمان و کرسی و عرش
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی
خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے
خداوندا! خدائی درد سر ہے
ولیکن بندگی استغفراللہ
یہ درد سر نہیں درد جگر ہے
اوپر یہ ذکر آیا تھا کہ فرشتوںنے خدا سے شکایت (غمازی) کی کہ اقبال فرشتوں کو آدم کی تڑپ اورآدم کو آداب خداوندی سکھاتاہے۔ حالانکہ آداب خداوندی خودی کے حصول کے بعدہی آتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آداب خداوندی میں بندگی کے آداب پہلے آتے ہیں۔ اقبال کو دیکھئے کہ وہ کس طرح آداب بندگی اور آداب خداوندی کا درس مومن کو دیتا ہے:
ترا جوہر ہے نوری پاک ہے تو
فروغِ دیدئہ افلاک ہے تو
ترے صیدِ زبوں افرشتہ و حور
کہ شاہینِ شہِ لولاک ہے تو
——
نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری
رہا صوفی گئی روشن ضمیری
خدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگ
نہیں ممکن امیری بے فقیری
——
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
——
خودی کے زور سے دنیا پہ چھایا
مقام رنگ و بو کا راز پاجا
برنگ بحر ساحل آشنا رہ
کف ساحل سے دامن کھینچتا جا
غور کیجیے کہ اقبال کس شوخی اور ہنرمندی سے بندے کو روشن ضمیری کے حصول کا درس دیتا ہے جو اوصاف بیان کرتا ہے ان سے متصف ہوکر مومن بے شک پوری دنیا کومحکوم بناسکتا ہے۔ خودی کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ مومن اگر اپنے منصب کو پہچان لے تو بقول اقبال فرشتہ و حور اس کے ’’صیدزبوں‘‘ ہیں۔ یہی وہ مقام ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان کا فاصلہ تقریباً ختم ہوجاتاہے۔ لیکن پہلے ان اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے تبھی یہ کہنا بجا ہوگا کہ :
ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کار کشا کارساز
اورجب کارساز اور کارکشا ہونے کے اوصاف پیدا ہوگئے تو اقبال خدا سے اپنی تخلیقیت کا ذکر کرتاہے:
تو شب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
غلام رسول ملک لکھتے ہیں:
’’اقبال فرمان نبوی تخلقوا باخلاق اللّٰہ کی روشنی میں انسان کوبھی صفت تخلیق سے متصف دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی لحاظ سے آدم کو خدا کا ہم سر سمجھتے ہیں:
جہاں او آفرید ایں خوب تر ساخت
مگر با ایزد انباز است آدم۷؎
اقبال کی شاعری میں جونرمی ہے یا جوشعلگی ہے، اس میں اخلاص کا عنصر غالب ہے۔ اگرایسا نہیں ہوتا تو اقبال کا خدا سے ہم کلام ہونا مضحکہ خیز صورت اختیار کرلیتا۔ پوری نظم ’’شکوہ‘‘ میں جو تیور ہے اس میں بھی اگر خلوص اورجذبے کی کارفرمائی نہ ہوتی تو یہ نظم فن پارہ کے بجائے استہزائیہ تک بندی بن جاتی۔ لیکن چونکہ اقبال کے دل مضطرب میں پوری قوم کا احساس جاگزیں ہے اس لیے وہ پوری ذمہ داری سے، پرخلوص انداز میںخدا سے ہم کلام ہوتاہے۔ پہلے بند میں ’’شکوہ‘‘ کے حوالے سے جب وہ کہتاہے ’’شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو‘‘ تواندازہ ہوجاتاہے کہ اقبال اپنے احساس اورجذبے سے کس قدر مغلوب ومجبورہے۔ وہ آدم کے اصل منصب کی یافت میں سرگرداں ہے۔ سہیل بخاری نے بہت صحیح لکھاہے کہ: (یہ بھی پڑھیں ندا فاضلی کا تخلیقی گاؤں – پروفیسر کوثر مظہری)
’’انسان کو اشرف المخلوقات ثابت کرنے کی یہ دھن اس قدربڑھی کہ اقبال نے انسان کوخدا سے براہ راست مخاطب کردیا۔ خوداسی کے الفاظ میں سنیے کہ ’’ہم سخن کردیابندوں کو خدا سے تونے‘‘ ۸؎
یہی وہ ہم سخنی وہم کلامی ہے جو کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہیں اوراگرکسی نے نقالی کی بھی توتضحیک کا پہلو نمایاں ہوگیا۔ اقبال کس جرأت مندی اور فنکاری کے ساتھ عزازیل کے شیطان ومردود ہونے پر خدا سے سوال کرتاہے:
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا! وہ راز داں تیرا ہے یا میرا؟
اور پھریہ کہ اگراس دنیا میں آدم کا زوال ہے یا پھر عشق کے ہنگامے لامکاں میں نہیں تو آخریہ ’’زیاں‘‘ اور ’’لامکاں‘‘ ہے کس کا؟
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی
خطا کس کی ہے یارب!لامکاں تیراہے یا میرا؟
اسی کو کب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوالِ آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟
ایسا استفہامیہ انداز تخاطب پیدا کرنے کے لیے مجاہدے سے گزرنا پڑتاہے۔ انسان اور خدا کے باہمی رشتے کی تفہیم بہت آسان نہیں ہے۔ اقبال نے اس حوالے سے ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘میں بھی بحث کی ہے۔ قرآن کی رو سے خدا انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے (نحن اقربُ الیہ من حبل الورید)۔آدم کی روح اپنی اصل کی طرف جانا چاہتی ہے جسے حقیقت مطلق سے موسوم کرتے ہیں۔ قرآن میں اگراس کا ذکر باربار آتاہے کہ زمین وآسماں کے درمیان کی تمام چیزیں انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہیں تو اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان خدا کا نائب ہے۔ یہ عمل تسخیر آسان نہیں۔ خدا سے قرب کے لیے عبادت اوردعاؤں کا اہتمام ضروری ہے۔ اس کے بھی کئی مدارج ہیں۔ روحانی تقدس اور اس کے ارتقا کے بعد ہی ایسی منزل آتی ہے جب انسان کو حقیقی وجود سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوتاہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی لکھتے ہیں:
’’۔۔۔اس ضمن میں اقبال دعا کے مدارج بیان کرتے ہیں۔ پہلے مرحلے پر عبادت اظہاربندگی ہے،د وسرے مرحلے میں یہ تدبّر اور تفکّر کا رنگ اختیار کرتی ہے اور آخری مرحلے میں عبادت گزار ایک ایسی طاقت سے متصف ہوتاہے کہ حقیقت مطلقہ پرتصرف حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے۔ حقیقت مطلقہ پر تصرف سے اقبال کی مراد وہی ہے جو رومی کے اس شعر میں بیان ہوئی ہے:
بزیرکنگرئہ کبریاش مردانند
فرشتہ صید و پیمبر شکار و یزداں گیر
یہاں پہنچ کر سچے عبادت گزار کوذات حق کا زندہ تجربہ حاصل ہوتاہے اور وہ دفعتاً محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ عبادت کے ذریعے جو دراصل روحانی تجلّی تک رسائی کا ایک ذریعہ ہے ایک الگ تھلگ، بے نام اوربے آباد جزیرہ میں رہنے کی بجائے کسی بڑی اور وسیع ترزندگی میں شریک ہوگیاہے؟ ۹؎
غورکرنے کا مقام ہے کہ روحانی تجلّی تک رسائی اوروسیع ترزندگی میں انسان کا شریک ہونا کتنا اہم نکتہ ہے۔ رسول پاکؐ کی معراج اسی روحانی تجلّی سے قرب اور بے نام جزیرے سے بڑی اوروسیع ترزندگی میں شریک ہونے کا سب سے واضح اور مستحکم ثبوت ہے:
عشق کی اک جست نے طے کردیا قصہ تمام
اس زمین وآسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
تو اے اسیر مکاں لامکاں سے دور نہیں
وہ جلوہ گاہ ترے خاکداں سے دور نہیں
بہرحال انسان جب کامل ہوجاتاہے تواس کے مدارج بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ اقبال اسی بلند ترین درجہ پر پہنچ کر خدا سے ہم کلام ہوتاہے۔وہ سمجھتا ہے کہ دنیا چونکہ فانی ہے اس لیے ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔اس کے برخلاف چونکہ مرنے کے بعد کی زندگی لافانی ہے اس لیے وہاں زندگی ہی زندگی ہے۔ اقبال اس تناظر حیات کو ایک طرح کی پابندی تصور کرتاہے:
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
یا پھر یہ انداز کہ:
یہ مشت خاک، یہ صرصر، یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم، تیری لذتِ ایجاد؟
یہ شکایت ایسی ہے جس میں ایک ایسے مخلص بندے کی،جو بندگی کے آخری مرحلے کے بعد کی منزل پر پہنچ چکا ہے، دردمندی اور احساس لطیف کا سوز شامل ہے۔ اسی طرح جب اقبال ماہ ونجوم یافرشتہ وحور کا ذکر کرتاہے تووہاں عظمت آدم کوخدا کے سامنے پیش کرتاہے۔ یہ کام صرف اقبال نے ہی کیاہے اورپوری ذمہ داری اورآب وتاب کے ساتھ کیاہے:
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
قصور وار، غریب الدیار ہوں، لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کرسکے آباد
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہوں زیاد
عروجِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہہ کامل نہ بن جائے
یہ تمام نقوش اوراحساسات کی دنیا اقبال کی شاعری میں جا بہ جا ملتی ہے۔ اقبال سمجھتا ہے کہ اس پیکرخاکی میں کوئی شے (روح، احساس بندگی وسپردگی) ہے جومضطرب ہے اورجس کی نگہبانی اقبال کے لیے مشکل ہے۔ ایک طرز فغاں، ایک نغمۂ اسرافیل ہے جو اقبال کے اندر زندہ وپائندہ ہے۔ متلاطم خیالات سے اضطراب فزوں تر ہوگیا ہے اور ایسے میں طرزگفتار پرقابو نہیں رہتا:
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
اس پیکر خاکی میں اک شے ہے، سو وہ تیری
میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی
اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک
تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی
لا پھراک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی
ظاہر ہے کہ یہاں ’’ساقی‘‘ خدا کو کہاگیاہے۔بال جبرئیل کی غزل نمبر۷ اور ۸ میں ’’ساقی‘‘ ردیف کے طور پر آیاہے لیکن خطاب خدا کی ذات سے ہے:
مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو
پلا کے مجھ کو مئے لاالہ الّا ہُو
’’من وتو‘‘کی تفریق ختم آسانی سے نہیں ہوتی۔ اقبال کے سامنے پیغمبراسلام محمدؐ کا یہ فرمان بھی ہے کہ تخلّقوا باخلاق اللّٰہ یعنی اپنے اندر اللہ کی صفات پیدا کرو۔ لیکن یہ مرحلہ کیااتنا آسان ہے ؟ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا اسی مقصد کے تحت مبعوث کیے گئے۔ وحدانیت کے سبق میں یہ بھی شامل ہے کہ اسی ایک ذات پریقین کامل ہو اوراسی کے رنگ میں انسان رنگ جائے۔ تبھی تو اقبال نے کہا تھا:
ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کارکُشا کار ساز
آخراقبال کس حیثیت سے اس تیور اورلہجے میں ہم کلام ہوتاہے؟ کوئی تو ایسام مقام ہوگا جہاں اقبال پہنچ کر خدا سے ہم کلام ہونے میں کسی طرح کا تامل محسوس نہیں کرتا۔ بہت مذہبی تجربے ایسے ہوئے ہیں یا ہوتے ہیں جن پر عام لوگوں کو آسانی سے یقین نہیں ہوتا۔منصور حلّاج نے ’’میں حق ہوں‘‘ کہا تھا۔ حضرت علیؓ نے کہا’’ میں قرآن ملفوظ ہوں‘‘ اورمشہوربزرگ با یزید بسطامی نے کہا تھا ’’میری شان اعلیٰ ہے‘‘۔
موسیٰ کوخدا سے ہم کلام ہونے کی صلاحیت عطا کی گئی تھی لیکن وہ خدا کی تجلی کا تقاضا کرنے کے بعد اس تجلی کی تاب نہ لاسکے۔ لیکن پیغمبراسلام محمدؐ کومعراج نصیب ہوئی اورخداکے جلوے سے وہ ذرا بھی پریشان نہیں ہوئے۔ قرآن نے اس واقعے کو یوں بیان کیاہے:
’’جلوہ الٰہی دیکھ کر اس کی نگاہیں نہ تو خیرہ ہوئیں نہ حدسے آگے بڑھیں۔‘‘
(پارہ۱۷،آیت۵۳)
عروج آدم کی ایک بین مثال یہ بھی ہے کہ شب معراج میں حضرت جبرئیل سدرۃ لمنتہیٰ سے آگے نہیں بڑھ سکے، لیکن پیغمبر اسلامؐ اس مقام سے بھی آگے گئے۔ شیخ سعدی نے اسی تناطر میں کہاہے:
اگر یک سر موئے برتر پرم
فروغِ تجلّی بہ سوزد پرم
اوراقبال کہتاہے:
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
اورپھرجبرئیل کو مخاطب کرکے یہ بھی کہتاہے:
نہ کر تقلید اے جبرئیل میرے جذب و مستی کی
تن آساں عرشیوں کوذکر وتسبیح و طواف اولیٰ
جس منصب اورمقام کی بات کی جارہی تھی، کہ آخر اقبال کس حیثیت سے خدا سے اس تیور میں ہم کلام ہوتاہے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ’’مقام شوق‘‘ہے کہ جس پراقبال کا مردمومن فائز ہے۔ ’’مسجدقرطبہ‘‘ اُسی عشق کا نمونہ ہے۔ یہ نوائے شوق ہی ہے جس سے حریم ذات میں شور و ہنگامہ برپاہے۔ عشق کی دولت فقیری میں امیری کا احساس دلاتی ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو، تومرد مسلماں بھی کافر و زندیق
کھول کے کیا بیاں کروں سرِّ مقامِ مرگ وعشق
عشق ہے مرگِ باشرف مرگ حیاتِ بے شرف
نگاہِ عشقِ دلِ زندہ کی تلاش میں ہے
شکارِ مردہ سزاوارِ شاہباز نہیں
عشق اورعقل کے حوالے سے اقبال نے بے شمار اشعار کہے ہیں، بلکہ عقل وعشق کے تصور پرالگ سے گفتگو کی جاتی ہے۔ یہ عشق ایک راستہ ہے جس پر چل کر خودی کی منزل تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ اس منزل کے بعد ہی اقبال کی دعا کا انداز بھی کچھ یوں ہوجاتاہے کہ اس میں سوزدروں کے ساتھ ساتھ انداز خودداری بھی اور شکایت کا لہجہ بھی درآتاہے۔ مسجد قرطبہ میں لکھی گئی دعا کے چند اشعار دیکھئے:
ہے یہی میری نماز ہے یہی میرا وضو
میری نوائوں میں ہے میرے جگر کا لہو
میرا نشیمن نہیں درگہ میر و وزیر
میرا نشیمن بھی تو شاخ نشیمن بھی تو
تجھ سے گریباں مرا مطلعِ صبحِ نشور
تجھ سے مرے سینے میں آتش اللہ ہُو
تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ
اپنے لیے لامکاں میرے لیے چارسوٗ
اقبال کی دردمندی یہاں ظاہر ہے۔ اقبال نے ابلیس کے کردار میں بھی کچھ ایسے نکات رکھ دیے ہیں کہ انسان کامل کے تشنۂ تکمیل کا احساس ہوتا ہے۔ گرچہ میں نے قصداً فارسی شاعری کے حوالے یہاں پیش نہیں کیے ہیں لیکن یہاں ’’جاوید نامہ‘‘کے اُس حصے سے چند اشعار پیش کرنا چاہتا ہوں جہاں اقبال کی ملاقات منصورحلاج، غالب،قرۃ العین طاہرہ اور آخر میں ابلیس سے ہوتی ہے۔ ابلیس انسان کے بارے میں جو مشاہدہ پیش کرتاہے وہ ایک طرح سے تازیانۂ عبرت ہے۔ خدا کے حضورمیں ابلیس کی فریاد ملاحظہ کیجیے:
اے خداوندِ صواب و ناصواب
من شدم از صحبت آدم خراب
ہیچ گہہ از حکمِ من سر برنتافت
چشم از خود بست و خود را در نہ یافت
بندئہ صاحب نظر باید مرا
یک حریف پختہ تر باید مرا
منکرِ خود از تومی خواہم بدہ
سوئے آں مرد خدا را ہم بدہ
اے خدا یک زندہ مرد حق پرست
لذتے شاید کہ یابم در شکست
ابلیس بھی ایک مردحق پرست کی تلاش میں ہے جس سے ہزیمت خوردہ ہونے میں بھی ایک طرح کی لذت پوشیدہ ہے۔ مرد مون کا یہ وہی منصب و مقام ہے جہاں سے اقبال خدا سے ہم کلام ہوتا ہے۔ مرد مومن کی شان دنیا میں کیاہے، ضرب کلیم کی نظم مومن (دنیا میں) سے یہ اشعار سنیے:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حقِ و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
(ضرب کلیم)
اقبال کی افلاک سے حریفانہ کشاکش کیوں ہے، تقریباً یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اس ہم کلامی میں ایک راز اور پوشیدہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ روح الارواح سے واصل ہونے کی دھن میں انسانی روح بیتاب رہتی ہے۔ اس وصل سے پہلے عرفان نفس کا حاصل کرنا ضروری ہے جسے اقبال بقول خلیفہ عبدالحکیم، خودی سے موسوم کرتاہے۔ خداکی ذات انائے مطلق ہے۔ ہرشے اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ (کل شی یرجع الی اصلہ)۔ گویا ارتقا کا عمل انسانی زندگی میں جاری رہتاہے اورآخر کارانائے انسانی انائے مطلق سے جاملتی ہے۔ اقبال چونکہ اس مرحلے سے واقف ہے اس لیے وہ انسانی عظمت کو بہت واضح انداز میں پیش کرتاہے۔ چونکہ اقبال کی پوری شاعری میں خطابت (Rhetoric)حاوی ہے اس لیے وہ خدا سے بھی اسی انداز میں خطاب کرتاہے۔ کلیم الدین احمدنے اعتراض کرتے ہوئے لکھاتھاکہ:خطابت شاعری نہیں۔ مشہور ناقد نارتھ روپ فرائی (Northrop Frye) نے اپنی کتاب Anatomy of Criticismمیں لکھا ہے کہ الفاظ کی تمام بناوٹیں جزوی طورپر خطیبانہ ہوتی ہیں اوراس لیے یہ خیال کہ فلسفیانہ یاسائنسی لفظی بناوٹیں خطیبانہ عناصر سے پاک ہوتی ہیں، ایک فریب ہے۔‘‘ (ص۲۵۰)
پروفیسرآل احمدسرور نے لکھاہے کہ:
’’ خطابت اقبال کی کمزوری نہیں،طاقت ہے۔‘‘ ۱۰؎
پروفیسرشکیل الرحمن کے بقول:
’’ خطیبانہ جہت کی شاعری جہاں مختلف رنگوں کو پسند کرتی ہے وہاں معنوی گہرائی، خیالات کے اندرونی ربط، لفظوں اور پیکروں کے مناسب استعمال اورنفاست اورتعدیل(Symmetry)کا بھی تقاضا کرتی ہے۔‘‘ ۱۱؎
انھوں نے آگے یہ بھی لکھاہے کہ:
’’ خطیبانہ شاعری یاخطیبانہ جہت کی شاعری کا حسن وہی ہے جو کسی بھی اچھی اور بڑی شاعری کا حسن ہے۔‘‘ ۱۲؎
اگرایسا ہے توکلیم الدین احمد کا نظریۂ شعر یہاں بے معنی ہوجاتا ہے، یا کم ازکم بعینہٖ قبول نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن خطیبانہ رنگ میں اگرجوش کے شوروشرسے بھرے ہوئے الفاظ اور طرزکلام پرنظرڈالیں تواچھی خطیبانہ شاعری کا حسن یہاں کم ہی نظرآتاہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی نظم نگاروں کے یہاں منفی خطیبانہ طرزاظہار ملتاہے۔ یہاں اس طرف جانے کی گنجائش نہیں۔
اقبال خدا سے جس طرح ہم کلام ہوتاہے اس میں خدا کی طرف سے باربار کسی طرح کا Reactionسامنے نہیں آتا البتہ جواب شکوہ کو اس خانے میں رکھا جاسکتا ہے۔ اقبال کا ’’انسان کامل‘‘جوخود اس کے باطن میں جاگزیں ہے، خلافت الٰہیہ کا ضامن ہے۔ پوری کائنات میں اسی کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے، بلکہ بقول یوسف حسین خان:
’’چونکہ انسان کائنات ہستی کا بلندترین مظہرتھا اس لیے اس کو زمین پر نیابت الٰہی کی ذمہ داری سونپی گئی۔‘‘ ۱۳؎
نیابت میں معاملہ کم وبیش برابری کا ہوجاتاہے لیکن فرق بہرحال قائم رہتاہے۔ انسان اپنی تکمیلیت کے باوجود خدا کی مخلوق ہے۔’’ لیس کمثلہ شیٌٔ‘‘ اس جیسا کوئی شے نہیں ہے تو مشابہت (ظاہری) کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کی ماورائیت اور مطلقیت (Beyondness & Ultimateness) پوری طرح قائم رہتی ہے۔ البتہ نیابت کے دائرہ کار کے مطابق تھوڑی سی صفات اور قوتیں ضرور مل جاتی ہیں اور اتنی صفات اورقوتیں بھی دنیا پر بادشاہت اورحکومت کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ ’’انسان کامل‘‘ کی نظیر رسول پاک محمدؐ کی زندگی کی صورت میں سامنے ہے۔ بال جبرئیل کے یہ اشعار اسی پس منظر میں ہیں:
ہاتھ ہے اللہ کا مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کار کشا کارساز
خاکی و نوری نہاد بندئہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز
لیکن مولاصفات اورنیابت الٰہی کے لیے عشق اورفقر کے مرحلے سے گزرنا پڑتاہے۔
فقر مومن چیست، تسخیر جہات
بندہ از تاثیر او مولا صفات
قانون الٰہی کی پابندی کے بعد ہی نیابت حاصل ہوتی ہے۔ مومن تو خود ’’تقدیرالٰہی‘‘ بن جاتاہے:
کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی
پھر یہ بھی کہا کہ:
عبث ہے شکوئہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
خدا نے قرآن میں حضور پاک محمدؐ کی شان میں فرمایا:
ومارمیت اذ رمیت ولکن اللّٰہ رمی یعنی جب تونے تیر چلایا تو تو نے نہیں چلایا بلکہ اللہ نے چلایا۔ اقبال نے اس شعر میں بھی اسی آیت کی طرف اشارہ کیاہے کہ:
عزم او خلّاقِ تقدیر حق است
روز ہیجا تیر او تیر حق است
اسی ذات محمدؐ سے اقبال بھی عشق کرتاہے بلکہ اُسی کا والا وشیدا ہے۔ چونکہ اقبال خودی کے استحکام کے لیے دین محمدیؐ کو لازم تصور کرتاہے اورحقیقت بھی یہی ہے۔ خودی کا سرنہاں لاالہ الااللہ ہے اور لاالہ الا اللہ کا پیغام لے کرر سول پاک آئے تھے۔ لہٰذا اُسی ’’انسان کامل‘‘ سے رشتہ استوار کرکے خدا تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ تبھی تو اقبال کہتا ہے:
کیمیا پیدا کن از مشت گِلے
بوسہ زن بر آستانے کاملے
دل ز عشق اُو توانامی شود
خاک ہمدوش ثریا می شود
درد دل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے مازنام مصطفی است
اور یہ بھی کہ:
بہ مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی ست
اقبال سمجھتا تھاکہ مومن کے پاس تسخیرکائنات کا نسخہ موجودہے۔ اسی لیے وہ نظم شمع اورشاعر(فروری۱۹۱۲) میں شمع کی زبانی کہتاہے:
ہفت کشور جس سے ہوتسخیر بے تیغ وتفنگ
تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے
اقبال کا خدا سے ہم کلام ہونا اور اس انداز میں جیسے دوستانہ مراسم ہوں اور وہ بھی بے تکلّفانہ، لائق توجہ ہے۔ یہ بے تکلّفی اُسی کومناسب اور موزوں معلوم ہوسکتی ہے جس نے اقبال کی شاعری میں پیش کیے گئے رموز ومراحل کی تفہیم کی ہو۔ یہ طرزخطابت اُسی کو زیبا ہے۔ اخیرمیں دوشعروں پراپنی نامکمل گفتگو ختم کرتاہوں:
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندئہ گستاخ کا منہ بند
(جشن اقبال، منجانب: گاڈس گریس انٹر فیتھ کولیشن، نئی دہلی، ۸،۹ نومبر ۲۰۰۸)
حواشی
۱۔ اقبال اور سیاست ملی: جعفری، ۱۹۸۱، اقبال اکادمی، لاہور، ص: ۲۵۰
۲۔ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، پانچواں خطبہ اسلامی ثقافت کی روح، اسلامک بک سنٹر، کلاں محل، نئی دہلی۔۱۹۹۲، ص ۲۱۶،۲۱۷
۳۔ اقبال اور ثقافت: مظفرحسن ملک، اقبال اکادمی، لاہور، ۱۹۸۶، ص: ۴۶
۴۔ ایضاً، ص: ۴۷
۵۔ روایت اور بغاوت: سید احتشام حسین، ۱۹۵۶، ص: ۱۰۶
۶۔ اقبال سب کے لیے: ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ۱۹۸۱، ص: ۴۷-۱۴۶
۷۔ مضمون اقبال اور ورڈس ورتھ ازغلام رسول ملک، ماخوذ ازاقبال اور مغرب، مرتب آل احمدسرور، ص۱۱۹
۸۔ اقبال مجدد عصر: ڈاکٹرسہیل بخاری،۱۹۷۶، ص۱۳
۹۔ جہات اقبال : ڈاکٹرتحسین فراقی، بزم اقبال، لاہور۱۹۹۳، ص۹
۱۰۔ دانشوراقبال: آل احمدسرور، ص: ۱۵۸
۱۱۔ محمداقبال: شکیل الرحمن، ۱۹۹۳، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی۔۲، ص۱۲۷
۱۲۔ ایضاً، ص ۱۱۷
۱۳۔ روح اقبال: یوسف حسین خاں، ص ۲۰۵
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
کسی موضوع پر متعدد مضامین لکھے جا چکے ہوں اس موضوع پر کسی نئے زاویے سے لکھنا آسان نہیں۔۔ کوثر مظہری صاحب کے مضمون میں اک تازگی اور ندرت ہے۔۔ مضمون کا مطالعہ کرکے یہ محسوس ہوا کہ علامہ اقبال ک اس فکر کو پہلی بار سمجھا ہو۔
پروفیسر کوثر مظہری صاحب نے فکر اقبال کو ایک نئے زاویہ سے دیکھنے کی بہت عمدہ کوشش کی ہے ۔ کیونکہ اقبال احقر کا پسندیدہ فن کار ہے، اس لحاظ بھی مذکورہ مقالہ بہت متاثر کرتا ہے ۔