گھر میں بچے بھوک سے پریشان تھے۔بچوں کا باپ اپنے قبیلے کا سردار تھااور وہ اپنی محنت و مشقت سے اپنے گھر والوں کی کفالت کرتا تھا۔اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا جس پر سوار ہو کر وہ جنگلوں میں چلا جاتا اور شکار کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پاتا تھا۔
ایک بار کا ذکر ہے کہ گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔وہ اللہ پر بھروسہ کر کے گھوڑے پر سوار ہو کر تیزی سے جنگل میں داخل ہو گیا۔گھوڑا دوڑاتے ہوۓ دور تک جنگل میں نکل گیا لیکن کوئی شکار ہاتھ نہیں آیا۔شکار کی تلاش میں دوسری سمت رخ کرنے والا تھاکہ دور ایک ہرن اور اس کا بچہ چرتے نظر آۓ۔سردار نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیااور گھوڑے کو اس طرف چھوڑ دیا جدھر ہرن اور اس کا بچہ چر رہے تھے۔گھوڑے کی ٹاپ سن کرہرن چو کنا ہو گیااور بچے کو ساتھ لے کر قلانچیں بھرتا ہوا بھاگنے لگا۔سردار نے بھی ہرن کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا۔ہرن تو قلانچیں مارتا جنگل غائب ہو گیا لیکن اس کا بچہ ماں سے الگ ہو گیا اور سردار نے لپک کر اسے پکڑ لیا۔اب ہرن کے بچے کی دونوں ٹانگیں باندھیں،گھوڑے پر لادا اور واپس گھر کی طرف چل پڑا۔اپنے بچے کو قید میں دیکھ کرمامتا کی ماری ہرنی سے نہ رہا گیااور وہ سردار کے گھوڑے کے پیچھے پیچھے چلنے لگی اور بار بار مایوس نظروں سے اپنے بچے کو دیکھتی جاتیتھی۔ہرنی کی مامتا دیکھ کر سردار کے دل میں بھی مامتا جاگ گئی۔اسے اپنے بچوں کا خیال آنے لگا۔آخر کار اس نے ہرنی کے بچے کی ٹانگوں کوکھ ل کر اسے آزاد کر دیا۔جیسے ہی سردار نے بچے کو چھوڑا وہ چونکڑی بھرتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا۔ ہری بڑی محبت سے اپنے بچے کو چاٹنے لگی اس کےخوشی کی انتہا نہ رہی۔ شکریہ کے انداز میں ہرنی کچھ دیر تک سردار کو غور سے دیکھتی رہی۔پھر اپنے بچے کو لے کر جنگل کی طرف جانے لگی لیکن بار بار وہ اس شخص کو مڑ مڑ کر دیکھتی جاتی تھی اور نظروں سے ہی شکریہ کا اظہار کر رہی تھی۔شکاری سردار کا دل یہ منظر دیکھ کر بھر آیا۔ (یہ بھی پڑھیں سرشاخ گل – صائمہ ذوالنور)
رات کو جب وہ سو رہا تھا اسے خواب میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔اس نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں: "اے شخص تم نے ہرنی کے بچے پر رحم کیا تمھاری یہ رحم دلی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی اور تمھارا نام بادشاہوں کی فہرست میں لکھ لیا گیاہے۔ تم ایک دن ضرور باشاہ بنو گے۔اور سنو !جب تم بادشاہ بن جاؤ تو اپنی رعایا کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرنا۔ بادشاہ کی رحم دلی بڑی چیز ہے۔”
آنکھ کھلی تو آس پاس کچھ بھی نہ تھا۔اس خواب کے بعد اس کی ترقی کا دور شروع ہو گیا۔اس کی طاقت اتنی بڑھی کہ افغانستان کی شہزادی سے اس کی شادی ہو گئی۔آگے چل کر وہ بادشاہ بن گیا۔ اس طرح اللہ کے حکم سےاس نے رحم دلی کا نتیجہ پا لیا۔
پیارے بچو! آپ ضرور سننا چاہو گے کہ آخر وہ کون شخص تھا؟تو سنو! اس سردار کا نام تھا سبکتگین، جس کا بیٹا محمود غزنوی ہوا،جس نے ہندوستان میں مسلم حکومت کے دروازے کھول دیے۔!!
پرویز اشرفی،
نئی دہلی۔

