اردو عا لمی سطح پر مقبول زبا ن ہے ۔ ا س ز با ن کا آ غا ز ہند و ستا ن سے ہو ا ۔ لیکن بہت کم عر صے میں یہ اپنے بو لنے والو ں کے سا تھ ایشیائی ‘ افر یقہ ‘ یو رپ امر یکہ اور آسٹر یلیا تک پھیل گئی ۔ اپنی وسیع القلبی ‘ دو سری ز با نو ں کے الفا ظ کو اپنے اند ر سمیٹنے کی کشا دہ دلی ‘ اس کے شعر وادب کی آ فا قیت نے دو سری زبا نیں بو لنے وا لو ں کوبھی اس کی جا نب متوجہ کیا ۔ اردو کی نئی عالمی بستیوں میں برطانیہ ایک اہم ملک ہے۔ بر صغیر کے علا وہ دنیا میں اردو بو لنے وا لو ں کی ایک بڑ ی تعدا د برطانیہ میں مقیم ہے ۔ برطانیہ میں اردو بو لنے والوں کی کثیر تعد ا د ‘ وہا ں سے نکلنے والے اردو اخبا ر‘ ادبی انجمنیں ‘مشاعرے اور دیگر اردو سر گرمیو ں کو دیکھتے ہو ئے یہ خیا ل آ تا ہے کہ کہیں اردو برطا نیہ کی دو سری سر کا ری زبا ن تو نہیں ۔ اردو کے جائے پیدائش ہند و ستا ن اور بر طا نیہ کا ما ضی میں حا کم اور محکو م قو مو ں کی بنا ئ گہر ا تعلق رہا ہے ۔دولت مشترکہ ممالک میں ہندوستان برطانیہ کے لیے کافی عرصے تک اہمیت کا حامل رہا۔ مملکت برطانیہ کا دیگر ممالک کی طر ح ہند و ستا ن پر دو سو سا ل سے ز ا ئد اقتدا ر تا ریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کے سیاہ و سفید دو نو ں پہلو سب پر عیاں ہیں ۔ اردو برطانیہ میں کس طر ح پہنچی اس کی بھی اپنی ایک تا ریخ ہے ۔
بر طا نیہ میں اردو بو لنے وا لو ں کی آ مد : -دو سری جنگ عظیم سے قبل بر طا نیہ دنیا کی ایک طا قتو ر مملکت تھا جس کی وسعت کے با رے میں یہ جملہ مشہو ر ہو چکا تھا کہ ’’ مملکت بر طا نیہ میں سورج کبھی غرو ب نہیں ہو تا ‘‘ کیوںکہ مشر ق میں آسٹریلیائی سے لے کر مغر ب میں آ فریقہ اور امریکہ تک اس کی نو آ با دیا ت قائم تھیں ۔ اس کے زیر نگیں مما لک میں ہند و ستا ن ایک بڑ ا ملک تھا ۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے بر طا نو ی معیشت کی ریڑ ھ کی ہڈی سمجھی جا نے والی صنعتو ں کو نشا نہ بنا یا۔اور انگریزوں کو اپنی آ زا دی کی قیمت چکا نی پڑ ی ۔ جنگ میں بھا ری تعدا د میں لو گ ما رے گئے ۔ ملک میں یکا یک افر ا دی قو ت کی کمی محسو س کی گئی ۔ جس سے ایک بحر ا ن کی صو ر تحال پید ا ہو گئی ۔
جنگ کے بعد کچھ امن کی صو رتحا ل پید ا ہوئی ۔ حا لات قا بو میں آ ئے اور زندگی معمو ل پر آ نے لگی تو جنگ سے تبا ہ حال انفراسٹرکچر کی مرمت اور از سر نو تعمیر کے لئے بڑ ے پیما نے پر ماہرین اور کا م کر نے وا لے مزدو روں کی ضر و رت محسوس کی گئی ۔ انگر یز و ں کی نظر افر یقہ اور ایشائی کے ان مما لک پر گئی جہا ں کے لو گ جفا کش ہوتے تھے ۔ اور جہا ں اس وقت بھی انگریز و ں کا تسلط قائم تھا ۔ شکست خو ر دہ بر طا نیہ کی تعمیر نو کے لئے محکو م قو مو ں کا مز ید استحصا ل انگر یز اپنا حق سمجھتے تھے ۔ سر ما ئے کی فرا ہمی انگر یز و ں کے لئے مسئلہ نہیں تھا کیو ں کہ ہند و ستان جیسے محکو م علاقے اس کے لئے سو نے کی چڑ یا بنے ہو تے تھے جہا ں سے خا م ما ل لے جا نا اور اس کے ذریعہ اشیائی بنا کر دو لت کمانا انگر یز و ں کا معمول بن چکا تھا ۔ چنا نچہ اپنے ملک کی خستہ حا ل سڑکوں ‘ ریل کی پٹر یو ں کی مر مت ‘ رہا ئشی مکا نو ں ‘ کار خانوں اور فیکٹریوں کی تعمیر نو کے لئے برطانیہ نے نو آ بادیا ت سے آ نے وا لے محنت کشو ں کے لئے اپنے در وا ز ے کھو ل دئے ۔ (یہ بھی پڑھیں بہار میں اردو: نئی نسل کو نظر انداز کرنے کا رویہ افسوس ناک – کامران غنی صبا )
انگریزوں نے بر طا نیہ میں لو گو ں کو لا نے کے لئے ابتد ائی میں جز ائر غر ب الہندکا رُخ کیا ۔ ہندوستان سے افر اد لا نے کا خیال اس لئے تر ک کیا گیا کہ برطانیہ جنگ عظیم میں ہندوستانیو ں کی شر کت کے بد لے انہیں جلد سے جلد آز ادی دینے کے اپنے وعد ے سے پھر گیا تھا ۔ اس لئے لو گو ں میں تا ج بر طا نیہ کے خلا ف نفر ت کا جذ بہ بھر گیا تھا ۔ چنانچہ بر طا نیہ نے اپنے ملک کی تعمیر نو کے لئے غر ب الہند سے کا رکن لا ئے ۔ مردو ں کو بسو ں اور زیر زمین ٹیو ب ٹر ینو ں سے لا یا گیا عورتوں کو بطور نرس ہسپتالو ں میں کا م کے لئے رکھا گیا ۔اگر چہ غرب الہند کے جز ائر سے بے شمار مزدورں کو انگلستا ن لا یا گیا ۔ تا ہم وہاں کی صنعتوں کے لئے مز ید ہنر مند افر اد کی ضرورت محسو س کی گئی ۔ جسے تقسیم ہند کے بعد ہندوستان اور پا کستا ن کے ہنرمندوں نے پو ر اکیا ۔ اگر یہ کہا جا ئے کہ بر طا نو ی صنعت کی تعمیر اور معا شر تی تر قی اور خو خوشحالی میں ایشیائی تا رکین وطن کا سب سے ز یا دہ حصہ ہے تو مبا لغہ نہ ہو گا ۔
انگر یز و ں کے ہند وستا ن پر قبضے کے بعد عام آ دمی کی زند گی مشکلا ت سے دو چا ر ہو گئی تھی ۔ زمیند اری اور سرمایہ دا ری ختم ہو چکی تھی ۔ زراعت بھی لگا ن کے سبب بڑ ے زمیند ار وں تک محدود ہو گئی تھی ۔ یہ جہاز آسٹریلیا ‘برطانیہ جنوبی افریقہ وغیرہ ملک ملک پھر ا کر تے تھے ۔ برطانیہ میں لنگر انداز جہازوں سے کچھ مزدور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ مقامی لوگ ایسے مفر و ر لو گو ں کو کا ر خا نو ں اور فیکٹر یو ںمیں زیا دہ اُ جر ت پر کا م کی تر غیب دے کر لے جا نے لگے ۔ اور اس طر ح کے جہاز سے مفر ور مزدوروں کو بر طانیہ میں قد م جمانے کا مو قع ہاتھ لگا ۔ اس وقت چو نکہ مز دوروں کی اشد ضرو رت تھی اس لئے انگر یزی نہ جا ننے والو ں کو بھی ملا زمتیں ملنے لگیں ۔ اور لو گ وطن سے دور اپنے سا تھیو ں کو برطانیہ میں ملنے والے ملاز مت کے ان مواقع کا تذ کرہ کرنے لگے ۔ تین چا ر سال بعد جب یہ لو گ اپنے وطن واپس پہو نچے اور اونچ نیچ کے سا تھ برطانیہ میں زیا دہ دولت کما نے کے سا ز گا ر حا لات بیا ن کر نے لگے تو ہند وستا ن و پا کستا ن کے لوگ بڑ ی تعداد میں بر طا نیہ کا رخ کر نے لگے ۔ ۱۹۵۵ سے لے کر ۱۹۶۰ تک بر طا نیہ میں برصغیر سے آ نے وا لے لو گو ں کی تعدا د لا کھو ں تک پہنچ گئی تھی ۔
لا کھو ں کی تعدا د میں جمع ان ایشیا ئی تا رکین وطن کی ز با ن اردو تھی ۔ اور یہ تا رکین وطن بر طا نیہ کے طو ل وعر ض میں پھیلے ہوئے تھے ۔ اس لئے دفا تر با ز ار‘ بسوں ‘ٹر ینو ں ‘ ہوٹلوں جہا ں بھی یہ لو گ آپس میں ملتے اردو میں با ت کر تے ۔ اس طرح اردو زبان بو ل چال کی حد تک برطانیہ میں اجنبیت کی حد و ں کو پار کر گئی ۔ تا رکین وطن نے اپنی تہذ یبی اقد ار کی حفاظت اور ان کے بچو ں میں ان قدروں کی منتقلی کے لئے محسو س کیا کہ انگر یزی زبا ن میں تعلیم کے سا تھ اردو اور مذ ہبی تعلیم کا بھی انتظا م ہو ۔ اس ضمن میں ہو نے والی سرگرمیو ں کو بیان کر تے ہو ئے برطانیہ میں اردو کے فروغ کے محرک پروفیسر مغنی تبسم کے بہنوائی حبیب ؔ حید رآ با دی لکھتے ہیں :
’’ ما ں با پ کی یہ خو اہش ہو تی ہے کہ ان کے بچے ان کے اپنے نقش قد م پر چلیں اور ایشیا ئی اقد ار کو اپنا ئے رہیں اپنے مذہب کو تھا مے رہیں ۔ اپنی ماد ری اور قومی زبان سیکھیں ۔ اپنے ملک کی تا ریخ اور معا شرے کے پس منظر سے واقف رہیں جہا ں جہاں ایشیا ئی زیا دہ تعدا د میں ہیں مقا می طو رپر گر دواروں میں پنجا بی اور ہندی اور مساجد میں عر بی دینیا ت اور اردو کی تعلیم کاانتظام ہما ری اپنی انجمنو ں نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے ۔۔۔۔ سر کا ری مد ا رس میں ہفتہ یا اتو ار کو یا پھر دنو ں میں شا م کو مادری زبا ن سکھا نے کے لئے کلا سیس کی اجا ز ت بھی دی جا تی ہے ‘‘ ۔ ۱؎
بر طانیہ میں اردو کے ابتدا ئی نقو ش : – بر طا نیہ میں اردو زبا ن کے نقوش ویسے بھی کا فی قد یم ہیں ۔ ۷ ؍ فر وری ۱۸۶۱ کے ایک خط میں گا رسا ں دتاسی نے لکھا تھا کہ انگلستا ن میں اردو زبا ن کا چر چا دن بہ دن بڑ ھتا جا رہا ہے ۔ اس لئے کہ اس ز با ن کی اہمیت کا احسا س لو گو ں کو ہو تا جا رہا ہے ۔ جا رج ہیڈ لے G. Hadely نے ۱۷۷۰ میں لند ن سے اردو کی پہلی A grammar and vocabulary of Moors Language نا می کتاب شا ئع کی ۔ ۴؎
اس وقت لفظ Moors مسلمانو ں کیلئے استعما ل کیا جا تا تھا ۔ بعد میں یہی Moors Language ’’ ہندوستانی ‘ اور پھر ’’ اردو ‘‘ کہلائی ۔ جا رج ہیڈ لے کے بعد ۱۷۷۳ میں فرگو سن نے اردو کی ایک لغت لکھی ۔ بعد میں Fallon اورPlatts کی لغا ت بھی مشہور ہوئیں ۔ ان دنو ں تجا رتی منفعت کی خا طر لغا ت لکھنے کی طر ف زیا دہ توجہ دی گئی ۔ ۱۸۰۰ میں فو رٹ ولیم کا لج کلکتہ میں قا ئم ہو ا جس کا مقصد ہند و ستا ن میں کا م کر رہے انگر یز ملا ز مین کو اردو سکھا نا تھا ۔ اسی سلسلے کی کڑ ی کے طو ر پر ۱۸۱۶ میں ایسٹ انڈ یا کمپنی نے لند ن میں اپنے ملا زمین کو اردو سکھا نے کے لئے اور ینٹل انسٹی ٹیو ٹ قا ئم کیا ۔ اور اس کے لئے گلکر یسٹ کی خد ما ت حا صل کی گئیں ۔ ۱۹۱۶ میں لند ن یو نیو ر سٹی میں اسکول آف او رینٹل اسٹڈ یز کا آ غا ز ہو ا ۔ ۱۹۳۰ میں اس اسکو ل میں اردو ز بان کا ایک با قا عدہ شعبہ بنا یا گیا ۔ اس سے قبل ہار و ر ڈ اور کیمبر ج یو نیو ر سٹی ‘ لند ن کا لج ‘ کنگز کا لج اور اڈنبر ا یو نیو ر سٹی میں اردو تعلیم کا نظم تھا ۔ اور اکثر ہند و ستا ن سے آ ئے دولت مند طبقہ کے طلبا اس میں دا خلہ لیتے تھے ۔ بڑ ی تعدا د میں ایشیا ئیو ں کی بر طا نیہ میں آمد سے قبل بھی وہا ں طا لب علمو ں اور سیا ست دا نو ں کے ذر یعہ اردو پھلتی پھولتی رہی ۔ یو سف خا ں کمبل ش ‘ نو اب کر یم خا ں وغیر ہ ۱۸۴۰ کے آ س پا س بر طا نیہ میں قیا م کے دو را ن اپنی یا د داشتیں اردو میں لکھا کر تے تھے ۔ ان کے علا وہ ہند و ستان کے را جا مہا راجہ نو اب جا گیر دا ر اورسیا ست داں جیسے مو لا نا محمد علی جو ہر‘ چو دھر ی رحمت علی سر عبد القا در ‘ محمد علی جنا ح ‘ پنڈ ت جو اہر لا ل نہر و ‘ اقبال وغیر ہ نے بر طا نیہ میں قیا م کے دو ران اپنے آ س پا س اردو ما حو ل بر قر ار رکھا ۔ تر قی پسند مصنفین کے اد یبو ں اور شعر ا کی ملا قا تیں جیر الڈ اسٹر یٹ کے شفیع رسٹو رنٹ میں ہو تی تھیں ۔ (یہ بھی پڑھیں اردو شاعری میں ہندو دیو مالائی عناصر اور رام کا کردار – مہر فاطمہ )
ہند و ستا ن سے آئے ادیب و شعر ائ محمد دین تا ثیر ۔ ڈا کٹر گھو ش ‘ ملک را ج آنند سجا د ‘ ظہیر وغیر ہ نے تر قی پسند تحر یک کی دا غ بیل بر طا نیہ میں ڈ الی ۔ دو سری جنگ عظیم کے بعد بڑ ی تعدا د میں مزدوروں اور ہنر مند و ں کے قا فلے بر طا نیہ میں سکو نت پذیر ہو ئے ۔ اور جب انہیں یہ احساس ہو ا کہ بر طا نیہ میں ان کا قیا م عا رضی نہیں بلکہ مستقل ہے تو انہو ں نے اپنے مشر قی اقد ار اور ز بان کی حفا ظت پر تو جہ دی ۔ اور رضا کا رانہ طو رپر یہ کا م ہو نے لگا ۔ اس کی بد و لت اردو کے فر و غ کا تذ کر ہ کر تے ہو ئے حبیب حیدر آ بادی لکھتے ہیں :
’’ جب صا حب بصیرت لو گو ں نے محسو س کیا کہ اب انگلستا ن میں ہم سب کا قیا م ایک مستقل نو عیت اختیا ر کر تا جا رہا ہے تو وہ مشر قی اقدار کی حفا ظت کی تدابیر کر نے لگے ۔پر دیس میں چو نکہ خد ا ذ را ز یا دہ یا د آ تا ہے ۔ اس لئے مختلف مذہب کے ما ننے وا لے سب سے پہلے اپنے اپنے عبا دت خا نو ں کی تعمیر و تشکیل میں مصرو ف ہو گئے ۔ مندرو ں ‘ گرد وا روں ‘ مسجدوں کی اور امام باڑوں کی تعد ا د میں آ ئے دن اضا فہ ہو نے لگا ۔ کو شش اس با ت کی ہو تی رہی کہ یہ عبادت خانے ہما ری تہذ یبی ‘ ثقا فتی اور ما دری زبا ن کی اشا عت و تعلیم کے مر اکز بھی مذ ہبی تعلیم کی طر ف بھی توجہ دی جا نے لگی ۔۔۔ چو ں کہ مذ ہبی تعلیم کا بہت سارا لٹر یچر اردو میں ہے ۔ اس لئے مساجد میں مذ ہبی تعلیم کی زبان بھی اردو بن گئی ۔۔۔ مقا می ادا رو ں کو نسلو ں اور محکمہ تعلیم نے جب دیکھا کہ رضا کارانہ طو ر پر اردو پڑ ھا ئی جا رہی ہے یہ کا م یا تو انہو ں نے خو د اپنے ہا تھ میں لے لیا ۔ یا پھر اردو کے کا م کر نے والے افر ا د یا ادا رو ں کی سر پر ستی کر نی شروع کر دی ‘‘ ۔ ۲؎
بر طا نیہ میں اردو اور ہند و ستا نی تہذ یب کا کس قدر بول با لا ہے اس با رے میں مز ا حیہ اند ا ز میں مجتٰبی حسین لکھتے ہیں :
’’ پچھلے دنو ں بر طا نیہ کے ایک صا حب دہلی کی جا مع مسجد کے سا منے کہنے لگے ’’ میا ں ! دہلی میں اب صرف جا مع مسجد رہ گئی ہے ۔ اس کی سیڑ ھیا ں تو اب لندن میں پا ئی جا تی ہیں ۔ یہاں کی نہا ری اب بر یڈ فو رڈ ‘ میں ملتی ہے ۔ یہا ں کی کرخند ا ری اب بر منگھم میں سنا ئی دیتی ہے ۔ بر طا نیہ میں مقیم ایک حید رآ با دی دو ست نے کچھ عر صہ پہلے لکھا تھا ۔ ’’ میا ں ! حیدرآ بادی بر یا نی کی تلا ش میں پتھر گٹی اور مچھلی کما ن کے چکر کیو ں لگا تے ہو ۔ مچھلی کمان تو اب لند ن میں آ گئی ہے ‘‘ ۔ ۳ ؎
مجتبٰی حسین نے اپنے مضمو ن میں آ گے یہ بھی لکھا کہ بر طا نیہ کے آ ٹھ ہزار اسکو لوں میں اردو پڑھائی جا تی ہے ۔ اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ بر طا نیہ میں ایشیا ئی کتنی تعدا د میں تھے اور کس طر ح انہو ں نے اپنے بچو ں کی اردو تعلیم کا نظم کیا ۔
بر طا نیہ میں اردو کتب خا نے :–
اردو تعلیم کے لئے ضرو ری ہے کہ اردو میں کتابو ں کا بھی ایک بڑ ا ذخیر ہ مو جو د ہو ۔ اور کتا بو ں کے بڑ ے ذخا ئر عمو ماً کتب خانے ہو تے ہیں ۔ برطانیہ میں اردو کتابیں جمع کر نے کے لئے بھی شعو ری کو شش شروع ہو ئی ۔ ۱۹۶۷ میں نو ٹنگھم میں برطانیہ کی پہلی اردو لا ئبریری قا ئم ہوئی ۔ ہندوستا ن اور پاکستان کے سفیروں کی موجودگی میں شیر ف آ ف نو ٹنگھم نے لا ئبر یر ی کا افتتاح کیا ۔ نو ٹنھگم کا ر پو ر یشن نے لا ئبر یر ی کے لئے شہرکے وسط میں عما رت فر اہم کی ۔ جہا ں بچو ں کی اردو تعلیم کا بھی نظم تھا ۔ لو کل گو نمنٹ ایکٹ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ بر طا نیہ کی لا ئبر یر یو ں سے تا رکین وطن کو ان کی اپنی ما دری زبا ن میں کتا بیں فر اہم کی جا ئیں ۔ اس قا نو ن سے تما م بڑے کتب خا نو ں سے اردو کتا بیں تا رکین وطن ایشیا ئیو ں کے لئے فر اہم کی جا نے لگیں ۔ حبیب ؔ حید رآ با دی نے لکھا کہ ان کی کتا ب ’’ انگلستا ن میں ‘‘ کی اشا عت کے بعد بر طا نیہ کی لا ئبر یر یو ں میں یہ کتا ب چھ سو کی تعد ا د میں لی گئی ۔ اس سے اند ا زہ ہو تاہے کہ بر طا نیہ میں اردو کتا بیں رکھنے وا لے کتب خا نو ں کی تعدا د کتنی تھی ۔
برطانیہ میں اردوتعلیم کا نظم : –
بر طا نیہ میںکثیر انسل لو گ مو جو د ہیں اور ایک اندازے کے مطا بق دیڑ ھ سو سے زیا دہ ما دری زبا نیں بو لنے والے لو گ صر ف لندن میں مقیم ہیں ۔ ان تما م کے لئے ان کی ما دری تعلیم ایک مسلہ بن جا تی ہے ۔ اس کے با وجو د اردو تعلیم کے ضمن میں حکومت برطا نیہ کا رو یہ مثبت رہا ۔ ۱۹۸۵ میں لند ن کے مختلف اسکولو ں میں قر یباً چا ر ہزا ر بچے اردو تعلیم پا رہے تھے ۔ کئی اسکو ل ایسے ہیں جہا ں اسکو ل کے او قا ت میں اردو پڑ ھا ئی جاتی ہے ۔ بعض اسکو لو ں میں دو پہر کے کھا نے کے وقفے یا اسکو ل کے مقررہ او قا ت کے بعد اردو تعلیم کا نظم کیا گیا ۔ اردو تعلیم کے لئے حکو مت نے گر انٹ بھی مختص کی ۔ اسکو لو ں کے علا وہ تعلیم با لغا ن کے اداروں اور مختلف کالجو ں میں شا م کے وقت اردو تعلیم کا نظم کیا گیا ہے ۔ انگر یز و ں کو بھی تعلیم با لغا ن کے ادا رو ں میں اردو سکھا ئی جا رہی ہے۔ لند ن یا آ کسفو رڈ یو نیو ر سٹی میں 0 لیول کے اور لند ن یو نیو ر سٹی میں A لیو ل کے اردو امتحا نا ت کا آ غا ز کیا گیا ۔ لند ن یو نیو ر سٹی کے اسکو ل آ ف اور ینٹل اینڈ افر یکن اسٹڈ یز میں اردو کے بی اے ( آ نر ز ) کی تعلیم دی جا تی ہے ۔ اس کے بعد ایم ۔ اے یا پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حا صل کی جا سکتی ہے ۔ جہا ں اردو کو ابتد ائ سے سیکھنے کے لئے پر ا ئمر ی اسکو ل اور تعلیم با لغا ن کے اد ارے مو جو د ہیں ۔ وہیں بعض یو نیو ر سٹیو ں میں پی ۔ ایچ ڈی کی سطح تک اردو کی اعلی تعلیم کا نظام کیا گیا ہے ۔ ان با تو ں سے اند ا زہ ہو تا ہے کہ بر طا نیہ میں آ ہستہ آ ہستہ اردو تعلیم کا نظام پھیلتا گیا ۔ اور اب وہا ں ابتد ا ئی جما عت سے ڈا کٹر یٹ تک اردو کی تعلیم کا با قا عدہ نظم ہے ۔
بر طا نیہ میں اردو صحا فت : –
انسا ن ایک سما جی جا نو رہے ۔ سما ج کے بغیر وہ چین سے نہیں رہ سکتا ۔ اور سما ج کے بارے میں وہ جا نکا ری بھی رکھنا چاہتا ہے ۔ ہم جس سما ج جس معاشر ے میں رہتے ہیں اس میں وقو ع پذ یر ہو نے وا لے وا قعا ت اور احو ال جاننے کی خو اہش ایک فطری امر ہے ۔ بر طا نیہ میں تا رکین وطن ہند و ستا نیو ں اور پا کستا نیو ں کی ایک کثیر تعد اد ۱۹۶۰ تک جمع ہو چکی تھی ۔ یہ لو گ وطن سے دور تھے ۔ اور وطن کی خبر یں جاننے کے لئے بے چین رہا کر تے تھے ۔ تا رکین وطن کی ان ہی خو ا ہشا ت کے تحت بر طا نیہ میں اردو صحا فت کا آ غا ز ہو ا۔
بر طا نیہ میں اردو صحا فت کے ابتد ائی نقو ش کھو جتے ہو ئے سید عا شو ر کا ظمی لکھتے ہیں :
’’ مغر بی مما لک میں اردو صحا فت اور اخبا را ت کی تا ریخ انگلستا ن سے شر وع ہو تی ہے ۔ کہنے کو تو انیسو یں صد ی کی آ ٹھو یں دہا ئی میں چھپنے والے جو زف سا لٹر کے کتا بچے ’’ یو رپ میں ایشیا ئی ‘‘ کو بھی کسی نے اردو صحا فت کے خا نے میں درج کر نے کی کو شش کی ۔ جسے نہ صحا فت کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ کتا بچہ اخبا ر ورسائل کے زمر ے میں آ تا ہے ۔اس کتا بچے کو اردو کی پہلی کتاب بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ ۔۔۔۔بر طا نیہ میں اس سلسلے کی پہلی کڑ ی اخبا ر ’’ ہند ‘‘ تھا جو ہند وستا نی طلبا نے ۱۹۲۰ میں شر وع کیا تھا اسی اخبا ر ’’ ہند ‘‘ کا نا م بعد میں یو نا ئٹیڈ انڈ یا ( United India ) کر دیا گیا ‘‘ ۔ ۴؎
حبیب حیدر آ بادی نے اپنی تحقیق کے مطا بق اپنے مضمو ن انگلستا ن میں اردو میں لکھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دو را ن ۱۹۱۸ئ میں لند ن سے فو جی اخبا ر ’’ کے نام سے ایک اخبا ر اردو میں شا ئع ہو تا تھا ۔ سید عا شو ر کا ظمی نے اپنی کتا ب‘‘ بیسو یں صد ی کے اردو اخبا رات ورسا ئل مغر بی دنیا میں ‘‘ میں بر طا نیہ سے جا ری ہو نے والے جن اردو اخبا رات اور رسا ئل کا تعا رف پیش کیا ہے ۔ ان کے نا م اور مقا م اشا عت ذیل میں دئے جا تے ہیں ۔ہفت روزہ نو ائے وقت اوورسیز ایڈ یشن ۔ ہفت رو زہ ۔ مشر ق ۔ لند ن ہفت رو زہ ایشیا ۔ بر منگھم ‘ رو ز نا مہ جنگ ۔ لند ن ۔ رو ز نامہ ملت لند ن ۔ رو ز نا مہ اردو ٹا ئمز گلا سگو ‘ ہفت رو ز ہ ملت بر منگھم ‘ ہفت رو زہ وطن ۔ لند ن ‘ ہفت رو زہ عوا م ۔ لند ن ‘ہ ہفت رو زہ آ ز اد لند ن ‘ ہفت رو زہ دی نیشن ۔ لندن ‘ ہفت رو زہ ملا پ ۔ لندن ‘ ہفت رو زہ پر تا پ لندن ‘ ما ہنا مہ آفا ق نو ٹنگھم ‘ ما ہنا مہ تصو یر لند ن ‘ ما ہنا مہ گھر انہ بر منگھم ‘ ما ہنا مہ شفق لند ن ‘ ما ہنا مہ مجلہ جنبش نو لندن‘ روز نا مہ آ وا ز لند ن ‘ ما ہنا مہ آ در ش لند ن ‘ ما ہنا مہ صد الند ن ‘ کمیو نٹی اخبا ر سا لٹلے نیو ز بر منگھم ‘ پند رہ روزہ جمہو ر آ کسفو رڈ ‘ ما ہنا مہ سجاد ما نچسٹر‘ سہ ما ہی سفیر ما نچسٹر ‘ پند رہ روزہ خبر یں ما نچسٹر ‘ پند رہ رو زہ آ ئینہ ما نچسٹر ‘ سہ ما ہی سیپ اولڈ ھم ‘ ما ہنا مہ عقا ب ۔ بر یڈ فو رڈ ‘ ما ہنا مہ خو شبو بر یڈ فو رڈ ‘ ما ہنا مہ پاکستا ن پو سٹ ۔ لند ن ۵؎
ان اخبا رات و رسائل میں بیشتر پا کستا نیو ں کی جا نب سے جا ری کر دہ تھے ۔ کیو ں کہ برطا نیہ میں اردو صحا فت و کتابوں کی اشا عت میں پا کستا نی آ گے آ گے رہے ۔ بعد میں ہندوستانیوں کی جا نب سے بھی اردو اخبا رات و رسا ئل جا ری ہو نے لگے۔۱۹۶۰ کے بعد بر طا نیہ سے جا ری ہو نے والا پہلا اردو اخبا ر ہفتہ وا ر ’’ مشر ق ‘‘ تھا ۔ جویکم اپر یل ۱۹۶۱ کو لند ن سے محمو د ہا شمی کی اد رت میں شا ئع ہو ا ۔ یکم مئی ۱۹۶۳ کو بر منگھم سے ہفتہ وا را یشیا کا اجر ا ئ ہو ا ۔ نو مبر ۱۹۶۴ کو استا د بٹٹنگی نے ما ہنامہ ’’ آ فا ق ‘‘ نو ٹنگھم سے نکا لا ۔ ۱۴ جو لا ئی ۱۹۱۹ کو عبد الر ز اق نے لند ن سے ہفتہ وا ر’’ وطن‘‘ جا ری کیا ۔ جو انگلستا ن میں کا فی مقبول رہا ۔ ۱۵ ما رچ ۱۹۷۱ کو میر خلیل الر حمن نے لند ن سے اخبا ر ’’ جنگ‘‘ شر و ع کیا ۔ ۱۹۷۶ میں مقصو د الٰہی شیخ اور فر یدہ شیخ نے بر یڈ فو رڈ سے ہفتہ وار ’’ را وی ‘‘ جا ری کیا ۔ اس ہفتہ وا ر میں انگلستا ن کے ادیبو ں کی تخلیقا ت بھی شا ئع ہو تی رہیں ۔ ۱۹۶۵ میں رمیش سو نی نے لندن سے ہفتہ وا ر ’’ ملا پ ‘‘ شر وع کیا ۔ اسی عنو ان سے ہند و ستا ن میں دہلی ‘ جا لند ھر اور حید رآ باد سے اخبا ر نکلتا ہے ۔ ’’ ملا پ‘‘ کے ما لکین کو جب یہ علم ہو ا کہ ان کے اخبا ر کے نام سے لند ن میں اخبا ر جا ری کیا گیا ہے تو وہ پر یشا ن ہو اٹھے اور کسی طر ح رمیش سو نی کو نام بد لنے پر آ ما دہ کر تے رہے ۔ لیکن ہند وستا ن کا قا نو ن لند ن و الو ں پر لا گو نہیں ہو تا اور میش سو نی نے بھی رجسٹر یشن کے بعد ہی اخبار جا ری کیا تھا ۔ ’’ ملا پ‘‘ ہند و ستا ن کے ما لکین اور رمیش سو نی کے در میا ن جا ری تنا زعہ کے بارے میں سلطا ن محمو د اپنی تصنیف ’’ بر طا نیہ میں اردو صحا فت ‘‘ میں لکھتے ہیں : (یہ بھی پڑھیں علامہ سید سلیمان ندوی اور اردو ادب – محمد اکرام الحق ندوی )
’’ رو ز نا مہ ’’ ملا پ‘‘ دہلی کے اربا ب حل و عقد نے رمیش سو نی کو اس امر پر آ ما دہ کرنے کی بے حد کو شش کی کہ وہ ’’ ملاپ ‘‘ کا نام نہ بر تیں ۔ لیکن ’’ مر ض بڑ ھتا گیا جو ں جوں دوا کی ‘‘ کے مصد اق رمیش سو نی ان کی مشکلات میں اضا فہ کر تے چلے گئے ۔ ’’ تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ رو ز نا مہ ’’ ملاپ‘‘ دہلی والو ں کو بھی لند ن سے اخبا ر نکا لنا پڑ ا۔ چنا نچہ انہو ں نے لند ن سے ۱۴ جو لائی ۱۹۷۲ سے رو ز نامہ ’’ ملا پ ‘‘ کا ہفت رو زہ ایڈ یشن ( انٹر نیشنل ) لند ن‘‘ کے نا م سے اشا عت کا آ غا ز کیا ۔ تب سے یہ اخبا ر یعنی اصلی ’’ ملا پ ‘‘ بھی بڑ ی با قا عد گی سے شا ئع ہو رہا ہے ‘‘ ۔ ۶؎
’’ ملا پ ‘‘ کے اس جھگڑ ے سے اند ا زہ ہو تا ہے کہ صحا فت کی دنیا میں نا م کی کتنی اہمیت ہے ۔ ۱۹۷۰ میں گر نام سنگھ سا نی نے ہفتہ وا ر ’’پر تا پ‘‘ شر وع کیا ۔ یہ بر طا نیہ میں دو سرا ہند وستا نی اردو اخبا ر تھا ۔ بر طا نیہ میں اردو اخبا رو ں کے اجر ائ میں رسہ کشی کو بیا ن کر تے ہو ئے سلطا ن محمو د لکھتے ہیں :
’’ بر طا نیہ میں اردو کے کسی اخبا ر کی شہ رگ کا ٹنے کا مخا لف عنا صر نے جو آ سان تر ین اور مو ثر نسخہ ایجا د کر رکھا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ متعلقہ اخبار کے کا تبوں کو بغا وت پر اُ کسا یا جا ئے ۔ چنانچہ ما رچ ۱۹۷۵ میں ’’ پر تاپ ویکلی کا اکلو تا کا تب بے مروّتی ‘‘ پر اُ تر آ یا ۔ اُ سے کسی اور جگہ سے زیا دہ تنخو اہ کی پیش کش ہو ئی تو وہ ’’ پر تا پ ویکلی ‘‘ کو خیر با د کہہ گیا ۔ اس صد مے کی تا ب نہ لا کر ۲۸ ما رچ ۱۹۷۵ کو ’’ پر تا پ ویکلی‘‘ بند ہو گیا ‘‘ ۔ ۷؎
’’ ملا پ ‘‘ اور ’’ پرتاپ‘‘ کے بعد بھی برطانیہ سے اردو اخبارات و رسائل کے اجر ا کا سلسلہ جاری رہا ۔ ۱۹۷۲ میں شمیم چشتی نے ماہنا مہ ’’ گھر ا نہ ‘‘ جا ری کیا ۔ ۱۹۷۴ میں انعا م عزیز کی ادا رت میں رو ز نامہ ’’ ملت ‘‘ کا اجرا عمل میں آ یا ۔ ۱۹۷۶ میں حبیب الر حمن نے ہفت وا ر ’’ آ زاد‘‘ جا ری کیا ۔ اسی سا ل نصر اللہ خا ں کی ادا رت میں ہفتہ رو زہ’’ عوام‘‘ جا ری ہو ا ۔ بر طا نیہ سے جا ری ہو نے والے ما ہنا مہ جر ائد میں شفق ‘ سکو ن ‘ سفیر ‘ روحا نی ڈا ئجسٹ ‘ سو یر ا ‘ معنی ‘ دعو ۃ الحق اور صراط المستقیم وغیرہ ہیں۔بر طا نیہ سے جاری ہو نے والے اردو اخبارات کے بارے میں تبصر ہ کر تے ہو ئے مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں :
’’ یو ں تو انگلستا ن سے کئی اردو ہفت وا ر اور ما ہنا مے نکلتے ہیں لیکن لندن سے دو اردو روز نا مے ’’ جنگ اور وطن ‘‘ بھی نکلتے ہیں ۔ ہمیں افتخا ر عارف کے سا تھ رو ز نا مہ ’’ جنگ ‘‘ کے دفتر جا نے کا مو قع ملا ۔ ’’ جنگ‘‘ لند ن کے ایڈیٹر اشر ف قا ضی نہ صر ف بہت تپا ک سے ملے بلکہ نیو ز ایڈ یٹر قیصر اما م اسٹنٹ ایڈ یٹر زیڈ ۔ یو ۔ خا ن اور چیف رپو رٹر ظہور نیا زی سے ہما را تعا رف بھی کرایا۔ ہم نے ان کا پر یس بھی دیکھا ۔۔۔۔’’ جنگ ‘‘ میں چھپے بعض اشتہا ر ا ت کو دیکھ کر ہمیں احساس ہو ا کہ اردو کا اخبار چا ہے لند ن سے نکلے یا ما لیگا ئو ں سے وہ اپنے مز ا ج اور کر دا ر کو بر قر ار رکھتا ہے ۔ کچھ عر صہ پہلے تک ’’ ملا پ ‘‘ بھی لند ن سے نکلتا تھا ۔ مگر اب نہیں نکلتا ۔ سائو تھا ل میں ہند و ستا ن اور پا کستا ن کے سارے ادبی ‘ نیم ادبی اور غیر ادبی رسا لے مل جا تے ہیں ‘‘ ۔ ۸؎
لند ن میں اخبار ات و ادبی رسا ئل کے علا وہ فلمی رسا لے بھی مقبو ل رہے ۔
دیسی فلمو ں کی تا رکین وطن میں مقبو لیت صر ف فلمو ں تک محد ود نہیں رہی بلکہ اردو فلمی جرائد بھی عوام میں مقبو ل رہے ۔ اس ضمن میں ہند و ستا ن کے مشہو ر اردو فلمی جرائد ’’ شمع‘‘ اور ’’ روبی‘‘ کے بر طا نیہ میں ہز اروں خر ید ار تھے ۔ اردو فلمی جر ائد میں تا رکین وطن کی دلچسپی کو دیکھتے ہو ئے بر طا نیہ میں فلمو ں کے ڈسٹر ی بیو ٹر جسو نت سنگھ سدھو نے ۱۹۷۰ میں برمنگھم سے ما ہنا مہ’’ تصویر‘‘ شا ئع کیا ۔ اس فلمی رسا لہ کے با رے میں سلطا ن محمو د لکھتے ہیں :
’’ ماہنامہ ‘‘ ’’ تصو یر ‘‘ بر منگھم ‘بر طا نو ی تا ریخ میں اردو کا پہلا فلمی جرید ہ اور بر طا نیہ میں بھا رتی صحا فت کا سب سے زیادہ حسین اور معیا ری شا ہکا ر تھا جو کتا بت ‘ طباعت علم و ادب اور نفاست کے اعتبا ر سے پا کستا نی اخبا رات سے کسی طرح بھی کم تر نہ تھا بلکہ خو ب صو رتی کے لحا ظ سے پا کستا نی اخبا رات سے با زی لے گیا تھا ۔ یہ پہلا بھا رتی جر یدہ تھا جسے قبول عا م حا صل ہو ا ‘‘ ۔ ۹؎
بر طا نیہ میں اردو صحا فت کے اس جائز ے سے اند ا زہ ہو تاہیکہ اردو کس حد تک بر طانیہ میں قبو ل عا م کا درجہ حا صل کر چکی ہے ۔ ان میں سے بہت سے اخبارات اب بند ہو چکے ہیں۔ لیکن جس ابتدائی زما نے میں بر طا نیہ میں فر و غ اردو کے لئے انہو ں نے کا م کیا وہ لا ئق تحسین ہے ۔ ایک ایسے زما نے میں جبکہ ہا تھ کی کتا بت کا روا ج تھا بر طا نیہ سے اتنی زیا دہ مقدا ر میں نکلنے والے اردو کے اخبا ر ‘ رسا ئل وجر ائد اس امر کی غما زی کر تے ہیں کہ وہا ں صحا فت کے ذریعہ اردو کو کا فی فر و غ ملا ۔صحا فت کے علا وہ ریڈ یو اور ٹیلی ویژ ن سے بھی بر طا نیہ میں اردو کو فر وغ حا صل ہو تا رہا ۔ ۱۹۴۲ سے ہی بی بی سی لند ن ریڈ یو نے اردو میں اپنے پر و گر ام شر وع کر ئے تھے ۔ جو بر صغیر میں سنے جا تے تھے۔لیکن ۱۹۶۰ کے بعد سے انگلستا ن کے مختلف شہر وں میں بھی اردو نشر یا ت کا آ غا زہوا ۔ بی بی سی اردو سر ویس کی ایک جا نی پہچا نی آ وا ز رضا علی عا بدی کی ہے ۔ جنہو ں نے ہندوستا ن اور پا کستا ن سے متعلق کئی دلچسپ پر و گر ام پیش کئے ۔ آج بھی بی بی سی ریڈیو بر صغیر میں اسی دلچسپی سے سنا جا تا ہے ۔ بی بی سی اردو کی یہ نشر یا ت انٹر نیٹ پر بھی بر اہ راست سنی اور پڑ ھی جاسکتی ہیں ۔ بی بی سی ارد و سر ویس کی ایک جا نی پہچا نی آ وا ز رضا علی عا بدی کی ہے ۔ جنہو ں نے ہند وستا ن اور پا کستا ن سے متعلق کئی دلچسپ پر و گر ام پیش کئے ۔ آج بھی بی بی سی ریڈ یو بر صغیر میں اسی دلچسپی سے سنا جا تا ہے ۔ ریڈ یو کے علا وہ بی بی سی ٹیلی ویژن سے بھی اردو نشر یا ت شر وع ہو ئیں ۔ اکٹو بر ۱۹۶۵ میں اردو اور ہندی پر مشتمل پر و گر امو ں کی ابتد ائی کی ۔ اس پر و گر ام کو سب سے پہلے آل حسن مر حو م نے پیش کیا ۔ اتو ا ر کی صبح آ دھا گھنٹے کا پر و گر ام ’’ نئی زند گی نیا جیو ن ‘‘ کے نا م سے ہو ا کر تا تھا ۔ پر و گر ام پیش کر نے وا لو ں میں سلیم شا ہد اور مہندر کو ل بھی شا مل تھے ۔ ۱۹۸۷ میں یہ پر و گر ام بند ہو ا ۔ ریڈ یو اور ٹی وی سے بر طا نیہ میں اردو زبا ن کو کا فی مقبو لیت ملی ۔
بر طا نیہ کی اردو انجمنیں اور ادا رے : –
اردو بو لنے والے اور اردو انجمنیں دونو ں لازم و ملز و م ہیں ۔ اسی طر ح بر طا نیہ اردو کی انجمنو ں اور اد اروں کا ملک بھی ہے ۔ اردو انجمنو ں کی بہتات کے با رے میں مز احیہ اند ا ز اختیا ر کر تے ہو ئے مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں :
’’ ایک صاحب نے بتا یا کہ بر طا نیہ میں ایک اند ازے کے مطا بق دس لا کھ اردو بو لنے والے مو جو د ہیں ۔ اور کم از کم پا نچ سو اردو تنظیمیں ہیں ہم نے کہا دس لا کھ اردو بو لنے والو ں کی کم از کم بیس لا کھ اردو تنظیمیں تو ہو نی ہی چا ئیں۔ ہما ری ہی مثا ل لیجئے ۔ کہ اوّل تو ہم خو د اپنی ذا ت سے ایک انجمن ہیں ۔ اس کے علا وہ ایک انجمن کے جنرل سکر یٹر ی ہیں ۔ دو سر ی انجمن میں ہم نا ئب صد ر کے عہد ے پر فائز ہیں ۔ تیسری انجمن سر پر ست کی حیثیت سے ہما ری پیش بہاخد ما ت سے استفا دہ کر تی ہے چو تھی انجمن میں ہم صد رکی حیثت سے جلو ہ گر ہیں ۔ پا نچو یں انجمن کے ہم مشیر ہیں ۔ ان کے علا وہ اور بھی کئی انجمنیں ہیں ۔ جو ہم سے رہنما ئی سر پر ستی اور رو شنی وغیر ہ حا صل کر تی رہتی ہیں ۔ غر ض انجمن سا زی اور خا نہ بر با دی اردو کلچر کی بنیا دی خصو صیا ت ہیں ‘‘ ۔ ۱۰؎
مجتبیٰ حسین کے اس مز اح سے اند ازہ ہو تا ہے کہ بر طا نیہ میں کئی ادبی سیا سی ‘ سماجی و مذہبی انجمنیں و تنظیمیں قا ئم ہیں ۔ ۱۹۴۷ میں چو دھر ی اکبر خا ن نے لند ن میں بز م تفر یح کی بنیا د رکھی ۔ جس میں ادیبو ں اور شا عر وں کو مد عو کیا جا تا تھا ۔ عبد العلیم صد یقی اس کے سر پر ست تھے ۔ڈاکٹر ایو ب مر زا نے ۱۹۵۹ میں انجمن شمع فیض تشکیل دی ۔ نوٹنگھم میں مشا عرہ منعقدہ کیا جس میں فیض کو مد عو کیا گیا تھا ۔ راجہ محمو د صاحب کی صد ا رت میں ۱۹۷۳ میں انجمن ترقی اردو کی بنائی بڑ ی ۔ سید معین الد ین شاہ کچھ عر صہ تک اس انجمن کے معتمد رہے ۔ اور شعر ی محفلیں منعقد کرتے رہے ۔ اسی انجمن کے تحت لند ن میں غا لب ؔ کی صد سا لہ بر سی منائی گئی ۔اپر یل ۱۹۷۸ میں لندن میں اردو مجلس کا قیا م عمل میں آ یا عبا س زید ی انجمن کے معتمد ہیں ۔ بز م کے لئے بیر سٹر غلام یز دا نی ‘ نقی تنویر اور ابر اہیم رضوی اپنا تعاون پیش کر تے ہیں ۔ ۱۹۸۱ میں لند ن میں اردو مرکز کا قیا م عمل میں آ یا ۔ افتخا ر عا رف اس مر کز کے معتمد اعز ازی ہیں اس مر کز نے ہند و پا ک ‘ امریکہ کنا ڈا اور یو رپ کے شعر ا اور ادیبو ں کو مد عو کر تے ہوئے شعرو ادب کی محفلیں منعقد کیں اردو مر کز کے زیر اہتمام کتابوں کی اشا عت بھی عمل میں آئی ۔بر طا نیہ کی ایک اور سر کر دہ اردو تنظیم اردو مجلس یو کے ہے ۔ اس انجمن کا پہلا اجلا س ۸ ؍ اپر یل ۱۹۷۸ کو لند ن کے الا ئنیس ہا ل میں منعقد ہو ا ۔ اردو مجلس کے با نیو ں میں محمد عبد البا سط ‘ بیر سٹر غلا م یز دانی‘ بیر سٹر انو ر حسین ‘ سید مسعو د علی ‘ نقی تنو یر اور نصیر اختر وغیر ہ شا مل ہیں ۔ بیر سٹر انور حسین اس انجمن کے پہلے صد ر تھے ۔ بیر سٹر غلا م یز دانی نے بھی اس کی صد ا رت کی ۔ اردو مجلس کے زیر اہتما م ۱۹۸۰ میں آ ل انگلینڈ اردو کا نفر س منعقد کی گئی ۔ اردو مجلس نے اپنا ایک تر جما ن ’’ حیا تِ نو ‘‘ بھی جا ری کیا ۔بر طا نیہ میں بھی انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیا م ۱۹۸۴ئ میں لا یا گیا ۔ ۱۹۸۵ میں انجمن کی پچا سو یں سالگر ہ بین الاقوامی سطح پر منا ئی گئی ۔ سید عا شو ر کا ظمی ‘ بخشی لا ئلپو ری ‘ قمر رئیس ‘ حکیم جا وید قر یشی اور فا ر غ بخاری نے اس کے لئے اپنی خد ما ت پیش کیں ۔ ۱۹۸۴ میں مجا ہد تر مذ ی نے فیض اکیڈ می قا ئم کی ۔ اور فیض پر سمینا ر منعقد کیا ۔ جس میں فیض کے علا وہ گو پی چند نا رنگ نے بھی شر کت کی ۔ بر طا نیہ کی دیگر اردو مجلسو ں میں مجلس اقبا ل‘ حلقہ فکر اقبا ل ‘ عر فا ن اردو ‘ حلقہ ادب ‘ اکیڈمی آ ف اردو اسٹڈ یز علمی مجلس ‘ کل بر طا نیہ انجمن تر قی اردو ‘ حلقہ اربا ب ذ وق ‘ سمن زار ‘ بر گ گل ‘ حیدر آباد دکن اسیو سی ایشن ‘ افر و ایشن لٹر یر ی سو سا ئٹی ‘ لٹریری فو رم اور اسلا مک مشن وغیر ہ شا مل ہیں ۔ جن میں شعری اور ادبی محفلیں منعقد ہو تی رہتی ہیں ۔ ان مجلسو ں کے تحت بر صغیر کے نا مو ر شعرا اور ادیبو ں کو بر طا نیہ مد عو کیا جا تا رہا ۔ اور ان کی مہما ن نو ازی کے ساتھ سا تھ یہا ں ادبی محفلیں منعقد ہو تی رہیں ۔ اور برطا نیہ ہند و پا ک کے شعر ائ اور ادیبو ں کے لئے ایک مر کزی مقا م بنتا گیا ۔ بر صغیر سے جن شعرا اور ادیبو ں کو بر طا نیہ مد عو کیا جا تا رہا ان میں سجا دظہیر ‘ فیض احمد فیض ‘ حفیظ جا لند ھر ی قد رت اللہ شہاب ‘ سبط حسن ‘ ابن انشا ملک راج آ نند ‘ کشو ر ناہید عصمت چغتائی ‘ علی سر دا ر جعفر ی ‘ اختر الایمان ‘ کنو ر مہندر سنگھ بید ی سحر ؔ ‘ کر شن چندر ‘ قر ۃ العین حیدر‘ گیان چندجین ‘ پر وین شاکر ‘ احمد ندیم قا سمی ‘ حسن رضو ی ‘ منیب الر حمن ‘ گو پی چند نا رنگ ‘ قتیل شفائی صہبا لکھنو ی‘ ضیا جالندھر ی ‘ مغنی تبسم ‘ شہریار ‘ خلیق انجم مجتبیٰ حسین وغیر ہ شامل ہیں ۔ بر صغیر کے نا مور شعرا اور ادیبو ں کی مہما ن نو ازی کر تے ہوئے بر طانیہ کی ادبی مجلسو ں نے اپنے ملک میں سر حد وں کے فر ق کو مٹا دیا اور غیر منقسم ہندوستا ن کا ماحو ل پید ا کر دیا۔ یہ بر طا نیہ کی اردو تنظیمو ں کا اہم کا رنا مہ ہے ۔ بر طا نیہ میں اردو تنظیموں کے علا وہ بعض مذہبی تنظیمو ں نے بھی فر و غ اردو میں اپنی خد مات انجا م دیں ۔ ان تنظیموں میں اسلا مک مشن اور اسلا مک کلچر ل سنٹر اور مسلم انسٹی ٹیو ٹ شا مل ہیں ۔
بر طانیہ کے شا عر اور ادیب : –
بر طا نیہ میں اردو کے تیز ی سے فرو غاور ادبی ما حو ل کی مقبو لیت میں اضا فہ کر نے والو ں میں وہ شعر ا اور ادیب شا مل ہیں جنہو ں نے بر طا نیہ میں مستقل سکو نت اختیا ر کر تے ہو ئے وہا ں کے ادبی ما حو ل کو رو نق بخشی ۔ لند ن میں ابتدا ہی سے اردو کے نا مور شعر ا اور ادیب مستقل یا عا رضی طو ر پر سکو نت پذیر رہے ہیں ۔ چنا نچہ لند ن میں رالف رسل ‘ مشتا ق احمد یو سفی ‘ زہرہ نگا ہ عبد اللہ حسین ‘ اور افتخا ر عا رف نے قیام کیا ۔ احمد فراز ‘ فا رغ بخا ری اور شہرت بخار ی نے اپنی عا رضی جلا وطنی کے لئے لند ن کا انتخا ب کیا ۔ ن ۔ م راشد اور ابن انشا نے اپنی زندگی کے آ خر ی ایام لند ن میں گذارے لند ن ‘ بر منگھم اور انگلستا ن کے دیگر شہر و ں میں منعقد ہو نے والی چھوٹی بڑی شعری محفلو ں میں کثیر تعدا د میں شعر ا اور ادیب شر یک ہو تے رہے ۔ان میں سحا ب قزلبا ش ‘ اکبر حید رآ بادی ‘ عقیل دا نش ‘ اطہر راز ‘ میر شبیر ‘ اظہر لکھنو ی ‘ راج کھیتی ‘ سو ہن را ہی ‘ صد یقہ شبنم ‘ محسنہ جیلا نی ‘ فیر و زہ جعفر ‘ مو ج فر ازی ‘ طلعت سلیم ‘ حضرت شا ہ ‘ مجیب ایما ن ‘ عبد الرحمن بز می ‘ عطا جا لندھر ی ‘ جوہر زاہری‘سلطا ن الحسن فا رو قی‘ با قر نقو ی ‘ سعید اختر درانی ‘ صفی حسن ‘ سا قی فار و قی ‘بخش لا ئلپو ری ‘ عا شو ر کا ظمی ‘ خا لد یو سف ‘ سجا د شمسی ‘حسن اجمل مسر ت ‘ حکیم غلا م نبی ‘ غلا م علی بلبل‘ سلطا ن غو ری محمو د دیو ان ‘ عامر مو سو ی ‘ شا ہین صدیقی ‘ وقا ر لطیف ‘ نجمہ عثمان ‘حمید ہ معین رضو ی ‘ اعجا ز احمد اعجا ز ‘ بے تا ب سو ری ‘ پروین مر زا چمن لا ل چمن ‘ رحمت قرنی ‘ خو ا جہ محمو د الحسن ‘ منیر دہلو ی ‘ عبد الحلیم شر ار اور زہر ہ نسیم وغیر ہ شا مل ہیں۔ مجتبیٰ حسین اپنے دو رۂ بر طا نیہ کی یادوں کو تا زہ کر تے ہو ئے وہا ں ملنے والے شعر ا اور ادیبو ں کا ذکر یوں کر تے ہیں :
’’ اردو مر کز اور اس کے سکر یٹر ی افتخا ر عا رف کا ذ کر پھر کبھی تفصیل سے کر یں گے ۔ یہاں اتنا بتا دینا ضر وری سمجھتے ہیں کہ پکا ڈلی سر کس جب بھی جا تے تھے تو اردو مر کز میں ٹھیکی ضرور لیتے تھے ۔ کیو ں کہ یہا ں احمد فر از ‘ شہر ت بخا ری ‘ فا رغ بخار ی اور کئی ادیبو ں کے علا وہ اردو کے کئی رسالو ں اور اخبا رات سے ملا قا ت ہو جا تی تھی ۔ ان کے علا وہ لندن میں جن ادبی شخصیتو ں سے ملا قا تیں ہو ئیں ان میں پر وفیسر ڈیو ڈ میتھیو ز ‘ سحا ب قز لبا ش ‘ اکبر حید رآ با دی ‘ یا ور عبا س ‘رضا علی عابدی وقا ر لطیف ‘ حسن عسکر ی ‘ حبیب حید رآ بادی ‘ صد یقہ شبنم عا مر مو سو ی ‘ دھر م پال جی ‘ سوہن را ہی ‘ راج کھیتی ‘ عدیل صدیقی ‘ ایوب او لیا ‘ با قر نقو ی ‘ معین الدین شا ہ ‘ چاند کر ن شمس الدین آ غا ‘ فر دو س ‘ عزیز الد ین احمد ‘ مصطفی شہاب مر یم کا ظمی اور کر شن گو لڈ قا بل ذکر ہیں ۔ ان احباب کی عنایتو ں اور محبتو ں سے ہمیں یہ احساس ہو ا کہ ہم اپنے گھر میں نہیں ہیں ۔ اسی لئے زیا دہ خو ش وخر م اور آ رام سے ہیں ‘‘ ۔ ۱۱؎
لندن میں مقیم اردو شعر ا اور ادیبو ں کی اس طو یل فہر ست سے اند ازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ دیا ر غیر میں اردو والوں نے کس قدر اردو کو اپنے گلے سے لگا رکھا ہے ۔ آ ج اردو اپنے ہی گھروں سے نکالی جا رہی ہے ۔ اور اردو وا لے اردو سے سو تیلا سلوک کر رہے ہیں۔ اردو کے نا م پر اردو کی رو ٹی کھا نے والے اپنے بچو ں کو انگر یز ی میڈیم میں پڑ ھا رہے ہیں ۔اور فرو غ اردو کے جلسو ں میں زور و شو ر سے اردو بچا نے کی تجا ویز پیش کر رہے ہیں ۔ ایسے دو رخی ما حول میں بر طا نیہ کے یہ اردو شعر ا اور ادیب قابل ستائیش ہیں کہ انہو ں نے انگریزوں کے ملک میں انگریزی زبا ن کے مد مقا بل چر اغ اردو کی لو کو بلند رکھا ۔ بر طا نیہ کے مختلف شہر وں میں ہفتہ کے او اخر میں اور خا ص مو اقع پر شعری محفلیں جمتی رہتی ہیں ۔ حبیب حیدر آ با دی لند ن میں ہو نے والے مشاعروں کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ:
’’ لندن میں ہر ہفتے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کو ئی مشاعر ہ ہو تا ہی رہتا ہے ۔ لندن تو فیض احمد فیضؔ کا سسر ال ہے ۔ ان کی بیگم کا تعلق یہیں سے ہے ۔فیض ؔ اکثر لند ن آ تے رہتے ہیں کبھی کبھا ر یہا ں کے مشاعر وں میں بھی شر یک ہو جا تے ہیں زہر ہ نگاہ پا کستان کی مشہو ر گلو کا رشا عر ہ بھی لندن ہی میں رہتی ہیں اور ایک دو با ر ’’ انہیں مشا عرو ں میں غزل سرائی کر تے ہوئے میں نے دیکھا ہے ۔ ہند و پا ک کی ایک اور مشہو ر شاعر ہ سحا ب قزلباش بھی لندن میں رہتی ہیں ۔۔۔
کبھی کبھا ر یہ بھی یہا ں کے مشا عر و ں میں حصہ لیتی ہیں ‘‘ ۔ ۱۲؎
لندن کے شا عر و ں اور مشا عر و ں کا احو ال مز احیہ اند از میں پیش کر تے ہو ئے مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں :
’’سنا ہے کہ لند ن میں اب آل انگلینڈ مشا عر ے بھی منعقد ہو تے ہیں ۔ مقا می شاعروں اور بیر و نی شا عر و ں کا چکر بھی وہا ں چلتا ہے ۔ اب انگلستا ن کے شا عر وں کا مو از نہ انیسؔ ودبیر ؔ اور ’’ معر کہ انشا و مصحفی ’’ بھی ہو نے لگا ہے ۔ یہ بڑ ی خو ش آ ئیند باتیں ہیں ۔ اردو ادب میں پنپنے کی یہی تو با تیں ہیں ۔ پچھلے دنو ں دہلی میں میں ہما ری ملا قا ت بر طا نیہ کے ایک اردو شاعر ریا ض بر منگھو ی سے ہو ئی تھی ۔ دو گھنٹو ں تک اپنا کلا م و لا یت نظا م ہما رے گو ش گذ ا ر کر نے کے بعد اپنے دو بر طا نو ی شاعر دو ستوں فیض بر یڈ فو رڈ وی اور آ تش لیک ڈ سٹر کٹو ی کے مجمو عہ ہائے کلا م کے اعزازی نسخے بھی ہمیں سو نپے اور خواہش کی ہے کہ ہم اپنی زرین رائے سے انہیں مطلع فر ما ئیں ‘‘ ۔ ۱۳؎
لندن کے شا عروں اور مشا عر و ں کے احو ال سے پتہ چلتا ہے کہ وہا ں شعر وشا عری کی فضا بر صغیر سے کہیں زیادہ سازگار ہے ۔ بر طا نیہ کے کئی شا عر وں نے اپنے مجمو عہ کلا م خو د شا ئع کروا ئے ۔ کیو ں کہ وہا ں انہیں اپنے کلا م کی اشا عت کے لئے کسی ادا رہ یا اکیڈ می سے تعا و ن نہیں ملتا تھا ۔بر طا نیہ میں شا عر و ں کے علا وہ اردو کی دیگر نثر ی اصنا ف میں لکھنے والو ں کی بھی اچھی تعداد مو جو د ہے بر طا نیہ سے تعلق رکھنے والے اردو کے اہم افسا نہ نگار وں میں مقصو د الٰہی شیخ ‘ جتند ر سنگھ بلّو ‘ چاند کرن ‘ محسن شمسی ‘ محسنہ جیلا نی ‘ فیر و زہ جعفر ‘ صفیہ صد یقی ‘ قیصر تمکین ‘ ابو الخطیب اور حمیدہ معین رضو ی قا بل ذکر ہیں ۔ اردو کے ایک نا مو ر محقق ضیا الد ین شکیب ان دنوں لندن میں مقیم ہیں ۔ اردو شعر و ادب پر ان کے محققا نہ اور عالمانہ مضا مین بر طا نیہ کے علا وہ بر صغیر کے اہم ادبی رسا ئل کی زینت بنتے ہیں ۔انگلستا ن کے شعر و ادب اور وہاں کے ادبی ما حو ل کے تذ کر وں پر مبنی چند ایک کتابیں مشہو ر ہیں ۔ جن میں شر یف بقائ کی ’’ بر طا نیہ میں اردو ‘ حبیب حیدر آبادی کی ’’ انگلستان میں ‘ جو ہر زاہری کی ’’ شعرائے لندن ‘‘ ہیں ۔ رضا علی عا بدی نے ایک کتا ب ’’ کتب خا نہ ‘‘ لکھی جس میں ہند و پاک کے اہم کتب خا نو ں کا تعا رف پیش کیا ہے ۔ را لف رسل کی اردو سیکھنے کی کتابیں ‘ محمو د ہاشمی کے اردو قا عدے برطانیہ سے شا ئع ہو نے والی دیگر اہم کتا بیں ہیں ۔ بر طا نیہ سے تعلق رکھنے والے دیگر محققین میں انڈیا آ فس لا ئبر یر ی کے سلیم قریشی ‘ بر ٹش میو ز یم لا ئبریر ی کے قا ضی محمو د الحق ‘ ڈاکٹر خا لد حسن قا دری ‘ ڈا کٹر فاخر حسین اور ڈا کٹر زو ار حسین زیدی مشہور ہیں ۔ برطا نیہ میں اردو کی تر قی سے انگر یزی ادب بھی متا ثر ہو ا ۔ اردو ادب کو انگر یز ی میں متعا رف کر وا یا گیا ۔ رالف رسل ‘ ڈیو ڈ میتھیو ز ‘ کر سٹو فر شیا کل ‘ وکٹر کیر ین محمو د جمال اور رافع حبیب نے اردو کے شعرا کو انگریزی میں متعا رف کرایا ۔ محمو د جما ل نے’’ ما ڈر ن اردو پو ئٹر ی ‘‘ کے نا م سے اپنی تصنیف میں اردو شعر ائ کو انگر یز ی میں متعا رف کر وا یا ۔ رافع حبیب نے ن ۔ م راشد کی نظمو ں کا انگر یز ی میں تر جمہ کیا ۔
برطانیہ کے بعض ریلو ے اسٹیشنو ں کے نام انگریزی کے سا تھ اردو میں بھی تحر یر کر دہ ہیں ۔ بر یڈ فو رڈ اور سا ؤ تھال میں دکا نو ں کے سائین بو رڈ وں پر اردو دکھا ئی دیتی ہے اس طر ح مجمو عی طو رپر بر طا نیہ میں اردو تر قی پذ یر ہے ۔ اور اس کے مستقبل کے با رے میں کسی قسم کی مایوسی دکھائی نہیں دیتی ۔ حبیب ؔ حیدر آ بادی بر طا نیہ میں اردو کی صو رتحا ل پر طائرانہ نظر ڈا لتے ہو ئے لکھتے ہیں :
’’ اسکو ل آف اورینٹل اینڈ آ فر یکن اسٹڈ یز ‘ انڈ یا آ فس لا ئبر یر ی اوربر ٹش میو زیم لائبریر ی کی سا ٹھ ہز ار اردو کتا بیں اور بے شما ر نا در مخطو طا ت و قلمی نسخے ‘ اردو مرکز کے علا وہ سینکڑوں ادبی انجمنیں ‘ آ ئے دن منعقد ہو نے وا لے ادبی اور شعری اجتما عا ت‘ نا مور شا عرو ں اور ادیبو ں کی لند ن میں مو جو د گی ‘ مقا می ادیبو ں اور شا عر و ں کی تخلیقا ت میں رو ز افز وں اضا فہ ‘ اردو بو لنے والو ں کی اپنی زبا ن سے دلچسپی ‘ بے لو ث اور مخلص اردو کے خد مت گذ اروں کی انگلستا ن کے اکثر شہروں میں مو جودگی ‘ اسکو لو ں کا لجو ں اور یو نیو ر سٹیو ں میں اردو تعلیم کا انتظا م ‘ ریڈیو اور ٹیلی ویژ ن پر اردو کے پر و گر ام ‘ روز نا مو ں ‘ ہفتہ وا ر اور ما ہنا مو ں کا اجر ائ ‘ ہند وپا ک ‘ امر یکہ اور کینڈا سے اردو کے ممتا ز ادیبو ں اور شا عر وں کی آمد و رفت ‘ مر کز ی یا مقا می محکمو ں سے اردو کی انجمنو ں کی ما لی امد ا د اور انگلستا ن سے اردو کا تا ریخی گہر ا رشتہ لند ن کو اردو کا تیسرا مر کز بنا ئے ہو ئے ہے ۔ اور بقو ل با با ئے اردو مو لو ی عبد الحق ’’ ہم انگلستا ن کے رہنے والے اردو کے گا ڈ فادر بنے ہو ئے ہیں ‘‘ ۔ ۱۴؎
برطانیہ میں اردو کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسکالر رکن الدین لکھتے ہیں:
برطانیہ میں موجود ہ عہد کی بات کریں تو تین روزنامے، چار ہفتہ وار، چھہ ماہنامے، چار سہ ماہی پابندی سے شائع ہورہے ہیں۔ برطانیہ میں اردو کے فروغ میں ادبی انجمنوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ادبی انجمنوں میں ’’اردو مجلس‘‘ جس کی بنیاد سر عبدالقادر نے ڈالی تھی۔ اس کے زیر اہتمام ہر ماہ ادبی نشست منعقد ہوتی تھی جس میں لندن میں مقیم اردو کے ادیب وشاعر شرکت کرتے تھے۔ 1947میں چودھری اکبر خان نے لندن میں ’’بزم تفریح‘‘ کی بنیاد رکھی۔ 1972میں راجہ صاحب محمود آباد کی صدارت میں ’’کل برطانیہ انجمن ترقی اردو‘‘ تشکیل پذیر ہوئی۔ 1981میں ’’اردو مرکز‘‘ وجود میں آیا۔ 1983میں ’’فیض اکادمی‘‘ وجود میں آئی اور جولائی 1947کو دوروزہ انٹرنیشنل سیمینار لندن یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا موضوع فیض احمد فیض شخصیت اور شاعر تھا۔ فروری 2000 میں اردو ٹرسٹ نے دوروزہ ’’عالمی اردو کانفرنس‘‘ منعقد کی جوکہ برطانیہ میں اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں پہلی کانفرنس تھی۔ جس کا موضوع ’’اردو برصغیر سے باہر یا اردو اپنی نئی بستیوں میں‘‘ تھا۔اس کانفرنس میں تقریباً ۷۲ مندوبین نے ہندوپاک کے علاوہ اردو کی نئی بستیوں سے شرکت کی۔ جن میں خاص طور پر ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز لندن سے، ڈاکٹر مارک،پراگ سے، ڈاکٹر آلینڈ یزولیر،پیرس سے، ڈاکٹر لامیلا واسیلیوا، ماسکو سے، ڈاکٹرخلیل طوقار، استنبول سے اور صدارت کی حیثیت سے ڈاکٹر جمیل جالبی، کراچی، پاکستان سے قابل ذکر ہیں۔ اس کانفرنس کے بعد ’’یورپین اردو رائٹرسوسائٹی‘‘ کے زیر نگرانی ماہنامہ ’’پرواز‘‘ اپریل 2001سے جاری ہوا اس کے بعد 2003میں ’’یورپین اردو رائٹر لندن‘‘کا قیام عمل میں آیا۔موجودہ وقت میں برطانیہ کے بڑے شہروں میں متعدد اردو ادارے اور تنظیمیں متحرک وفعال ہیں جن میں ’مسلم ھینڈس، نوٹنگھم‘،’یورک شائرادبی فورم، بریڈ فورڈ‘، ’بزم ادب، شیفلڈ‘،’خزینہئ شعرو ادب، مانچسٹر‘،’اقبال اکیڈمی، برمنگھم‘،’فیض کلچر فاؤنڈیشن، لندن‘وغیرہ۔ یہ تمام ادبی و ثقافتی گروپ برطانیہ کے متعدد شہروں میں پچھلے کئی سالوں سے ’’اہل قلم‘‘ کے نام سے ایک اہم ادبی اجتماع کرتے ہیں۔ اس اجتماع میں پوری دنیا سے اردو دانشوراور اسکالر شرکت کرتے ہیں اور اردو کی عالمی صورت حال پر تبادلہ ئ خیال کیا جاتا ہے۔ اردوزبان و ادب میں پوری دنیامیں کیا کچھ ہورہا ہے؟ اور دیا رغیر میں اپنی تہذیبی زبان کی آبیاری کیسے کی جائے؟،ان سب امور پر ایک جامع اور مبسوط خاکہ تیار کرکے عملی طور پر برتنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ برطانیہ کے ساتھ ساتھ دیگر اردو کی نئی بستیوں میں اردو کے فروغ کے لیے اخبارات، رسائل، ٹی وی اور ریڈیو جیسے اہم میڈیم موجود ہیں۔ ان بستیوں میں اردو کے کئی ٹی وی چینل اور ریڈیو پروگرام دن رات چل رہے ہیں‘‘۔ ۱۵؎
اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ برطانیہ میں اردو کا فروغ قابل قدر ہے۔ برطانیہ کے بہت سے علاقوں جیسے مانچسٹر،لیڈز اور بریڈفورڈ، اسکاٹ لینڈ کے کچھ حصے اور ویسٹ مڈلینڈز وغیرہ میں آج بھی اردو بولنے والوں کی کثر تعداد آباد ہے۔ لندن کے سکولوں کے 2000 میں کیے گئے ایک سروے میں پایا گیا کہ اردو اور ہندی کو ملاکر لندن میں سب سے زیادہ بولی جانے والی دس زبانوں میں پانچواں مقام حاصل ہے۔برطانیہ کا شیفیلڈ شہراس لحاظ سے ایک اہم شہر ہے کہ یہاں اردو کے رواج اور فروغ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں جس میں اس شہر کی انتظامیہ کا بڑا اہم کردار ہے۔ شہر کے شفاخانوں، کتب خانوں ،اور اسکولوں کے باہر لگے سائن بورڈ پر انگریزی کے ساتھ اردو ترجمہ موجود ہوتا ہے۔ یہاں کے کتب خانوں میں اردو کتب کا کافی بڑا ذخیرہ ہے۔ ہسپتال میں جو مریض آتے ہیں ان کی بڑی تعداد کا تعلق پاکستان سے ہے اور جن میں عمر رسیدہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ انھیں ڈاکٹر سے اپنی زبان میں بات کرنے کے لیے مترجم کی سہولت مہیا کی جاتی ہیں۔ شیفیلڈ میں مقیم تارکین وطن پاکستانی ہیں جو یہاں کی سب سے بڑی اقلیتی آبادی ہے۔ یہ 60 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہوئے ہیں۔ شیفیلڈ میں ‘ جامعہ اسلامیہ اردو ٹیچنگ سینٹر ‘ کے نام سے ایک ادارہ ہے۔ یہ 1990 میں قائم ہوا تھا۔مانچشٹر میٹروپالیٹن یونی ورسٹی برطانیہ کا پہلا تعلیمی ادارہ بن گیا ہے جو طلبہ کو اردو میں ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ستمبر 2015 سے یہ اس زبان کے مطالعے کی سہولت بین الاقوامی تجارت اور سیاسیات کے طلبہ کو بھی دے رہا ہے۔ حالانکہ دیگر جامعات میں قلیل مدتی نصاب کی سہولت موجود ہے، لیکن اس ادارے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اولین جامعاتی کورس ہے جس میں اردو ڈگری کی سطح پر پڑھائی جا رہی ہے۔
اردو کا بطور بیرونی زبان پڑھنے کا رواج برطانیہ میں بڑھ رہا ہے۔ جہاں 2006 میں صرف 6 طلبہ اردو پڑھتے تھے، وہاں 2011 میں یہ بڑھ کر 10 سے زائد طالب علموں کی زبان بن گئی ہے۔
بر طا نیہ میں ہو رہی اردو کی تر قی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بر صغیر کے بعد اردو کا اہم مر کز بر طا نیہ بن گیا ہے ۔ جہا ں ہند وہ پا ک کے ادیب اپنی سرحد وں کی قید سے آزاد ساتھ مل بیٹھتے ہیں ۔ اور شمع اردو کی روشنی کو بلند کر تے ہیں ۔ آ ج بر طا نیہ ‘ امر یکہ ‘ کنا ڈا اور یو رپ کے کئی شہر اردو کی نئی بستیا ں بن گئے ہیں ۔ اور اردو ایک عالمی زبا ن بن گئی ہے ۔ حا لیہ عر صہ میں منعقدہ عالمی اردو کا نفر سو ں میں مغر بی ممالک کے شعر ا اور ادیبو ں کی کثیر تعدا د میں شرکت اور اردو کے مسا ئل سے ان کی گہر ی دلچسپی اس با ت کی دلیل پیش کر تی ہے کہ میر و ؔ غا لب ؔ کی اس زبا ن کی دھوم اب واقعی سارے جہاں میں ہے۔
حو اشی
۱؎ حبیب حیدرآبادی ۔ انگلستا ن میں ۔ حیدر آباد ۱۹۸۱ ص ۲۵
۲؎ حبیب حیدر آبادی ۔ رہ ورسم و آ شنا ئی دہلی ۱۹۸۸ئ ص۸۱
۳؎ حبیب حیدر آبا دی ۔ رہ و رسم و آ شنا ئی ۔ ص ۸۳
۴؎ مجتبیٰ حسین ۔ مجتبیٰ حسین کے سفر نا مے ۔ ص ۱۳۰
۵؎ سید عا شور کا ظمی ۔ بیسو یں صد ی کے اردو اخبارا ت و رسائل مغر بی دنیا میں ۔دہلی ۔ ۲۰۰۲ ئ ۔ ص ۱۶
۶؎ بحو الہ ۔ بیسو یں صدی کے اردو اخبا را ت ورسائل مغر بی دنیا میں ۔ ص ۷ ۔ ص ۸
۷؎ سلطا ن محمو د ۔ بر طا نیہ میں اردو صحا فت ۔ لا ہو ر ۱۹۷۸ئ ص ۱۲۲
۸؎ سلطا ن محمو د ۔ بر طا نیہ میں اردو صحا فت ۔ ص ۱۲۴
۹؎ مجتبیٰ حسین ۔ مجتبیٰ حسین کے سفر نا مے۔ ص ۱۶۰
۱۰؎ سلطا ن محمو د ۔ بر طا نیہ میں اردو صحا فت ۔ ص ۱۲۶
۱۱؎ مجتبیٰ حسین ۔ مجتبیٰ حسین کے سفر نا مے ۔ ص ۱۵۸
۱۲؎ حبیب ؔ حیدر آبا دی ۔ انگلستا ن میں ۔ ص ۲۲۱
۱۳؎ مجتبیٰ حسین ۔ مجتبیٰ حسین کے سفر نا مے ۔ ص ۱۳۰
۱۴؎ حبیبؔ حیدرآبادی ۔ رہ ورسم آ شنائی ص۱۳۳
۱۵؎ رکن الدین۔ مضمون برطانیہ میں ادبی اداروںکی خدمات۔ورلڈ اردو اسوسی ایشن ویب سائٹ
ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو
این ٹی آر ڈگری کالج محبوب نگر تلنگانہ
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
السلام علیکم محترم
آپ کی اردو کے تئیں خدمات قابل ستائش ہیں۔ اس ضمن میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
نیاز مند : محمد سراج الدین ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد