. ارمان نفیسن بیگم کا ایکلوتا بیٹا ہے- جس کو نفیسن بیگم بہت محبت کرتی ہیں۔ چونکہ انھوں نے تین بیٹیوں کے بعد ایک بیٹے کا منھ دیکھا تھا – ہو بھی کیو ں نہ اکیلا وہی تو ان کے بڑھاپے کا سہارا ہے -بچپن سے ہی نفیسن بیگم کی خواہش رہی ہے کہ وہ اس کے لئے خوبصورت سی دلہن تلاش کر لائے- اور وہ دن بھی بہت جلد آ ہی گیا چو نکہ ارمان کو دیکھنے کے لئے آج لڑکی والے آ رہے ہیں- نفیسن بیگم کی خوشی کا کچھ ٹھکانا نہیں ہے- جیسے ہی دروازے پر پہلی دستک ہوئی وہ اپنے بوڑھے پیروں سے دوڑی چلی گئیں – دروازہ کھول کر ارمان کو دیکھتے ہی اس کی پیشانی چومی- اسے اندر لے کر آئی ۔ ارمان بھی چھوٹے بچًے کے مانند اپنی امی کی گودی میں سر رکھ کر ان سے باتیں کرتے ہوئے کہتا ہے ۔
"امی آپ کا بیٹا ان لوگوں کو پسند تو آ جائے گا ؟چونکہ وہ ٹھہرے امیر لوگ ،،۔
"کیوں نہیں آئے گا لاکھوں میں ایک ہے میرا بیٹا "۔نفیسن بیگم نے کہا ۔
ماں بیٹے اپنی گفتگو میں مصروف تھے کہ دروازے پرپھر دستک ہوتی ہے – چھوٹی بانو نے دروازہ کھولا اور امی کو پکارتے ہوئے کہا -"امی مہمان آپ کو بلا رہے ہیں-”
ان لوگوں کو ارمان بہت پسند آیا۔
دونوں طرف سے رضا مندی ہو جانے کے بعد تاریخ مقرر ہوئی اورپھر ارمان کا نکاح بھی طے وقت پر ہو گیا – نفیسن بیگم بیٹے کی دلہن کو گھر میں لا کر پھولی نہیں سماتیں، ان کی خوشی کا کچھ ٹھکانا نہیں رہتا- ان کی بہت بڑی مراد جو پوری ہوئی تھی- دلہن بیگم کو بس ایک ٹک جمائے دیکھتی ہی رہ جاتیں ہیں- دلہن بیگم کو بیڈ سے پاؤں تک نیچے نہیں اُتارنے دیتی- دلہن کو ذرا بھی تکلیف ہویہ ان گوارہ نہیں تھا، گھر کے سارے کام اپنے بوڑھے ہاتھوں سے انجام دیتیں – وقت گزرتا گیا ۔ اور چار پانچ مہینوں کے بعد نفیسن بیگم کو یہ احساس ہوا کہ ان کے بیٹے کے مزاج میں کچھ تبدیلی آرہی ہیں – جو بیٹا اپنی امی سے مشورہ کئے بغیر کچھ کام نہیں کرتا تھا ۔آج وہی اپنی دلہن کے لئے اپنی امی سے حجت کرنے پر آمادہ ہے۔ اور ان سے یہ کہنے پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ ۔
"اپ کی تو بڑھا پے کی وجہ سے عقل خراب ہو گئی ہے ’’
اب نفیسن بیگم کو صرف احساس ہی نہیں بلکہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ یہ سب ان کی اس نئی نویلی دلہن بیگم کا اثر ہے- جس کی آؤ بھگت میں وہ اپنی بھی پرواہ نہیں کرتیں اور یہ سب باتیں نفیسن بیگم کے گھر کی روز کی کہانی بن گئی تھی ۔کبھی خود ان کا اپنے جگر کا ٹکڑا تو کبھی ان کی حسین جمیل دلہن بیگم جس کو لانے کے لئے نفیسن بیگم نے خواب سجائے تھے- آج وہی دلہن بیگم ان سے منھ در منھ زبان لڑاتی ہے۔ آفت اس دن ٹوٹی جس دن نفیسن بیگم کے بوڑھے ہاتھوں. سے گھر کا کام کرتے ہوے دلہن بیگم کا فریج خراب ہو گیا- یا یو ہی اس نے برف جمانا ختم کر دیا تھا ۔ دلہن بیگم ان پر اس طرح آگ بگولہ ہو گئی ، بات اتنی بڑھ گئی کہ گھر نہیں محشر کا میدان بن گیا – اب تو دلہن بیگم اپنی ساس نفیسن بیگم پر ہاتھ اُٹھانے میں بھی تردد محسوس نہیں کر تیں-اور یہ سب ان کے بیٹے کی موجودگی میں ہوتا۔ بہو کی بات تو نفیسن بیگم برداشت کر جاتیں مگر بیٹے کی خاموشی نے انھیں اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ جو اپنی دلہن بیگم کے اس رویے پر ذرا بھی حرکت نہیں کر رہا تھا- وہ یہ تک کہنا ضروری نہیں سمجھتا کہ’ "تم میری امی سے کس طرح بات کر رہی ہو- ‘؟” بوڑھی آکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ایسا محسوس ہورہا تھا گویا ان کے پیروں کی زمیں ہی کھسک گئی ہو ان کو دل کا گہرا صدمہ ہوا ۔ نفیسن بیگم کی طبیعت ایسی خراب ہوئی کہ بستر پکڑ لیا۔ کچھ دن تو یونہی چلتا رہا مگر ایک دن اچانک ان کا بیٹا ارمان ان کے پاس آکر کہتا ہے کہ ٬ "امی , یہاں کب تک آپ یو نہی بیڈ ریسٹ پر رہیں گی، گھر میں اتنے سارے کام ہوتے ہیں ، کچھ اپنی بہو کی فکر بھی کیجئے، اس کے کام وغیرہ میں ہاتھ بٹائے۔! اور ہاں، آپ کی بہو کی طبیعت کچھ علیل سی ہے۔ اس کا خیال رکھیں – وہ بڑے گھر سے آئی ہے ۔آپ تو جانتی ہی ہیں ۔کچھ زیادہ تکلیف برداشت نہیں کر پائے گی ۔”
نفیسن بیگم بیٹے کے منھ سے یہ الفاظ سن کر بے پناہ رونے لگی ۔وہ بیٹا جو کہ ان کو ہر خوشی دینا چاہتا تھا٬ آج وہی ماں کو اپنی بیوی کی نوکرانی بنا کر رکھنا چاہتا ہے-؟بوڑھی ماں کی اس کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں؟ ۔ بیٹے کی ان باتوں سے نفیسن بیگم کو اور زیادہ صدمہ ہوا- ان کو سخت افسوس ہو رہا تھا ٬کہ یہ ان کا وہی ننھا سا ارمان ہے جس کو وہ بے پناہ محبت کرتی تھی – وہ بھی ان سے اتنی ہی محبت کرتا تھا۔ مگرآج نہ جانے وہ محبت ،وہ خلوص کہاں چلا گیا ہے ؟کہاں کھو گیا ہے ؟. اور نفیسن بیگم بس اس صدمہ میں زندگی گزارنے لگیں ۔
آج جب ارمان فیکٹری سے واپس آیا تو امی کو روتا دیکھ کر سمجھ گیا ،ضرور آج گھر میں پھر سے کچھ ہنگامہ ہوا ہے ۔وہ جا کر بیوی سے کچھ کہہ بھی نہیں پایا تھا کہ بیوی نے جھنجلاتے ہوئے ارمان سے کہا ۔
"میں تمہارے ساتھ اب اور نہیں رہ سکتی ۔تمہیں مجھے یا اپنی امی میں سے ایک کو ہی اس گھر میں رکھنا ہوگا ۔ خود سے وہ کچھ کام کرتی نہیں, مجھے اور اپنی نوکرانی بنانا چاہتی ہے ۔”
ارمان نے تسلی دیتے ہوئے دلہن بیگم سے کہا ۔ہوا کیا ہے ۔ آخرمجھے کوئی بات تو بتائیں ۔؟
آف… ارمان تم انہیں اولڈایج ہوم کیوں نہیں چھوڑ آتے ۔؟”دلہن بیگم نے ارمان سے سوالیہ انداز میں کہا ۔
ارمان نے نیچے آکر امی کو دیکھا مگر وہ اپنے کمرے میں نہیں تھیں ۔وہ انھیں باہر اور دوسری جگہ تلاش کرنے لگا ۔
دلہن بیگم نے ایک گہری سانس بھرتے ہوئے کہا ۔
"تھینک گوڈ، خود ہی کاٹا نکل گیا ۔”
نفیسن بیگم بس اڈے پر بیٹھی تھی ۔ دلہن بیگم کی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی تھی ۔کہ پیچھے سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نوجوان نے کہا ۔
خالہ آپ کو کہا جانا ہے ؟ بس تو نکل گئی ۔
"ہاں بیٹا ، جب بس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔تب ہی وہ آگے نکل جاتی ہے ۔اور ہم پیچھے رہ جاتے ہیں ۔بس کسی کا انتظار تھوڑی کرتی ہے ۔”
نفیسن بیگم نے خود سے ہی بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
نو جوان نے نفیسن بیگم کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ۔”کیا ہوا خالہ آپ پریشان لگ رہیں ہیں ۔؟یہ آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں ۔کہاں جانا ہے ۔؟میں چھوڑ آتا ہوں آپ کو ۔؟ نفیسن بیگم نے آنسوٓں کو پوچھتے ہوئے نوجوان کو جواب دیا کہا ۔
"بیٹا ،بڑھا پے میں جب کہ ماں باپ کو اپنی اولاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس وقت بچے اپنے ما ں باپ کا ساتھ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔اور اپنی زندگی میں مگن رہنا چاہتے ہیں ۔ان کو پیچھے گزاری ہوئی زندگی سے کچھ مطلب نہیں ہوتا – ؟” میں تم سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں ۔؟سوالیہ انداز میں نفیسن بیگم نے اس شخص کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
"بیٹا اگر کسی بچّے کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو جائے۔ یا اسے چھوڑ کر چلے جائیں , تو اولاد کو کس قدر پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ غلط راستہ پر بھی جا سکتی ہے٬ اور ان کو کس قدر اپنے و الدین کی یاد ستاتی ہے٬ ؟”
وہ بچے امید رکھتے ہیں کہ۔
” اگر ہمارے بھی و الدین ہوتے تو آج ہم جہاں ہیں شائد وہاں نہ ہو تے- ہمارے ماں باپ ہوتے تو ہم یہ کرتے٬ ہم وہ کرتے ٬ لکین بیٹا آج کے بچے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اتنا ہی غم و الدین کو بھی تو ہوتا ہو گا؟ جب ان کو ان کی اولاد چھوڑ کر چلی جائے ؟- یا خود ان کو ہی ان کے گھر سے نکال دیتی ہے-”
اس نوجوان نے اپنی نگاہیں نیچی کرتے ہوئے خود اپنی دل میں کہا ۔
"میری ماں کو بھی اتنی ہی تکلیف ہوئی ہوگی جب میں انھیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ کر آیا تھا ۔”
نو جوان نے نفیسن بیگم کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔خالہ،
"آج یہ درد صرف آپ کا ہی نہیں بلکہ ہر اس ماں کا ہے- جو اپنے بیٹے کے لئے دلہن لانے کے لئے خواب بنتی ہے- کیا قصور ہے اس ماں کا،؟کیا گناہ ہے ؟کیا بیٹے کے لئے دلہن لانا ہی اس کا سب سے بڑا گناہ بن جا تا ہے ؟. ”
نوجوان نے اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
"ہاں خالہ ہم آج کل کے بچے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ماں باپ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر ہم کون سی دنیا بنا رہے ہیں ؟کیا آگے آنے والی زندگی ہی سب کچھ ہے٬ پیچھے گزاری ہوئی زندگی سے کچھ مطلب نہیں، ان ماں باپ نے ہمارے لئے کتنی مشکلیں برداشت کی ہیں اور ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ ہم میں زندگی گزارنے کا شعور آ جائے کیا آج ہی کے دن کے لئے انہوں نے اپنی راتوں کی نیند کھوئی ہے ؟ اور دونوں کاچین کھویا ہے؟ جس ماں نے ہمیں پیدا کیا ٬ہمارے لئے راہ روشن کی اس کے ساتھ ایسا برتاؤ ، ان کے لئےاس طرح کا ذہن رکھتے ہیں، اس ماں کے لئے "(کیا اس کا کوئی حق نہیں,)؟اس کے لئے ہمارا کوئی فرض نہیں ؟پیچھے گزارے ہوئے لمحوں کا کوئی احساس نہیں؟. ”
"حسرت ان غنچوں پہ ہے جو "ماں،،کو مرجھا دیں ۔”
محمودہ قریشی آگرہ ۔
یو۔پی۔انڈیا


1 comment
[…] ادب کا مستقبل […]