اچانک دل میں یوں یاد کسی کی کیوں آتی ہے؟
اچانک دل اس وسیع کائنات سے نظر کیوں پھیر نے لگتا ہے؟
اچانک اس کا نقش ذہن و دماغ پر کیوں چھانے لگتا ہے؟
اچانک اس کی آواز کی ترنگیں کانوں میں کیوں گونجنے لگتی ہے؟
اچانک قلم کاغذ میں رک کر کیبورڈ پر انگلیاں کیوں چلنے لگتی ہیں؟
میری آنکھوں کی دنیا کا حسن سمٹ کر صرف اس کے رخسار میں کیوں جلوہ فگن ہوجاتا ہے؟
ہواؤں کی خوش خرامیاں اس کی اٹھکھیلیوں میں کیوں پیوست ہوجاتی ہیں؟
پتہ ہے اس موسم میں شام کی پھوار سے خشک مٹی کی سوندھی خوشبو بھی
اس کا مقا بلہ نہیں کر پاتی ہے جب وہ دور سے آتی ہوئی نظر آتی ہے
اور
اطراف و جوانب میں اس کی خوشبو بس جاتی ہے.
پتہ ہے آج مجھے یاد آرہا ہے کہ جنگل میں شام کی بارش کے بعد
پیڑوں کے پتوں سے ٹپکتی ہوئی اساطیری اور نیم خوفناک آواز
سناٹے میں وہ کیفیت پیدا نہیں کر پاتی تھیں
جو اب اس کی خشک آنکھوں کے موٹے آنسوؤں سے کر دیتی ہیں؟
برسات کی رات کی مہیب تاریکی میں جھنگور کی تیز آواز
جب بادلوں کی گڑ گڑاہٹ میں دب جاتی ہے
اور
بجلی کی چمک میں حلق میں ہی پھنس جاتی ہے تب
بارش کی بوندوں کی آواز اس مہیب فضا سے نکال کر مجھے
اس کی یادوں کی چادر تاننے کو مجبور کردیتی ہیں.
اور اگر وہ رات اماوس کی رات ہو تو پتہ ہے
تکیہ کا رخ تبدیل کرکے اور دریچہ کا پٹ کھول کر
آخری پہر کے دھلے ہوے چاند کی طرف آنکھیں کرکے
تصور و خیال اس کے چہرے کی تازگی میں کھو جاتے ہیں.
اور اس صبح کو شبنم خوب گرتا ہے
اور کسی کے گل رخ پر موتی بن کر ٹھہر جاتا ہے
جس کی چمک سے اس خیابان کی دوشیزاؤں کی آنکھیں
ایک پل کے لیے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں.
اب وہی بتائےکہ اچانک یوں دل میں یاد کسی کی کیوں آتی ہے؟
اچانک دل میں یوں یاد کسی کی کیوں آتی ہے؟

