ایک خواب جو کبھی دیکھا تھا میں نے
ایک آس جو مجھے تم سے تھی
نہ ہی وہ خواب مکمل ہوا اور نہ ہی آس راس آیا
مگر میرے دل کے میدانوں پر جو نفرت کا بیج تم نے بویا
آج اسی بیج سے محبت کے پھول پھر سے کھلنے لگے ہیں
آکر میرے محبوب تو ان پھولوں کا دیدار تو ذرا کر
دیکھ تیری نفرت کو میں میں نے محبت کی مٹی سے کیسے سینچا
دیکھ کہ ان پھولوں کی خوشبو آج بھی اتنی ہی معطر ہیں
جیسا کہ صدیوں سے ہیر رانجھا اور لیلیٰ مجنوں کے دلوں میں تھیں
مت کر سماج کی فکر اتنی کہ تو خود سے ہی خایف ہو جائے
توڑ دے ان جھوٹے رسموں کو، توڑ ڈال تو ان جھوٹے وعدوں کو
محبت کی ندا جب کسی نے بھی لگای ہے اس جہاں میں
ان نداوں سے پوری کاینات پھر سے جوش میں آی ہے
ٹھکرا کر میرے پیار کو تو نے جو خنجر میرے جسم پر چلایا ہے
سن لے اے سنگدل میں نے اپنے لہو سے ہی تیری محبت کو یادگار بنایا ہے
افتخار زاہد
پتہ: فتح پور ویلیج روڈ،
گارڈن ریچ’کولکاتا:24

