آپ اس پر بھی سوچئے کہ دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا مقصد کیا تھا ۔ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں ورود مسعود دین کی سربلندی ، سرفرازی اور قیامت تک دین کا غلبہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور سے ا س فرض منصبی کی تکمیل فرماکر دنیا سے تشریف لے گئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور بعثت کا مقصدبیان کرتے ہوئے فرمایا۔ھوالذی ارسل رسولہ بالھدا ودین الحق لیظہر ہ علی الدین کلہ۔’’وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور سچادین دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے‘‘۔(سورہ فتح آیت نمبر ۲۸)اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں۔’’اس دین کو اللہ نے ظاہر میں بھی سینکڑوں برس تک سب مذاہب پر غالب کیااور مسلمانوں نے تمام مذاہب والوں پر صدیوں تک بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور آئندہ بھی دنیا کے خاتمے کے قریب ایک وقت آنے والا ہے جب ہر چہار طرف دین حق کی حکومت ہوگی باقی حجت ودلیل کے اعتبار سے تو دین اسلام ہمیشہ ہی غالب رہا کیا اور رہے گا‘‘۔
اب آپ سو چئے کہ دین کا غلبہ کیسے ہوگا اور نور توحید کی تکمیل کیسے ہوگی میں یہ نہیں کہتا کہ آپ سیاسی استحکام حاصل کرلیں آپ سائنسی علوم میں مہارت کی منزلیں طے کرلیں اور دفاعی پوزیشن بھی آپ کو حاصل ہو جائے۔مزید ان سب کے استحکام کے بغیر آپ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔میرا یہ دعویٰ قطعی نہیں۔ لیکن آپ ان قوموں کی جدوجہد کا مطالعہ کیجئے جن ہوں نے سیاسی ا ستحکام دفاعی طاقت اور علوم جدید کو حاصل کرنے میں بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں۔ اور اس کے لئے کتنی ٹھوکریں انہیں لگیں ہیں اور کن کن سخت مرحلوں سے وہ قومیں گزری ہیں۔تب انہیں یہ مقام حاصل ہوا جس کا منظر نامہ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔(مضمون کا پہلا حصہ پڑھیں ملت سے کچھ باتیں ان کی ترجیحات کے حوالے سے قسط (۱) – فتح محمد ندوی )
ضمناً ایک سوال کا جواب دیتا ہوں جو ہمارے ذہنوں پر بہت حاوی رہتا ہے کہ ہمیں سیاست اور سیاسی استحکام اور دفاعی قوت کی کیا ضرورت ہے ہمارا کام تو چل رہا ہے ؟حضرت مفتی کفا یت اللہ دہلوی ؒ سے دین اور سیاست کے رشتے اور اہمیت پر کسی نے سوال کیا تھا۔
کیا مسلما نوں کا مذہب ان کی سیا ست سے علیحدہ نہیں ؟کیا مذہب اسلام مسلمانوں کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر حا وی ہے؟حضرت مفتی صا حب نے اس کا جوا ب ارشا د فرمایاانبیائ علیہم الصلاۃ و السلام دین اور سیا ست کے حامل ہوتے ہیںاور خود بھی سیا سی امور میں شریک اورعامل رہتے ہیں اسلام اس معا ملے میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے۔ اس کی ابتدائی منزل ہی سیا ست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم مسلمانوں کی دینی اور سیا سی زندگی کے ہر پہلو پر حا وی اور کفیل ہے ۔ قر آن پاک میں جنگ اور صلاح کے قوانین و احکام موجود ہیں، کتب و احادیث اور فقہ میں عبادات و معاملات کے پہلو بہ پہلو ملکی سیا ست کے ابواب موجو د ہیں دین کے ماہر شرعی سیا ست کے بھی ماہر ہوتے ہیں ۔(کفا یت المفتی ۳۰۴ / ۹/)
مفتی اعظم مفتی رشیداحمد صا حبؒ سے کسی نے اسی طرح سیا سی مسائل اور سیا سی احوال کے حوالے سے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا۔یوروپ والوں کو یہ نعرہ زیب دیتا ہے کہ ان کے دین میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔حکومت و سلطنت کے لیے کو ئی ہدایات نہیں۔مگر ایک مسلمان کی طرف سے درحقیقت الحاد و بے دینی کا اظہار ہے کہ ہمارے دین میں بھی سیاست و حکومت کے لئے کوئی رہنما اصول نہیں۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بھی اس پہلو پر کوئی روشنی پائی جاتی ہے اس لیے ہم سیاست کو دین سے الگ رکھنے پر مجبور ہیں۔ اس کا کفر و الحاد ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ سیاست دین سے جدانہیں بلکہ دین ہی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ مروجہ نعرہ مغرب پرست آخرت بیزار قسم کے لوگوں کا پھیلا یا ہوا ہے۔جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی ۔(احسن الفتاوی جلد ۶)۔
بہرحال ہندوستان میں اب تک آپ بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں وہ قربانیاں جن میدانوں میں دی ہیں ان کا اثر کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے اس سے ہمیں اتفاق ہے لیکن آپ کی قربانیاں ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تعلیمی، سماجی ، معا شی ،دفاعی اور سیاسی میدان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سارے ایسے میدان جہاں نہ صرف ہم بے یارومددگار ہیں بلکہ ظلم اور جبر کا بھی سامنا ہوا ہے۔ اور حد سے زیادہ ہوا ہے۔ آپ نے اس کو کسی نہ کسی صورت میں برداشت بھی کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ کربھی آپ کیا سکتے تھے اور نہ کچھ کرنے کے لئے آپ کے پاس ذخیرہ موجود تھا۔ (یہ بھی پڑھیں سال نو: جشن بہاراں بھی اور محاسبہ نفس بھی – ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی )
دنیا میں جنتے بھی صا لح یا روایتی انقلاب آئے ہیں کوئی انقلاب یا کسی انقلاب کی تاریخ ایسی نہیں ملتی جس میں سیاسی کشمکش اور قوموں کی جدوجہد شامل حال نہ ہوبغیر سیاسی شعور ، کشمکش اور جفا کشی کے قومیںاپنی سماجی، معاشی، انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل حل نہیں کر سکتی ہیں ۔دیگر قوموں کی قیادت تو دور کا تصور اور محض خام خیالی ہے۔وہ معا صر قومیں جن کے پاس سیاسی طاقت کا حصول ہے اور وہ اقتدار کی مالک ہیں وہ اپنے سیاسی،تہذیبی، ثقا فتی اور مذہبی تبلیغ اور تنفیذ نظام کے لئے اور اسی طرح اپنے دیگر مفاد کے لئے آزاد ہوتی ہے، بلکہ انہیں کی تہذیب و ثقافت کو غلبہ ہوتا ہے وہ جس طرح چاہتی ہیں اپنی ماتحت قوموں کو چلاتی ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً ان کا استحصال بھی کرنا ان کا شوق اور عادت بن جاتی ہے ۔ ان کے بنیادی حقوق سے حکمراں قوم اور اس کے افراد خوب کھلواڑ کرتے ہیں ۔ اس کی مثال خود ہمارے ملک میں موجود ہے ، یہاں مسلمانوں کے شرعی، سماجی معاشرتی اور عائلی نظام کے حوالے سے حکومت جو رویہ اختیار کرتی ہے اس کا مشاہدہ ہر دن دیکھا جا سکتا ہے ۔ گزشتہ سالوں میںآپ کے ساتھ ہندوستان کی پالیمنٹ میں کیا ہوا کتنے بل آپ اور شریعت کی مخالفت میں پاس ہوئے آپ کی ذات سے وابستہ شرعی قوانین کے ساتھ ( العیاذ باللہ) کیا نہیں ہوا ؟آپ اور ہم باہر سے یہ تمام دل شکن منظر دیکھتے رہے لیکن سیاسی طاقت کے نہ ہونے کی وجہ سے آپ کیا کر پائے ،آپ کی آواز کس نے سنی اور آپ سوائے چیخ و پکار کے کیا کر سکتے تھے ۔ ہاں آپ دستور اور جمہوریت کو بچا نے کا نعرہ لگا تے رہیئے خوب اسٹیج سجائیے۔جتنی چاہے بھیڑ جمع کرلیجئے ایک وقت وہ آئے گا بلکہ آچکاہے کہ آپ کو اس کی بھی جازت میسر نہ ہوپا ئے کہ آپ بھائی چا رگی اور جمہوریت کو بچا نے کے لئے جاں بلب ہو جائیں اور آپ کو اس کی بھی اجازت نہ ملے ۔
کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ آپ ہندوستان میں سیاسی حقوق حا صل نہیں کرسکتے اور یہاں کسی بھی صورت میں مسلمانوںکو سیاسی بالا دستی قائم نہیں ہو سکتی مجھے بھی ان کی باتوں سے اتفاق ہے۔تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ زندہ قومیں اپنی صفات اور صلاحیت میں یہ ہنر اور حوصلہ رکھتی ہیں کہ وہ اپنی جد و جہد سے ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں اس لئے سنگھرش کرنے والی قوم کے سامنے سخت گزر گا ہوں سے ر ا ستہ نکا لنااور را ستے پیدا کر نا کوئی مشکل نہیں ۔
یہاں سب سے زیادہ افسوس اس امر پر ہے کہ مسلمانوں نے دین کو سیاست سے جدا اور الگ کردیابلکہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس میدان میں مسلسل جدو جہد کر رہے ہیںان کو سماج میں حقا رت بھری نظروں سے دیکھا جا تا ہے بلکہ بعض لوگ اہل سیاست کے حوالے سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ گستاخ اور بددین ہیں۔بھلا جو آدمی دین دار ہے اس کا سیاست سے کیا کام یہ تو خا لص بے دین اور دنیا پر ست لوگوں کا کا م ہے ۔
اسی طرح کے خیالا ت اور افکار ہمارے کچھ دانشوروں اور اہلیانے ممبر ومحراب کے ذہنوں میں ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں سیاست اور سیا سی استحکام کی اور دفاعی قوت کی آخر کیا ضرورت ہے؟۔سب سے پہلے وہ لوگ جو یہ سوال اٹھاتے ہیں انہیں اسلام کی تاریخ ، سیر ت رسول اور خلفائے ر ا شدین کے احوال اور آثار کا مطالعہ کرنا چاہیے اس میں ان کا جواب مل جائے گا کہ دفاعی طاقت کا حصول کتنا اہم اور ضروری ہے ۔
آپ جس ملک میںرہتے ہیں اس ملک کی نفسیات کا اور جمہوری اقدار کا مطالعہ بہت سی راہیں کھول سکتا ہے ۔ اس ملک کی سیاسی اہمیت اس بات سے لگائی جا سکتی ہے کہ ایک غیر تعلیم یافتہ جو ہر قسم کے سماجی اور سیا سی شعور سے نا بلد ہے وہ سیاست کے میدان میں اپنی کامیاب شمولیت کے بعد بڑے بڑے انتظامی امور کے ماہر اور باشعور تعلیم یافتہ طبقے کے مہذب لوگوں انگلیوں کے اشارے پر نچا تا ہے ۔کسی انتظامی امور کے حوالے سے آپ کسی سرکاری یا غیر سرکاری افسر کے پاس چلے جائیںتو آپ کو یہاں کی سیاسی طاقت کی نفسیات کا اندازا ہو جائے گا ۔
میر ے سیاست کی اہمیت اور افا دیت کے حوالے سے اس نظریہ سے آ پ میں سے بہت سے لوگ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ لیکن میں اس پر متفق ہوں کہ ہمیں اس پر غور اور احتسا ب کر نا چاہئے ہے۔
مزید اگر اس سے دانشوروں کو اتفاق ہے اور سیاسی شعور اور سیا سی جد و جہد میں یقین رکھتے ہیں تو اس کام کو بغیر کسی شور شرابے کے اپنی نئی نسل میں سیاسی شعوربیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ بلکہ مدرسے کی چہا ر دیواری سے لیکر محلے اور گلی گلی میں اپنے بچوں کو اس کا سبق پڑھا نے کی کوشش اب عملی طور پر کرنی ہوگی ۔ معافی کے سا تھ اس کی اہمیت ہم نے کیو نکہ ستر سال سے اب تک نہیں سمجھی اور نہ ہی اس پر کوئی کام ایک پلاننگ کے تحت کسی ملی تنظیم کے پلیٹ فارم سے ہوا۔سیا سی شعور کے حوالے سے ہماری یہ اجتماعی غفلت ہمارے مستقبل کی راہیں طے کرتی ہیں۔
اس وقت پوری دنیا شیطانی اور دجالی سیاست کے بھنور میں پوری طرح پھنسی ہوئی ہے۔اور یہ اسی شیطانی سیاست کا مکمل نتیجہ ہے کہ پوری دنیا بد امنی اور بے اطمینانی کے بھیانک دور اور حالات سے گزر رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا جب تک اس شیطانی سیاست کے جال اور مکر میں مبتلائ رہے گی اس وقت تک کسی امن و شانتی کی امید لگا نا یا دیکھنا محض خام خیا لی کے سوا کچھ نہیں شیطان یا شیطا نی طا قتیں کب چا ہتی ہے کہ دنیا امن و سکون سے رہے اس کی فطر ت کا خمیر بد امنی اور انسانی دشمنی سے تیار ہوا ہے ۔حال یہ ہے کہ لا کھوں کروڑوں لوگ دنیا میں اس شیطانی سیاست کا ہر دن لقمہ بن جاتے ہیں۔لیکن اس کا منہ نہیں بھر تا ۔ تاہم دنیا کو امن و سکون اور راحت و آرام اس ربانی نظام سے حا صل ہو سکتا ہے جس کوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے اور جس کے ذریعہ سے آپ نے پوری دنیامیں مثالی امن قا ئم کیا ۔ (یہ بھی پڑھیں اتحادِ ملّت کانفرنس : چند معروضات – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
آج جو نظام سیاست پوری دنیا میں رائج ہے اس نظام میں کسی صا لح اور انصاف پسند معاشرے کی امید لگا نا قطعی احمقانہ خیال ہے ۔اب ضرورت ہے کہ اس شیطانی اور سڑے ہوئے نظام حیات اور سیاست میں آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس میں آپ عملی طور پر دا خل ہوکر اس کے گندے پن کو پاک صاف کریں۔ خا ص طور سے علمائے کرام اس کی بگڑی ہوئی اخلاقی اور انسانی قدروں کی شکل ، ماحول ، اور حالات کو صحت، پاکیزگی اور صفائی عطائ کریں بلکہ اسے انسان کی انفرادی اور اجتماعی ضرورتوں اور مصلحتوںسے ہم آہنگ کر نے کیلئے ٹھوس فطر ت کے ان قوانین ۔ نظام اور ضابطوں کے مطابق کریں جو انسان کی صلح اور صالحیت اور اس کی بنیادی ضرورتوں پر مبنی ہے ۔ مزید وہ نظام کسی انسانی ترمیم کا محتاج نہیں کیوں کہ وہ فطرت کے بنائے ہوئے اصول اور حقا ئق پر مبنی ہے اور انسا نی سرشت کے قریب تر ہے بلکہ انسانی سرشت کا کوئی گوشہ اس سے مخفی اور باہر نہیں ۔جاری
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

