بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مرد درویش کا سرمایہ ہے آزاد و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و سیم
حضرت الحا ج مولا نا شریف احمد صا حب مد ظلہ العالی اس وقت مشا ئخ اور بزرگان دین کی اہم یاد گا ر اور امانت ہیں ۔ آپ بلا شبہ محبت اور شرافت ، تواضع اور عجز و انکساری بلکہ خا کساری کے مجسم پیکر ہیں ۔ اسی طرح آپ کی شخصیت کے ہیو لے میں فقر و درویشی اور شان قلندری اپنی پوری صفات اور شکل کے ساتھ موجود ہے ۔مزید اگر کسی کو فقر و درویشی اور قلندری اداؤ ں کی دید کا شوق ہے تو وہ اس مرد درویش کی بارگاہ میں حا ضر ہو کر فقیری میں بوئے اسد اللہی کا نظارہ کر ے اور اپنی آنکھوں کو ان کی زیارت اور نیاز مندی کا شرف بخشیں:
نہ تخت و تاج میں ، نے لشکر و سپاہ میں
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
گدڑی میں لال کا محاورہ بارہا سنا لیکن گدڑی کے اس لال کو آنکھوں سے دیکھنے کا کم ہی اتفاق ہوا ۔ تاہم حضرت مولانا شریف احمد صاحب سچ مچ گدڑی کے لال ہیں ۔شہرت و نمود سے کوسو دور خاک کے پردوں میں آپ مرد قلندر کی طر ح مشاہدۂ انوار اور فطرت کے چھپے ہوئے بھیدوں کو واں کر نے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ع
فطرت کے مقا صد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مرد کوہستانی
حضرت مولانا شریف احمد صا حب کی ولادت ۱۹۳۴ میں گا ؤں سرچندی میں ہوئی ، یہ بستی مغربی اتر پردیش کی مردم ساز اور زرخیز علاقہ دو آبہ کے ضلع سہارن پور سے شمال مشرق کی جانب مشہور قصبہ گا گا لہڑ ی سے سات کلو میٹر دور وا قع ہے ۔آپ کی تسمیہ خوانی کا آغاز اسی بستی کے مکتب سے ہوا ہے ۔ یہاں ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے تعلیم کے سلسلے کو مزید جاری رکھنے کے لئے تعلیم و تربیت کی مشہور دانشگاہ جامعہ اسلامیہ ریڑی تا جپورے میں دا خلہ لیا ۔ تاہم تعلیم کے اس سلسلے کو آپ مزید جا ری نہ رکھ سکے ، لیکن وابستگی ہر صورت تعلیم و تعلم سے باقی رہی۔ بہ حیثیت مدرس کے آپ سکروڑہ مدرسے میں اپنی تعلیمی خدمات انجام دینے لگے بار ہ سال یہاں تعلیمی خدمت انجام دینے کے بعد اکابر را ئپور نے آپ کی عمدہ کار کر دگی اور مثالی فر ض شناسی کو دیکھ کر عارفوں کے مسکن خانقاہ را ئپور میں آپ کو بلا لیا گیا۔ تقریبا اکتیا لیس سے یہاں درس و تدریس کے مقد س پیشے کو اپنا وظیفہ حیات بناکر رکھا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں ملت سے کچھ باتیں ان کی ترجیحات کے حوالے سے قسط (۱) – فتح محمد ندوی )
اسی خانقاہ رائپور کے مشائخ اور بزرگوں کی نظروں اور صحبتوں سے آپ کے حریم قلب میں طریقت اور معرفت کا نور اور روشنی پیدا ہوئی در اصل خانقاہ رائپور کو تز کیہ نفس، اصلاح باطن اور معر فت حق کے لئے دنیائے اسلام میں جو عظمت ، اعتبار اور محبوبیت حا صل اور عطائ ہوئی اسے خا ص خدا کے احسان اور فضل و کرم سے تعبیر کرسکتے ہیں بلکہ ہے ہی یہ سب اس کے کرم اور احسان کا حصہ مزید اس کا فضل یہ ہے کہ اس خانقاہ کا چشمہ فیض پوری توانائی اور مضبوطی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔
در اصل پر آشوب حالات کے نتیجے میں سر زمین ہند پر کہیں اور کسی خطہ پر خون کی تراوش ہوئی اور کہیں ابر نیساں کے چھینٹے پڑے اس کے نتیجہ میںاس علاقہ پر لعل و گوہر ابل پڑے ، یہ خدا کی رحمت ابر نیساں کی شکل میں آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ اس سرزمین پر بر س رہی ہے ۔ لاریب اس کے پہلے روحانی اور عرفانی وارث قطب لارشاد حضرت شاہ عبد الرحیم رائپوری اسی باران رحمت کے آبدار اور درخشاں موتی ہیںجن کے فیض اور برکت سے بر صغیر پاک و ہند کی سرزمین منور اور روشن ہے ۔
روح اور روحانیت کا یہ تا ج محل حضرت اقدس شاہ عبد الرحیم نوراللہ کی جہد مسلسل اور شب و روز کی ملت کے حوالے سے آپ کی تڑپ اور بے قراری کے نتیجہ میں وجود پذیر ہوا ۔ بیسویں اور انیسویں صدی کا ہند و ستان ملت اسلامیان ہند کے لئے بڑا پر فتن اور آزمائشو ں سے بھرا ہوا تھا علمائ اور ملی قائدین کے سامنے چارو طرف مسائل اور مصیبتوں کے پہا ڑ تھے بلکہ آگ اور خون کے دریا ان کے پاؤ ں کے نیچے تھے جس سے ان کا جسم اور پاؤ ں زخمی تھے ۔ ملت ، ایمانی ، تعلیمی ،سماجی، معاشی ، ورتہذیبی طور پر ایک بحران سے گزر رہی تھی، ملی قائد اس بحرا ن اور زوال سے ملت کو نکالنے کے لئے ہر ممکن کوششوں میں مصروف عمل تھے۔ انہیں کی شب و روز کی محنت اور لگن سے اس ظلمت کدے ہند میں مسلمانوں کی بچی ہوئی شا خ اور ناموس کو دوبارا وقار اور اعتبار عطائ ہوا ۔ وہ ان تمام شعبوں میں جن کے ذریعہ سے مسلمانوں کے تہذیبی ورثہ کی حفا ظت ممکن تھی پہا ڑ کی چٹان بن کر اپنی ایمانی اور ملی غیرت اور شجاعت کا خوبصور ت ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ۔
اسلام کے اس روحانی مرکز کو اپنے بے پناہ خلوص اور ایمانی جذبے سے جریدہ عالم پر روشن اور منور کر نے کے بعد اس کے بام و در کو آپ کے خلیفہ اور مجاز حضرت اقدس شاہ عبد القادر صا حب نورااللہ مرقدہ نے نور ہدا یت کی اس اما نت کو جو انہیں اپنے مرشد سے عطا ہوئی تھی پوری دنیا میں عام کردیا ۔ آپ کے بعد اس کی روشنی کچھ مدھم ہوا چا ہتی تھی بلکہ اس کے فیض اور برکات پر کچھ ہلکا سا اثر محسوس ہوا۔ تاہم اس بجھی ہوئی قندیل کو پھر حضرت مفتی عبد القیوم نوراللہ مرقدہ نے آفتاب کی شکل دیکر اس کی ماضی کی بہاروں کو پوری توانائی کے ساتھ پھر روشن بلکہ نیر تاباں بنادیا ۔
ذکر ہے خانقاہ رائپور کی اس عظیم روحانی اور خاصان خدا شخصیت حضرت الحاج مولانا شریف احمد صا حب کا آپ اس خا نقاہ عالیہ رحیمیہ کے میکدۂ معرفت کے رند اور ساقی ہیں ، مدتوں سے اس باران معرفت میں آپ اپنے قلب و جگر کو روحانی غذا فراہم کررہے ہیں بلکہ اس سے میکدۂ معرفت میں ہی آپ کی اخلاقی صحت اور روح کی تطہیر اور تنویر ہوئی۔آپ تقریباً اکتیا لس سال سے اس بزم رحیمی میں قیام پذیر ہیں اس طویل مدت میں آپ کو خانقاہ رائپور کے اکابر اور مشایخ کی شفقتیں مکمل طور سے حا صل رہی ہیںاپنے عہد کی عظیم علمی اور روحا نی شخصیت حضرت شاہ عبد القادر صا حب نوراللہ کی نورانی مجلسوں سے آپ نے اپنے کشکول معرفت کو بھر ا پھر حضرت حافظ عبد الر شید صا حب قدس سرہ کی چشم عنایت اور تو جہ بلکہ انہیں کی دامن تر بیت میں آپ نے سلوک کے منا زل طے کئے، آپ کے شیخ حضرت حا فظ عبد الر شید صا حبؒ نے اپنے دل کی آنکھ سے آپ کے قلب کی کیفیت اور احوال جا ن کر آپ کو خرقہ خلافت عطائ فرماکر خانقا ہ عالیہ رحیمیہ کی عظیم نسبت اور سلا سل میں شامل ہونے کا تمغہ اور عزاز بھی بخش دیا ۔ پھر حصول معرفت کی اس تکمیل کے بعد آپ کو حضرت مفتی عبد القیوم رائپوری صا حب ؒ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا سفر و حضر کی بافیض ساعتوں میں حضرت مفتی صا حب سے بھر پور فا ئدہ حاصل کیا ۔ (یہ بھی پڑھیں ملت سے کچھ باتیں ان کی تر جیحات کے حوالے سے (۲ ) – فتح محمد ندوی )
آپ کی شخصیت کو جو کمال اور بلندی عطائ ہوئی وہ اسی خانقاہ رحیمیہ کی چو کھٹ اور عارفوں کے اسی مسکن سے ہو ئی۔ بلا شبہ آپ کی پیشانی پر جن اہل اللہ اور اہل دل کے نشانات ہیں ان میں قطب الا رشاد حضرت شاہ عبد القادر رائپوری نوراللہ مرقدہ ،حضرت شیخ الحدیث شیخ زکر یا کا ندھلویؒ ، حا فظ عبد الرشید صا حب ؒ حضرت مفتی عبد لقیوم صا حب رائپوری ؒ ، حضرت مفکر اسلام مولانا ابو الحسن ندویؒ وغیرہ شامل ہیں یہی وہ عناصر ہیں جن سے آپ کے جمالیاتی پیکر کی تشکیل ہوئی جن بزرگو ں کی محبتوں کے نشانات آپ کے تجسیم پیکر میں شامل ہیں ان کے فضل و کمالات مداح اور ثنا خواں دنیا بھر میں لا کھوں میں مل جائیں گے لیکن ان کی صحبت اور مجلسوں سے براہ راست فیض کر نے والے اب دنیا میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
آپ کے قلب کی پاکیزگی اور روح کی تطہیر اور صحت میں جو تازگی اور توانائی عطائ ہوئی اس میں مدتوں اہل اللہ اور اہل علم کی شر ف صحبت اور بر کت کا فیض اور نتیجہ ہے ۔ ان اہل قلو ب کی مسلسل توجہ اور نیا ز مندانہ مجلسوں کے فیضان سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذ ہنی وجدان اور فکر وشعور کے دریچوں کو واں کر دیا جب آپ اہل علم کے مجمع میں ہوتے ہیںاور کسی موضوع پر گفتگو فرماتے ہیں تو زبان کی کشش اور شرینی گفتا ر سے سماعت کے پردوں کوحظ خا طر ،سوز اور ساز کی سوغات میسر ہہوتی ہے ۔ ایک مرتبہ ہماری بستی کھجناور میں کسی موقع پر تشریف لا ئے ۔ ہمارے عزیز دوست جناب قاری عطا ئ الرحمٰن صا حب قاسمی کھجناوری کے بنات کے ادارے جا معہ محمدی میں آپ کا خطاب ہوا ۔ حضرت خد یجۃ الکبریٰ ؓ کی مبارک سیرت پر آپ نے گفتگو فرما ئی ۔ انداز گفتگو نہایت ہی نرم گداز اور دھیما لیکن ایک ایک لفظ دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا بلکہ سامعین پر ایک نشہ تاثیر تھا ہر آنکھ سے آنسو جاری تھے غرض ماحول پر ایک وجد اور رقت کی کیفیت تھی ،آپ اشکبار آنکھو ں سے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے فضا ئل اور مناقب بیان فرما رہے تھے اور لوگو کو دوائے دل بھی بانٹ رہے تھے ۔
جنا ب مولانا شریف احمد صا حب اس وقت ہمارے مشائخ اور بزرگان رائپور کی اہم یاد گار اور عکس جمیل ہیںآپ نے ان کے ا خلاق، تواضع ، عشق الٰہی ،جذ ب و فنائیت ،فقر و درویشی ، محبت، شرافت نفسی اور ان کی شان قلندری کو اپنے اندر اس طرح جذب کر رکھا ہے کہ آپ اس وقت ان کی شان انفرادیت کا خو بصورت پیکر اور نشان ہیں ۔
اخفائے حال آپ کی طبیعت کا لازمہ رہا ہے،پیری مریدی اور اسی طرح دیگر ایسے لوا زمات سے جو شہرت طلبی اور نا م و نمود کا سبب بنتے ہیں ان سے اپنے آپ کو اپنے بڑوں کے احترام میں دور ہی رہنے کی کوشش کی۔تاہم خانقاہ عالیہ رحیمیہ کے سلسلے اور امانت کوآگے بڑھانے کے لئے صر ف چند اہم لوگوں کو اپنا مجاز بنایا ہے ۔ جناب قا ری محمدمستقیم صاحب کھجناوری خا دم خا ص حضرت مفتی عبد القیوم صا حب رائپوریؒ ۔جناب حضرت عبد الرحمٰن صا حب گجرات۔ جناب رفیق صا حب کولاپور وغیرہ حضرات کوآپ کے مے عرفاں سے بادہ گساری کا موقع فراہم ہوا۔
سچی بات یہ ہے کہ اگر کسی کو مشائخ را ئپور کے حال اور احوال کا عکس دیکھنا ہے تو وہ حضرت مولانا شریف صا حب کی زندگی اور اداؤ ں کو دیکھ لیں اس وقت آ پ کا وجود اس حوالے سے کہ مشائخ را ئپور اور اکابر کیسے تھے۔ آپ کا مکمل حلیہ ان کے احوال اور آثار کا خوبصورت اعلان اور تعارف ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

