مجھ کو محرومی وصال کر کے،
ہجر کے پیکر میں ڈال کر کے،
ہماری خواہش کو چال کر کے،
اور اپنا دامن سنبھال کر کے،
تمہیں یہ لگتا ہے…!
جانے دوں گی…؟
کسی اپسرا کی سیج کو تم،
سجاؤ گے اور
میں سجانے دوں گی..؟
تم ہم سے ہٹ کر وصال ہجراں
مناؤ گے اور..
میں منانے دوں گی.؟
ہماری الفت کا قتل کر تم،دل کی دنیا..
بساؤ گے اور
میں بسانے دوں گی..؟
تو سن لو جاناں..
محبتوں کا نیا فسانہ..
میں اب لکھوں گی…!!
میں اب لکھوں گی تمہارا قصہ،
رقم کروں گی تمہاری باتیں..؟
تمام دنیا کے عاشقوں کو
سناؤں گی میں وہ ساری باتیں…
وہ جس کو مدت سے سنتے سنتے..
کسی کا دل بھی بھرا نہیں ہے..!!
تمہیں یہ لگتا ہے…ان فسانوں کو..
اپنے جی سے…
بھلا چکی ہوں…؟
وہ سرد راتوں میں تم سے ملنا۔۔
تمہارے چہرے کو چاند کہنا..!!
لبوں کو دے کر کے گرم بوسے
حیات کا اک نشان کہنا..!!
ہماری زلفوں کے سائے میں ہی…
صبح کو اک پل میں شام کرنا..!!
میں کیسے بھولوں …وہ ساری باتیں..!!
میں کیسے بھولوں …وہ سرد راتیں…!!
میں پھر بھی جاناں …!
میں پھر بھی جاناں…!
یہی کہوں گی…
تمہاری خاطر…
میں جسم و جاں کا ہر ایک حصہ
میں زندگی کا ہر ایک لمحہ…..
تیری بصارت کے قہقہوں پر…
لڻا کے خوش ہونا چاہتی ہوں..!
اب تیری خاطر….
پنر جنم بھی ….ملے اگر جو
وہ کم رہے گا….!!!
٭٭٭
(یہ بھی پڑھیں شادی سے چند روز پہلے – زیبا خان حنا )
زیبا خان حنا
(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی لکھنؤ کیمپس)

