میری نظروں میں وہ لڑکی
جو لوگوں کی توجہ تھی
گر چہ سائرہ تھی وہ
مگر میری محبت نے
اجازت ہی نہیں رکھی
کہ اس کو سائرہ کہتا۔
الفت کے سفر میں بس
مگن رہنے کی چاہت کا
اس سے پانے کی خواہش کا
ڈرتھا اک جھجھک سی تھی
غضب کا حسن تھا اس پر
چمکتی تھی کہ جیسے وہ
اندھیروں میں چراغ آئے
وہ لڑکی کیا حسینہ تھی ۔
بہت ہی خوب تھی وہ تو
مجھے ہے یاد وہ اب تک
اس سے یادوں کے بستر میں
میں رکھتا تھا سلاتا تھا
یہ تب کی بات ہے جب کہ
میں عاشق تھا جواں بھی تھا
میں اس کے خواب رکھتا تھا
اس سے جیتا تھا برسوں سے
وہ جب جب بھی نظر آئی
دوبارہ دیکھنا اس کو
پلٹ کر دیکھتے رہنا
کہ جیسے کوئی اپنی شے
کسی کے پاس رسوا ہو
وہ اس کی باتیں اوروں سے
سننے والے کانوں پر
نفرت جاگ سی جاتی
میرے نزدیک ہر لمحہ
جو اس کی یاد میں گزرا
معطر تھا منور تھا
وہ اس کی یاد سے روشن
چکمتا جھلملاتا سا
اجالوں میں بسا ماضی
وہ اس کی یاد کے در پر
چلے جانے کی عادت تھی۔
بہت سے لوگ نہ سمجھیں
کہ پردہ ہی نہ اٹھ جائے
شرافت بھی ڈٹی جیے
بہانے ڈھونڈتا تھا میں
کبھی ایک بات کہنے کو
کبھی پیغام لے جانے
کبھی پڑھنے پڑھانے کو
حیلے ڈھونڈ لیتا تھا
کبھی دیدار کی خاطر
بے ترتیب قدموں سے
کئی گستاخیاں کرتا
اس سے میرے خیالوں نے
جہاں بھی ڈھونڈنا چاہا
قسم کھاتا ہوں ،سچ ہے یہ۔
وہیں بکھرا ہوا پایا۔
کسی تصویر میں دیکھا
تو یوں لگتا تھا جیسے وہ
درختوں پر مچلتی سی۔
ادھر لپکی ادھر دوڑی
پروں کے زاویوں سے کچھ
سبق رکھتی ہو جینے کا
مگر وہ کیا بلا تھی کہ
جوانی اس کے ماتھے پر
چھونے سے وضو پاتی
بہت سارے جوانوں کو
مچلتی زندگی دے کر
میری خاطر میں نہ آتی
تھما کر جسم میں سارے
جہاں کو روکنے والی
وہ لڑکی کیا قیامت تھی
میری نزدیکیاں اس کے
خیالوں سے تھیں وابستہ۔
میں اس کو ڈھونڈتا جب بھی
بہت مشکل تھی مل جائے
میری آنکھوں میں شرماتی
مگر نایاب ہو جاتی
وہ کوسوں دور ہوکر جب
مجھے تکتی تھی اٹھلاتی
کچوکوں سے بھی زیادہ کچھ
میرے دل پر اثر ہوتا
میرا یہ حادثہ شاید
میری الفت کی راہوں میں
کھٹکتا ہی چلا جاتا۔
میں نے اس کی یادوں کو
اکیلا چھوڑ نا چاہا
بہت تکلیف دہ تھا وہ
مگر ایک فیصلہ تو تھا
میں ان رستوں کے سارے ہی
نشاں بھی ساتھ لے آیا۔
میرا یہ خوف تھا کہ میں
اس سے لانے سے ڈرتا تھا
اس سے کھونے کی عادت سے
بہت ہی دور رہتا تھا
اس سے کھویا تو تھا لیکن
وہ اب بھی یاد رہتی ہے
میری یادوں کے آنگن میں ۔
میرے بستر کی چادر پر
اسی کے خواب بستے ہیں
اس سے پانے کی چاہت میں
ہزاروں خواب ہیں اب بھی
کہ لمس اس کا ہو یا بوسہ
میری اس چاہ میں آکر کے
امرت کا سا ہوجائے
یہ جتنی بات ہیں اب تک
جو یادیں بھی نہیں لیکن
خیالوں کا جہاں تو ہیں
خیالوں میں نکاح ہونا
جو جائزہو شریعت میں
تو اس کی روح سے میرے
نکاح ہونے کی حالت کا
ولی جائز وکیل اور میں۔
سبھی کے دستخط بھی ہیں
سبھی کو ان خیالوں کی
حمایت کا یقیں بھی
مگر ایسا نہیں ہوگا
کہ یادوں کی وہ لڑکی ہے
وہ خود اب سہمی رہتی ہے
خیالوں کے نکاح سے اس کی
چاہت پر وبال آئے
محبت پر زوال آئے
ارادہ ترک کرتا ہوں
اجازت دے کے اس کو بس
کسی کے پاس رہنے کی
اجازت چاہتا ہوں میں۔
_____________________________________________
یہ بھی پڑھیں "فوجی” – غلام مصطفےٰ ضیا

