ہمیں بتاؤ اے کرسی والو
تمہارے گھر میں جو نعش آئی۔
اگر وہ فوجی تھا تو بتاؤ؟
وہ تھاسپاہی تو کچھ کہو نا
اس سے تمہاری یہ سرپرستی
تمہاری فائل میں رکھے میڈل سے
ایسے فوجی کے پڑھتے بچوں کا
مرہم پٹی سے کیا تعلق
ہے، کیا تعلق تم وہ بتاؤ؟
یااس کی بے آسرا سی ماں کا
وہ اک سہارا جو لٹ گیا ہے ۔
یابوڑھے والد کے جھکتے کندھوں پہ
بوجھ لادا ہے کیوں بتاؤ؟
یا یہ کہ بیوہ کے آنسوؤں پر
بغل میں بچوں کا شور برپا
لٹے گھروں کی وہ سونی راتوں
سے جو ملا ہے وہی بتاؤ؟
تمہیں بتاو کہ اس کی گردن پہ
کس نے لادا ہے اسلحہ سب
کدھر خریدا ؟،کہاں کا سودا
غریب کو ہی یہ کیوں ملا ہے
یہ مفلسی کو وطن پرستی کا
داغ دے کر مچلنے والو ،تمہیں کہوں گا
تمہی سے پوچھو گا تم بتاؤ۔
کہ کیا پڑوسی کے گھر کا آنگن
جوجل رہا ہو یا بج رہا ہو
بس اس کی خاطر جوان بچے کی
لاش پر سے گزر کر جانا
اور اپنی شوکت کے گیت گانا
ہے کیسے بہتر،کہاں سنا ہے ۔
یہ کون کہتا ہے وہ بتاؤ؟
مجھے بتاؤ کہ یہ تمہاری
جوصبحِ کاذب ہے شعلہ پرور
جہاں ہتھیلی پہ جان رکھ کر
کسان بیٹا کھڑا برابر
وہ سنتری جو تمہارا نوکر
تمہاری کرسی کے دیکھو پائے
بہت وزنی ہیں، لالہ رہبر
انہیں زمیں کا ہی سینہ سہتا ہے
کسی کے بس میں نہیں یہ سرور
ہمیں ہمارے وطن میں رہنے کا
سود قرضہ ہے جان کا تو، پھر بتاؤ۔
یہ میں کہوں گا تو ہنس پڑو گے
کہ زندگی میں ہمارا بچہ
تمارے بچے کی زندگی کا
کوئی ایک لمحہ جیا نہیں ہے
ہماری بیوی کی سونی راتوں کا
لمحہ لمحہ ترستی آنکھوں تڑپتاجوبن
تمہارے شب کے سرور کا سا نہیں ہوا ہے۔
اور سن لو۔ ہمارے بستر رسوئی گھر تک
کوئی سویدا کوئی ترقی یا اک اشارہ
جو اس طرح سے بدل دے ہم کو
نہیں ہوا ہے اگر ہوا ہے تو تم بتا دو ؟
تمہیں بتاؤ یہ خوں خرابہ
اگر ہمارا ہے تو بتاؤ
نہیں ہمارا تو تم لڑاؤ
لڑا کٹا کر کے گھر جلاؤ
گھر کے سارے دیے بجھاؤ
کیوں بجھاؤ گے کیا ملے گا؟
جو گھر جلیں گے تو کیا بنے گا
وہ جو بنے گا سمجھ چکے ہیں
یہ لوگ اب تو بدل چکے ہیں
تمہیں بتائیں، سنیں تمہاری
یا ہم بتائیں کہ تم سناؤ ۔
از غلام مصطفےٰ ضیا

