دعائے مغفرت برائے لخت جگر محمد شکیب اکرم
بچشم پر نم : محمد خورشید اکرم سوز و سیدہ نزہت جہاں قیصر
"”””””””””””””””””””””””””””””””””””””
خدائے رب جلیل تو نے
ہمیں جو بخشی تھی اک امانت
وہی ہمارے جگر کا گوشہ
ہمارا بیٹا شکیب اکرم
ہماری آنکھوں کا نور تھا جو
سبھوں کے دل کا سرور تھا جو
وہ بن چکا تھا سبھوں کا پیارا
وہ سب کی آنکھوں کا تھا ستارا
خدائے رب جلیل و قادر
یہ کیسی سفاک آندھی آئی
کہ جس نے چھینا
ہمارے گلشن کے نو خیز گل کو
تھی جس سے روشن ہماری دنیا
چراغ رخشاں بجھا دیا وہ
خدائے رب قدیر مطلق
ہے تیرے آگے یہ کن فشن کہ
تری امانت کی پاسداری
میں، کوئی غفلت ہوئی ہے ہم سے
کہ جس سے ناراض ہو کے تو نے
اسے اچانک بلا لیا ہے
خدائے رب غفور تو نے
جو آزمائش ہماری تقدیر میں لکھی ہے
ہم اس پہ راضی رہیں یہ ہم کو
تو حوصلہ دے
کٹھن بہت ہی یہ مرحلہ ہے
گھنا بہت ہے یہ غم کا بادل
شکیبی قوت ہمیں عطا کر
ہمیں تو صبر جمیل دے دے
خدائے رب عظیم اکبر
جو ہم سے غفلت ہوئی ہے مولا
ہیں دل سے نادم ہم اس خطا پر
ہماری توبہ قبول کرلے
ہمارے عصیاں کو بخش دے تو
ہماری سانسیں جو بچ گئی ہیں
تری اطاعت میں صرف ہوں وہ
خدائے رب رحیم و ارحم
ہمارے بیٹے شکیب اکرم
کی مغفرت کر
لحد کو پر نور کر دے اسکی
نواز دے اپنی رحمتوں سے
مقام اعلی بہشت میں دے
سکون ابدی اسے عطا کر
*********

