مغرب کی اذان ہوگئی تھی ۔ دادی نے نماز پڑھی اور پھوپھو سے بابا صاحب کے مزار پر حاضری دینے کےلئے کہا۔دادی پھوپھو کو ہر جمعرات کو بابا صاحب کے مزار پر بھیجتی اور منتیں منگواتی۔ بڑے بیٹے کے لاکھ منع کرنے کے بعد بھی دادی نہ روکی اور اپنی بڑی بیٹی کو ہر جمعرات کو حاضری دینے بھیجتی رہی. سجل کھیل رہی تھی، جیسے ہی جانے کا سنا، تو دادی کے پاس آکر تھوڑی دیر رکی، پھر دادی سے پوچھا کہ “آپ کہا جاو گے؟”دادی نے کہا کہ” میں نہیں بیٹا تمہاری پھوپھو کل بابا صاحب کے مزار پر جائے گی”۔ سجل نے دادی سے ضد لگائی کہ وہ بھی پھوپھو کے ساتھ وہاں جائی گی جس پر دادی مان گئی, اور سجل سے کہا !” ٹھیک ہے بیٹا تم بھی چلی جانا” ۔ ماں کے بلانے پر سجل دادی سے اٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔ سجل بہت خوش تھی ۔ ماں کو چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ “کل کو میں پھوپھو کے شات مزال پل جاؤں گی۔ کل کو میں پھوپھو کے ساتھ مزار پر جاؤ نگی زبان سے توتلی تھی لیکن شکل و صورت کے لحاظ سے بہت خوبصورت۔اس کی عمر قریباً چار سال تھی اور اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔
صبح ہونے کے انتظار میں وہ جلدی سو گئی اور صبح سویرے اٹھ گئی ۔ اس کے دل میں جیسے یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ آج ہم نے جانا ہے ۔ پھوپھو ، ماں اور دادی کو بغور سنتی اسے خدشہ تھا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ مجھ سے چھپ کر چلے جائے۔
زیادہ خوشی میں اس نے ناشتہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں کیا ۔ ماں کھلاتی رہی لیکن وہ اٹھ گئی کہ” آجاؤ مجھے کپڑے دو مجھے جانا بھی ہے” وہ خوش تھی اسے بابا صاحب کا مزار کوئی انوکھی چیز لگ رہا تھا ۔ امی سے رٹ لگائی کہ “ جلدی کلو نہ مجھے میلے کپلے پیکناؤ “۔امی نے اسے نہلایا دھولایا آج وہ روئی نہیں تھی،کیوں کہ آج وہ سیر کرنے کےلئے جارہی تھی اور چاہ رہی تھی کہ وہ تیار ہوجائے ، کیوں کہ اسے پتہ تھا، کہ تیار ہوئے بغیر تو پھوپھو لےکر جانے والی نہیں ۔
امی نے کپڑے پہنائے، سر میں کلپ لگایا ، انکھ میں سرمہ لگایا اور چپل پہنائے ۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔وہ ہر چیز کو خوش ہو کر دیکھ رہی تھی اور مسرور ہورہی تھی۔ پھوپھو کے پاس چلی گئی ۔اس کو کپڑے چپل سب دکھائے کہا” کہ میں تیار ہو چلو۔” پھوپھو نے اس کو ہاتھ سے پکڑا اور بابا صاحب کے لیے روانہ ہوئی ۔ سجل اج بہت پیاری لگ رہی تھی، بلکل گڑیا کی طرح لال گال ، چھوٹا منہ ،نیلی آنکھیں ، بورے بال ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے کھلونوں کی دکان سے کوئی گڑیا کسی نے زمین پر روانہ کیا ہو۔ سجل ہاتھ میں پانچ روپے کا سکہ لےکر اپنے پھوپھو کے ساتھ چل رہی تھی ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ بابا صاحب کوئی پیر ہوگا یا کون ؟
اس کے چھوٹے سے ذہن میں بہت سے سوال آرہے تھے لیکن وہ پھوپھو کے ہمراہ چل رہی تھی ۔ (یہ بھی پڑھیں طوفانی رات – ارحاء مدثر چارسدہ )
کوئی سایہ تھا جو سجل کا گھر سے پیچھا کر رہا تھا۔ سجل مزار میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ کوئی مسجد ہے۔ جس میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ بائیں طرف دیوار کے قریب کوئی کالا پتھر موجود تھا اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے۔ جس میں لوگ تیل ڈالتے اور پھر بچوں کے کانوں میں اس تیل سے قطرے ڈالتے اور عقیدہ رکھتے کہ “اس بچے کے کان میں درد نہیں آئے گا۔” سجل کے پھوپھو نے بھی اس کے کان میں تیل کے قطرے ڈالیں ۔ اس پتھر کے سامنے بائیں طرف ایک دالان سا تھا۔ جس کے اوپر چھت نہیں تھا۔ وہاں پر ڈھیروں کبوتر اور پرندے موجود تھے ۔ پھوپھو نے پرندوں کو دانہ ڈالا اور دعا کیا ۔ سجل وہاں کھڑی تھی، وہاں پر ہجوم عام موجود تھا۔کوئی آرہا تھا ،تو کوئی جارہا تھا، سجل منہ میں انگلی ڈال کر سب کو حیران کن نگاہ سے دیکھ رہی تھی ۔ لوگوں کی اسی رش میں کوئی تھا جو سجل کا پیچھا کر رہا تھا، اسے دیکھ رہا تھا ۔سجل بھی لوگوں کے ہجوم کو بغور دیکھے جارہی تھی کہ اچانک چلائی کہ “پھوپھو پھوپھو دیکھونا! وہاں انکل ہے” سجل کے چیخ سے پھوپھو نے ادھر اُدھر دیکھا ، لیکن وہ سایہ روپوش ہوچکا تھا۔ پھوپھو نے سجل سے پوچھا کہ” کون انکل ؟”جس پر سجل نے کہا کہ” انکل تھا”۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی بہت عرصے سے سجل کو اپنی نظر میں رکھے ہوئے تھا .۔سجل نے بھی اسے پہلی مرتبہ نہیں دیکھا تھا۔بلکہ وہ اسی جانتی تھی۔
پھوپھو نے اس کی اس چیخ کو طفلانہ سمجھ کر فراموش کیا۔ پھوپھو نے سجل کی انگلی پکڑی ہوئی تھی ۔ سجل تردد میں گم لوگوں کو ادھر اُدھر جاتا دیکھ کر شاداں ہورہی تھی۔ پھوپھو نے سجل کو کہا کہ “چلو بچے اندر چلتے ہیں“۔ سجل خالہ کے ہمراہ مزار میں داخل ہوئی۔ مزار لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ سایہ اس کے ساتھ اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ سجل بے خبر تھی ۔ وہ لوگوں کو وہاں دیکھ کر سراسیمہ سی ہوگئی ۔ اس کے ہاتھ میں پانچ روپے کا سکہ تھا، جو ہجوم میں اس کے ہاتھ سے گر گیا ۔ سجل نے خالہ کا ہاتھ چھوڑا اور زمین پر سکہ ڈھونڈنے لگی ۔ لوگ ادھر ادھر جا رہے تھے۔ بھیڑ بہت زیادہ تھی۔پھوپھو ڈھونڈنے لگی ۔ ادھر ادھر “سجل سجل کرکے پکارنے لگی”۔ لیکن سجل تھی کہ مل ہی نہیں رہی تھی ۔ وہ ایک ہی سیکنڈ میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
پھوپھو پریشان کبھی ادھر جاتی کبھی ادھر جاتی لیکن سجل کا کہیں سے سراغ نہیں مل رہا تھا۔
پھوپھو نے گھر کو کال کیا اور سجل کی گمشدگی کی خبر دی ۔ جس پر سب گھر والے بابا صاحب کے دربار پہنچ گئے ۔ پولیس کو اطلاع دے کر تھانے میں رپورٹ درج کرائی ۔ سب ڈھونڈتے رہے لیکن کہی سے کسی کو خبر نہیں مل رہی تھی کہ سجل جو اتنی خوش باش ہوکر گھر سے نکلی تھی وہ آخر کہاں گئی ۔ آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ۔ وہ چند ہی سیکنڈ میں ایسی گم ہوگئی ، جیسے وہ تھی ہی نہیں۔
دن گزر گیا ،رات آگئی۔ لیکن سجل کی کوئی خبر نہ آئی ۔ سب موبائل فون پر نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ کب اغوا کار کا فون آئے گا اور کب وہ پیسوں کا مطالبہ کرے گا ۔ رات بھی گزر گئی لیکن سجل کی خبر نہ آئی۔ دوپہر کا وقت تھا سب قرآن خوانی کر رہے تھے۔ کہ سجل کے والد کو پولیس کی طرف سے کال آئی کہ” ہم نے ایک بچی کو پل کے قریب کوڑے کے ڈھیر سے نیم بے ہوشی کی حالت میں اٹھایا ہے ۔ آپ آجائیں ہسپتال۔” سجل کے والد کے اعصاب نے جیسے کام کرنا بند کردیا ۔اس نے کسی کو کچھ نہیں کہا اور گاڑی نکال کر ہسپتال پہنچ گیا ۔ جہاں پر اس کی پھول سی بچی برہنہ ،نیم بے ہوش سٹریچر پرپڑی تھی ۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھی ۔ وجود زخمی تھا ۔ اردگرد پولیس اور نرسوں کا مجمع کھڑا تھا۔”وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑو انکل اور بابا آجاؤ بچاؤ مجھے۔۔۔” کر رہی تھی۔ بچی کی حالت نازک تھی ۔اس کے جسم کے ساتھ ساتھ ذہن بھی اس حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے اسے آئی سی یو وارڈ میں بھیج دیا،اور اس کے بے بس باپ کو حوصلہ دیا ،جو زمین پر بیٹھ کر اپنی اکلوتی بیٹی کی حالت پر بلک بلک کر آہ و فغاں کر رہا تھا ۔ اس کی التجائیں ابھی آسمان کے کنارے پہنچے بھی نہیں تھے کہ ڈاکٹروں نے معذرت کے ساتھ سجل کے انتقال کا بتایا ۔کہ” یہ پھول سی بچی اب ہم لوگوں کے درمیان نہیں رہی”۔

