Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

محمد خورشید اکرم سوز کا مجموعۂ کلام ’’سوزِ دل‘‘ (روایت اور جدت کا حسین امتزاج)- ڈاکٹر مشتاق احمد وانی

by adbimiras ستمبر 26, 2021
by adbimiras ستمبر 26, 2021 0 comment

محمد خورشید اکرم سوز کو خدا تعالیٰ نے شاعری کا ذوق و شوق ودیعت فرمایا ہے۔ وہ بنیادی طور پر بہار کی مردم خیز سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں کہ جہاں بڑے باکمال ادبا، شعراء، مفکرین اور ماہر دینیات نے جنم لیا ہے۔ سوز کی چھوٹی ہی عمر میں شعروشاعری کا چسکا پڑچکا تھا۔ گھر کے ادبی ماحول نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے میں مہمیز کا کام کیا مگر شاعری چونکہ بڑا نازک اور نفیس فن ہے اس لیے بغیر مرشد کامل کے کوئی اچھا شاعر نہیں بن سکتا۔ چنانچہ محمد خورشید اکرم سوز نے حضرت مشیر جھنجھانوی کو اپنا استاد مقرر کیا اور باضابطہ طور پر ان سے اصلاح لیتے رہے۔ انھوں نے مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خورشید اکرم سوز تو کسی دینی مدرسے کے معلم ہیں اور نہ ہی کسی اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں ادب کے استاد ہیں بلکہ وہ پیشے کے اعتبار سے کوئلے کی کان میں بحیثیت نگراں کام کرتے ہیں۔ 1983ء میں انھوں نے شعر کہنا شروع کیے۔ زندگی کے نشیب وفراز اور کائنات کے اسرارورموز کو جاننے پرکھنے کی جستجو کو شعری جامہ پہناتے پہناتے وہ ’’سوزِ دل‘‘ تک پہنچے ہیں۔

محمد خورشید اکرم سوز کا صوری ومعنوی خوبیوں سے مزین مجموعۂ کلام ’’سوزِدل‘‘ میری نظروں کے سامنے ہے۔ ٹائٹل صفحے کے بالائی مقام پر خورشید اکرم سوز کی پاسپورٹ سائز تصویر ہے اور نیچے ان کی رفیقۂ حیات محترمہ نزہت جہاں قیصر صاحبہ کی تصویر ہے جبکہ وسط میں دل کی تصویر بنائی گئی ہے۔ انسان کے جسم میں چونکہ دل ہی وہ اہم حصہ ہے جو نفرت و کدورت، بغض و عناد یا پھر محبت و ہمدردی، ایثار و خلوص، غم وغصے اور نیک نیتی یا بدنیتی کا حامل ہوتا ہے۔ گویا دل بظاہر گوشت کا ایک لوتھڑاہوتا ہے مگر اس کے اندر ایک دنیا آباد رہتی ہے۔ دل جب روتا ہے تو آنکھیں آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتی ہیں بصورت دیگر دل خوش ہوتا ہے تو آدمی گنگنانے لگتا ہے۔ غرضیکہ خوشی اور غمی کی صدا براہ راست دل سے آتی ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ خورشید اکرم سوز نے اپنے مجموعۂ کلام کا نام ’’سوزِ دل‘‘ نہایت موزوں اور وسیع المعانی رکھا ہے۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ موصوف نے اپنا کلام اردو اور ہندی دونوں رسم الخط میں شائع کروا کے کروڑوں لوگوں تک اپنے دل کے احساسات و جذبات اور تجربات و مشاہداتِ زندگی کو پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ایک طرف اردو اور دوسری طرف ہندی میں شائع شدہ سوز کا کلام قاری کو ذہنی حظ، روحانی بالیدگی اور قلبی سکون فراہم کرتا ہے۔ زیر نظر شعری مجموعہ کو خورشید نے اپنے والد محترم جناب حضرت مولانا عبدالصمد صاحب، اپنے استاد سخن جناب حضرت مشیر جھنجھانوی، اپنی شریک زندگی محترمہ نزہت جہاں قیصر اور برادر عزیز محمد سہیل اور فرزند ارجمند محمد شکیب اکرم کے نام منسوب کیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو زیر نظر مجموعۂ کلام کا انتساب بھی خوب ہے کیونکہ باپ، استاد، بیوی، بھائی اور بیٹا ہر شخص کو نہایت عزیز ہوتے ہیں اور ان سے ہر کسی کو بہت سی امید ہوتی ہیں۔ انتساب میں والدہ محترمہ کو بھی شامل کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ ماں جیسی عظیم اور شفیق ہستی کا دنیا میں کوئی بدل نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں شہردل کا شکستہ شاعر: وکیل اختر – حقانی القاسمی )

’’سوزِ دل‘‘ پہ جن صاحب بصیرت اور سخن فہم وسخن شناوں نے اپنے زرّیں خیالات تحریر کیے ہیں ان میں مخمور سیدی مرحوم، ڈاکٹر محبوب راہی، پروفیسر علیم اﷲ حالی، پروفیسر منظورالامین، ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط، سید شکیل دسنوی اور ڈاکٹر عفت زرّیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند مشاہر ومعاصرین کے تاثرات ہیں جن ادبا و شعراء نے ’’سوزِدل‘‘ پہ اپنے تاثرات رقم کیے ہیں ان میں پروفیسر مشرف عالم، کرشن کمار طور، فاطمہ تاج، سید ظفر ہاشمی، رفیعہ منظور الامین، ارشد کمال، ڈاکٹر ثروت خان، خلیل تنویر ہفت روزہ راشٹریہ سہارا اور فخرالدین عارفی جیسے اہل تقدونظر شامل ہیں۔ محمد خورشید اکرم سوز نے ’’من آنم کہ من دانم‘‘ عنوان کے تحت اپنے خاندانی اور شعری سفر کی روداد تحریر کی ہے۔

’’سوزِ دل‘‘ کا ابتدائی حصہ منظومات سے متعلق ہے ایک موحد اور عاشق رسول کے جذبے سے سرشار محمد خورشید اکرم سوز نے اﷲ تعالیٰ کی حمدوثنا سے اپنی سخن طرازی کا آغاز کیا ہے۔ چنانچہ تین نظمیں اﷲ تعالیٰ کی حمدوثنا سے تعلق رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں ’’گلہائے عقیدت‘‘ اور ’’بنی محترمؐ میرے‘‘ ایسی نظمیں ہیں جن میں سرورکائنات، فخر موجودات، ختم الرسل جناب حضرت محمدؐ کی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔ نظمیہ حصے میں جن نظموں نے میرا دل موہ لیا ہے ان میں ’’سالگرہ ہے کیسی میری؟‘‘، ’’مجھے پیار کرنے کی فرصت کہاں ہے؟‘‘، ’’رکت دان‘‘ ، آج ہولی آئی ہے‘‘ اور ’’دنیا کی یہ ریت کہاں؟‘‘ ان نظموں میں سوز نے روایتی اسلوب میں جدید دور کے انسان کی سوچ اس کی مادہ پرست اور سفاکانہ ذہنیت کی نقاب کشائی کی ہے۔ شاعر کو جہاں وقت کے گزر جانے کا شدید احساس ہے تو وہیں انسان کی بے بسی اور بیتے لمحوں کی یاد بھی اسے تڑپاتی ہے۔ مثلاً سوز کی نظم ’’سالگرہ ہے کیسی میری‘‘ سے ماخوذ ان اشعار کے لفظ ومعانی پرغور وفکر کیجیے ۔ بقول سوز:

بچپن پیچھے چھوٹ گیا ہے

شاید مجھ سے روٹھ گیا ہے

روٹھے گی پھر یار جوانی

رہ جائے گی بن کے کہانی

چھائی ہے ہر سمت اداسی

لب بھی تشنہ روح بھی پیاسی

بیت گئے جو پل جیون کے

واپس کیسے اب آئیں گے

میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں

آخر کیوں میں جشن منائوں

مندرجہ بالا اشعار میں شاعر نے واضح الفاظ میں انسان کی زندگی میں وقت کی اہمیت وافادیت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ پورے حیات انسانی کے ارتقائی سفر پر غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ مزید برآں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ انسان وقت کے آگے کلیتاً بے بس ومجبور ہے۔ شاعر اپنی سالگرہ منانے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اسے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ سالگرہ منا کر وہ اپنی پیدائش کے ماہ وسال کا حساب کرکے رنج وغم میں مبتلا ہوگا۔ کیونکہ بچپن اس سے روٹھ گیاہ ے اور آہست آہستہ جوانی بھی اس سے رخصت ہو جائے گی پھر وہ بوڑھا ہو کر ایک دن فنا ہو جائے گا۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بے محل نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں ہمارے معاشرے میں جنم دن ’’Birth day‘‘ منانے کی رسم تقریباً عام ہوچکی ہے۔ انگریزوں کی عطا کردہ یہ بھونڈی رسم ہم سب بڑے چائو سے مناتے ہیں۔ گویا ہم اپنی زندگی کے گزر جانے یا ایک ایک سال کم ہونے کا جشن مناتے ہیں! محمد خورشید اکرم سوز نے بڑے خوبصورت شعری قابل میں اس بھونڈی رسم کو مسترد کیا ہے۔

محمد خورشید اکرم سوز کی تخلیقی شخصیت کا ایک صحت مند اور خوشگوار پہلو یہ ہے کہ وہ تخلیقی عمل میں اخلاقی اقدار اور ایک صالح نظام زندگی (جس میں امیر وغریب کا امتیاز باقی نہ رہے) کی بحالی کے متمنی نظر آتے ہیں۔ عوامی روابط کو برقرار رکھنے کی مقصدیت کے پیش نظر اپنے سکھ چین کو بھول جاتے ہیں۔ وہ ایک ترقی پسند نظریے کے تحت اپنے گردوپیش میں روتے ترستے غریب عوام کی حالت کو دیکھ کر رنجیدہ ہو جاتے ہیں اور اپنے رومان پرور ماحول کو بھول جاتے ہیں۔ اپنی نظم ’’مجھے پیار کرنے کی فرصت کہاں ہے‘‘ میں جہاں وہ ایک طرف اپنے محبوب کے پری پیکر وجود کا نقشہ کھینچتے ہیں تو دوسری طرفث جب ان کی نظر مفلوک الحال عوام پر پڑتی ہے تو وہ اپنے محبوب کے دلکش وجود کو بھول جاتے ہیںاور تب ان پہ ایک طرح کی اضطرابی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ مذکورہ نظم کے چند اشعار محمد خورشید اکرم سوز کے اسی راست جذبے کا اظہار ہیں:

ہے تیرے لبوں پر یہ لالی شفق کی

گھٹائوں کی صورت ہے زلف یہ بھی

تری آنکھیں ہیں یا کوئی جھیل گہری

ترا حسن دلکش ادا ہے نرالی

دھلا چاندنی میں یہ ترا بدن ہے

لچک تیرے تن میں کسی شاخ کی سی

بڑے پُرکشش ہیں خدوخال تیرے

تو پھولوں سے جیسے لدی کوئی ڈالی

 

زمانہ ترقی بہت کرچکا ہے

مگر ہم غریبوں کو کیا کچھ ملا ہے

کہیں بچے روئے ہیں روٹی کی خاطر

کہیں بے کسی کا بھی سودا ہوا ہے

کھلونوں کے بدلے میں آنسو ملے ہیں

یہاں نونہالوں کا بچپن بکا ہے

کہیں بنت حوا کی عصمت لٹی ہے

کہیں بے قصوروں نے پائی سزا ہے

محولہ نظم کا پہلا بند ہمارے جمالیاتی احساس کو بیدار کرتا ہے۔ شاعر نے اپنے محبوب کے حسن وجمال اور خدوخال کو جن خوبصورت تشبیہات کے ساتھ پیش کیا ہے وہ نسوانی حسن کا ایک اعلیٰ معیار تصور کیا جاسکتا ہے۔ اس پری پیکر محبوب کے پہلو میں بیٹھنا اور اس سے ذہنی وجسمانی حظ حاصل کرنے کی شاعر کو فرصت نہیں۔ کیونکہ اس کے دل میں غریب اور نادار عوام کا دکھ درد موجود ہے۔ شاعر کے سامنے ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں غریب اور کمزور لوگوں کا استحصال ہوتا ہے۔ محمد خورشید اکرم سوز اپنی شاعری کے دریعے عوام کو پیغام امن، خودآگہی، خودشناسی، ذہنی بیداری، محبت خلوص اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی نظم ’’رکت دان‘‘ اور ’’آج ہولی آئی ہے‘‘ کافی اہم ہیں جن میں ان کے سیکولر جذبات کی ایک واضح جھلک یوں سامنے آتی ہے:

آپ کے خون سے جاں کسی کی بچے

اس سے بہتر بھلا اور کیا بات ہے

اس کے بدلے دعا جو ملے آپ کو

اس سے بڑھ کر بھلا کون سوغات ہے

اس لیے آپ کرتے رہیں رکت دان

دوستو! آپ ہنس کر کریں رکت دان

 

نفرتیں مٹانے کو آج ہولی آئی ہے

دل سے دل ملانے کو آج ہولی آئی ہے

ایکتا کا سندیش اب

سوز ہم سناتے ہیں

عید تم مناؤ اور

ہولی ہم مناتے ہیں

عید کی بہن بن کر آج ہولی آئی ہے

خوشبوئے چمن بن کر آج ہولی آئی ہے

’’سوز دل‘‘ میں محمد خورشید اکرم سوز کی کل 64 غزلیں شامل ہیں اور آخر پہ دو قطعات بھی درج ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے قاری پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔تمام غزلیں نغمگی، معنی آفرینی پاکیزہ جذبات واحساسات کی حامل ہونے کے علاوہ معاصر زندگی کے ذہنی، سیاسی و سماجی انتشار واختلال کی غمازی کرتی ہیں۔ سوز ایک بیدار مغز اور انتہائی حساس شاعر ہیں۔ انسانی قدروں کی شکست وریخت اور سیاسی بازی گروں کی مکارانہ اور منافقانہ چالوں پر وہ ماتم کناں نظر آتے ہیں مثلاً ان کی غزلوں سے ماخوذ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

اڑ گئیں انسانیت کی دھجیاں، بس چپ رہو

راج ہے حیوانیت کا اب یہاں، بس چپ رہو

ظالموں کے ظلم کا کوئی بیاں ممکن نہیں

روح ہٹلر کی لرز جائے میاں بس چپ رہو

بس سیاسی چالبازوں کی نظر کرسی پہ ہے

ان کے دل میں درد جنتا کا کہاں بس چپ رہو

 

زر پرستی کے اس دور میں دوستو!

ہر جگر حرص کے اژدھے، اژدھے

اب تو بیٹوں کی لگنے لگیں بولیاں

رشتے، ناتے بنے اژدھے اژدھے

 

بھوک سے روتے ہوئے پھر سو گئے

خواب کی دنیا میں بچے کھو گئے

خورشید اکرم سوز کی شاعری میں حسن وعشق کی کارفرمائی بھی ہر جگہ محسوس ہوتی ہے۔ ان کی بہت سی غزلیں حسن وعشق کے روایتی تصور سے ہم آہنگ ہیں۔ کئی اشعار میں وہ اپنے محبوب کے لیے محل محبت تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور کہیں وہ اس کی بے وفائی اور بے مروتی کا بھی گلہ کرتے ہیں۔ سوز نے کہیں بھی حسن وعشق کے بیان میں غیر مہذب رویہ اختیار نہیں کیا ہے۔ وہ زبان وبیان کے شائستہ اسلوب میں اپنے عشقیہ جذبات واحساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ کہنا غیرموزوں نہیں ہوگا کہ سوزنے اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے روایت اور جدبت سے اپنے کلام کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سوز نے شاعری کے موضوعات میں تنوع اور نیا پن لانے اور پاحال مضامین کو نئے اسلوب میں باندھنے کی بھرپور سعیٔ کی ہے کہ جن میں وہ کسی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ سوز کی غزلوں سے ماخوذ مندرجہ ذیل اشعار مثال کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں:

ہچکی سی پھر آئی مجھ کو

شائد تو نے یاد کیا ہے

یہ زمیں کیا آسماں تک عشق کا چرچا ہوا

ہر جگہ ہمراہ میرے میری رسوائی گئی

عاشقی کیا ہے خبر تھی کب مجھے

دفعتاً یہ دل کسی کا ہوگیا

 

ساتھ تو جو چلے ہو سہانا سفر

میرے ہمراہ چل چاندنی رات میں

دور دنیا سے آئو بنائیں گے ہم

پیار کا اک محل چاندنی رات میں

 

وہ اکیلا ہو یا ہو لاکھوں میں

چہرہ اس کا ہی اچھا لگتا ہے

 

وہ سمیٹے ہوئے اپنا گورا بدن

چاندنی میں نہاتی رہی رات بھر

 

وارفتگیٔ شوق کا یہ رخ بھی ہے عجب

ان سے نظر ملی تو میں بے ہوش ہوگیا

ان تمام اشعار میں تغزل کا رنگ موجود ہے۔ سوز کا تصور حسن وعشق پاکیزہ اور پُرکشش ہے۔ والہانہ عشق کے جنون میں محبوب کی جلوہ آرائیاں اور اس کا اندازِ دلربائی شاعر کو اس طرح کے شعر کہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ وارفتگیٔ شوق کا یہ عالم ہے کہ محبوب کی نظر ملتے ہی شاعر بے ہوش ہو جاتا ہے گویا حسن کے آگے عشق ہرن ہوگیا ہے۔ سوز کا یہی انداز بیان قاری کو ان کا گرویدہ بنالیتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بیکل اتساہی کی غزل گوئی – ڈاکٹر محمد مقیم )

خورشید اکرم سوز ی غزلوں کے بہت سے اشعار نئی فکر، نئے تجربے اور جدید معاشرے کی پتھریلی ذہنیت کو پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے زندگی اور معاشرے کے متعلق اپنے جن افکار وخیالات کو شعری جامکہ پہنایا ہے وہ قاری کو نئی بصیرت اور نیا شعور عطا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوز کے مندرجہ ذیل اشعار پردھیان دیجیے:

دشمن کی سازشوں کا ہمیں خوف کچھ نہیں

ڈرتے ہیں دوستوں کی مگر دوستی سے ہم

 

حیرت سے مجھ کو راہ میں سب دیکھتے رہے

میں عالم خیال میں کچھ ڈھونڈتا رہا

 

ہر طرف وحشتوں کا منظر ہے

پھول سے ہاتھ میں بھی پتھر ہے

 

ہم کو سیدھی راہ پر لے آئی ہے

ایسی ٹھوکر آج ہم نے کھائی ہے

 

فلک پیما عمارت کی کوئی حسرت نہیں مجھ کو

میں کاغذ پر لکیریں کھینچ کر اک گھر بناتا ہوں

 

کوئلے کی کان کے اندر مجھے

قبر کی ظلمت کا اندازہ ہوا

پہلے شعر میں خورشید اکرم سوز نے موجودہ دور کی منافقانہ ذہنیت پر گہرا طنز کیا ہے۔ عصرحاضر میں اب دوستی کے نام پر دشمنی ہوتی ہے۔ یہ شعر اس اعتبار سے نہایت متاثر کن ہے کہ شاعر نے اس میں ایک نیا مضمون باندھا ہ جو قاری میں ایک طرح کی گدگداہٹ بھی پیدا کرتا ہے۔

دوسرا شعر حقیقت پر مبنی ہے اکثر لوگ راہ چلتے اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے خود سے محوئے گفتگو رہتے دیکھے گئے ہیں یا پھر گھر سے نکلنے کے بعد جب راہ چلتے اچانک کسی کو اپنی کوئی اہم بھولی ہوئی چیز یاد آجاتی ہے تو ہکا بکا رہ جاتا ہے اور ایسا اکثر ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے۔

تیسرے شعر میں شاعر نے موجودہ دور کی بدامنی، نعرے بازی اور بالخصوص سوز کا یہ شعر کشمیر میں پولیس اور سنگ بازوں کے درمیان چل رہی حالیہ کشمکش پر بھی صادق آتا ہے کہ جہاں دہشت اور خٰف نے چھوٹے چھوٹے بچوں میں بھی ہاتھ میں پتھر اٹھانے کا حوصلہ پیدا کیا ہے۔

چوتھا شعر ضرب المثل کا درجہ رکھتا ہے اس میں شک نہیں کہ انسان ٹھوکر کھانے کے بعد ہی سنبھلتا ہے اور اسے غلطی سے باز رکھنے کے لیے ٹھوکر کا لگنا لازمی ہے۔

پانچویں شعر میں بھی طنز و رمز کی ایک کسک اور کاٹ موجود ہے۔ ایک طرف فلک پیما عمارت کھڑی ہے تو دوسری طرف شاعر اپنی حسرت کاغذ پر لکیریں کھینچ کر پوری کرتا ہے اس شعر میں سرمایہ دار اور نادر کے مابین امتیاز دکھایا گیا ہے۔

چھٹا شعر شاعر کے بالکل ایک نئے تجربے کو پیش کرتا ہے سوز چونکہ پیشے کے اعتبار کول فیلڈ میں ایک نگراں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، اس لیے انھوں نے قبر کی تاریکی کا اندازہ کوئلے کی کان میں اترنے کے بعد حاصل کیا ہے۔ یہ شعر بھی گہری معنویت اور تہہ داری کا حامل معلوم ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سائل دہلوی کے شعری امتیازات – ڈاکٹر نوشاد منظر )

محمد خورشید اکرم سوز کا مجموعۂ کلام ’’سوز ِ دل‘‘ جو اردو اور ہندی دونوں رسم الخط میں شائع ہوا ہے کی کل تعداد صفحات 268 ہے۔ پورے مجموعۂ کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ سوز ایک درد مند دل، وسیع النظر اور سیکولر جذبات واحساسات کے شاعر ہیں۔ علم عروض سے کماحقہ واقف ہیں۔ اس لیے شعر کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ’’سوزِ دل‘‘ کا مطالعہ کرنے کے دوران مجھے اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ سوز نے اپنے پورے خاندان والوں، بیوی بچوں، دوست واحباب اور اپنے استاد محترم جناب مشیر جھنجھانوی کی تصویریں مذکورہ شعری مجموعے میں شامل فرماکر رشتوں کا نہ صرف احترام کیا ہے بلکہ ان کی اہمیت کا احساس بھی کروایا ہے۔ عصر حاضر میں جبکہ رشتوں کی پامالی اور بے قدری ہمارے سامنے ہے مجھے امید ہے اس مادیت پرستی کے دور میں خورشید اکرم سوز کا ’’سوزِ دل‘‘ پھر سے دلوں کو جوڑنے اور رشتوں کو سمجھنے کا ایک موثر وسیلہ ثابت ہوگا۔

تحریر مورخہ 30ستمبر 2010ء

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

خورشید سوزمشتاق احمد وانی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شکیب اکرم کا سانحہ ارتحال: ‘‘ایک صدمہ‌‍ ٔجانکاہ” – ڈاکٹر شمع افروز زیدی
اگلی پوسٹ
غزل – عبداللہ ندیم

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں