دو اکتوبر کے دن کو گاندھی جی کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے، اور جیسے 26/جنوری و 15/اگست کو قومی و یادگاری ایام کی حیثیت حاصل ہے، اور ملک بھر میں رنگا رنگ تقریبات کے انعقاد کا اہتمام کیا جاتا ہے، ویسے ہی گاندھی جی کے یوم پیدائش کی مناسبت سے آج کے دن کو یادگاری اور ایک خاص دن کی حیثیت حاصل ہے۔
ہماری حکومت نے بہت سی سرکاری اسکیموں کو اسی خاص دن سے منسوب کر رکھا ہے، اس لئے کہ اس دن ستیہ (سچ) کے پجاری اور آہنسا (امن) کے سب سے بڑے حامی؛ مہاتما گاندھی (باپو جی) کا یوم پیدائش ملک ہی میں نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پورے تزک و اہتشام اور ہندوستانی اقدار و روایات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری محکموں، اداروں اور تعلیم گاہوں کی اس دن تعطیل رہتی ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو تعطیل کا ایک یہی عمل اس دن کی اہمیت و معنویت کی عکاسی کرنے کےلئے کافی ہوتا ہے) اسی وجہ سے میدان صحافت سے وابستہ قلم کار اور نامہ نگار حضرات اس دن کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرنے اور اس عظیم و باکردار ہستی سے مربوط حالات و واقعات کو نوک قلم لانا، ان کو نشر و اشاعت کےلئے اخبار و رسائل کی زینت بنا کر گاندھی جی کی ہمہ جہت شخصیت پر الگ الگ انداز سے روشنی ڈالنا اس اعتبار سے بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ: ملک میں رائج جمہوریت، عدالت اور عوامی رائے پر منتخب ہونے والی حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی آج سچ کو اپنانے اور سچائی کے اختیار کرنے والوں کو کیسے کیسے پریشان کیا جا رہا ہے، ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کو آئین و دستور میں دی گئی مراعات کو سلب کرکے اس کے افراد کو مختلف انداز سے زد و کوب کیا جا رہا ہے، ان کے مذہبی قائدین اور سیاسی لیڈران پر ناجائز مقدمات قائم کر انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی پلاننگ اور پوری تیاری کی جا رہی ہے، امن کے رکھوالوں اور امن کی مشعل اٹھانے والوں کی راہیں بزور طاقت اور اقتدار کے نشہ میں مست ہوکر محدود و مسدود کی جا رہی ہیں، اور ان دو اصولوں و راہوں کو خاک آلود کیا جا رہا ہے جن پر گاندھی جی نہ صرف خود ہمیشہ چلتے رہے بلکہ انہوں نے انہیں دو اصولوں پر اس ملک کے آباد و شاداب رہنے اور اس ملک کے عوام کو خوش و خرم رہنے اور دیکھنے کی بنیاد رکھی تھی۔
مگر افسوس صد افسوس کہ: آج گاندھی جی کے وہ دونوں اصول حالت نزع میں ہیں اور اپنے بچاؤ کےلئے سسکتی آنکھوں سے کسی گاندھی کے انتظار میں ہیں۔ ملک کے حالات بہت تیزی کے ساتھ ایک خاص سمت کی طرف رواں دواں ہیں، اور حالات کو اس خاص سمت کی طرف لے جانے کی تیاریاں پورے شباب پر ہیں، پورا معاشرہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، مگر سرکاری ظلم و ستم اور نااہل حکمرانوں کے آگے گھٹنے ٹیکے بےبسی کی تصویر بنے سب کچھ برداشت کر رہا ہے، کوئی جماعت، کوئی تنظیم اور کوئی ادارہ آگے بڑھ کر سوال و جواب کرنے کی ہمت و جسارت نہیں کر رہا ہے۔ ہر ایک کو اپنی جان کی امان اور اپنے مفاد کی فکر دامن گیر ہے؛ اس لئے شاید سسکتی عوام کے ساتھ جمہوریت کو فاشزم میں تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں گاندھی جی ،اعظم گڑھ اورقومی بیداری – ڈاکٹر عمیر منظر )
ہاں یہ کام اب سے پہلے میڈیا بحسن و خوبی انجام دے لیا کرتا تھا، لیکن ایسا اس دور میں ہوا کرتا تھا، جب اسے برسر اقتدار کے منظور نظر بننے اور حزب مخالف کی طرف سے ہونے والی مذمت و ملامت کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی اور وہ کسی ایک طبقہ کی رعایت کئے بغیر اپنے فرائض انجام دیا کرتا تھا، مگر جب سے ہمارے ملک کا یہ میڈیا چاپلوس، آر ایس ایس کا وفا شعار اور مال و ثروت کا حریص و خواہاں بن کر زعفرانی ٹولے کے رنگ میں رنگا ہے؛ اس وقت سے یہ اپنی ذمہ داری نبھانا بھول گیا ہے اور رات و دن "اسلام، مسلمان اور پاکستان” پر مشتمل تین الفاظ کو مدعی بنا کر ٹی وی چینلز پر پیش کر رہا ہے اور جب سے ان کے وارے نیارے ہوئے ہیں، تبھی سے یہ گدھ میڈیا اپنی تمام تر کوششیں اس ایک بات پر صرف کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے کہ: کیسے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر عالمی سطح پر انہیں بدنام و رسوا کیا جائے اور کیسے عالمی برادری سے ان کا رشتہ منقطع کر ساری دنیا سے انہیں الگ تھلگ کیا جائے؟
میڈیا جس کی اولین ذمہ داری تمام طبقات کی وکالت کرنا اور ہر مظلوم کی آواز بن کر ظلم اور ظالم کے خلاف محاذ قائم کرنا ہوتی ہے، آج وہی میڈیا مذہب کی بنیاد اور طبقہ کی شناخت پر ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ الغرض جو چیزیں میڈیا کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے تھیں، وہ سب کی سب مفقود ہیں اور وہ سرکاری آقاؤں اور سرمایہ دارانہ شخصیات کی بدولت عوام کے سامنے سچائی کو پیش کرنے سے عاجز و بےبس ہے نظر آ رہا ہے۔ ہندو مسلم کی تفریق، برتر و کمتر کی تقسیم اور افراد و طبقات کے نام پر پورے معاشرے کو ایک طرح سے یرغمال کر رکھا ہے اور بڑے پیمانے پر طاقت و اقتدار کا غلط استعمال کر رہا ہے ہمارا قومی میڈیا۔ جہاں اس کو ملک و ملت کے خلاف ناپاک حرکتیں اور سازشیں رچنے والوں کے چہرے سے پردہ اٹھا کر بےنقاب کرنا تھا اور پوری دنیا کو سچائی کا آئینہ دکھانا؛ میڈیا کا کام تھا، وہاں اس نے حقیقت پر پردہ ڈالنا اور مجرمین کو کٹہرے میں کھڑا کرنا اپنی دیانت اور فرض منصبی تصور کیا تاکہ ٹی آر پی کا بھی مسئلہ درپیش نہ ہو اور مسلم طبقہ کی بدنامی میں بھی کوئی کمی باقی نہ رہے۔
یہ ملک جسے ہمارے اکابرین اور مجاہدین نے بڑی دقت و پریشانی اور تمام تر جان و مال کی قربانی پیش کرنے کے بعد آزادی حاصل کرائی تھی، آج اس دوغلے اور کم ظرف و کم نظر میڈیا کے ہاتھوں اس کی سالمیت، اس کی جمہوریت اور اس کی نمایاں خصوصیات سب دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ اس لئے کہ گدھ نما یہ میڈیا تاریخی واقعات اور موجودہ حالات کو سمجھے بغیر ہی پانی کے بہاؤ کی مانند بہتا چلا جاتا ہے اور برسراقتدار ٹولے اور چند اہل ثروت گھرانے کی وفاداری کو نباہ رہا ہے، جہاں نہ تو یہ پیچھے مڑ کر واقعات کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتا ہے اور نہ شواہد کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک پر خطرناک منڈراتے بادل کی طرف دھیان دینا مناسب سمجھتا ہے۔ اور وہ رات و دن زعفرانی خیمہ سے حاصل شدہ خبروں کی ترسیل و اشاعت میں خود کو منہمک کر زر خرید غلام کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کی چاپلوسی اور ان کے تلوے چاٹتے ہوئے ملک اور اس کی ایک سو پینتیس کروڑ کی آبادی کے جذبات و احساسات سے کھلواڑ کرتا ہے۔
ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ملک کے حکمرانوں اور اثر و رسوخ کے حامل طبقات کو چاہئے کہ وہ اس منفی رجحانات کے حامل میڈیا کو سبق سکھانے اور اس کو اس کی اوقات سے باخبر کرنے کےلئے لائحہ عمل مرتب کریں اور جس طرح سے یہ ایک تکثیری معاشرے سے ہم آہنگی کو ختم کرنے پر آمادہ ہے، اس پر بندش لگائی جائے۔ ورنہ ہمارا یہ جمہوری ملک اپنی علامت و شناخت سے محروم ہو جائےگا اور معاشرہ ان کی تخریب کاری کا شکار ہو کر رہ جائےگا۔
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

