سب رنگــ: ایک تعارف – حکیم وسیم احمد اعظمی
’سب رنگ‘[2020] طفیل انصاری کے منتخب مضامین کا مجموعہ ہے۔یہ مضامین ملک کے موقر مجلات و جراید، نیا دور لکھنؤ،زبان و ادب پٹنہ،فکر و نظر علی گڑھ،اردو دنیا نئی دہلی،پالیکا سماچار دہلی،روح ادب کلکتہ،منشور کراچی،مہر ولایت حیدر آباد،روز نامہ قومی آواز لکھنؤ اور جون پور سے شائع ہونے والے اردو اخبارات نئی دنیا،صدائے جون پور ،ترکمان اور جواں دوست میںشائع ہوئے ہیں اورایک مضمون آل انڈیا ریڈیو پر پڑھا گیا ہے۔ مضمون نگار نے ان مضامین کو درج ذیل چا ر ابواب میں تقسیم کیا ہے:
باب اوّل:اس باب میں درج ذیل آٹھ مضامین شامل ہیں:
شاہ محمد عبد العلیم آسیؔ[حیات و فن]، شاہ تیم الحسن غبارؔ جون پوری،راجہ ہری ہر دت دوبے رنگینؔ جون پوری،شاہ غلام اعظم افضلؔ الٰہ آبادی،یادگار داغؔ: متین مچھلی شہری،ہادیؔ مچھلی شہری پر ایک نظر،فدائی جون پوری،—اوراختر واسطی جون پوری۔
باب دوم: اس باب میں درج ذیل آٹھ مضامین شامل ہیں:
عظیم آباد اور حفیظ جون پوری،شاد عظیم آبادی اور حفیظ جون پوری،رنگ میرؔ اور حفیظ جون پوری،ارود غزل گو شعرا میں حفیظ جون پوری کا مقام،شفیق جون پوری کی قومی شاعری،شفیق جون پوری : شخصیت اور فن[تبصرہ]،عزیز ربانی عزیزؔ جون پوری،—اورمنشی نوبت رائے نظرؔ لکھنوی[حیات و فن]
باب سوم:اس باب میں درج ذیل آٹھ مضامین شامل ہیں:
اردو شاعری میں تضمین،اشعار کی باز گشت،بر محل اشعار اور ان کے مآخذ،پیراہن گل کا شاعر: اثر انصاری،یاد آتے ہیں: شوکتؔ پردیسی، خوش فکر و خوش گفتار شاعر: معصوم انصاری، مختار انصاری کی نعتیہ شاعری،—اورگلستان رحمت کا شاعر: رحمت مچھلی شہری۔
باب چہارم: اس باب میں درج ذیل نو مضامین شامل ہیں:
سید محمد مہدی جون پوری[بانی مہدوی تحریک]،مولانا کرامت علی جون پوری،مولانا ابو بکر محمد شیث جون پوری،سر شاہ محمد سلیمان،ایس ایم عباس[افسانہ نگار ادیب و شاعر]،میرے ہمدم: محمد خلیل،البیلا فنکار محمد جمشید، ’ تعلیمی نکات‘ پر ایک نظر،—اوروامق جون پوری : شخص اور شاعر۔
متذکرہ بالامضامین کو پڑھنے کے بعد اس کتاب کا نام’ سب رنگ‘ بالکل مناسب قرار پاتا ہے۔
طفیل انصاری صاحب ِنظر اہل قلم ہیں۔ان کی تحریروں میں الفاظ کا ضیعان نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر سائنس کے آدمی ہیں اورالفاظ کی حرمت سے بھی واقف ہیں ۔اسی لیے ان کے استعمال میں کفایت شعار ہیں۔اس مجموعہ میں شامل مضامین بھر پوری فنی آگہی کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔کسی بھی مضمون میں سرسری طور پر لکھ گذرنے کا عمل نہیں ملتا۔بیشتر مضامین کی اساس میں جون پور ہے۔صرف چند مضامین ایسے ہیں،جن کابراہ راست جون پور سے تعلق نہیں ہے۔مثلاً شاہ غلام اعظمؔ الٰہ آبادی،منشی نوبت رائے نظرؔ لکھنوی،پیراہن گل کا شاعر: اثر انصاری،خوش فکر و خوش گفتار شاعر: معصوم انصاری،۔اسی طرح باب سوم کے چند مضامین،مثلاً’ اردو شاعری میں تضمین‘ اور’ اشعار کی باز گشت ‘کے علاوہ دو مضامین کی حیثیت’ تبصرہ‘ کی ہے، مثلاًخلیق الزماں نصرتؔ کی کتاب’بر محل اشعار اور ان کے مآخذ‘اور ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی کی کتاب’تعلیمی نکات‘ پر ایک نظر،—سچ یہ ہے کہ ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی کی یہ کتاب اُن کے قیام جون پور میں2013 میں لکھی گئی ہے،گویا اس کی اساس میں بھی جون پور پنہاں ہے۔
طفیل انصاری کی علمی و ادبی زندگی کا ایک روشن پہلو’تحقیق‘ ہے ۔ یہ ’تحقیق ‘ان کے مزاج میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ وہ جو بھی لکھتے ہیں،اس میں تحقیق ،ان کے بیانیے پر شب خوں مارتی نظر آتی ہے۔ کوئی خلاف ِاصل بات ان کی تحریر کا حصّہ نہیں بن سکتی۔اردو شاعری میں تضمین،اشعار کی باز گشت،بر محل اشعار اور ان کے مآخذ اپنے موضوع کے اعتبار سے بے حد اہم ہیں اور تلاش و تحقیق کا لطف دیتے ہیں۔ایک دور میں ایک ادیب نے ’ آوارہ گرد اشعار‘ کا سلسلہ شروع کیا تھا اوروہ کیا خوب علم و آگہی کا سلسلہ تھا۔حفیظ جون پوری کچھ اسی ڈھب کے شاعر ہیں،کہ جن کے ایک مصرعہ یا ایک شعر نے ضرب المثل کی حیثیت پائی ہے۔شعر عوام و خواص میں خوب گردش کر رہا ہے،مگر عوام تو کیا،خواص بھی اس شعر کے حوالہ سے شاعر کا نام نہیں جانتے اور جب علم ہوتاہے تو ورطۂ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ’عروس ِلفظ کا مسکن لکھنؤ‘— ایک مطالعہ- حکیم وسیم احمد اعظمی )
بے حد اچھی بات یہ ہے کہ محمد عرفان جون پوری اور ان کے رفقا نے اپنے شہر ’ شیراز ہند‘ جون پورکے علمی،ثقافتی ،تہذیبی ا ور تمدنی ورثہ کو منصوبہ بند انداز میں سجونے کا کام شروع کردیا ہے۔علمی،ادبی ،تاریخی اور ثقافتی تناظر میں دیکھا جائے تو جون پور کو’ شیراز ہند‘ کہنے کے پس منظر میں ایک پوری تاریخ رہی ہے۔علمی اعتبار سے شیراز،ایران کا قلب و دماغ تھا تو جون پور بھی ایک دور میں ہندوستان کا قلب و دماغ تھا،اسی لیے ’ شیراز ہند‘ کہلاتاتھا اور آج بھی ’ شیراز ہند‘ سے یہی شہر مراد ہے۔یہ بڑے دماغ والوں کا شہر رہا ہے۔کئی اعتبارات سے اسے اوّلیت اور فوقیت حال رہی ہے۔مگر قانون قدرت ہے،’ ہر عروجے را زوال‘کہ آج یہ شہر پہلے جیسا نہیں رہا،بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اب یہ شہرگویا’ قحط الرجال‘ سے روبرو ہے۔تاہم محمد عرفان جون پوری اوردیگر چند ایسے صاحب فضل و کمال ضرور ہیں ،جو ’ فدائے جون پور‘ ہیں۔جون پور کی یافت اور بازیافت کے سودائی ہیں۔ان کا عزم ،ان کا حوصلہ اور ان کی منصوبہ بندجد و جہد دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ جون پورکے علمی،تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کے تحفظ میں ضرورکامیاب ہوںگے۔
’ شیراز ہند جون پور ‘[ سید اقبال احمد جون پوری ] ،جون پور کی ادبی خدمات : تاریخ کی روشنی میں[ڈاکٹر خدیجہ طاہرہ]،جون پور کے چند شعرا: ماضی قریب اور حال کے آئینے میں [ایس ایم عباس ،مرتب محمد عرفان جون پوری ] جون پور کے حوالہ سے بیشک اچھی کاوشیں ہیں ،تاہم یہ سچ ہے کہ جون پور کا ابھی بھر پور مطالعہ پیش نہیں کیا جاسکا ہے اورہنوز کئی جہات پرکام کیا جاسکتا ہے۔ مثلاًجون پور کے صوفیا، جون پور کے علما، جون پور کے اطبّا، جون پور کے خطاط، جون پور کے شعرا، جون پور کے مدارس، جون پور کی تاریخی عمارتیں،جون پور کے مطابع، جون پور کے اخبارات و رسائل،فرزندان جون پورکی تصنیفی و تالیفی خدمات، سلاطین جون پور کی معارف پروری،کتابوں میں جون پور ،اردو ادب پر جون پور کے اثرات،—خفتگان شیراز ہند جون پور، وغیرہ ،ایسے متعددگوشے ہیں،جن سے’ شیراز ہند جون پور مطالعہ‘ کو مزید آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
ہمیں خوشی ہے کہ بزرگ محقق اور شاعر طفیل انصاری نے ’ سب رنگ‘میں جون پور کے ’ سب رنگ‘ کی جھلک دکھائی ہے اور اس میں تلاش و تحقیق کا ایک معیار بھی پیش کیا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

